تبدیلی کو واقعی کسی باپ کی ضرورت نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو بابائے قوم کے گزر جانے کے بعد کئی افراد نے ڈنڈے کے سہارے سیاسی طور پر بابا اور باپ ہونے کا دعویٰ کیا۔ کوئی ڈیڈی کہلایا تو کوئی روحانی باپ۔ ہر ایک نے اپنی اپنی سیاسی جماعت بھی جوڑ توڑ کر بنائی اور عام انتخابات میں حصہ لیا۔ ڈنڈا ہمیشہ سے طلبا کے لیے باعث ڈر رہا ہے۔ اس لیے سیاسی میدان کے طلبا بھی ڈنڈے سے ڈرے سہمے رہتے ہیں اور ڈنڈا پکڑنے کی سعی کرتے رہتے ہیں تاکہ کامیابی ملتی رہے۔ لیکن عوام میں ایسے دعوے دار پذیرائی حاصل نہ کر سکے۔ اور جنہوں نے کبھی ڈنڈا پکڑ کر کامیابی حاصل بھی کر لی۔ وہ بھی ایک وقت عاجز ہوئے اور ڈنڈے کے سائے سے نجات کی تدبیریں کیں۔ نتیجتاً، یا تو اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے یا پھر کانپتے لرزتے حکومت کرتے رہے۔

موسم بہار 2018 میں ایک اور ’باپ‘ منظر عام پر آئے۔ مسلم لیگ ( ن ) اور مسلم لیگ ( ق ) کے اراکین صوبائی اسمبلی ( بلوچستان ) نے فوراً ان کو اپنا باپ تسلیم کیا۔ تبدیلی اور جیالی نے بھی باپ کا ساتھ دیا۔ یوں بلوچستان میں مسلم لیگ ( ن ) کی مخلوط صوبائی حکومت کی چھٹی ہو گئی۔ اور چیئرمین سینیٹ بھی باپ کا منتخب ہو گیا۔ تبدیلی اور جیالی نے باپ کا بھرپور ساتھ دیا اور مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتیں منہ دیکھتی رہ گئیں۔ باپ اپنی اس کامیابی پر بہت خوش ہوئے اور فوری فیصلہ کیا کہ جولائی 2018 کے عام انتخابات میں بھی حصہ لیا جائے۔

تبدیلی چونکہ نوجوان تھی، اس لیے جیالی اور متوالی کو نظر انداز کرتے ہوئے، باپ نے تبدیلی کی انگلی کیا تھامی، گود میں ہی لے لیا۔ تبدیلی شرم کے مارے کبھی ہنسے کبھی مسکرائے۔ لیکن تبدیلی کو یہ ادراک تھا کہ باپ کی گود ہی وہ محفوظ مقام اور پناہ گاہ جہاں بیٹھ کر عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ عام انتخابات والے دن ہی باپ کے کارندوں نے وفاق اور پنجاب میں نمایاں طور پر تبدیلی کی کامیابی کے لیے آزمودہ طریقۂ کار کے مطابق کارروائی شروع کر دی۔ یوں تبدیلی کو صوبہ خیبر پختون خواہ کے ساتھ ساتھ وفاق اور پنجاب میں بھی حکومت مل گئی۔

باپ تبدیلی کی کامیابی پر بہت خوش ہوئے۔ باپ کو یقین تھا، کہ تبدیلی کماؤ پوت ہے۔ خود چاہے کھائے یا نہ کھائے، میرا پیٹ تو بھرتی رہے گی۔ چونکہ تبدیلی کا دعویٰ تھا۔ مجھ سے زیادہ مانگنے کا تجربہ کسی کو نہیں ہے۔ اگر ایسا موقع آیا، تو بیرون ملک پاکستانیوں سے اربوں ڈالر مانگ کر باپ کے اللے تللے پورے کر سکتا ہوں۔ باپ کو یقین تھا، کہ جلد ہی ملکی معیشت مانگ تانگ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی اور وارے نیارے ہو جائیں گے۔ لیکن تبدیلی کی مدد کی اپیل پر اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے کان پر جوں بھی نہ رینگی۔ اب باپ پریشان ہوئے، کہ تبدیلی کہاں سے کھائے گی اور کھلائے گی۔

باپ نے سوچا، کہ اب مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ سو لاٹھی ٹیک ٹیک کر مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کا دورہ کیا اور نہ جانے کیا وعدے وعید کیے، کہ دو چار ارب ڈالر ادھار پر ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے، غالباً شخصی ضمانت پر مل گئے۔ باپ نے سوچا تھا، ایک دفعہ تبدیلی کامیاب ہو جائے، تو تمام دلدر دور ہو جائیں گے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آرام سے اندرون یا بیرون ملک اپنی پرتعیش کٹیا میں بیٹھ کر ریٹائرڈ لائف گزاروں گا۔ لیکن تبدیلی نے تو باپ کو بھی مانگنے پر لگا دیا۔ یہ صورت حال باپ کے لیے پریشان کن تھی۔

پریشانی کی حالت میں باپ نے فیصلہ کیا، کہ اگر میں مزید تین سال تبدیلی کی انگلی تھامے رہوں، تو شاید حالات کچھ بہتر ہو جائیں۔ تبدیلی تو فوراً راضی ہو گئی۔ لیکن کچھ سمجھ دار لوگوں نے اس کو غیر آئینی و قانونی جانا اور انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔ جج صاحبان کے لیے بھی یہ مقدمہ دل چسپی کا حامل تھا۔ اور خوش تھے، کہ ہماری دھاک بھی عوام اور اداروں پر مزید بیٹھ رہی ہے۔

عدالت نے کہا: کام تو واقعی غیر آئینی و قانونی ہے۔ اگر پارلیمانی ادارے منظوری دیں، تو باپ تبدیلی کے سر پر دست شفقت مزید تین سال رکھ سکتا ہے۔

جیالی اور متوالی بھی صورت حال کی نزاکت کا باریکی سے جائزہ لے رہیں تھیں اور لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ باپ نے روٹھی ہوئی، جیالی اور متوالی کو اپنے پاس بلایا اور کہا: ’کر بھلا تو ہو بھلا‘ میرا ساتھ دو۔ کہنے والے کہتے ہیں، کچھ لو اور دو کے اصول پر باپ کو تبدیلی کے سر پر دست شفقت رکھنے کی جیالی اور متوالی کی مدد سے مزید مہلت مل گئی۔

مہلت تو خیر بہرصورت کسی نہ کسی طور ملنا ہی تھی۔ لیکن اس رخنے کا فائدہ جیالی اور متوالی کو بھی ہوا۔ اور باپ نے کبھی سامنے تو کبھی در پردہ جیالی اور متوالی کی بھی سننا شروع کر دی۔ تبدیلی پریشان تھی، کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ جیالی اور متوالی نے تبدیلی کو پریشان دیکھ کر فیصلہ کیا، کہ ہم دونوں اور دیگر کزنز مل کر ایک اتحاد بنا لیتے ہیں۔ تاکہ تبدیلی کو ناکوں چنے چبوائے جا سکیں اور باپ کو بھی ہماری اہمیت کا احساس ہو۔ اتحاد قائم ہوا، اور جلسے جلوس شروع ہو گئے۔ متوالی جلسے جلوسوں میں زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کرتی تھی۔ اور کچھ ایسی تقریریں بھی اس کے پلیٹ فارم سے ہوئیں، جن میں موجودہ صورت کے ذمہ داروں کا نام بھی لے لیا گیا۔ جو باپ کے ساتھ ساتھ، اتحاد میں شامل بعض جماعتوں کو بھی گراں گزرا۔

باپ نے سوچا، کیوں نہ جیالی اور متوالی کو آپس میں لڑوا دیا جائے۔ چونکہ میری مٹی بہت پلید ہو رہی ہے۔ اور سینیٹ الیکشن بھی سر پر ہیں۔ کوشش تو تھی، کہ سینیٹ الیکشن سے پہلے ہی جیالی اور متوالی آپس میں لڑ بیٹھیں۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ جیالی، متوالی اور کزنز نے مل کر سینیٹ کا الیکشن لڑا۔ لیکن چیئرمین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب پر باپ کی وجہ سے جیالی اور متوالی میں ناراضگی پیدا ہوئی اور دوریاں قائم ہو گئیں۔ سو یہ کہنا، کہ تبدیلی کو باپ کی ضرورت نہیں، اس نوع میں درست نہیں ہے۔ چونکہ باپ تو شروع سے ہی تبدیلی کی انگلی تھامے ہوئے ہے۔ ہاں، یہ ضرور ہوا ہے، کہ جیالی بھی باپ کی محبت بھری نظروں میں آ گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *