تروپتی سے پشوپتی: ہندوستان کا ریڈ کوریڈور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چار اپریل 2021 کا دن انڈین سیکورٹی فورسز خصوصاً  سی آر پی ایف اور کوبرا فورس پر نہایت بھاری گزرا۔ جب چھتیس گڑھ کی ریاست میں واقع سکما اور بیجا پور کی سرحد پر گھنے جنگلات میں ماؤ نوازوں نے گھات لگا کر تقریباٰ 22 اہلکاروں کو آن کی آن بھون ڈالا۔ جبکہ 30 جوان شدید زخمی بھی ہوئے اور بے شمار لاپتہ ہو گئے۔ اس لرزہ خیز کارروائی نے گویا نئی دلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو بھی چپ لگ چکی ہے جو بڑے طمطراق سے یہ بیان دیا کرتے تھے کہ نکسل بحران محض تین برسوں میں جڑ سے نکال کر پھینک دیا جائے گا۔

یاد رہے گزشتہ دس برسوں میں چھتیس گڑھ میں دانتے واڑہ، نارائن پور، سکما اور بیجا پور وہ خطرناک علاقے ہیں جہاں کئی بار بے رحمی سے سیکورٹی فورسز پر خوفناک حملے کر کے ان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اور تاحال اب بھی ماؤ نواز ہنوز دلی کی گرفت سے کوسوں دور محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے چھتیس گڑھ، جھاڑکھنڈ، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش اور اڑیسہ تا بنگال میں یہی نعرہ تواتر سے گونجتا رہا ہے کہ تروپتی سے پشوپتی یعنی آندھرا سے نیپال بارڈر تک ماؤ نواز راج کر رہے ہیں۔

یہ بات اب بالکل واضح ہو چکی ہے کہ گھات لگا کر حملہ کرنے میں نکسلائیٹ کا کوئی ثانی نہیں اور وہ کسی بھی خونریز جھڑپ کے بعد بھی اپنے زخمیوں اور لاشوں کو بھی ہر ٹریپ سے بچا کر لے جانے کے بھی ماہر ہیں۔ یہاں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کشمیر سے زیادہ ہلاکتیں نکسل متاثرہ اضلاع خصوصاً چھتیس گڑھ کی ریاست میں گزشتہ چند برسوں میں ہوئیں۔ کیا بھارتی ریاست، ماؤ نواز افتاد کا تدارک کر سکے گی؟ یہ وہ اہم سوال ہے جو اس وقت ہندوستانی مین سٹریم میڈیا، انڈین وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور وزیراعظم نریندر مودی کے لئے سوہان روح یا رستا ہوا ناسور بن چکا ہے۔

آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس نکسل باڑی تحریک کا پس منظر، محرکات اور کارروائیاں کیا رہیں اور آج کے ہندوستان میں ان کا کردار کیا ہے؟

بھارت اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے ۔ ایک ایسا ملک جہاں بھانت بھانت کی ثقافتیں، زبانیں چپے چپے پر ملتی ہیں۔ پنجاب سے ہریانہ، بنگال سے اترپردیش، کرناٹک سے تامل ناڈو، گجرات سے مہاراشٹر غرض ہر دو سو تین سو کلومیٹر پر ایک متنوع کلچر کی رنگا رنگی اپنے جوبن پر دکھائی دیتی ہے۔

یہ درست ہے کہ بھارت گزشہ ستر سال سے جمہوریت جس کو ہندی میں ”لوک تنتر“ کہتے ہیں ، اس کے ثمرات سمیٹ رہا ہے مگر دوسری جانب یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس جمہوریت نے بھارت کی سبھی ریاستوں کو ترقی کے دھارے پر نہیں ڈالا۔ کئی ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں عوام میں مزاحمتی جذبات پائے جاتے ہیں کیونکہ ان کے استحصال اور تحفظات کو ”دلی“ سنجیدگی کی عینک سے نہیں دیکھتا۔ انہیں محض طاقت سے ہانکا جاتا ہے ، اسی لئے مسائل جنم لیتے ہیں اور آج بھی بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں منی پور، ناگا لینڈ، میزورام، تری پورہ، جبکہ شمال میں کشمیر میں زندگی معمول پر نہیں ہے۔

جہاں ایک جانب ان ریاستوں میں عوام جمہوری حقوق سے محروم ہیں اور افسپا کی غنڈہ گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، وہیں بنگال سے جھار کھنڈ، مدھیہ پردیش، اڑیسہ، آندھرا، تلنگانہ، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر تک ایک خانہ جنگی کی سی صورتحال موجود ہے۔ اس سارے علاقے کو ”ریڈ کوریڈور“ کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک گروہ مسلح جدوجہد کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ ماؤ نواز گوریلے ہیں جو ماؤ کی فلاسفی پر عمل پیرا ہیں اور نظام کو طاقت سے بدلنے کی جدوجہد پر کامل یقین رکھتے ہیں ، یہ جمہوریت اور بیلٹ بکس کی سیاست کو کلی طور پر مسترد کرتے ہیں۔

1967 میں مغربی بنگال کے ایک گاؤں نکسل باڑی میں کسانوں نے اپنی زمینیں بچانے کے لئے مسلح جدوجہد شروع کی۔ ان میں چارو موجمدار کا کردار ابھر کر سامنے آتا ہے جس نے کسانوں میں اپنے حق کے لئے بندوق اٹھانے کا جذبہ جگایا اور پھر اس مسلح جتھے نے پولیس والوں کو بھی بھون ڈالا۔ چونکہ یہ جدوجہد نکسل باڑی گاؤں سے شروع ہوئی ، اسی لئے یہ ماؤ نواز کارکن ”نکسلائیٹ“ کہلائے۔ اس طرح نکسل ازم دلی سرکار کے لئے مزاحمت کی علامت بن کر ابھرا۔

اس جدوجہد کے نتیجے میں اب تک 14000 سے زائد افراد موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں جن میں سویلین سمیت 3500 سیکورٹی اہلکار اور 4000 نکسلی شامل ہیں۔ اب جبکہ اس جدوجہد کو پچاس برس پورے ہو چکے مگر یہ مزاحمت بھارت سرکار کے تمام تر جبر کے باوجود جاری ہے۔ اور اس کا کوئی حل خواہ وہ سیاسی ہو یا فوجی مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا۔ بھارت میں کل 600 سے زائد اضلاع موجود ہیں قریباً دس سال پہلے 200 سے زائد اضلاع نکسلی مزاحمت سے متاثر تھے ، اب ان کا اثر کچھ ٹوٹا ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 83 اضلاع تک نکسلی محدود ہو چکے ہیں۔

نکسل باڑئیے سماجی گھٹن، سرمایہ دارانہ سسٹم کے بے رحمانہ پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے محنت کش کسانوں کے استحصال کے خلاف صف آراء ہیں۔ اس سارے لال کوریڈور میں معدنیات بکثرت موجود ہیں جن پر بھارت کے کارپوریٹ سکیٹر اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نظر جمی ہوئی ہے ، وہ اس علاقے میں پھیلے قبائل، ان کے جنگلات اور زمینوں پر اپنے پلانٹس لگانا چاہتے ہیں، ڈیم بنانا چاہتے ہیں اور کانوں پر قبضہ چاہتے ہیں چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ ان لال ماؤ نواز عناصر کا مقصد کیا ہے؟  دراصل یہ انقلاب بزور طاقت لانے کے داعی ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ لال کوریڈور میں پھیلی قبائلی بیلٹ پر قبضہ کیا جائے، ان کو آزاد زون بنا کر ریگولر فوج کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ انقلاب کی راہ ہموار ہو سکے۔

یہ ہر قصبے گاؤں گاؤں جا کر پرچار کرتے ہیں کہ ہمارے وسائل پر ایک ایلیٹ قابض ہے ، اسے اور ریاستی طاقت کو فورسز پر حملے کر کے تباہ کر دو۔ دراصل یہ ماؤ کی فلاسفی پر کاربند ہیں کہ طاقت سے سسٹم بدل دو اور طاقت ہی استحصال کا جواب ہے لہٰذا یہ ہر طرح کے سیاسی اظہار کے مخالف ہو چکے ہیں۔ سیاسی لیڈروں پر حملے اب معمول کی بات ہے۔ نکسلائیٹ جانتے ہیں کہ ان کے نظریے کے پھیلاؤ کے لئے خوف اہم ہتھیار ہے۔ قبائل ان نکسلائیٹ کی مدد کرتے ہیں ان کو پناہ دیتے ہیں۔ اگر کوئی سیکورٹی فورسز کا ٹاؤٹ بن جائے تو اسے نشان عبرت بنایا جاتا ہے جبکہ دیہاتوں میں تھانوں پر بھی حملے کیے جاتے ہیں۔

فوجی کانوائے پر گھات لگانا ان کا پسندیدہ طریقہ واردات ہے۔ سی آر پی ایف، ناگا فورس، کوبرا فورس، حتیٰ کہ بھارتی فوج کو ملا کر لاکھوں کا اجتماع لال کوریڈور میں تعینات ہے مگر ان سب کے لئے بھی جنگل میں جا کر نکسلائیٹ کا تعاقب کرنا ایک درد سر سے کم نہیں۔ سیکورٹی فورسز والے ماؤ وادیوں کے گڑھ والے علاقوں کو ”پاکستان“ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ بھارتی حکومت نے 2009 میں ”آپریشن گرین ہنٹ“ نکسلائیٹ کی سرکوبی کے لئے شروع کیا مگر بعد ازاں سیکورٹی فورسز پر ایسے خوفناک حملے کیے گئے کہ حکومت کو آپریشن گرین ہنٹ کی اصطلاح سے گریز کرنا پڑا اور اس وقت کے وزیر داخلہ چدم مبرم کو کہنا پڑا کہ ”آپریشن گرین ہنٹ تو میڈیا کی اختراع ہے“ ۔

ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ نکسلائیٹ کی جانب سے بچوں کا استعمال بھی حملے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ان کے مسلح جتھوں میں عورتیں بھی بڑی تعداد میں ماؤ فلسفے پر کاربند ہو کر اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ سیکورٹی فورسز کے ٹارچر سیل میں بدترین تشدد سہنے کے باوجود بھی یہ عورتیں زبان نہیں کھولتی۔ نکسلی، بھرتی کے لئے قبائل کا رخ کرتے ہیں لوگ استحصال کے خلاف نعرے سے متاثر ہو کر ان کے ساتھ شامل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر جبری بھرتی بھی کی جاتی ہے۔

یہاں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ صرف کسان، اور قبائلی ہی نہیں بلکہ ستر اور اسی کی دہائی میں پڑھے لکھے نوجوانوں نے بھی اپنے گھر چھوڑ کر اس تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ ان نوجوانوں کو ریاستی جبر، قید سہنا پڑی مگر ان کا خیال تھا کہ یہ ایک استحصال سے پاک سسٹم کی جستجو میں رومانوی راہوں پر گامزن ہیں اور جیل تو ان کی گویا کائنات ہے۔ یہ لینن، مارکس اور ماؤ کی تحریروں کے اسیر رہے اور جدوجہد کرتے رہے۔ نکسلائیٹ کی اس وقت تعداد 80 ہزار کے قریب ہے۔

80 کی دہائی تک 30 مسلح گروپس ریاست کے خلاف برسرپیکار تھے۔ ان میں پیپلز وار گروپ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ نکسل باڑی تحریک کے بانی موجمدار کو اپنے ہی ایک ساتھی ستیہ نارائن سنگھ کی بغاوت کی وجہ سے گرفتار ہونا پڑا۔ 1972 میں جیل میں موجمدار کی موت ہو گئی ، اس وقت کی وزیراعظم اندر گاندھی نے آپریشن stapple chase شروع کیا جس کے نتیجے میں 20 ہزارنکسلائیٹ کو جیل میں ٹھونسا گیا۔ لیکن تحریک چلتی رہی۔ نکسلی مزاحمت کا سب سے شدید حملہ چھتیس گڑھ کے ضلع دانتے واڑا میں 6 اپریل 2010 کو کیا گیا، جب سی آر پی ایف کے کانوائے پر ایک ہزار نکسلیوں نے گھات لگا کر حملہ کیا اور 76 جوان مار گرائے۔

یہ حملہ بھارتی سیکورٹی فورسز کی نفسیات پر ایک کاری وار ثابت ہوا۔ 2011 میں ماؤ لیڈر ”کشن جی“ بھی مارا گیا جو تحریک کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ بھارتی حکومت نے ”مہندرا کرما“ کی قیادت میں 2006 میں ”سلوا جدم“ بنائی جس کو سرکاری آشیرواد سے نکسل ازم کے خلاف مسلح تنظیم کے طور پر کھڑا کیا گیا۔ اس تنظیم میں کان کن مزدوروں، بچوں کو بھرتی کیا گیا۔ 644 دیہات خالی کرائے یا جلائے گئے۔ یہاں تک کہ ریپ کے واقعات بھی سامنے آئے۔

حکومت نے اس تحریک کو کچلنے کے لئے سپیشل پولیس افسر بھی بھرتی کیے لیکن عدلیہ نے 2011 جولائی میں اس سپیشل فورس کو بند کرنے کا حکم دیا۔ ”سلوا جدم“ کی کارروائیوں کے دوران لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ نکسلیوں نے اس کا بدلہ مئی 2013 میں کانگرسی رہنماء نند کمار کے ساتھ سلوا جدم کے ”مہندرا کرما“ کو بھی موت کے گھاٹ اتار کر لے لیا۔ جبکہ مئی 2019 میں گڈ چڑولی مہاراشٹر میں 16 پولیس اہلکاروں اور 21 مارچ 2020 کو سی آر پی ایف کے 17 اہلکاروں کی نکسلیوں کے ہاتھوں اندوہناک ہلاکتوں نے اس سارے منظر نامے کو دلی سرکار کے لئے مزید گمبھیر بنا دیا ہے جبکہ چار اپریل 2021 کے اندوہناک واقعے کا تذکرہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ نکسلی متاثرہ علاقے ترقی سے دور ہیں یہاں ٹی وی اور خبروں کے پھیلاؤ سے ہی شعور پھیلے گا، اس کو دبانے کے لئے طاقت کوئی حل نہیں ہے۔ اس ایشو پر بھارت میں کئی بامقصد فلمیں بھی سامنے آئیں جن میں لال سلام، ہزار چوراسی کی ماں، ریڈ الرٹ، چکر ویو اور نکسلائیٹ شامل ہیں۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ اداکار متھن چکرورتی بھی اس تحریک سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ نکسلی آج بھی سبز یونیفارم میں لال کوریڈور میں دندنا رہے ہیں اور وہ بھارتی دستور کو ماننے سے یکسر انکاری ہیں۔

یوں اس خانہ جنگی کی بدولت اس متاثرہ بیلٹ میں تعلیمی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں اور یہ علاقہ شدید پسماندگی سے بھی دوچار رہا ہے۔ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کہہ چکے ہیں کہ نکسل ازم بھارت کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ بھارتی حکومت نکسلیوں کے خلاف اسرائیلی موساد سے بھی تربیت و ہتھیار لے چکی اور سپیشل جنگل وار فیئر کے کالجز کا جال بھی بچھایا گیا مگر ان کی سمجھ میں یہ نہیں آ سکا کہ جب تک طاقت کے بجائے نکسل باڑیوں سے مکالمہ نہیں ہو گا تب تک عدم مساوات کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جب تک پسماندہ قبائل کے مفادات کو کارپوریٹ مفادات پر برتری نہیں دی جائے گی، دہشت گردوں اور سماج کے باغیوں میں امتیاز نہیں ہو گا ”لال کوریڈور“ بدستور دلی کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بنا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *