ماہواری کی ناہمواری: تالا کنڈا سب ٹھیک ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نہ آئے تو شناخت مبہم، آ جائے تو شرمندگی!

وقت سے پہلے آئے تو عذاب، رخصت جلد ہو جائے تو زندگی ویران!

وقفہ کم ہو جائے تو خون کی کمی، دورانیہ طویل ہو جائے تو نقاہت!

درد کے ساتھ آئے تو زندگی تعطل کا شکار، بے قاعدہ ہو جائے تو بانجھ پن!

وہ گھبرائی ہوئی خاتون ایک پندرہ سولہ برس کی بچی کے ساتھ ہمارے کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔ کرسی پہ دھم سے بیٹھتے ہوئے بولیں،

“ڈاکٹر صاحب، میں بہت پریشان ہوں راتوں کی نیند اڑ چکی ہے”

“جی فرمائیے، ہم آپ کی نیند کیسے واپس بلا سکتے ہیں؟”

“وہ جی آپ ذرا میری بیٹی کو چیک کر لیجیے، اسی کے لئے میں پریشان ہوں”

ان کا لہجہ پراسرار ہوتا گیا اور بچی جو ساتھ والی کرسی پہ بیٹھی تھی، کا سر جھکتا چلا گیا۔

“وہ کیا کہتے ہیں وہ… جی.. وہ… وہ ابھی تک نہیں آئی”

وہ اٹک اٹک کے بولیں

“کون نہیں آئی؟” ہم متعجب ہوئے

“جی وہی، جو ہر مہینے آتی ہے” وہ اور آہستگی سے بولیں۔

“کون؟ کہاں سے ہر مہینے آتی ہے؟

دیکھیے بی بی، بجھارتیں مت بھجوائیے، ہمارا وقت قیمتی ہے”

“ڈاکٹر، اصل میں پریشانی اس قدر ہے کہ دماغ ماؤف ہوا جاتا ہے۔ میری چار بیٹیاں ہیں، یہ سب سے چھوٹی ہے۔ اس سے بڑی تینوں کو ماہانہ ایام بارہ تیرہ برس کی عمر میں شروع ہو گئے۔ وہ صحت مند ہیں۔ اس بیٹی کو سولہواں لگ چکا اور ایام کے کہیں آثار نہیں۔ میری تو سوچ سوچ کے راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے، خدا نخواستہ اگر اس کی شناخت میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو….”

بچی کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ کرسی میں مزید دھنستی چلی جائے اور کسی کو نظر ہی نہ آ سکے۔ اس کی شناخت ایک سوالیہ نشان بن چکی تھی۔ ہماری نظر کے سامنے بے اختیار اپنی بیٹیاں شہر بانو اور ماہم آ گئیں اور دل کچھ ثانیوں کے لئے دھڑکنا بھول گیا۔

“دیکھیے، آپ اس قدر مضطرب نہ ہوں اور بچی کو بھی خوفزدہ مت کیجیے”

ہم نے بچی کی طرف رخ کیا، جو قدوقامت اور لڑکپن کی بنیادی علامات کے ساتھ نارمل دکھ رہی تھی۔

“بیٹا، کیا کبھی کچھ محسوس کیا آپ نے کہ کہیں کچھ تکلیف ہے؟”

بچی دھیمی سی آواز میں بولی،

“ہر ماہ پیٹ کے نچلے حصے میں بہت درد محسوس ہوتا ہے”

“کیا ایسا لگتا ہے کہ پیٹ کے نچلے حصے میں وزن سا پڑ رہا ہے؟

“جی ہاں” بچی نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔

“ہمیں بچی کے اعضائے مخصوصہ کا معائنہ کرنا ہے”

ہم بچی کی ماں سے مخاطب ہوئے،

“مگر کیسے… کنواری بچی ہے” وہ ہکلاتے ہوئے بولیں،

“جی مجھے علم ہے کہ اس کا کنوارپن معاشرے کے لئے اس کی زندگی سے زیادہ اہم ہے” ہم چڑ کے بولے

“بے فکر رہیے، ہم کنوارپن کی نشانی کو چھیڑنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ ہمیں صرف بیرونی معائنہ کرنا ہے اور پھر بعد میں الٹرا ساؤنڈ”

بچی کو معائنہ کاؤچ پہ منتقل کرنا، لباس اتارنا اور معائنے کے لئے ایک مخصوص پوزیشن بنواتے وقت بچی کے چہرے کے تاثرات اور پھٹی پھٹی آنکھیں دیکھنا ایک تکلیف دہ امر تھا جو نشاندہی کرتا تھا کہ کیسے لڑکیوں کو ان کے اپنے ہی جسم سے شرمندہ ہونے کی کیفیت میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔

بچی کے معائنے کے بعد تشخیص وہی تھی جو ہم پہلے ہی بھانپ چکے تھے۔

بچی کے پردہ بکارت(Hymen)میں سوراخ نہیں تھا اور اس کو Imperforate Hymen کہا جاتا ہے۔

یہ جاننا دلچسپی کا امر ہے کہ تخلیق کے ابتدائی مراحل میں نطفے کے جنسی اعضاء ایک جیسے ہوتے ہیں بھلے کروموسومز یہ فیصلہ کر چکے ہوں کہ دنیا میں آنے والا مرد ہو گا کہ عورت!

ایک بنیادی عضو جنیٹک کوڈنگ اور ہارمونز کے اثرات کے تحت مختلف مراحل سے گزرتا ہوا وہ بناتا ہے جو کسی کو عورت کی شناخت بخشتا ہے، کسی کو مرد اور کسی کو وہ، جس کو معاشرہ قبول ہی نہیں کرتا۔

پردہ بکارت اصل میں ایک جھلی ہے جو اپنڈکس کی طرح نشوونما کے مختلف درجوں کی ایک ایسی نشانی ہے جس کا نہ تو کوئی مصرف ہے اور نہ ہی کوئی افادیت۔

پردہ بکارت چونکہ ایک رد کیا ہوا بچا کھچا عضو ہے اس لئے یہ مختلف اشکال میں پایا جا سکتا ہے اور یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بجائے یہ کہ ہائمن بتدریج مختصر ہو، کسی بھی وجہ سے یہ موجود رہتی ہے اور اس میں وہ طبعی سوراخ بھی نہیں بنتا جو ویجائنا کو ایک طرف رحم سے منسلک کرتا ہے اور دوسری طرف باہر کی دنیا سے۔

ماہانہ ایام کے آغاز میں رحم سے خون کا خروج تو ہوتا ہے لیکن ہائمن کے نقص کی وجہ سے ویجائنا سے باہر نہیں نکل پاتا۔ نتیجتاً یہ خون ویجائنا میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ ویجائنا کی دیواریں لچکدار ہونے کی وجہ سے کسی غبارے کی طرح پھولتے ہوئے اس خون کو جمع کرتی جاتی ہیں۔

بچی کی اماں متوحش نظروں سے ہمیں اس طرح دیکھ رہی تھیں کہ شاید ہم جادوگر کی ٹوپی سے کبوتر نکالنے والے ہیں۔ ہم نے انہیں اپنی تشخیص سے آگاہ کیا تو وہ بوکھلا کر بولیں،

“اب آپ کیا کریں گی؟”

“فکر کی کوئی بات نہیں۔ مختصر سی بے ہوشی دے کر ہائمن میں سوراخ بنا دیا جائے گا، پہلے سے موجود خون باہر نکل آئے گا اور بعد میں ماہواری کے خروج میں کوئی دقت نہیں ہو گی”

“ہائے ہائے ڈاکٹر، یہ تو کنواری بچی ہے۔ اس کے اعضاء مخصوصہ پہ چیرا کیسے لگوائیں؟”

وہ اپنی جگہ سے اچھلیں،

“دیکھیے، بات یہ ہے کہ اس سارے معاملے کا کنوارپن سے کوئی تعلق نہیں۔ ہائمن نہ بھی ہوتی تو بھی یہ بچی ایک مکمل انسان ہی ہوتی۔ کنوارپن کو ایک بیکار جھلی سے جوڑ دینا عورت کو اس کے مقام سے گرا دیتا ہے۔

ان باتوں سے قطع نظر، imperforate Hymen  کا اس کے علاوہ کوئی اور علاج نہیں” ہم نے تلخ ہو کر کہا

“ڈاکٹر ،کیا آپ اس کے والد کو یہ سب سمجھا دیں گی؟”

والد کو یہ سب سمجھانا گویا بھینس کے سامنے بین بجانا تھا کہ جن کی تان بار بار دوشیزگی بچ جانے اور نشانی باقی رہ جانے پہ ٹوٹتی تھی۔ اور ہم کنوارپن کے اس ثبوت کو دل ہی دل میں مغلظات سے نوازتے ہوئے ان والد ماجد کو تفصیلات سے آگاہ کیے چلے جاتے تھے۔

سالم پردہ بکارت سے نبٹنے کا کوئی اور راستہ نہیں تھا سو انہیں ہماری بات مانتے ہی بنی۔

آپریشن میں پردہ بکارت کو کاٹ کے سوراخ بنانے میں بمشکل پانچ منٹ کا وقت صرف ہوا اور کافی مدت سے جمع شدہ خون راستہ پا کے باہر کو بہہ نکلا۔

بچی دوسرے دن ہی ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئی لیکن ہمیں ایک فرمائش اپنے بال نوچنے پہ مجبور کر گئی۔

” برائے مہربانی ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ بنا دیجیے جو مستقبل میں بچی کی شادی کے موقع پہ ہم دکھا سکیں کہ پردہ بکارت سے طبی ماہرین نے ضرورت کے تحت چھیڑ چھاڑ کی تھی”

پہلے غصہ، پھر اضطراب اور پھر افسردگی!

درست سوچ تھی ان کی، ملکیت کی منتقلی میں مال کی جانچ پڑتال ہوا ہی کرتی ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply