جنس اور رومانیت کی ایک پوشیدہ کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیریں ال فیکی 1968 میں  برطانیہ میں  پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مصری اور والدہ ویلش تھیں۔ شیریں نے کینیڈا میں میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم پائی۔ نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد انہیں عربی زبان اور ثقافت میں  گہری دلچسپی پیدا ہو گئی۔ انہوں نے مصری معاشرے میں عورتوں کی آزادی اور جنسی اقدار کے بارے میں  گہری تحقیق کی۔ ان کی کتاب “جنس اور قلعہ: بدلتے ہوئے عرب معاشرے میں نجی زندگی” 2013 میں شائع ہوئی۔ شیریں ال فیکی 2010 سے 2012 تک اقوام متحدہ کے ادارے “ایڈذ اور قانون کمیشن” کی وائس چیئر پرسن رہیں۔ ال فیکی کی TEDD Talk  کو اب تک دس لاکھ سے زیادہ افراد سن چکے ہیں اور اسے 26 زبانوں میں  ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ ذیل میں اس گفتگو کے متن کا اردو ترجمہ سید علی رضا نے کیا ہے۔

٭٭٭٭   ٭٭٭٭

کچھ دن پہلےکی بات ہے جب میں مراکش کے شہر کیسابلانکا میں تھی جہاں میں فائزہ نامی ایک نوجوان غیرشادی شدہ ماں سے ملی. فائزہ نے اپنے دودھ پیتے بیٹے کی تصویر دکھائی اور اپنے حمل ٹھہرنے سے بچہ پیدا ہونے تک کی کہانی سنائی

یہ ایک غیرمعمولی کہانی تھی لیکن فائزہ نے اس کا بہترین حصہ آخر تک سنبھال کر رکھا اس نے مجھ سے کہا ” تم کو پتہ ہے میں کنواری ہوں “اور یہ ثابت کرنے کے لئے میرے پاس دو میڈیکل سرٹیفکیٹ موجود ہیں “

یہ جدید مشرق وسطیٰ ہی ہے جہاں عیسی مسیح کے نزول کے دو ہزار سال بعد بھی کنواری عورت کے یہاں بچے کی پیدائش زندگی کی ایک حقیقت تسلیم کی جاتی ہے

فائزہ کی کہانی ان سینکڑوں کہانیوں میں سے ایک ہے جو جنس کے بارے میں لوگوں سے بات کرتے ہوۓ اس وقت سنیں جب میں گزشتہ سالوں میں خطہ عرب کے سفر پر تھی مجھے علم ہے اب یا تو آپ کو یہ ایک مثالی پیشہ لگ رہا ہو گا یا ممکنہ طور پر ایک انتہائی مشکوک ملازمت

مگر میرے لئے تو یہ ایک بالکل مختلف چیز ہے میں آدھی مصری اور مسلمان ہوں. لیکن میں اپنی عربی جڑوں سے بہت دور کینیڈا میں پلی بڑھی ہوں ‘ دوسرے بہت سے

لوگوں کی طرح جوایک پاؤں مشرق’ دوسرا مغرب میں رکھتے ہیں میں بھی اپنے آباؤ اجداد کو بہتر طور پرسمجھنے میں دلچسپی رکھتی تھی میں نے بطور ایک مصنف ایک محقق اور ایک سماجی کارکن کے جنس کا انتخاب اس لئے کیا کہ ایچ آئی وی / ایڈز کے پس منظر میں جنسیات ہی کارفرما ہے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اس بڑھتی ہوئی وبا کا دل جنسیات میں ہی دھڑکتا ہے دنیا میں صرف یہ دوعلاقے ایسے ہیں جہاں ایچ آئی وی / ایڈز اب بھی عروج پر ہے

جنسیات کسی بھی معاشرے کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک ناقابل یقین حد تک طاقتورعدسہ ہے چونکہ جو کچھ ہمارے گہرے جنسی تعلق میں ہوتا ہے وہ وسیع طور پر معاشرے پراثر انداز ہوتا ہے جیسا کہ سیاسیات اور معاشیات’ مذہب اور روایات ‘ جنس اور نسل اس تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ اگر آپ واقعی کسی قوم کو جاننا چاہتے ہیں تو آپ اپنی تلاش ان کی خواب گاہوں سے شروع کریں

آپ یہ جانتے ہیں کہ عرب دنیا وسیع ہے اور اس میں ہر طرح کے لوگ پاۓ جاتے ہیں مگر تین سرخ حدود ایسی ہیں جن کو آپ پار نہیں کرسکتے یہ وہ موضوعات ہیں جن کے خلاف عمل تو کیا آپ بات بھی نہیں کرسکتے

ان میں سے پہلی حد سیاست ہے مگ عرب کی سیاسی تحریک نے جو 2011 سے پھل پھول رہی ہے نے سب کچھ تبدیل کردیا ہے اس وقت جن لوگوں کے پاس طاقت ہے چاہے وہ پرانے ہوں یا نئے سب روایتی طریقوں سے چپکے رہنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ لاکھوں اب تک ان کو پیچھے دھکیل کرچیزوں کو آگے کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ شائد اس طرح ان کو ایک بہتر زندگی میسر اسکے .

دوسری سرخ حد مذہب کی ہے مگراخوان المسلمون جیسے گروہوں کے عروج کے ساتھ مذہب اور سیاست جڑ سے گئے . اور اب کم از کم کچھ لوگ اسلام کے عوامی اور نجی زندگی میں کردار کے بارے میں سوال پوچھنا شروع کر چکے ہیں

زور سے بولیے، سنائی نہیں دیا

حاضرین جنس / سیکس

ایک بار پھر براہ مہربانی شرم محسوس نہ کریں

حاضرین: جنس / سیکس

شیریں ال فیکی : بالکل صحیح یہ جنس ہی ہے. (ہنسی) عرب خطے کے طول و عرض میں جنس کی قبول صورت شکل صرف شادی ہی ہے اپنے والدین کی مرضی سے ‘ مذہب کی طرف سے منظور اور ریاست کے پاس درج شدہ – شادی آپ کے بالغ ہونے کا ٹکٹ ہے . اگر آپ نکاح نہیں کرتے تو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر کہیں اور نہیں رہ سکتے ہیں اور نہ ہی سیکس کر سکتے ہیں اور بچے پیدا کرنے کا تو آپ بھول ہی جائیں

یہ ایک معاشرتی دیوار ہے یا ایک ناقابل تسخیر قلعہ جو کسی بھی تنقید یا کسی بھی متبادل خیال کو اندر داخل نہیں ہونے دیتا اس قلعے کے ارد گرد ممانعت کا ایک وسیع میدان ہے جس میں شادی سے پہلے سیکس ‘ کونڈم اسقاط حمل’ ہم جنس پرستی آپ کسی چیز کا بھی نام لیں وہ سب ممنوع ہے

فائزہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے وہ اپنے کو کنواری کہلوا کر اپنی کوئ آرزو نہیں بیان کر رہی اگرچہ اس خطے کے بیشتر مذاہب ‘ شادی سے پہلے پاکدامنی’ کی تشیح کرتے ہیں مگر پدرسرانہ نظام میں مرد تو مرد ہی رہتا ہے مرد شادی سے پہلے بھی جنسی تعلقات بناتا ہے اور لوگ اس کو کبھی آرام سے اور کبھی مشکل سے نظرانداز کردیتے ہیں

مگر عورتوں کے لیے ایسا نہیں ہے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ شادی کی رات وہ کنواری ہوں اور ان کی جھلی (پَردہ بَکارَت ) برقرار ہو اس کا تعلق انفرادی مرضی سے نہیں بلکہ خاندانی عزت اور وہ بھی خاندان کے مردوں کی عزت سے ہے

تو خواتین اور ان کے رشتہ دار انسانی جسم کی اس چھوٹی سی جھلی کو محفوظ رکھنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں چاہے وہ عورت کے ختنے کی صورت میں ہو یا کنوارے پن کی جانچ یا پھر جھلی کی مرمت اور سرجری کی شکل میں

فائزہ نے ایک غیر روایتی طریقے یعنی عقبی مباشرت کا انتخاب کیا مگر وہ پھر بھی حاملہ ہو گئی کیونکہ فائزہ کو اس حقیقت کا علم نہیں تھا کیونکہ سکول میں بہت کم جنسی تعلیم دی جاتی ہے اور خاندان میں اس موضوع پر کوئی بات ہی نہیں کرتا

جب فائزہ کے لئے اپنا حمل چھپانا مشکل ہوگیا تو اس کی ماں نے اس کی اپنے باپ بھائیوں سے دور بھاگ جانے میں مدد کی کیونکہ عرب خطے میں غیرت کے نام پر قتل خواتین کی ان گنت تعداد کے لئے ایک حقیقی خطرہ ہے بالآخر جب فائزہ کو کاسا بلانکا کے ایک ہسپتال پہنچایا گیا تب وہاں ایک آدمی جس نے فائزہ کی مدد کرنے کی پیشکش کی تھی فائزہ کی عصمت دری کرنے کی کوشش کی

افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ صرف فائزہ کا مسئلہ نہیں ہے مصر جو میری تحقیق کا مرکز ہے اس قلعے کے اندراور باہر بہت مصیبت ہے وہاں جوان لڑکوں کا ایک جم غفیر ہے جو شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے کیونکہ شادی ایک انتہائی مہنگی تجویز بن چکی ہے ان نوجوانوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ شادی شدہ زندگی میں اخراجات کا بوجھ برداشت کریں گے لیکن ملازمت نہیں ملتی جو اس حالیہ بغاوت کا بنیادی سبب بھی رہی ہے اور عرب خطے کی بیشتر شادیوں میں بڑھتی ہوئی عمر کی ایک وجہ بھی یہی ہے

کچھ پڑھی لکھی پروفیشنل خواتین شادی کرنا چاہتی ہیں ان کو اچھے رشتے نہیں مل پاتے کیونکہ وہ اب خواتین سے کی جانے والی توقعات پر پورا نہیں اترتیں جیسے تیونس میں ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر نے مجھ سے کہا کہ “عورتیں وقت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ روشن خیال ہوتی جا رہیں ہیں جبکہ مرد اب تک پتھر کے زمانے سے ہی نہیں نکل پا رہے “

اور پھر ان میں وہ عورتیں اور مرد ہیں جنہوں نے ہم جنس پسندی اپنا لی ہے اپنی صنف سے جنسی تعلقات قائم کرلیے ہیں یا ان لوگوں سے جو مختلف جنسی شناخت رکھتے ہیں ایسے لوگوں پر قانون کا ڈنڈا ہے جو نا صرف ان کی سرگرمیوں پر پر بلکہ ان کے حلیے پر بھی ان کو سزا دیتا ہے ان کی روزانہ کی جدوجہد میں سماجی بدنامی خاندان کی ان سے مایوسی اور مذہبی عذاب شامل ہیں

اب ایسا بھی نہیں کہ ازدواجی بستر پھولوں کی سیج ہے جو جوڑے اپنی شادی شدہ زندگی میں زیادہ خوشی یعنی جنسی لذت تلاش کر رہے ہیں ان کو سمجھ نہیں آتا کہ وہ یہ منزل کیسے حاصل کریں خاص کر بیویاں جو کہ ڈرتی ہیں کہ وہ کہیں بری عورت نہ سمجھی جائیں اگر انہوں نے بستر پر تھوڑی سی بھی گرمجوشی دکھائی

اور پھر وہ لوگ جن کی شادی کے پردے میں جسم فروشی ہوتی ہے جن کو ان کے اہل خانہ فروخت کر دیتے ہیں ان کے خریداروں میں عموما عرب سیاح ہوتے ہیں عرب خطے میں رائج عروج پر ہونے والی جنسی تجارت کا یہ صرف ایک چہرہ ہے

اب وہ لوگ ہاتھ اٹھائیں جن کو لگ رہا ہے کہ یہ ساری کہانی تو جانی پہچانی ہے ایسا بھی نہیں ہے کہ جنسی ممنوعات پر عرب دنیا کی کوئی اجارہ داری ہے

حالانکہ ابھی تک ہمارے پاس عرب دنیا کی کینزے رپورٹ نہیں ہے جو ہم کو بتا سکے کہ عرب خطے بھر کی خواب گاھوں کے اندر اصل میں ہو کیا رہا ہے مگر یہ کافی واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے مرد اور عورت کے لئے دوہرے معیار جنس ایک شرم ناک حرکت خاندان کا افراد کی انفرادی خواہشات پر اختیار اور ظاہر اور باطن میں خلیج جیسے لوگ جو کر رہے ہیں وہ اس کو ماننا نہیں چاہتے ایک عمومی خوف کہ کہیں بات نجی چہ مگویوں سے ایک سنجیدہ اور عوامی بحث نہ اختیار کر جاۓ

قاہرہ کے ایک ڈاکٹر نے یہ کہہ کر سمندر کو کوزے میں بند کردیا کہ “یہاں جنس اور کھیل کے لئے لوگوں کا رویہ بالکل برعکس ہے فٹبال پر ہر کوئی بات کرتا ہے مگر شاید ہی کوئی کھیلتا ہو لیکن جنس ہر ایک کرتا ہے لیکن کوئی اس پر بات نہیں کرتا -.” (قہقہہ)

 (عربی موسیقی)

شیریں ال فیکی : میں آپ کو ایک ایسا مشورہ دینا چاہتی ہوں اگر آپ نے اس پرعمل کیا تو اپ کی زندگی خوشیوں سے بھر جاۓ گی

جب آپ کا شوہرآپ کے قریب آنا چاہے جب وہ آپ کے جسم کے کسی حصے کو دیکھے تو دل کی گہرائیوں سے آہ بھریں اور اس کی طرف ہوس بھری نظروں سے دیکھیں

جب وہ عضو تناسل کے ساتھ اندر داخل ہو تو اپنی اداؤں سے اس کو محظوظ کریں اور اپنے جسم کو اس کے جسم کے ساتھ ہم آہنگی سے حرکت دیں

شہوت انگیز ہے نا؟ اور ایسا لگتا ہے یہ مفید مشورے کسی عریاں فلم “جنس کی خوشی” سے آئے ہوں گے حقیقت میں یہ دسویوں صدی کی ایک عربی کتاب “لذت کا انسائیکلوپیڈیا” میں سے ہیں جو کہ شہوت انگیز چیزوں سے لے کر جانوروں سے جنسی اختلاط اوراس کے درمیان جو کچھ بھی آتا ہے ان تمام تفصیلات پر مشتمل ہے

یہ انسائیکلوپیڈیا عربی اروٹکا کی بہت لمبی فہرست میں سے ایک ہے جو کہ مذہبی مبلغوں نے لکھی ہیں اگر ہم رسول خدا کے زمانے کی بات کریں تو وہاں ہم کو جنس کے بارے میں صاف صاف بات کرنے کی اسلامی روایت ملتی ہے نہ صرف جنس کے مسائل بلکہ اس کی لذت پر بھی صرف مردوں کے لیے نہیں عورتوں کے لئے بھی ہزار سال پہلے ہمارے پاس جنس کے متعلق ایک پوری عربی لغت ہوا کرتی تھی الفاظ جو کسی بھی جنسی خصوصیت پوزیشن پسند اور ترجیح کو بیان کردیں زبان کی ایسی نفیس شکل جو کہ اتنی ضخیم ہو کہ ایک عورت کا جسم تشکیل دے سکے جیسا کہ آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں

آج یہ تاریخ عرب خطے میں بڑی حد تک لاپتہ ہے یہاں تک کہ تعلیم یافتہ لوگ بھی جنس کے بارے میں بات چیت اپنی زبان کے بجاۓ غیرملکی زبان میں کرنا پسند کرتے ہیں آج کل عرب دنیا میں جنس کے متعلق زمینی حقائق یورپ اور امریکہ کے اس دور سے ملتے جلتے ہیں جب وہ ممالک جنسی انقلاب کے دہانے پر کھڑے تھے حالانکہ مغرب نے جنسی آزادی کا فیصلہ کیا تھا لیکن ہماری تحقیق کے مطابق عرب معاشرہ مخالف سمت جا رہا ہے مصر اور اس سے ملحقہ بہت سے ممالک کا یہ مخالف سمت سفر ایک بڑے سفر کا حصہ ہے جس میں صرف جنسی نہیں سیاسی سماجی ثقافتی سوچ بھی شامل ہے اور یہ ایک پیچیدہ تاریخی عمل کی پیداوار ہے جس کی زمین 1970 کے بعد اسلامی قدامت پرستی کے عروج کے ساتھ ہموار ہوئی ہے ” کہہ دو نہیں! ” دنیا بھر میں قدامت پسندوں کی جنسی جمود برقرار رکھنے کے لیے بس ایک یہی نصیحت ہے عرب خطے میں جنسی جمود کو توڑنے کی ہر کوشش کوعرب روایات اور اسلامی اقدار کو کمزور کرنے کی مغربی سازش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے مگر یہاں ان کا اپنا سب سے طاقت ور داؤ یعنی ‘جنس مذہب کے گھیرے میں’ سب سے زیادہ خطرے میں ہے

لیکن تاریخ کا مشاہدہ کیا جاۓ تو زیادہ پیچھے نہیں ہمارے باپ دادا کے زمانے تک بھی زیادہ سے زیادہ مصلحت پسندی ‘ رواداری اور رضامندی پر زور دیا جاتا تھا کہ دوسروں کی بات سنی جاسکے چاہے وہ اسقاط حمل مشت زنی یا ہم جنس پرستی جیسے آتشی موضوعات ہی کیوں نہ ہوں یہ معاملات کالے اور سفید کی طرح واضح نہیں جیسا یہ قدامت پسند ہم کو یقین دلا چکے نہ صرف جنسیات کے بارے میں بلکہ اور بہت سے معاملات میں اسلام ہم کو سرمئی شام کی طرح 50 مختلف رنگ مہیا کرتا ہے ہنسی!

اپنے سفر کے دوران عرب خطے بھرمیں میری جن مردوں اور عورتوں سے ملاقات ہوئی وہ اس معاملے کے مختلف پہلووں پر کام کر رہے ہیں ماہر جنسیات جو جوڑوں کو ان کی شادیوں میں زیادہ جنسی لذت تلاش کرنے میں مدد کررہے ہیں جدت پسند افراد اسکولوں میں جنسی تعلیم داخل کرنے ‘ مردوں اور عورتوں کے چھوٹے گروپ ہم جنس پرست، ہیجڑےاور مخنث افراد کے گروپ اپنے جاننے والوں سے پہلے آن لائن اور پھر رو بہ رو کھل کر بات کر رہے ہیں خواتین اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مردوں کی تعداد نے سڑک اور گھرمیں ہونے والے جنسی تشدد کے خلاف کھل کر بولنا اور روکنا شروع کردیا ہے کچھ گروپس جنسی پیشہ ور افراد کو ایچ آئی وی اور دیگر پیشہ ورانہ خطرات سے خود کو بچانے میں ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور این جی اوز فائزہ کی طرح کی بن بیاہی ماؤوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ وہ معاشرے میں اپنا مقام بنا سکیں’ بچوں کو اپنا کر ان کے ساتھ رہ بھی سکیں

ابھی یہ کوششیں کافی چھوٹی سطح پر اور اکثر پیسے کی کمی کا شکار رہتی ہیں اور ان کو خوفناک مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے لیکن میں پرامید ہوں کہ طویل مدت میں وقت سب تبدیل کرتا چلا جاۓ گا اوران لوگوں کو اور ان کے خیالات کو کامیابی حاصل ہو گی عرب خطے میں سماجی تبدیلی ڈرامائی تصادم کے ذریعے نہیں آتی سینہ کوٹنے سے یا بے دھڑک سینہ کھولنے سے بھی نہیں آتی بلکہ مذاکرات کے ذریعے آتی ہے

ہم یہاں کسی جنسی انقلاب کی نہیں بلکہ ہم ایک جنسی ارتقاء کی بات کر رہے ہیں دنیا کے دیگر حصوں سے سیکھنا’ مقامی حالات کے لحاظ سے اس کو اپنانا ‘ کسی کی سنہری راہ کی پیروی نہیں بلکہ اپنی راہ پر قائم رہ کر آگے بڑھنا مجھے امید ہے یہ راستہ ایک دن ہم کو اپنے جسم پر اختیارکا حق’ تسلی بخش اور محفوظ جنسی زندگی گزارنے کے لیے درکار معلومات اور خدمات تک رسائی حاصل کرنے کا حق ‘ آزادانہ طور پر اپنے خیالات کے اظہار کا حق ‘ اپنی پسند کی شادی کرنے کا حق ‘ اپنے شریک سفر کو منتخب کرنے کا حق’ جنس کرنے کا حق ‘ بچے کب پیدا کرنے ہیں یا کرنے ہیں یا نہیں یہ فیصلہ کرنے کا حق اور یہ سب بغیر کسی تشدد ‘ طاقت یا امتیاز کے ہمارے حقوق ہمیں دلوا دے گا

ابھی ہم عرب خطے سے بہت دور ہیں اور کتنا کچھ تبدیل ہونا باقی ہے قانون، تعلیم، ذرائع ابلاغ، معیشت، یہ فہرست ختم نہیں ہوتی یہ کم از کم ایک نسل کا کام تو ضرور ہے

لیکن یہ تبدیلی ایک سفر سے شروع ہوتی ہے جو میں نے کیا میں نے جنسی زندگی کے متعلق موصول ہونے والی معلومات کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سخت سوالات پوچھے یہ ایک ایسا سفر ہے جس نے میرے تصورکو اور پختہ کیا اور مقامی تاریخ اور ثقافت کی قدر کو میری نظر میں بڑھا دیا مجھے اس جگہ امکانات دکھاۓ جہاں میں صرف قطعیت دیکھا کرتی تھی

عرب خطے میں بہت سے ممالک میں بحران کو دیکھتے ہوۓ ہوۓ جنس کے بارے میں بات کرنا ‘ ممنوع اشیاء کے لئے لڑنا اور متبادل راستے تلاش کرنا ایک عیاشی سی لگتی ہے

لیکن تاریخ کے اس نازک لمحے میں اگر ہم اپنی ذاتی جنسی زندگی میں آزادی اور انصاف کو’ وقار اور مساوات کو’ خلوت اور خود مختاری کو جگہ نہیں دیں گے عوامی سطح پر اس کا حصول مشکل ہو جاۓ گا

سیاسیات اور جنسیات ایک بستر پر سونے والے ساتھی ہیں یہ ہم سب کا یکساں سچ ہے چاہے ہم کہیں بھی رہتے ہوں

اور کسی سے بھی محبت کرتے ہوں

آپ کا شکریہ (تالیاں)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شیریں الفیکی کی دیگر تحریریں
شیریں الفیکی کی دیگر تحریریں