عورت کب تک وکٹم بلیمنگ کا شکار ہوتی رہے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ روز قبل ایک سیزن ”بومبے بیگمز“ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جس کا موضوع عورتوں کے خلاف جنسی ہراسانی تھا۔ اس میں جب ایک لڑکی اپنے باس کی طرف سے جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہے اور اس کا اظہار کرتی ہے تو اس کی خواتین کولیگز ہی اس کی بات ماننے سے انکار دیتی ہیں۔ بلکہ الٹا وہ یہ سمجھتی ہیں کہ وہ لڑکی باس کو بدنام کرنے کے لئے ایسا کر رہی ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک ان کا باس تو کبھی جنسی ہراسانی جیسا گھناؤنا جرم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مگرجب بعد میں وہاں پر کام کرنے والی ایک اور لڑکی بھی کھل کر اس کا اظہار کر دیتی ہے کہ اسے بھی باس کی طرف سے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا تھا تو پھر کمپنی کی انتظامیہ اس باس کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ مگر اس سارے وقت میں وہ لڑکی جس کرب سے گزرتی ہے۔ اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

ہم بھی ایسے ہی ایک سماج میں رہتے ہیں جس میں جب بھی کسی عورت کے ساتھ کوئی ظلم ہوتا اور وہ اس پر اپنی زبان کھول کر اس کا اقرار کر دے تو بجائے اس کے اس کی مدد کی جائے الٹا اس کو ہی مورو الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ چاہے وہ ریپ ہو، جنسی ہراسانی ہو، یا پھر گھریلو تشدد ہو۔ ایک عورت جب ایسے کسی بھی جرم کا شکار ہوتی ہے تو اس کو وکٹم بلیمنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر ریپ کی بات کریں تو عام لوگ تو دور کی بات ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب نے حال ہی میں ریپ کی وجہ عورتوں کی بے حیائی بتا کر دراصل ان کو وکٹم بلیمنگ کا ہی نشانہ بنایا ہے۔ اور ریپ سے متعلق ہمارے سماج کے زیادہ تر لوگ ایسے ہی سوچتے ہیں۔ لیکن جب ان سے چھوٹی بچیوں اور بچوں سے ریپ کے حوالے سے پوچھا جاتا ہے تو ان کے پاس کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ہوتا۔

اسی ضمن میں کچھ عرصہ پہلے جب لاہور موٹر وے پر ایک خاتون کے ساتھ ریپ کا دلخراش واقعہ پیش آیا تھا تب بھی بجائے ریپ کرنے والوں کو برا بھلا کہنے کے بحث کا موضوع یہ تھا کہ وہ عورت اس وقت سڑک پر کیوں تھی؟ مطلب جیسے گھروں میں تو ریپ کے واقعات ہوتے ہی نہیں ہیں۔ جنسی ہراسانی کی اگر بات کی جائے تو اس کے بارے میں تو عمومی تاثر یہ ہوتا ہے کہ اس عورت نے کچھ ذاتی یا مالی فائدہ حاصل کرنے کے لئے کسی مرد کو جنسی ہراسانی کا الزام لگا دیا ہے۔ یا پھر اس نے اپنی مرضی سے پہلے اس مرد کے ساتھ یہ سب کیا اور جب کسی وجہ سے معاملات بگڑ گئے تو پھر جنسی ہراسانی کا الزام لگا دیا۔

اس ضمن میں لاہور کے ایک کالج کے پروفیسر کا واقعہ بھی بیان کر دیا جاتا ہے۔ جس پر اس کی ایک طالبہ نے جنسی ہراسانی کا جھوٹا الزام لگا دیا تھا اور اس پروفیسر نے پھر خود کشی کر لی تھی۔ اس پر ایک ڈرامہ بھی بنایا گیا۔ مگر کیا صرف ایسے ایک واقعہ یا کچھ واقعات کی بنیاد پر یہ کہہ دیا جائے کہ سب ہی جنسی ہراسانی کی بات کرنے والی خواتین ایسی ہوتی ہیں؟ کیا ہمارے تعلیمی اداروں، دفتروں، چوراہوں اور گھروں میں عورت کو بچپن سے لے کر جوانی تک جنسی ہراسانی کا نشانہ نہیں بنایا جاتا؟ اور ایسا ہونے پر کیا اسے چپ رہنے کا نہیں کہا جاتا؟ کیونکہ اکثر اوقات اجنبی لوگوں کی بجائے یہ جرم کرنے والے اس کے قریبی رشتہ دار، باس، ٹیچر یا کولیگز ہوتے ہیں۔

اور اگر کبھی کوئی عورت اپنے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کا اظہار کر دے تو اس کے ساتھ وہ وکٹم بلیمنگ ہوتی ہے کہ وہ سوچ میں پڑ جاتی کہ اس سے تو اچھا تھا وہ نہ ہی اس کا اظہار کرتی۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے آپ معروف گلوکارہ اور اداکارہ میشا شفیع کے کیس کو دیکھ لیجئیے۔ جو ایک عام عورت نہیں تھیں، بلکہ ایک سلیبرٹی تھیں، مگر انہوں نے بھی جب گلوکار علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تو ان کا ساتھ دینے کی بجائے ان کو یہی سننے کو ملا کہ وہ جھوٹا الزام لگا رہی ہیں۔ ان کے حلقہ احباب میں موجود لوگ بھی یہی کہتے ہوئے نظر آئے۔ اور جس جگہ کا انہوں نے ذکر کیا اس جگہ کے ورک پلیس ہونے یا ہونے کے بارے میں کیس ملک کی اعلٰی ترین عدالت میں چل رہا ہے۔

کیونکہ اس وقت جنسی ہراسانی کا جو قانون یہاں موجود ہے اس کے مطابق جنسی ہراسانی کے لئے ورک پلیس کا ہونا ضروری ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ ہائی کورٹ تک یہ کہہ کر میشا کے الزام کو رد کر چکی کہ چونکہ وہ جگہ ایک دوست کا گھر تھی اس لیے وہ ورک پلیس کے زمرے میں نہیں آتی حالانکہ وہاں پر ایک پروجیکٹ کا ہی کام چل رہا تھا۔ اور وہاں پر موجود کئی خواتین نے ہی میشا کے خلاف بیان دے دیا۔ علی ظفر کی طرف سے میشا کے خلاف ایک پوری کمپین چلائی گئی۔

جس میں ان کی بھرپور طریقے سے کردار کشی کی گئی۔ ایف آئی اے کو استعمال کر کے الٹا میشا پر ہی ہتک عزت کا مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ ان کی گرفتاری کی جھوٹی خبریں چلائیں گئیں۔ جس سے یہ تاثر ملا کہ جیسے میشا اپنا مقدمہ ہار گئی ہیں۔ حالانکہ ان کا مقدمہ تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، ابھی بات ورک پلیس پر ہی اٹکی ہوئی ہے۔

اور یہ سب کرنے والے علی ظفر نہ صرف ہمارے ہیرو ٹھہرے بلکہ تمغہ حسن کارکردگی کے بھی مستحق قرار پائے۔ تو آپ اندازہ کریں جب ایک سلیبرٹی خاتون کو جنسی ہراسانی کا اظہار کرنے پر اس سب کا سامنا کرنا پڑ سکتا تو ایک عام عورت کا تو پھر چپ رہنا ہی غنیمت ہے۔ اسی طرح گھریلو تشدد کو تو برا سمجھا ہی نہیں جاتا اور اگر کوئی عورت اس کا بھی اظہار کر دے تو اسے یہی باور کروایا جاتا کہ بی بی تم نے ہی کچھ غلط کیا ہوگا۔ یا تم ہی اپنے مرد کو خوش نہیں رکھ پاتی جو اس کو اس حد تک جانا پڑتا ہے ورنہ اس کا دماغ تو نہیں چل گیا کہ وہ اس طرح تم سے مار پیٹ کرے۔

اور تو اور ہمارے سماج میں جب کسی عورت کو کسی بھی وجہ سے طلاق ہوجاتی ہے تو اس میں بھی اسے ہے قصور وار گردانا جاتا ہے۔ چاہے اس کی ذرا سی بھی غلطی نہ ہو تب بھی یہی کہا جاتا کہ اس میں ہی کوئی عیب ہوگا۔ باقی زمانے کی تو کیا بات کی جائے اس کے اپنے گھروالے ہی اسے کوسنے سے نہیں رکتے اور طعنے مار مارکر اس کو اتنی ذہنی اذیت دیتے کہ وہ خود کشی کرنے پر سوچنا شروع کردیتی۔ جہاں اس کی شادی ہوئی ہوتی چاہے وہ کتنے ہی برے ہوتے، اس عورت کو یہی کہا جاتا کہ تجھے تو سمجھوتہ کرنا چاہیے تھا۔ ہر حال میں اپنے سسرال والوں کی مرضی کے مطابق چلنا چاہیے تھا۔ ارے او کلموہی اب تیرے دامن پر طلاق کا داغ لگ گیا ہے تو کون تجھ سے شادی کرے گا؟ تیری اگلی زندگی کیسے گزرے گی؟ ایسی صورت حال کا سامنا ایک قریبی خاتون کو کرنا پڑا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کتنی ہی عورتیں اسی ڈر سے سمجھوتہ کرتے کرتے اپنی زندگیاں گزار دیتی ہیں۔ کہ ان کو یہ سب نہ سننا پڑے، شاید ان کو یہ سب سننے کی اذیت جو وہ سمجھوتہ کر کے سہتی ہیں اس سے کم محسوس ہوتی ہے۔ اور یہ وکٹم بلیمنگ ہی کا تو خوف ہے کہ جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والی بچیاں اور یہاں تک کہ بچے بھی ساری عمر اس کا اظہار نہیں کر پاتے اور ان بری یادوں کے ساتھ اذیت بھری زندگی گزارتے رہتے کیونکہ ان کو یہ پتا ہوتا کہ اگر وہ اپنا منہ اس حوالے سے کھولیں گے تو ان کو بھی شاید شریک جرم تصور کر لیا جائے گا۔ حالانکہ جس عمر میں ان کے ساتھ یہ سب ہوتا، تب تو ان کو اس سب کا مطلب بھی معلوم نہیں ہوتا۔

اسی لیے اب وکٹم بلیمنگ کے اس رویے کو بدلنا ہوگا۔ اگر کسی عورت کے ساتھ کوئی بھی زیادتی ہوتی ہے تو بجائے اسی کو کسی بھی طرح سے شریک جرم سمجھنے یا اس کی کوئی بھی فرسودہ توجیح پیش کرنے کے زیادتی کرنے والوں کو کوسنا ہوگا اور انہی کی سزا کا مطالبہ بھی کرنا ہوگا۔ اور عورت کو بھی اب نا صرف ہمت کا مظاہرہ کر کے اپنے ساتھ ہونے والے ہر ظلم اور زیادتی کا اظہار کرنا ہوگا۔ بلکہ اس کے بعد کی ساری صورتحال کا بھی بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا۔ تبھی اس کے خلاف سماج کا برتاو بہتر ہو سکتا ہے۔ ورنہ ایک طرف تو اسے ایسے ہی ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہے گا اور دوسری طرف وہ ہی وکٹم بلیمنگ کا شکار بھی ہوتی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *