ملکی ترقی کیلئے عوام کا سرکار پر اعتماد ضروری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرانے زمانے کے اکثر بادشاہ بھی درویش صفت ہوا کرتے تھے۔ اہل علم کی قدر کرنا، ادباء اور شعراء کی عزت افزائی اور بزرگوں کا احترام ان کی نظر میں بہت اہمیت رکھتا تھا۔ عالموں اور بزرگوں کا ادب اتنا ملحوظ رکھا جاتا تھا کہ کسی بھی مسئلہ کا حل معلوم کرنے کی ضرورت پڑ جاتی تو عالموں اور بزرگوں کو دربار میں طلب کرنے کی بجائے بادشاہ خود چل کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔

اسی قسم کا ایک مسئلہ ایک نیک دل بادشاہ کو اس وقت پیش آیا تو بادشاہ اپنے ملک کے ایک بہت بڑے بزرگ کی خدمت حاضر ہوا تاکہ ان سے دعائیں بھی لے سکے اور امور مملکت چلانے کے لئے نکتے کی باتیں بھی جان سکے۔

بادشاہ نے نہایت ادب کے ساتھ اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ امور مملکت چلانے کے لئے وہ کون سے اہم نکات ہیں جن کو ہر حاکم کے لئے جان لینا ضروری ہونا چاہیے۔ بزرگ نے فرمایا کہ ملک کی معیشت کو مضبوط کرو تاکہ لوگ خوشحال ہو سکیں۔ بادشاہ نے کہا بہت خوب۔ پھر حضرت سے عرض کیا کہ مزید فرمائیں۔ بزرگ نے کہا کہ دفاعی صلاحیت کو جتنا ہو سکے بڑھاؤ۔ لوگوں میں احساس تحفظ بڑھے گا تو اور بھی زیادہ بے فکری کے ساتھ اپنے اپنے امور انجام دیں گے۔

بادشاہ نے کہا بہت خوب۔ پھر عرض کیا کہ حضرت اور ارشاد فرمائیں۔ بزرگ نے کہا کہ اپنا اعتماد ہمیشہ قوم پر بحال رکھنا اور قوم سے کبھی جھوٹ نہ بولنا۔ یہ تین باتیں اگر اختیار کر لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ قوم تم سے خوش نہ رہے اور ملک ترقی نہ کرسکے۔ بادشاہ ان کا شکریہ ادا کر کے جانے لگا لیکن دو قدم بڑھانے کے بعد پلٹ کر واپس آیا اور عرض کیا کہ اگر مالی مشکلات بھاری فوجی اخراجات برداشت نہ کر سکتی ہوں تو؟ ، فرمایا کہ بھاری بھرکم فوج کا اہتمام مؤخر کر دو، ملک کا بچہ بچہ اپنے ملک کی حفاظت کرنا خوب اچھی طرح جانتا ہے۔

بادشاہ خوش ہو کر جانے لگا لیکن ایک بار پھر دروازے سے لوٹ آیا اور نہایت ادب کے ساتھ عرض کیا کہ اگر مالی مشکلات معیشت کی ترقی میں بھی مانع ہوں تو؟ ، فرمایا کہ اسے بھی مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ بادشاہ واپس جانے لگا مگر دروازے پر جا کر ٹھہر گیا لیکن مزید کچھ پوچھنے کی ہمت نہ پا کر دروازے میں ہی رکا رہا تو بزرگ خود اٹھ کر اس کے پاس آئے اور بادشاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے کہ کچھ بھی ہو جائے لیکن قوم کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچانا، اگر تم نے قوم پر اپنا اعتماد بحال رکھا تو قوم پیٹ پر پتھر باندھنے اور ملک کے لئے کٹ مرنے کے لئے ہر دم تیار رہے گی۔

بادشاہ نے پوچھا کہ یہ اعتماد کیسے بحال رکھا جا سکتا ہے تو فرمایا جو قوم کھائے تم کھاؤ، جو قوم پہنے تم پہنو اور جیسی رہائش قوم کی ہو تم بھی اس سے بڑھ کر رہائش اختیار نہیں کرو گے تو قوم حکومت اور ملک، دونوں کے لئے جان کی بازی لگا دے گی۔

آج مولانا طاہر اشرفی صاحب وزیراعظم کی ترجمانی کرتے ہوئے تاجروں سے فرما رہے تھے کہ خدارا وہ اپنے منافع میں 50 فیصد کمی کریں تاکہ عوام کو اشیائے ضروریہ کسی حد تک کم داموں میں مل سکیں۔ بات غلط بھی نہیں کیونکہ اب تو اشیاء بیچنے والوں نے منافع کی ہر حد کو پار کر دیا ہے، قیمت کا دوسرا نام ”منہ مانگا“ ہو گیا ہے۔ مہنگائی نے گزشتہ تین برس کے اندر اندر ایسی خوف ناک صورت اختیار کر لی ہے کہ کسی مقام پر بھی رکتی نظر نہیں آ رہی۔ ایسی صورت حال میں حکومت ہاتھ باندھ کر تاجروں اور بقول وزیراعظم ”مافیاؤں“ کے آگے ہاتھ جوڑ کر صرف اپیلیں ہی کرتی نظر آ رہی ہے جبکہ حکمرانوں کام ہاتھ جوڑنا نہیں بلکہ حرام خوروں کے ہاتھ مروڑنا اور توڑنا ہوا کرتا ہے۔

اگر برزگ کے اس نکتے کو سامنے رکھا جائے کہ حکمران کو عوام کا اعتماد کسی صورت نہیں کھونا چاہیے تو جو حاکم منتخب ہونے سے پہلے مسلسل جھوٹ بولتے رہے ہوں اور اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد بھی مکر و فریب سے باز آنے کے لئے تیار نہ ہوں، وہ عوام میں اپنا اعتماد کیسے بحال رکھ سکتے ہیں۔

طاہر اشرفی صاحب نے وزیراعظم کی ترجمانی کرتے ہوئے تاجروں سے منافع کم کرنے کی جو اپیل کی ہے وہ اپنی جگہ درست لیکن کیا اس اپیل سے پہلے وزیراعظم، ان کی کابینہ، ارکان پالیمنٹ، وزرائے اعلیٰ و گورنرز  نے اپنی اپنی تنخواہیں آدھی کرنے کا اعلان کیا؟ جب آقائے دو جہاں ﷺ اپنے پیٹ پر ایک کی بجائے دو پتھر باندھ کر اور خاک کو بچھونا بنا کر حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو کیا موجودہ حکمران (نعوذ باللہ) ان سے بھی افضل ہیں۔

اگر تمام ارکان پارلیمنٹ اور وزراء و مشیران کی ہسٹری کو سامنے رکھا جائے تو ان میں 99 فیصد سے بھی زیادہ وہ افراد ہیں جن کی سرکاری تنخواہیں ان کی داڑھ بھی گیلی نہیں کر سکتی۔ کیا ایسے افراد کو سرکار سے تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کرنے کا کوئی حق بنتا ہے۔

مختصراً اتنا ہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ کاش حکمرانوں نے عوام سے اور تاجروں سے قربانی طلب کرنے کی بجائے باقاعدہ اپنی اپنی تنخواہوں اور مراعات سے دست برادی کا اعلان کیا ہوتا اور کہا ہوتا کہ اگر حالات پھر بھی قابو میں نہ آئے تو وہ اپنی اپنی جائیدادیں بھی ملک قوم کے لئے فروخت کر دیں گے تو پھر دیکھتے ان غریبوں کو کیسے سر سے کفن باندھ کر میدان عمل میں کود پڑتے۔

یہ بات طے ہے کہ جب تک حکمران بہر لحاظ قوم کے ہم رنگ نہیں ہوں گے اور شاہانہ زندگیوں پر لعنت بھیج کر قوم کے جیسے نہیں بن جائیں گے ، اس وقت تک ان کا یہ سمجھنا کہ قوم ترقی کر لے گی اور عوام ان سے حقیقی محبت کرنے لگیں گے، کسی طور ممکن نہیں۔ اس لئے ضروری ہے حاکم عوام کا سا طرز زندگی اپنائیں بصورت دیگر تباہی و بربادی نے تو دروازوں پر دستک دینا شروع کر ہی دی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply