ڈاکٹر خالد سہیل کا گرین زون کا فلسفۂ محبت اور فن شادی
پاکستان میں مارچ کا مہینہ عورت مارچ کے حوالے سے متنازع رہتا ہے اور ہر قسم کے گالم گلوچ سے بھرا ہوتا ہے۔ 2021 کے مارچ کو شہر لاہور کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم محبت میں گرفتار نوجوان جوڑے کے سر عام شادی کے پروپوزل نے مزید متنازع کر دیا اور گالم گلوچ کی زبان کو نئی جلا بخشی۔
اس سارے واقعے کو دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ کیا واقعی محبت اور پسند کی شادی اتنی خوفناک شے ہے کہ سارا معاشرہ لرزے کا شکار ہے۔ اگر آپ بھی میری نسل کے بیشتر لوگوں کی طرح یہ سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے بلکہ بزرگوں نے اس کو مزید خوفناک بنانے کے لیے اندھی ، بہری، لولی اور لنگڑی ثابت کرنے کی بھی تگ و دو کی ہو ، ان کے لیے ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب کا یہ ٹائٹل:
THE ART OF LOVING IN YOUR GREEN ZONE
’دی آرٹ آف لونگ ان یور گرین زون‘ خاص توجہ کا حامل ہے۔
ہمارے ہاں محبت آتش نمرود کے اثرات کی ماحصل ہے۔ خاص کر محبت اور شادی دو متضاد الفاظ بنا دیے گئے ہیں۔ ان چیزوں کو اپنے معاشرتی رویوں میں جانچنے کے لیے آپ کو کوئی بہت بڑا فلاسفر ہونے کی ضرورت نہیں۔
اگر ہم صرف ان لطیفوں کا ہی جائزہ لیں جو شادی اور بیوی کے لیے ہمارے ہاں بنائے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بیوی ایک بلا اور شادی ایک سزا ہے لیکن پھر بھی پورا خاندان انتہائی ذوق و شوق سے شادی کی کارروائی میں حصہ لیتا ہے بلکہ جب تک اس کا نتیجہ برآمد نہیں ہو جاتا نہ ہی خود سکھ کا سانس لیتا ہے اور نہ ہی نوبیاہتا جوڑے کو سکون سے محبت کے پل بتانے دیتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں شادی محبت کے لیے نہیں بچے پیدا کرنے کے لیے کی جاتی ہے جیسے ہم ڈائنا سور کی آخری نسل سے تعلق رکھتے ہیں ، اگر ہم نے بچے نہ پیدا کیے تو ہماری نسل انسانی ناپید ہو جائے گی۔
ایسے معاشرے میں ایسی کتاب جو آپ کو یہ سکھائے کہ نہ صرف آپ شادی میں محبت کے رنگ بھر سکتے ہیں بلکہ باہمی رشتے کے پچاس سال بعد بھی آپ ایک دوسرے سے بیزار ہونے کی بجائے عاشق اور معشوق کا پرلطف رشتہ نبھا سکتے ہیں ، بہت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ کتاب نہ صرف محبت کو خراج عقیدت ہے بلکہ یہ محبت کے ازلی و ابدی مسائل سے بھی نبرد آزما ہے۔
آپ کو پہلے صفحے پہ لکھے گئے انتساب سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے جب آپ یہ پڑھتے ہیں کہ یہ کتاب ان لوگوں کے نام ہے جو اجنبیوں کو محبوب میں بدل دیتے ہیں۔ اور اگلے ہی صفحے پر آپ کو خدا اور آدم، آدم و حوا کے رشتے کے مسائل پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ یہ کتاب محبت کے رشتے کی گنجلک گتھیوں کو سلجھاتی ہے۔
گرین زون فلاسفی کے مطابق وہ افراد جن کا اپنے جذبات سے رشتہ استوار نہیں ہوتا وہ لوگ ییلو اور ریڈ زون میں زندگی بسر کرتے ہیں ، ان لوگوں کی محبت اور شادی بھی ان کے جذباتئی بحران کی وجہ سے ییلو اور ریڈ زون میں رہتی ہے۔ اس میں بڑی وجہ ان کا اپنی ذات سے تعلق نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے وہ محبت میں جذباتی و جسمانی تسکین حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ سیلف ڈسکوری کا یہ عمل ہمارے معاشرے میں کم عمر کی شادیوں کی وجہ سے ادھورا رہ جاتا ہے۔ یہ عمر کا وہ حصہ ہوتا ہے جب آپ اپنے آپ کو جذبات کے سمندر میں گھرا پاتے ہیں اور اپنے ذہنی و جذباتی رجحانات سے آگاہ نہیں ہوتے۔ اس وقت ایک ایسے جذباتی رشتے میں باندھ دیا جانا جس کے بوجھ کے نیچے دب کر آپ ہمیشہ ییلو یا ریڈ زون میں رہتے ہیں۔
اپنے خود آگہی کے سفر سے گزر کر اپنے ساتھ محبت کا رشتہ بنا کر ہی آپ کسی اور کے ساتھ ایسی محبت کر سکتے ہیں جس میں آپ اس کی ایک جداگانہ شخصیت تسلیم کریں۔ اس کے جذبوں اور خوابوں کا احترام کرتے ہوئے مل کر ایک ایسی دنیا تخلیق کریں جس میں محبت اور احترام دونوں شامل ہوں۔
مشرقی معاشرے میں نہ صرف دو لوگ بلکہ ان سے جڑے خاندان اور معاشرے بھی اس رشتے کا حصہ ہوتے ہیں ، اس لیے وہ اس رشتے کو کیسے اپناتے ہیں اور کس نظر سے دیکھتے ہیں اس رشتے کی کامیابی یا ناکامی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈسکشن ناٹ آرگومنٹ ، پرسنل باؤنڈریز کا قیام، اعتماد اور احترام۔ گرین زون رشتے کے ہال مارکس ہیں۔ رشتے کی اونر شپ فریقین پر برابر ہے۔ مرد یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں کہ گھر بنانا عورت کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی معاشرہ اور خاندان عورت کو یہ کہہ کر صبر کرنے کا درس دے سکتے ہیں کہ ایک دن ییلو اور ریڈ زون رشتہ خود بخود گرین زون میں بدل جائے گا۔
رشتے کی مشترکہ ملکیت ، سیر حاصل گفتگو، خطوط کا تبادلہ اور استعاروں اور لوک دستانوں کا استعمال وہ چار اہم ستون ہیں جن پر ڈاکٹر خالد سہیل نے ریڈ زون جوڑوں کی سائیکو تھراپی کی بنیاد رکھی ہے۔ اور اگر آپ کا سائیکاٹرسٹ آپ سے یہ پوچھے کہ بحیثیت جوڑے کے آپ اپنے رشتے کو 401 EAST HIGHWAY ایسٹ ہائی وے پر لے جا کر ریکونسائل کرنا چاہتے ہیں یا 401 WEST HIGHWAY ویسٹ پر لے جا کر الگ ہو جانا چاہتے ہیں تو تلخی رنج اور غصے کی جگہ اعتماد لیتا ہے جس میں آپ یہ یقین رکھتے ہیں کہ کرسی پہ بیٹھا یہ معالج دونوں صورتوں میں آپ کی بہتری چاہتا ہے اور دونوں فریقین سے یکساں مخلص ہے۔
غالب کے خطوط سے لے کر سعادت حسن منٹو کے ’انکل سام کے خطوط‘ تک۔ ہر خط اپنے اندر ایک جہاں سمائے ہوئے ہے۔ لیکن آپ نے کوئی ماہر نفسیات ایسا نہیں دیکھا ہو گا جو نہ صرف آپ کو اپنے شوہر بلکہ دیگر رشتوں جن میں آپ تناؤ کا شکار ہوں ، کو خط لکھنے کو کہے اور خود بھی خط لکھ کر اپنے مریض کو اپنے تاثرات سے آگاہ کرے۔
ڈاکٹر خالد سہیل ایک ایسے ہی ماہر نفسیات ہیں اور اس عمل کو وہ creative psychotherapy کا نام دیتے ہیں جس کے لیے ان کی انسپریشن کافکا کا وہ پچاس صفحے کا خط ہے جو اس نے اپنے والد کے نام لکھا تھا کیونکہ اس کا اور اس کے والد کا رشتہ بھی تناؤ کا شکار تھا۔ خدا کی قسم اگر کوئی مجھے یہ بات بتائے تو میں ساری عمر خطوط ہی لکھتی رہوں۔
میرے لیے ان خطوط کی اہم بات خواتین کے وہ خطوط ہیں جن میں سے کسی کو بھی ڈاکٹر صاحب نے صبر شکر کرنے کا مشورہ نہیں دیا جیسے کہ ہمارے ہاں اکثر ماہرین نفسیات کرتے ہین۔ ان خواتین کو انہوں نے پہلے اپنے آپ سے بطور عاشق محبت کرنے کا مشورہ دیا پھر اپنے دل و دماغ کو مجتمع کرنے کو کہا۔ وہ اپنی اس مریضہ کا ساتھ دینے سے نہیں جھجکتے جو کہ اپنی بیس سال کی بے رنگ شادی سے تنگ آ کر اپنے عاشق کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتی تھیں۔
میرے لیے یہ بات باعث اطمینان ہے کہ وہ خاتون اپنے عاشق کے ساتھ ہنسی خوشی کئی سال سے زندگی گزار رہی ہیں۔ اس بے رنگ زندگی کی زنجیر سے جان چھڑا کر جو اس کے پاؤں میں پڑی تھی۔
ڈاکٹروں کے لیے سب سے اہم مقصد جان بچانا ہوتا ہے۔ طب کا پورا شعبہ صرف ایک مقصد کے گرد گھومتا ہے اور یہی چیز اس کتاب کی اساس ہے۔ ہمارے ہاں شادی فرد سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ شادی کی کامیابی یا ناکامی کو انسان کی کامیابی یا ناکامی بنا دیا جاتا ہے۔ لیکن اس فلسفے میں اس کو CYCLE OF LOVE کا نام دیا گیا ہے۔ عمومی نقطۂ نظر میں محبت کی آخری سٹیج فنا ہو جانا ہے۔ یہاں زندہ رہنے اور بھرپور طریقے سے زندہ رہنے کی ترغیب دی گئی ہے ، چاہے آپ کی شادی ناکام ہی کیوں نہ ہو گئی ہو۔
یہ سائیکل آف لوو CYCLE OF LOVE سائیکل آف لائف CYCLE OF LIFE ہے۔
جہاں فینکس Phoenix اپنی ہی راکھ سے پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ زندگی کے ارتقاء کی طرح محبت کا بھی ارتقاء ہوتا ہے۔ لازمی نہیں کہ پچیس برس کی عمر میں کیا گیا فیصلہ پچاس برس کی عمر میں بھی صحیح معلوم ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی جان لے لیں یا دوسرے کی جان کے درپے ہو جائیں۔ صرف محبت کا دعویٰ کرنا اہم نہیں بلکہ اس کو نبھانا اور اس میں مسرت کے رنگ بھرنا کمال فن ہے۔ زندگی کی چکی کے دو پاٹ محبت کرنے والے انسانوں کو ایسے پیستے ہیں کہ محبت کی چڑیا پھر کر کے اڑ جاتی ہے اور آپ عاشق محبوب سے گڈو کی اماں اور اسلم کے ابا بن جاتے ہیں۔ اور زندگی تلخ سے تلخ تر ہوتی جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا نسخہ محبت سادہ لیکن کارآمد ہے۔
ہفتے میں ایک دفعہ اپنے شریک سفر کے ساتھ اکیلے پوری پلٹن کے بغیر باہر جائیے ، اپنے پسندیدہ مشغلے جاری رکھیے اور مشترکہ دوستوں کے علاوہ اپنے ذاتی دوستوں کے ساتھ تعلق برقرار رکھیے تاکہ جب آپ زندگی کے مسائل سے پگلا کے اپنے بال نوچنے کی سٹیج تک پہنچیں تو وہ دوست آپ کو اطمینان سے سن کر یہ احساس دلا سکیں کہ یہ سب محبت کے وسیع کینوس کے رنگ ہیں اور جب لگے زبانی الفاظ آپ کے جذبات کے احاطے سے قاصر ہیں تو ایک دوسرے کو خط لکھیے۔ ایک دوسرے سے کی گئی باتوں کو انسانیت کے دائرے میں رکھیں آپ کا محبوب بیوی یا شوہر انسان بھی ہیں اور ان کے جذبات آپ کے الفاظ سے اسی طرح متاثر ہوتے ہیں جیسے اپنے باس سے جھاڑ کھاتے ہوئے آپ کے۔
ضروری نہیں کہ ہر دفعہ گفتگو فرماتے ہوئے ایک دوسرے کے زخم میں انگلی کھبو کر بیٹھے رہیں اور ماضی کے گڑے مردے نکال نکال کر ایک دوسرے کا جینا حرام کریں۔
محبت شکایت اور پریشانی کو صحیح الفاظ کے چناو سے صحیح وقت پر دوسرے کے دل و دماغ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
اگر آپ کی شادی محبت سے خالی ہے تو یہ صرف ایک کاغذ کا سوشل کونٹریکٹ ہے جس کو معاشرے اور مذہب کی بلیسنگ (BLESSING) سے آپ جنسی تسکین کے لیے تو استعمال کر سکتے ہیں لیکن ذہنی اور روحانی خلفشار کا شکار رہیں گے۔ اور لونگ اِن یور گرین زون THE ART OF LOVING IN YOUR GREEN ZONE آپ کو بحیثیت انسان اپنے آپ سے پیار کرنا سکھاتی ہے تاکہ آپ دوسروں سے پیار کر سکیں اور شادی میں محبت اور مسرت دونوں حاصل کر سکیں۔


