چین ایران معاہدے پر میرا گُمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فقدان راحت سے غالبؔ اتنا گھبراگئے تھے کہ دلی میں کوئی وبا پھوٹ پڑتی تو بے چینی سے اس کا شکار ہونے کے منتظر رہتے۔ راحت کی طرح وبا بھی لیکن ان کے گھر داخل نہ ہوتی۔ غالبؔ کے برعکس میں وبا کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔ کبھی کبھار اگرچہ ’’یہ جینا بھی کوئی جینا ہے‘‘ والا سوال ضرور تنگ کرتا ہے۔ میرے بیوی بچے اور دوست واحباب بھی مجھے زندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی خواہش میں مبتلا ہوئی میری بڑی بیٹی نے مجھے مجبور کیا کہ خود کو کرونا سے محفوظ رکھنے والی ویکسین لگوانے کیلئے فوری طورپر رجسٹر کروا لوں۔ میری کاہلی کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھوں سے میرا فون استعمال کرتے ہوئے مجھے رجسٹر کروایا۔ میرے ٹیلی فون نمبر کے ذریعے ہوئی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوجانے کی اطلاع آئی تو مطمئن ہوئی۔ یہ واقعہ 27 فروری کے روز ہوا تھا۔ 31 مارچ کی صبح یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں۔ ابھی تک مجھے یہ اطلاع موصول نہیں ہوئی کہ کونسے ہسپتال کس روز جاکر خود کو حفاظتی ٹیکہ لگوائوں۔

میرے جاننے والے کم از کم چار افراد کے ساتھ بھی ایسا ہی برتائو ہو رہا تھا۔ وہ مگرمیری طرح کاہل نہیں تھے۔ ہمارے ایک مشترکہ دوست اور لوگوں کی مدد کو ہمہ وقت بے چین صحافی کو مجبور کیا کہ وہ اپنے تعلقات کو بروئے کار لائے۔ ایسے ہی ایک دوست کی مدد کرتے ہوئے صحافی دوست نے میرا احوال بھی پوچھا۔ میں نے ڈھٹائی سے اسے بتایا کہ اپنی باری آنے کو ترجیح دوں گا۔ ہم صحافی ویسے بھی ’’لفافے‘‘ لینے کی وجہ سے کافی بدنام ہوچکے ہیں۔ عمر کے آخری حصے میں بندے کا پتر رہتے ہوئے ماضی کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔ صحافی دوست نے میری تقریر کو کاہلی کا جواز بتایا۔ متنبہ کردیا کہ اگر میں گھربیٹھا اپنی باری کا منتظر کرتارہا تو شاید یہ کبھی نصیب ہی نہ ہوگی۔

اسے غلط ثابت کرنے کے لئے میں نے سوشل میڈیا پر نظر آئی چند پوسٹ کے حوالے دئیے جن کے ذریعے اطلاع ملی تھی کہ لاہور میں مقیم میرے کئی صحافی اور کالم نگار دوستوں نے کرونا سے بچائو کی ویکسین لگوالی ہے۔ اس ضمن میں وہاں جو انتظامات تھے اس کی بابت بھی انہوں نے انتہائی اطمینان کا اظہار کیا۔ کراچی کی آرٹس کونسل میں بھی ایسے ہی انتظامات میسر تھے۔ مجھے گماں تھا کہ لاہور اور کراچی کے مقابلے میں اسلام آباد نسبتاَ چھوٹا شہر ہے۔ یہاں کی سرکاری مشینری کو دیگر شہروں کے لئے ’’ماڈل‘‘ بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔ اعتماد لاحق رہا کہ میری باری جلد آجائے گی۔

ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے اپنے تجربہ کے حوالے سے میرا پیشہ وارانہ فرض تھا کہ صحافیانہ تجسس کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا کہ کرونا سے بچائو کی ویکسین لگوانے کے لئے میری باری اب تک کیوں نہیں آئی۔ اپنے فون کے ذریعے مجھ جیسے شہری جب خود کو اس ضمن میں رجسٹر کرواتے ہیں تو اس کا  Dataکہاں جمع ہوتا ہے۔ اس Data کی پڑتال کا کیا نظام ہے اور ویکسین کے مستحق شہریوں کی باری کیسے طے ہوتی ہے۔ اس حوالے سے جمع ہوئی معلومات میری عمر کے کئی شہریوں کو باخبر رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی تھیں۔ جی مگر اس جانب مائل ہی نہیں ہوا۔ نہایت خلوص سے اب منتظر ہوں کہ جمعرات کے روز وفاقی کابینہ کا اجلاس ہو۔ وہاں نجی شعبے کو ویکسین درآمد کرنے کی منظور ملے۔ ویکسین بازار میں آگئی تو طلب اور رسد کی منطق کے مطابق طے ہوئی قیمت ادا کر کے خود کو کرونا سے بچائو کا بندوبست کر لوں گا۔

اس ضمن میں میرے اپنائے رویے کو ’’خوش حال‘‘ شخص کی رعونت شمار کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ بہت عرصے سے میں خود کو ’’رعایا‘‘ تصور کرنا شروع ہو گیا ہوں جس کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔ شہری حقوق سے محرومی کا احساس کبھی کبھار یہ سوچتے ہوئے مزید تکلیف دہ ہوجاتا ہے جب یاد کرتا ہوں کہ مجھے اخبارات کے لئے لکھنے کا جب بھی معاوضہ ملا تو اس پر واجب ٹیکس کی چیک لکھنے سے قبل ہی ہیڈ آفس میں کٹوتی ہوگئی۔ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ نظام دستاویزی صورت میں ریکارڈ ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود ہر برس میں ٹیکس کے حوالے سے ایک معروف وکیل سے رجوع کرتے ہوئے اپنا  Tax Return بروقت فائل کرتا ہوں۔ ہمارے گھر میں بجلی اور گیس کے جو بل آتے ہیں ان کی ادائیگی میں بھی تاخیر کا رویہ کبھی اختیار نہیں کیا۔ ریاست پاکستان مگر کرونا سے بچائو کا ٹیکہ لگانے کے لئے میری باری لگانے میں شفقت کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ ایسے حال میں صبر ہی واحد سہارا ہے۔

ہماری حکمران اشرافیہ کا حکم یہ بھی ہے کہ صحافی ’’بری‘‘ خبریں دیتے ہوئے عوام میں مایوسی نہ پھیلائیں۔ یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ وطن عزیز کے دشمنوں نے ہمارے اوپر  5th  Generation Warمسلط کر رکھی ہے۔ منفی خبریں جنگ کی اس نوعیت کا کلیدی اور مؤثر ترین اظہار ہیں۔ کرونا ویکسین کے حوالے سے اپنی باری نہ آنے کے باوجود میں جلنے کڑھنے کے بجائے یو ٹیوب پر چھائے محبان وطن کی سنائی خبروں سے قلب کو گرماتا رہتا ہوں۔ گزشتہ دو دنوں سے ویسے بھی ’’مثبت‘‘ خبروں کا سیلاب آیا محسوس ہو رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ ساز کمی نمودار ہوئی۔ امریکی صدر نے ہمارے وزیر اعظم کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی جہاں 40 کے قریب ممالک کے سربراہان دُنیا کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ابھرتی مشکلات کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے برادر ملک سعودی عرب نے مگر اپنے تئیں ہمارے ’’بلین ٹری‘‘ جیسے منصوبے کی طرح اپنے صحرائوں کو سبزہ دار بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ چند ماہ سے تاثر پھیلایا جا رہا تھا کہ برادر ملک ہم سے ناراض ہے۔ ہمارے وزیر اعظم نے مگر شہزادہ محمد بن سلطان کو حال ہی میں ایک گرم جوش خط لکھا جس کے ذریعے ان کی درختوں سے محبت کو سراہا۔ انہوں نے جواباَ عمران خان صاحب کو فون کیا۔ کرونا سے فوری صحت یابی کی دُعا مانگی اور اس امید کا اظہار بھی کیا کہ شفایاب ہونے کے بعد وہ سعودی عرب کے دورے کے لئے وقت نکالیں گے۔ پاک -سعودی تعلقات وقتی تعطل کے بعد دوبارہ بھائی-بھائی نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

ہمارے باہمی تعلقات کی بحالی اس وجہ سے بھی ضروری تھی کہ ہمارے ایک اور دیرینہ یار چین نے سعودی عرب کے رقیب ایران سے ایک طویل المدتی دوستانہ معاہدہ کیا ہے۔ چینی سرمایہ کاری اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی بدولت وہاں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام شروع ہو جائے گا۔ اس ضمن میں ہوئے معاہدوں پر دستخط کے بعد چینی وزیرخارجہ سے ایرانی میڈیا نے کچھ ایسے فقرے منسوب کئے ہیں جو پاکستان کی ’’تحقیر‘‘ کا باعث تصور ہو رہے ہیں۔ ذاتی طور پر اگرچہ میں انہیں ’’مستند‘‘ نہیں گردانتا۔ ’’ایک ٹیلی فون پر پالیسی بدل لینے‘‘ والا فقرہ ہم نجانے کیوں پاکستان کی بابت ادا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ یہ حقیقت ذہن میں نہیں لا رہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت کئی دہائیوں سے ایرانی تیل کا اہم ترین خریدار رہا ہے۔

اوبامہ کے پہلے دور صدارت میں اس کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن خصوصی طور پر بھارت گئی تھی۔ وہاں صحافیوں کے روبرو اس نے اعتراف کیا کہ بھارتی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اس نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ تیل ایران کے بجائے ان عرب ممالک سے خریدیں جنہیں امریکہ اپنا دوست شمار کرتاہے۔ من موہن سنگھ تاہم اس کے مشورے پر عملدرآمد کو تیار نہیں ہوا۔ ایران پرعائد اقتصادی پابندیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے بلکہ کچھ ایسے بندوبست کا اہتمام کیا جس کی بدولت اس ملک سے خریدے تیل کی بھارتی کرنسی میں ادائیگی ممکن ہوئی۔ بھارت نے ایران میں تیل کے کئی کنویں بھی خرید لئے۔

نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مگر ایران سے دوری کی پالیسی اختیار کرلی گئی۔ ٹرمپ کا دل جیتنے کے لئے ہیلری کے دئیے مشورے پر سنجیدگی سے عمل شرو ع ہوگیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اب بھارت کے قریبی دوست تصور ہوتے ہیں۔ تہران کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات سرد مہری کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ مجھے گماں ہے کہ ایران کے ساتھ حال ہی میں طے ہوئے معاہدے پر دستخط کے بعد چینی وزیر خارجہ نے جو فقرے ادا کئے ہیں وہ بھارت کے رویے کو نگاہ میں رکھے ہوئے تھے۔ پاکستان کا ان سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply