بھائی کا ڈر اور باپ کی تبدیلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوجوانی میں ہمارے دوست ’بھائی ‘ سے بہت ڈرایا کرتے تھے۔ جہاں ہمارا دل آتا تھا، فورا ہمارے دوست کہنے لگتے تھے کہ سنبھل کر رہنا اس کے چار بھائی ہیں۔ اچھی خاصی آنکھیں ملتی، دل دھڑکنے لگتا لیکن ’بھائی’ کے خوف سے پتلی گلی لے لیتے تھے۔ جیسے جیسے جوانی کی کہانی آگے بڑھتی گئی ’بھائی‘ کا ڈر اتنا ہی بیٹھتا رہا۔ اور پھر کہانی میں ایک بڑا سا ’U‘ ٹرن آ گیا۔

بات سے بات چلی اور دل اُس کی آنکھوں میں کھوتا چلا گیا۔ ہم نے ہمت اور چالاکی سے اُسے نہیں بتایا کہ ہمیں ’بھائی’ سے کتنا ڈر لگتا ہے۔ باتوں ہی باتوں میں ہم نے اس سے پوچھ لیا کہ کتنے بھائی ہیں۔ ؟ اس کا جواب سنتے ہی دل کو تسلی ہو گئی۔ یقین نہیں مانیں گے کہ ایک ہفتے تک یہ سوچ سوچ کر آئس کریم سے پیٹ اور دل کو ٹھنڈا کرتا رہا کہ بس ایک ہی ’بھائی‘ ہے۔

مگر جب قسمت میں ”بھائی“ لکھا ہو تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہے۔ ایک روز مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ میرے اور میری محبوبہ کے درمیان ایک اور ”بھائی“ آچکا ہے۔ چھوٹے موٹے بھائی سے ہی ہماری حالت خراب ہو جاتی تھی، اب تو بڑا بھائی میدان میں آچکا تھا۔ ہم چاند اور چاندنی کی باتیں کرتے اور وہ درمیان میں ”بھائی“ کا ذکر لے آتی تھی۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمیں اس کے دیدار کے لیے بھی ”بھائی“ کے جلسے میں جانا پڑتا تھا۔

”بھائی“ نے ایک اور گستاخی کر دی۔ لاہور ہائی کورٹ نے بھائی کی تقریر اور نام د کھانے اور چھاپنے پر پابندی عائد کر دی۔ آپ سوچ سکتے ہوں گے کہ بھائی کے جلسے اور تقریر پر پابندی سے کس شخص کو سب سے زیادہ خوشی ہوئی ہو گی؟

سونے پر سہاگہ ہوگیا۔ 22 اگست کو مکمل پابندی لگ گئی۔ اپنے پرائے ہو گئے۔ لمحے بھر میں جان قربان کرنے والے ”ٹن“ ہو گئے۔ اور کلمہ پڑھ پڑھ کر مسلمان ہونے لگ گئے۔

مجھ غریب کی محبت بھری کہانی میں بھائی کا کردار ختم ہی نہیں ہو رہا ہے۔ اس لیے مصطفی کمال کا دکھ صرف میں سمجھ سکتا ہوں۔ اب بھائی کے اپنے ہی دشمن ہو چکے تھے۔ محبوبہ بھی پکی ہے اب مجھے بھائی سے زیادہ پرانے بھائی والوں کے قصے سننے پڑتے تھے۔

دل دیا ہے جان بھی دیں گے۔ بڑا مشہور گانا تھا۔ جان کا تو معلوم نہیں لیکن دل دے کر ”بھائی“ کو بھگتنا کوئی ہم سے سیکھے۔ جلسے اور کارنر میٹنگ ہی سہی، اسی بہانے یار کا دیدار تو ہو جاتا تھا۔ جب سے بھائی پر پابندی لگی اور سابقے، لاحقے لگا کر بھائی والے الگ الگ ہوئے تو ہماری محبوبہ بھی گھر میں بیٹھ گئی۔

 11مارچ کو امید کی کرن نظر آئی۔ اس نے فون کیا اور کہا کہ ایک باجی نے کہا ہے کہ ڈیل ہو گئی ہے اور 18 مارچ کو میں ”مکا چوک “ جاؤں گی۔ میں نے دل میں سوچا کہ ایسی ملاقات سے بہتر ہے انسان شمالی علاقوں کے دورے پر چلا جائے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ اس چکر میں نہیں پڑو۔ لیکن وہ نہیں مانی۔

میں نے اس سے کہا کہ فرماں برداری پاکستان والی متحدہ سے سیکھ لو۔ کیسے پاکستان والی متحدہ نے اپنا یوم تاسیس 18 مارچ کی بجائے 25 مارچ کو کر دیا ہے۔ مگر ہماری قسمت میں اتنی فرماں بردار محبوبہ کہاں۔ ؟۔ اس کا پھر فون آیا۔ دیکھا پکی بات ہے ”بھائی“ کی ڈیل ہو گئی ہے۔ پاکستان والی پارٹی پیچھے ہٹ گئی ہے۔ اب تم ضرور آنا۔ میں نے کلمہ پاک پڑھا۔ اور زور سے نعرہ لگایا۔ پاکستان زندہ باد۔ ۔ تاکہ میرے کاندھوں پر بیٹھے فرشتوں کو بھی یقین ہو جائے کہ میں نا صرف پکا مسلمان ہوں بلکہ سچا پاکستانی بھی ہوں۔ میں فیصلہ کر چکا تھا کہ دل جتنا بھی مجبور کرے میں ”بھائی“ سے ڈرتا رہوں گا۔ اور مر جاوں گا لیکن لاپتہ نہیں ہوں گا۔

دو دن اسی سوچ میں گزر گئے کہ دل کا ساتھ دوں یا پاکستان کا؟ اللہ کا شکر ہوا کہ بھائی نے اعلان کر دیا کہ سب لوگ یوم تاسیس گھر پر ہی منائیں۔ جنگ اخبار نے فرنٹ پیچ پر خبر لگائی تو دل میں خیال آیا کہ آخر کچھ دنوں سے بھائی کو فرنٹ پیج پر جگہ کیوں ملنے لگی ہے؟ مگر بھائی کے متعلق کون پوچھ سکتا ہے؟

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، میں نے اسے کہہ دیا کہ دیکھا ”بھائی“ سے کوئی ڈیل نہیں ہو سکتی ہے۔ مگر ”بھائی“ بھائی ہی ہوتا ہے۔ عین نکاح کے وقت بھی پخ ڈال ہی دیتا ہے۔ اسی لیے شاید ہمارے یہاں پر ”سالا“ گالی ہی سمجھی جاتا ہے۔ وہ فوراً بولی۔ نہیں۔ بھائی نے کہا ہے کہ ہم مکا چوک پر پرچم لگائیں گے۔ میں نے دل میں نعرہ لگایا ”پاکستان زندہ باد“۔

17 مارچ کو پاکستان والی متحدہ اور پاک سر زمین پارٹی کے کئی لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ بھائی کی کوئی خبر ہے؟ میں نے کہا خدا کی قسم جتنی بار میں اپنی محبوبہ کو یاد کرتا ہوں اس سے زیادہ بار بھائی کو سلام کرتا ہوں۔ لیکن دور دور سے۔ کیونکہ مجھے پٹنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ پہلے محبوبہ کے چکر میں بھائی بھائی کرتے تھے اور آج کل کسی چکر میں نا پھنسنے کے لیے انجان بن کر پوچھتے ہیں کون بھائی؟

رات اپنے کام میں مصروف رہا۔ 17 سے تاریخ 18 مارچ ہو چکی تھی۔ رات دو بجے کے قریب میں کھانا کھانے بیٹھا تو ٹی وی بھی چلا لیا۔ ایک نیوز دیکھ کر فورا نوالا ہاتھ میں ہی رہ گیا۔ خبر تھی کہ ڈی جی رینجرز نے رات گئے شہر کا دورہ کیا ہے۔ صاحب نے مختلف ”ڈھابوں “ میں چائے پی اور شہریوں سے بات کی۔ میں نے دل میں ابھی کہا ہی تھا کہ ”لو بھئی۔ ”بھائی“ کی تو لگ گئی۔ اچھا ہوا کل کی ملاقات کینسل ہوئی۔“ اور زور سے پھر دل میں نعرہ لگایا۔ پاکستان زندہ باد۔ معلوم نہیں میری محبوبہ کو میری خوشی کا کیسے معلوم ہو گیا۔ فورا میسج آگیا۔ شہر میں کیا ہو رہا ہے؟ عائشہ منزل۔ مکا چوک۔ سب کچھ سیل کر دیا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ میرے دل کتنا خوش ہے، مگر محبت کی لاج بھی تو رکھنا تھی۔ میں نے فورا کہا ہم کیا کرسکتے ہیں؟ اتنی بے بسی کا اظہار تو فاروق ستار نے نہیں کیا تھا۔ یہ کہہ کر وہ off لائن ہو گئی۔

تبدیلی نے پھر جلدی سے U ٹرن لے لیا تھا۔ اگلے دن اس علاقے میں شدید ٹریفک جام تھا لیکن سوشل میڈیا پر ویڈیو چل رہی تھی کہ کچھ نوجوان وہاں پہنچ گئے۔ میں نے پوری ویڈیو د یکھنے کی بجائے۔ دل میں نعرہ لگا یا۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔ اور فوراً ویڈیو ڈیلیٹ کر کے اپنا ایمان تازہ کیا۔ پورا دن کوشش کی کہ میری محبوبہ گھر سے نا نکل سکے اور میں یہ بہانہ کرتا رہوں کہ ٹریفک بہت جام ہے۔

ایک کام کے لیے مجھے سرجانی ٹاون جانا تھا۔ بڑی مشکل سے وہاں پہنچا۔ رات بہت دیر ہو گئی۔ واپسی میں سوچا کہ کچھ فروٹ لے لوں۔ موبائل جیب سے نکالا تو محبوبہ کا میسج تھا لگتا ہے کہ ڈیل نہیں ہوئی۔ میں کراچی کے مشہور UP موڑ پر فروٹ لے رہا تھا۔ پاکستان والی متحدہ کی جان میں جان آچکی تھی کہ ”بھائی“ سے ڈیل نہیں ہوئی۔ جیسے آج تک ہماری نہیں ہو سکی۔ میں نے فروٹ والے سے پوچھا کہ خربوزہ کیا کلو دے رہے ہو؟ اس نے حسب معمول کہا کہ بہت میٹھا ہے۔ صبح سے پچاس روپے بیچ رہے تھے آپ کو چالیس کا لگا دیں گے۔ میں نے حساب کیا اور کہا کہ ڈھائی کلو سو روپے کے ہوں گے۔ سو روپے جیب سے نکالنے لگا تو UP کے پل پر نظر پڑی۔ کچھ لوگ بینر لگا رہے تھے۔ میں نے اونچی آواز میں بینر پڑھنا شروع کیا ”متحدہ قومی مومنٹ کا یوم تاسیس 25 مارچ۔ نشتر پارک“ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ آج پورے دن پھر کیا ہورہا تھا؟ اور یہ 18 مارچ گزرتے ہی بینر کیوں لگا رہے ہیں ؟۔ میری سوچ فروٹ والے نے توڑ دی۔ زور سے کہنے لگا۔ بھائی صاحب پورا ڈھائی کلو ہے۔ میری نظر بینر پر تھی۔ میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر سو روپے کا نوٹ آگے کر دیا۔ فروٹ والا سمجھ گیا کہ میں بینر میں کھویا ہوا ہوں۔ فورا مجھے پکار کر کہنے لگا۔ ۔ استاد۔ انھوں نے اپنی تاریخ پیدائش بدل دی ہے۔ اور پھر سوالیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ۔ کیا پیدائش کی تاریخ بدل دینے سے باپ بھی بدل جائے گا؟ اس نے زور سے قہقہہ لگایا۔ مجھے فوراً سب کچھ چھوڑ کر دل میں نعرہ لگانا پڑ گیا۔ پاکستان زندہ باد۔ جلدی سے میں نے فروٹ کی تھیلی لی۔ اور پورے راستے دیکھتا ہوا آیا کہ کسی نے فروٹ والے کی بات تو نہیں سن لی۔ گھر تک پہنچتے پہنچتے میں نے پورے اکتالیس بار نعرہ لگایا۔ پاکستان زندہ باد۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *