کرکٹر معین علی پر متنازع ٹویٹ کے بعد تسلیمہ نسرین نے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‘معین علی کرکٹر نہ ہوتے تو دولتِ اسلامیہ میں ہوتے‘۔

انگلش کرکٹر معین علی کے بارے میں ان الفاظ کا استعمال بنگالی نژاد سویڈش مصنف تسلیمہ نسرین نے 5 اپریل کو ایک ٹویٹ میں کیا تھا۔ تاہم چاروں طرف سے تنقید کی زد میں آنے کے بعد انہوں نے اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیا ہے اور لکھا کہ ان کی اس ٹویٹ کا مقصد ’طنز و مزاح‘ تھا۔

تسلیمہ نسرین کی اس ٹویٹ پر چند انگلش کرکٹرز سمیت بڑی تعداد میں سوشل میڈیا صارفین نے ان پر شدید تنقید کی ہے۔

تسلیمہ نسرین نے اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ تو کر دیا لیکن اس پر معافی نہیں مانگی ہے۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی تسلیمہ ایک مصنفہ ہیں جو کہ خواتین کی آزادی اور اسلام پر تنقید کے حوالے سے کئی کتابیں اور تحریریں لکھ چکی ہیں۔ ان پر کئی بار حملے بھی ہوئے ہیں جس کے بعد 1994 میں وہ سویڈین منتقل ہوگئیں تھی جس کے بعد وہ فرانس، جرمنی اور امریکہ اور انڈیا میں بھی رہی ہیں۔

برطانوی شہر برمنگھم میں پیدا ہونے والے 33 برس کے معین علی کو چنائی سپر کنگز نے سات کروڑ میں سائن کیا ہے۔ وہ انگلینڈ کی طرف سے 109 ون ڈے میچ کھیل چکے ہیں جس میں انھوں نے 2831 رنز سکور کیے ہیں اور 86 وکٹیں بھی حاصل کی ہیں۔

معین علی ان دنوں انڈیا میں ہیں جہاں نو اپریل سے وہ انڈین پریمیئر لیگ کے میچز میں شرکت کریں گے۔

معین علی کا تسلیمہ کی اس ٹویٹ کے جواب میں ابھی تک کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم معین کے والد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور معین کی داڑھی کی وجہ سے ان کے ساتھ ماضی میں ہونے والے واقعات کا ذکر بھی کیا ہے۔

انگلش آل راؤنڈر معین علی انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے مستقل رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ بھی تھے۔ وہ انڈیا میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی لیگ آئی پی ایل میں چینائی سپر کنگز کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔

انگلشن کرکٹرز کا ردعمل:

ورلڈ کپ میں انگلینڈ کو فیصلہ کن اوور میں فتح دلوانے والے انگلش فاسٹ بولر جوفرا آرچر نے تسلیمہ کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ‘آپ ٹھیک ہیں؟ مجھے نہیں لگتا کہ آپ ٹھیک ہیں‘۔

https://twitter.com/JofraArcher/status/1379409054087397377?s=20

جب تسلیمہ نسرین نے جوفرا کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ’طنز و مزاح‘ تھا۔ اس پر جوفرا نے لکھا ‘طنز و مزاح؟ کوئی نہیں ہنس رہا۔ آپ خود بھی نہیں۔ کم از کم آپ اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کرسکتی ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیے

’آسٹریلوی کھلاڑی نے میچ کے دوران مجھے اسامہ کہا تھا‘

‘آپ مذہب اور کھیل کو ساتھ چلا سکتے ہیں‘

برطانیہ میں اسلاموفوبیا عروج پر؟

لینکاشائر اور انگینڈ کی طرف سے کھیلنے والے فاسٹ بالر ثاقب محمود نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے یقین نہیں آرہا۔ یہ بہت بیہودہ ٹویٹ ہے۔ اس انسان سے گھن آتی ہے‘۔ انھوں نے تسلیمہ نسرین کو اہنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

https://twitter.com/SaqMahmood25/status/1379397974439170051

انگلش بیٹسمین اور وکٹ کیپر بین ڈکٹ نے تسلیمہ کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ‘یہی مسئلہ ہے اس ایپ (ٹوئٹر) کے ساتھ۔ یہاں لوگ اس طرح کی باتیں کرسکتے ہیں۔ گھن آتی ہے مجھے۔ چیزوں کو بدلنا ہوگا۔ اس اکاؤنٹ کو رپورٹ کریں۔‘

https://twitter.com/BenDuckett1/status/1379411394475528196?s=20

تسلیمہ نسرین کا جواب

مسلسل تنقید کی زد میں آنے کے بعد بدھ کی صبح تسلیمہ نے ٹویٹ کیا ‘آپ کو کیسا لگ رہا ہے؟ مجھے لگ رہا ہے جیسے ایک غریب کو پاکٹ مارنے کے شک میں پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا۔’

تسلیمہ نے زبردست تنقید کے بعد ٹویٹ کو ڈیلیٹ تو کر دیا لیکن وہ اپنے بیان پر قائم بھی نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے ان لوگوں پر بھی تنقید کی جو ان کے اس ٹویٹ کی مزمت کر رہے ہیں۔

انہوں نے لکھا ‘مجھ سے نفرت کرنے والے جانتے ہیں کہ معین علی کے بارے میں ٹویٹ طنز تھا۔ لیکن انہوں نے اسے موضوع بحث اس لیے بنایا تاکہ مجھے رسوا کیا جا سکے، کیوں کہ میں مسلم سماج کو سیکولر بنانے کی کوشش کرتی ہوں اور اسلامی تعصبات کی مخالفت کرتی ہوں۔ یہ انسانیت کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے خواتین کے حامی، خواتین مخالف دائیں بازو کی حمایت کرتے ہیں۔’

انڈیا کی سماجی کارکن کویتا کرشنن نے جب تسلیمہ نسرین کی ٹویٹ کی مزمت کی تو تسلیمہ نے لکھا ‘میں آپ کی مداح تھی۔ اتنی عدم رواداری؟ کیا آپ ان لوگوں کی آزادی اظہار میں یقین نہیں رکھتیں جو آپ کو پسند نہیں کرتے؟ صرف اس لیے کہ آپ کو میرا ٹویٹ پسند نہیں آیا، میں ایک مصنفہ یا خواتین کے حقوق کی حامی نہیں رہی؟ میرے چالیس برس کی جدوجہد کی کوئی اہمیت نہیں رہی؟ اس نفرت بھرے فتوے کو جاری کرنے سے پہلے آپ مجھ سے پوچھ سکتی تھیں کہ علی کے بارے میں میں نے ایسا کیوں کہا۔’

معین کے والد کا رد عمل

معین علی کے والد منیر علی نے انڈین اخبار دا انڈین ایکپریس میں لکھا ہے کہ اتنے سارے لوگوں میں سے تسلیمہ نے اپنے مقصد کے لیے ان کے بیٹے کا انتخاب کیا۔

انہوں نے تسلیمہ کے بیان کو ‘اسلاموفوبیا’ قرار دیتے ہوئے لکھا ‘وہ اپنے بیان کو مزاح بتاتی ہیں اور یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ شدت پسندی کے خلاف ہیں۔ اگر وہ خود کو آئینے میں دیکھیں تو پتا چلے گا کہ ان کا کیا گیا ٹویٹ شدت پسندانہ ہے۔ ان کا بیان ایک مسلم شخص کے خلاف روایتی سوچ والا، ظاہری طور پر اسلام کے بارے میں خوف پھیلانے والا بیان ہے۔’

انہوں نے لکھا کہ تسلیمہ کے بیان پر انہیں غصہ آرہا ہے، لیکن اس غصے کا اظہار کرنا ان کے ہاتھوں میں کھیلنے جیسا ہوگا۔ انہوں نے آگے لکھا ‘فی الحال انہیں ڈکشنری اٹھا کر طنز و مزاح کا مطلب دیکھ لینا چاہیے۔’

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی لوگ، یہاں تک کوچ بھی معین کو داڑھی کاٹنے کا مشورہ دے چکے ہیں اور ان کے مذہب سے متعلق باتیں کرتے رہے ہیں۔ منیر کے مطابق ‘میں پریشان تھا اور میں نے اس بارے میں معین سے بات کی۔ لیکن انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ انہیں ناقدین کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہی ان کا مضبوط کردار ہے۔’

2014 میں انڈیا کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ میں معین بازو پر ایک پٹی باندھ کر میدان میں اترے تھے جس پر لکھا تھا ‘سیو غزہ’ اور ‘فری فلسطین’۔ حالانکہ میچ ریفری ڈیوڈ بون نے آئی سی سی کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے وہ بینڈ ہٹانے کے لیے کہا تھا۔ لیکن اس وقت انگلینڈ کے کرکٹ بورد نے معین کا ساتھ دیا تھا۔

اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ان کے والد نے لکھا ‘اس نے وہ کیا جو اس کو صحیح لگا، لیکن جب انہیں بتایا گیا کہ اس کی اجازت نہیں ہے تو انہوں نے دوبارہ ایسا نہیں کیا۔’

گزشتہ ہفتے جمعے کو انڈین میڈیا میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ انھوں نے اپنی ٹیم چنائی سپر کنگز سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی شرٹ سے شراب بنانے والی کمپنی کا لوگو ہٹائیں۔ تاہم انڈین خبر رساں ادارے آئی اے این ایس نے جب چنائی سپر کنگز سے اس بارے میں رابطہ کیا تو ٹیم انتظامیہ نے انھیں بتایا کہ یہ ’بلکل جھوٹ ہے اور معین علی نے اس قسم کی کوئی درخواست نہیں کی‘۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18550 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp