ایوان اقتدار سے نشر ہونے والا لیکچر پروگرام
بڑے بزرگ فرماتے ہیں کہ ایوب خان جب صدر مملکت تھے تب سبز انقلاب کے چرچے تھے۔ ان کی طرف سے قوم کی اصلاح کے لئے قوم سے خطاب کے نام پر مقامی حکومتوں کی اہمیت پر درس کا پروگرام ایوان صدر سے نشر ہوتا تھا۔ بعد ازاں ضیاء الحق کے دور میں روس اور امریکہ جنگ پر بھی لیکچر پروگرامز ایوان اقتدار سے نشر ہوتے تھے۔ ضیاء الحق جب اقتدار میں تھے اس وقت ہم بچے تھے اس لئے یاد نہیں پڑتا ہے کہ وہ کس طرح کی دانشورانہ گفتگو فرماتے تھے مگر اپنے مشرف صاحب کا زمانہ تو پورا کا پورا یاد ہے۔
ان کا قوم سے ہر خطاب دراصل ایک مکمل لیکچر ہوتا تھا۔ یہ بات ان کے چہرے سے عیاں ہوتی تھی کہ وہ قوم کو کچھ نہ کچھ درس دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ مجھے کل کی طرح یاد ہے جب مشرف صاحب روشن خیالی پر لیکچرز دیتے تھے تو وہ جوش خطابت میں اپنا مکا لہراتے تھے ، تب ان کی سونے کی انگوٹھی دیکھ کر رشک آتا تھا۔ وہ تو بھلا ہو ڈاکٹر مہدی حسن کا جن کی جماعتی اسلامی کے ایک سیمنار میں کی گئی گفتگو سے روشن خیالی کا مفہوم سمجھ آ گیا ورنہ قوم کے بچوں کی طرح ہم بھی مشرف بہ مشرف ہو کر اسی کو روشن خیالی سمجھ بیٹھے تھے جو ہمیں وقت کے اس عظیم ڈیکٹیٹر نے اپنے لیکچر میں سمجھایا تھا۔
مشرف ہمیں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مذہبی شدت پسندی کے مضر اثرات جیسے موضوعات پر بھی لیکچرز دیتے تھے۔ ان کے لیکچر پروگرام کا سرکاری نام قوم سے خطاب ہی ہوتا تھا۔ پھر مشرف کا زمانہ ختم ہوا۔ اس کے بعد ایک سناٹا تھا۔ صرف ووٹ، پارلیمان، جمہوریت، عوام اور آئین کے تقدس جیسی پرانی اور گھسی پٹی باتیں سننے کو ملتی تھیں۔ پورا ایک عشرہ بوریت میں گزر گیا۔ پھر ایک روز صبح آنکھ کھلی تو ملک میں تبدیلی آ چکی تھی۔
ہمیں بتایا گیا کہ پرانا پاکستان ختم، اب ہم نئے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ ہمیں امید قوی تھی کہ ایوان اقتدار سے لیکچر پروگرام کا جلد آغاز ہو گا۔ ہمیں مایوس نہیں کیا گیا۔ نئے پاکستان میں ایوان اقتدار سے قوم سے خطاب کے نام پر لیکچر پروگرام کو بحال کیا گیا۔ ہم خوشی سے پھولے نہیں سمائے کیونکہ قوم ایک بڑے عرصہ سے درس و تریس کے عمل سے استفادہ کرنے سے محروم تھی۔ پہلے یا دوسرے فرمائشی پروگرام میں ہی ریاست مدینہ کا دل کش منظر نامہ پیش کیا گیا۔ غربت کے خاتمے اور غریب کو اوپر اٹھانے کا جو عظیم فارمولا پیش کیا گیا اس پر دنیا ورطۂ حیرت سے دوچار ہوئی۔
ایوان اقتدار سے نشر ہونے والے لیکچر پروگرام کے ڈائریکٹرز نے اب اس کو جدید خطوط پر استوار کر لیا ہے۔ یعنی اب یہ روایتی درس و تدریس کی طرح ون سائیڈڈ اور بورنگ نہیں ہوتا ہے بلکہ تفاعلی یعنی انٹریکٹیو ہوتا ہے۔ سوال و جواب کا باقاعدہ اہتمام ہوتا ہے۔ دور حاضر کے عظیم مفکر فیصل جاوید خان موڈریٹر کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قوم کی خوش قسمتی دیکھیے کہ وقت کے وزیراعظم کے پاس ہر مسئلہ کی بینادی وجوہات کی تحقیقی معلومات کے ساتھ اس کے حل کا کیمیائی نسخہ بھی موجود ہوتا ہے جو وہ فون پر اسی وقت ہی بتا دیتے ہیں۔
پچھلی دفعہ انہوں نے کووڈ سے بچنے کے لئے سمارٹ لاک ڈاؤن کی نئی اصطلاح متعارف کرائی جس پر دنیا نے واہ واہ کیا۔ پھر انہوں نے کرپٹ لوگوں کو چین کے طرز پر پھانسی دینے کا حیرت انگیز نسخہ پیش کر کے بڑا نام کمایا۔ احساس لنگر کا ان کا فلسفہ بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
ابھی انہوں نے حالیہ اپنے ایک لیکچر پروگرام میں بڑھتے ہوئے ریپ کیسز کی وجوہات اور ان کا حل بھی بتا دیا ہے۔ جس سماجی مسئلہ پر دنیا کی یونیورسٹیاں سال ہا سال لگا کر اپنی رائے قائم کرتی ہیں ، وہ ہمارے وزیراعظم کو فنگر ٹپس پر یاد ہیں۔ جس اعتماد کے ساتھ وزیراعظم لیکچر دیتے اور مسئلوں کا حل بتاتے ہیں، اس حساب سے ہمیں پورا یقین ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں ملک کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔
جو لوگ وزیراعظم کو وعدے کے باوجود وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی نہ بنانے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، ان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کیا ہمارے وزیراعظم اپنی ذات میں ایک درس گاہ نہیں ہیں؟
مجھے اپنی عقل پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے۔ ایک سماجی مسئلہ پکڑو تو اس کو سمجھنے کے لئے دس دس آرٹیکلز اور کتابیں دیکھنے کی مشقت جھیلنی پڑتی ہے۔ پھر بھی رائے قائم کرنے کی ہمت نہیں ہوتی کیونکہ لوگ ریفرنس مانگتے ہیں۔ وزیراعظم کا کمال ہے وہ منٹوں میں مسئلہ کی وجوہات، اس کی شدت، اثرات اور بھرپور حل سمجھا دیتے ہیں۔
مجھ ناچیز کو کبھی ایوان اقتدار جانے کا موقع نہیں ملا ہے۔ جنہوں نے دیکھا ہے وہ ہمیں سمجھا دیں کہ ایوان اقتدار میں وہ کون سی روحانی طاقت ہے جو وہاں پہنچتے ہی ہر شخص کو دانشور بنا دیتی ہے؟ بندہ پہلے سے دانشور ہو تو اس کو وہاں پہنچنے کی اجازت ہوتی ہے یا وہاں پہنچ کر یہ طاقت ودیعت ہوتی ہے؟


