کیا آپ دیومالائی دانشور جوزف کیمبل کے خیالات اور نظریات سے واقف ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیسویں صدی کے مشہور دانشوروں میں امریکہ کے جوزف کیمبل ایک مستند ، معتبر اور معزز دانشور سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے دیومالائی ادب پر بے شمار کتابیں لکھیں وزڈم لٹریچر پر بصیرت افروز انٹرویو دیے اور عوام و خواص میں بہت مقبول ہوئے۔

وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے نفسیات، سماجیات اور روحانیات کے علوم کا گہرا مطالعہ کر کے انہیں دیومالائی ادب کے ساتھ جوڑا۔ ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے اور مکالمے سنتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے ایک دانا بزرگ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے ہوں اور تاریخ کے آتے جاتے قافلوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کر کے اپنا تجزیہ پیش کر رہے ہوں۔

جوزف کیمبل ایک دانشور کے ساتھ ساتھ ایک ہمدرد دل رکھنے والے صوفی منش انسان بھی تھے۔ ان کی شخصیت میں وہ مقناطیسیت تھی کہ ہر رنگ ، نسل زبان اور کلچر کے مرد اور عورتیں ان سے فیض حاصل کرنے کے لیے ان کی طرف کھنچے چلے آتے اور ان کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرتے۔

وہ دقیق سے دقیق مسائل اور فلسفوں کو ایک اچھے استاد کی طرح نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں اپنے شاگردوں کے سامنے پیش کرتے جس سے وہ بہت کچھ سیکھتے۔ وہ بیسویں صدی کے ایسے انٹلیکچول تھے جنہوں نے نفسیات اور سماجیات کے درمیان پل تعمیر کیے۔ وہ روحانیت کو سائنسی نقطۂ نطر سے اور سائنس کو روحانی نقطۂ نظر سے دیکھتے تھے۔

جوزف کیمبل نے اپنی کتابوں میں بے شمار موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔ میں یہاں صرف ان کی کتاب
TRANSFORMATION OF MYTH THROUGH TIME
کے چند ایک موضوعات پر ان کے خیالات و نطریات پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کے دل میں ان کی کتاب پڑھنے کا شوق پیدا ہو۔

دیو مالائی دنیا

جوزف کیمپبل کا موقف تھا کہ دیومالائی ادب انسانی ذات اور کائنات کے راز جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان صدیوں سے اپنے ارد گرد کے ماحول سے حیرت زدہ ہے اور قوانین فطرت کو جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔ بہت سے لوگ دیومالائی ادب کی اس لیے تفہیم نہیں کر پاتے کیونکہ ایسے ادب کا دائرہ کار روزمرہ کی منطق سے بہت آگے ہے۔

دیومالائی ادب پراسرار ہوتا ہے کیونکہ وہ استعاراتی زبان اور تجریدی تصور استعمال کرتا ہے ، اسی لیے اس میں خیال کی بلندی اور فکر کی گہرائی پائی جاتی ہے۔

دیومالائی دنیا کے دو حصے ہیں: انفرادی اور اجتماعی

انفرادی دیومائی دنیا میں انسان کا انفرادی لاشعور فعال ہوتا ہے۔ یہی لاشعور انسان کو رات کے وقت سہانے اور ڈراؤنے خواب دکھاتا ہے۔ سگمنڈ فرائڈ نے اپنی مشہور کتاب INTERPRETATION OF DREAMS میں انفرادی لاشعور کے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھایا۔

اجتماعی دیومالائی دنیا میں انسان کا اجتماعی لاشعور فعال ہوتا ہے۔ کارل ینگ نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب MAN AND HIS SYMBOLS میں ہمارا اجتماعی لاشعور کے رازوں سے تعارف کروایا جو مختلف قوموں کے فنون لطیفہ میں جلوہ گر دکھائی دیتا ہے۔

جوزف کیمبل نے اپنی کتابوں میں انفرادی اور اجتماعی لاشعور کے درمیان پل تعمیر کیے۔ وہ نظریاتی طور پر جوانی میں فرائڈ کے اور بڑھاپے میں ینگ کے زیادہ قریب تھے۔

انسان کی پیدائش

زندگی کے ارتقاء کے سفر میں انسان جو HOMO SAPIENS کہلاتا ہے، جب معرض وجود میں آتا ہے تو یہ وہ دور ہوتا ہے جب جانور کا شعور انسانی شعور کا روپ دھارتا ہے۔ انسان نے اپنے شعور کے ارتقاء کی وجہ سے ادب اور مذہب ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم دریافت کیے اور انہیں مرتب کیا۔

انسان نے جب اپنی ذات اور کائنات پر غور کیا تو اسے کئی مماثلتیں دکھائی دیں ، اس کی ایک مثال عورت کے حیض کے 28 دن کے دائرے menstrual cycle اور چاند کی 28 دن کی گردش lunar cycle میں مماثلت ہے۔

انسان نے جب دوربین اور خوردبین بنائی تو اس نے جہاں خوردبین سے انسانی خلیات کے راز جانے وہیں اس پر دوربین سے چاند اور سورج گرہن کے راز بھی منکشف ہوئے۔

مادر سری اور پدر سری تہذیبیں

جوزف کیمبل کا اپنی تحقیق کی بنیاد پر خیال ہے کہ ایک وہ دورہوتا تھا جب دنیا میں مادر سری نظام قائم تھے۔ وہ اس کی ایک مثال کے طور پر ہندوستان کا وہ زمانہ قبل از مسیح کا مندر پیش کرتے ہیں جس کا صحن گائے کی اندام نہانی کی شکل کا ہے۔ اس دور میں گائے ایک مقدس جانور سمجھی جاتی تھی۔ وہ گائے کو گاؤ ماتا سمجھتے تھے اور اس کی چار ٹانگوں کو دنیا کے چار کونوں سے تشبیہہ دیتے تھے۔ گائے تو آج بھی ہندوستان میں مقدس سمجھی جاتی ہے۔

ماریجا گمبتا اپنی کتاب GODDESSES AND GODS OF OLD EUROPE میں ثابت کرتی ہیں کہ چار سے سات ہزار قبل مسیح یورپ میں بھی مادرسری نظام اور سماج پائے جاتے تھے۔ آج بھی دیوی ، ماں بولی اور دھرتی ماں کے تصورات مادرسری نظام کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

جوزف کیمبل کا کہنا ہے کہ مادر سری نظام اس وقت قصۂ پارینہ ہوا اور پدرسری نظام قائم ہوا جب یونان میں خدائے زیوس اور مشرق وسظیٰ میں YAHWEH جیسے مرد خدا مقبول ہوئے۔ اسرائیل کے خدا نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ میں ہی سچا خدا ہوں، باقی سب خدا جھوٹے ہی نہیں شیطان بھی ہیں۔ کیمبل فرماتے ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں نے اپنے ایک خدا کے پیغام کو کبھی تبلیغ اور کبھی مذہبی جنگوں سے دنیا کے چاروں کونوں تک پہنچا دیا۔

مشرقی اور مغربی روایتیں

جوزف کیمبل کا کہنا ہے کہ انسانی تاریخ میں مشرقی اور مغربی روایات دریا کے دو کناروں کی طرح ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔

مشرقی روایت بدھا کنفیوشس اور لاؤزو کی تعلیمات کی وجہ سے پروان چڑھی۔ بدھا نے اپنے سچ کی تلاش کی تعلیم دی اور کنفیوشس نے دوسروں کے سچ کے احترام کا درس دیا۔

مشرق میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ خدا ہر انسان کے دل میں بستا ہے اور وہ سراپا راز ہے۔ جب ہم اپنی ذات سے واقف ہو جاتے ہیں تو ہمارا خدا سے تعارف ہو جاتا ہے۔

مغرب کا خدا ایک بادشاہ کی طرح ہے۔ جوزف کیمبل کا خیال ہے کہ بادشاہ خدا کا تصور ایران کے بادشاہ داریوش نے پیش کیا جو کافی مقبول ہوا۔ اس تصور میں خدا بادشاہ ہے اور انسان غلام اور وہ اپنی غلامی پر فخر کرتا ہے۔

جوزف کیمبل کا کہنا ہے کہ یونان کے فلاسفروں اور دانشوروں نے انسانیت کا منطقی سوچ سے تعارف کروایا جس کی کوکھ سے سائنس نے جنم دیا۔

جوزف کیمبل کا مشورہ ہے کہ مشرقی لوگ مغرب سے سائنس اور مغربی لوگ مشرق سے روحانیت سیکھیں تاکہ مشرق و مغرب کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آ سکیں اور ساری دنیا میں محبت پیار اپنائیت اور انسان دوستی کی فضاء قائم ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 420 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *