کیا امر جلیل صاحب کی تحریر نطشے کی تمثیل کی بازگشت ہے؟

امر جلیل صاحب کی ایک تحریر ”خدا گم گیا ہے“ آج کل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس تحریر پر طرح طرح کے تبصرے پڑھنے اور سننے کو مل رہے ہیں۔ لیکن کسی بھی تحریر یا نظریے پر دلائل کے ساتھ بحث ہونی چاہیے۔ کچھ لوگ اس تحریر یا نظریہ کے حق میں ہوں گے اور کچھ لوگ اس کے خلاف ہوں گے۔ صرف مقدموں کی دھمکیاں دینے سے اور الزام تراشی سے کوئی علمی بحث نہیں ہو سکتی۔ اور نہ اس طرح کسی کو اپنا ہم نوا بنایا جا سکتا ہے۔

اس کالم کا مقصد اس تحریر پر تنقید کرنا یا اس کی وضاحت پیش کرنا نہیں ہے۔ کوئی بھی تحریر خلا میں نہیں لکھی جاتی۔ ہر تحریر لکھنے والا کسی نہ کسی سے متاثر ہو کر اور اس سے کچھ نہ کچھ اخذ کر کے اور اس میں اپنے خیالات کی آمیزش کر کے کچھ لکھتا ہے۔ ہم اس بنیاد پر ہر تحریر کو کسی سابقہ تحریر کا چربہ نہیں قرار دے سکتے لیکن یہ علم ضرور ہو جاتا ہے کہ زیر بحث تحریر کی جڑیں کہاں پر ہیں۔ ان گزارشات کا مقصد یہ جائزہ لینا ہے کہ امر جلیل صاحب کی اس تمثیلی تحریر کی بنیادیں کیا ہیں؟

امر جلیل صاحب نے اپنی یہ تحریر سندھی میں پیش فرمائی تھی۔ خاکسار اس کم علمی کا اعتراف کرتا ہے کہ میں سندھی زبان نہیں جانتا اور اس تبصرے کا انحصار ان اردو تراجم پر ہے جو کہ خاکسار نے سنے ہیں۔ جب خاکسار یہ تراجم سن رہا تھا تو مجھے شدت سے یہ احساس ہو رہا تھا کہ اس سے ملتی جلتی تحریر میں نے پڑھ رکھی ہے۔ اور جو تحریر میرے جیسے کم علم آدمی نے بھی پڑھی ہو تو وہ بہت ہی معروف تحریر ہو گی۔

جو لوگ امر جلیل صاحب کی اس تحریر کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں ، ان سے میری گزارش ہے انٹرنیٹ پر نطشے [Nietzsche]کی ایک مشہور تمثیل Parable of the Madman کا مطالعہ فرما لیں۔ یہ تحریر 1882 میں لکھی گئی تھی۔ جیسا کہ میں پہلے ایک کالم میں گزارشات پیش کر چکا ہوں کہ میں نطشے کے فلسفہ کا حامی نہیں بلکہ مخالف ہوں۔ کیونکہ میرے نزدیک آخر کار اس کے فلسفے میں انسانوں کو آزاد نہیں بلکہ غلام بنانے کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

نطشے کی یہ تمثیل ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے کہ کیا آپ نے اس پاگل آدمی کی کہانی سن رکھی ہے جو دن کی روشنی میں ایک لالٹین جلا کر بازار میں نکل آیا تھا اور مسلسل چلا رہا تھا کہ میں خدا کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں خدا کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ اور بہت سے لوگوں نے جو خدا پر یقین نہیں رکھتے تھے ، انہوں نے اس پاگل آدمی کو گھیرے میں لے لیا اور اسے اپنے تمسخر اور مزاح کا نشانہ بنانے لگے۔ ایک نے کہا کہ کیا خدا گم گیا ہے؟ [اسی طرح امر جلیل صاحب کی تحریر میں بار بار یہی الفاظ دہرائے گئے ہیں] دوسرے نے کہا کہ کیا وہ بچے کی طرح راستہ بھول گیا ہے؟ ایک اور نے کہا کہ کیا وہ پوشیدہ ہو گیا ہے۔ کیا وہ سفر پر چلا گیا ہے۔ [اسی طرح امر جلیل صاحب کی تحریر میں مزاحیہ بیان کا بڑاحصہ ہے]

پھر بیان کیا گیا ہے کہ اس پاگل آدمی نے آواز لگائی کہ خدا کہاں ہے؟ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہم نے اسے قتل کر دیا ہے۔ [یعنی ہمارے ذہنوں میں خدا کا تصور ختم ہو گیا ہے۔ ] اب کیا ہو گا کہ ہم نے اس زمین کو اس کے سورج سے علیحدہ کر دیا ہے۔ کیا ہم ڈوب رہے ہیں؟ کچھ تقریر کرنے کے بعد یہ پاگل آدمی کہتا ہے کہ کیا اب ہم خود ہی خدا بن جائیں۔ [اسی طرح امر جلیل صاحب کی تحریر کے اختتام پر خدا سے یہ فرمائش کی گئی ہے کہ اپنی خدائی مجھے دے دو]۔ نطشے کا یہ پاگل آدمی بہت سے چرچوں میں جاتا ہے اور کہتا ہے کہ جب کوئی خدا ہی موجود نہیں تو یہ چرچ کس لئے بنا رکھے ہیں۔ آخر کار یہ پاگل آدمی اپنی لالٹین زمین پر پھینکتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی میرا وقت نہیں آیا اور میں وقت سے بہت پہلے آ گیا ہوں۔

امر جلیل صاحب کے تحریر بھی ایک تمثیلی انداز میں لکھی گئی تھی اور ان کے الفاظ من و عن اس کالم میں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہر کوئی دونوں تحریروں کو سامنے رکھ کر ان کی مماثلت پرکھ سکتا ہے۔ بہرحال نطشے کا مطلب یہ تھا کہ پہلے انسان خدا کے تصور سے وابستہ تھے۔ اب خدا کے تصور سے و ابستگی ختم ہو رہی ہے تو انسانی اخلاقیات کی کیا بنیاد رہ جائے گی۔ اور ہمیں ایک نئی بنیاد ڈھونڈنی ہو گی۔ میرے نزدیک نطشے کے فلسفے کی کمزوری اسی وقت ظاہر ہو جاتی ہے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ کیا اب ہمیں خود خدا بن جانا چاہیے؟ آخر کار انہوں نے ایک ایسے سپرمین کا تصور پیش کر دیا، جس کی غلامی پر انسانیت کو فخر ہونا چاہیے۔ یعنی اپنے خیال میں لوگوں کو خدا کے تصور سے آزاد کیا لیکن اپنے جیسے ایک انسان کا غلام بنا دیا۔ بعض محققین ہٹلر اور نازی فلسفے کو نطشے کے خیالات کی ایک بگڑی ہوئی شکل بھی قرار دیتے ہیں۔

اس تمثیل میں نطشے نے اپنے آپ کو اس پاگل آدمی کے وجود میں پیش کیا تھا۔ یہ قسمت کی ستم ظریفی تھی کہ آخر میں نطشے سچ مچ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ جنوری 1889 میں انہوں نے دوسری منزل کی ایک کھڑکی سے دیکھا کہ ایک شخص اپنے گھوڑے کو کوڑے مار رہا ہے۔ وہ دوڑتے ہوئے نیچے آئے اور اس گھوڑے کو گلے لگا کر بیہوش ہو گئے۔ اور پھر وہ ذہنی طور پر بحال نہیں ہو سکے۔ انہوں نے زندگی کے آخری گیارہ سال اسی حالت میں گزارے۔ وہ سفید لباس میں ملبوس اپنے کمرے میں خاموش بیٹھے رہتے۔ ان کے مداح آتے اور اسی حالت میں ان کی زیارت کر کے چلے جاتے۔

فلسفے اور سائنس کی دنیا میں نطشے کا زمانہ شوپنہار اور ڈارون کے بعد کا ہے۔ اور نطشے کے بعد فلسفی خدا کے وجود کا برملا اور مکمل انکار کرنا شروع ہو گئے تھے۔ مثال کے طور پر ان کے بعد برٹرینڈ رسل کا زمانہ آیا اور انہوں نے WHY I AM NOT A CHRISTIAN لکھی۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ دونوں کے والد بچپن میں فوت ہو گئے۔ دونوں نے مذہبی ماحول میں پرورش پائی لیکن اٹھارہ سال کی عمر میں پہنچ کر خدا کے وجود کا انکار کیا۔

علامہ اقبال خود نطشے کے نظریات سے کس حد تک متاثر تھے؟ اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اس کا احاطہ ایک کالم میں نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن آخر میں یہ لکھنا ضروری ہے کہ خود علامہ اقبال نے بھی اس طرز کے تمثیلی بیان کا سہارا لیا ہے۔ مثال کے طور پر علامہ اقبال کی ”جبریل و ابلیس“ ملاحظہ کریں۔ اس کے آخر میں جبریل کو لاجواب ہوتے ہوئے ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کا اختتام اس طرح ہوتا ہے۔

جبرائیل
کھو دیے انکار سے تو نے مقامات بلند
چشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبرو
ابلیس
ہے مری جرأت سے مشت خاک میں ذوق نمو
میرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار و پو
دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزم خیر و شر
کون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے میں کہ تو
خضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست و پا
میرے طوفاں یم بہ یم دریا بہ دریا جو بہ جو
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو
میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو

اب اس کلام پر کوئی یہ اعتراض تو نہیں کرتا کہ علامہ اقبال نے ابلیس کی وکالت کی ہے۔ اسی طرح علامہ اقبال کی نظم ”لینن خدا کے حضور میں“ ،میں  لینن نے خدا کے حضور اپنے نظریات کی وجوہات بیان کی ہیں اور آخر میں خدا کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے :

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دنیا ہے تری منتظر روز مکافات

ظاہر ہے ہم اس پر یہ اعتراض نہیں کرتے کہ علامہ اقبال نے یہ گستاخی کی ہے کہ لینن خدا کے حضور اپنے نظریات کے دلائل پیش کر رہا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کو کہہ رہا ہے کہ تو عادل ہے لیکن پھر بھی تیری دنیا میں مزدور تلخ زندگی کیوں گزار رہے ہیں۔ یہ ایک تمثیلی کلام ہے اور اسے ایک تمثیلی کلام کے طور پر ہی پڑھا جاتا ہے۔

نطشے [Nietzsche] کی تمثیل Parable of the Madman کا مطالعہ ذیل کے لنک پر کیا جا سکتا ہے۔ 

http://www.historyguide.org/europe/madman.html

Comments - User is solely responsible for his/her words