تین مورتیاں

میں دن بھر کانفرنس میں شرکت کے بعد بلڈنگ سے باہر نکلا تاکہ تھوڑی دیر کے لئے اس اجنبی شہر کی پیدل گھوم پھر کر سیر کروں۔ ابھی کچھ ہی دور گیا تھا کہ دور سے ایک سفید رنگ کا مندر نظر آیا۔ اس کا اٹھتا ہوا چمکدار کلسا آسمان کی طرف اشارہ کر رہا تھا جیسے بھگوان سے ہم کلام ہو۔ شاید یہی وہ تین مورتیوں والا مندر تھا جسے دیکھنے کا مجھے اشتیاق تھا۔

میں اس عمارت کی سادگی اور یکسانیت کو سراہ رہا تھا اور وہ مندر مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ میں نے خود کو اس مقناطیسی روحانی قوت کے حوالے کر دیا۔ شاید کوئی دیوی مجھے بلا رہی تھی۔ پرواتی، سرسواتی یا لکشمی۔ ضرور مجھ جیسے انسان پہ مزید مہربان ہونا چاہتی تھی۔ مجھ پہ تو بھگوان بہت مہربان تھا۔ بس ایک ہی دکھ تھا۔ آج میں اس کو اپنی فریاد سناؤں گا، اس کے آگے ہاتھ پھیلاؤں گا اور اس دکھ سے بھی نجات پا لوں گا۔

میں ایک عجیب مسرت کی کیفیت میں مندر میں داخل ہوا لیکن یہ کیا! یہاں تو عجب ہی ماجرا تھا۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں کچھ سہمے ہوئے بچے مجھے چھپ چھپ کر دیکھ رہے تھے۔ لٹے ہوئے روح سے عاری جسم، ہر ایک اپنے چہرے پر داستان لیے ہوئے۔ میں تو اتنا بڑا ہو کر بھی اپنی زندگی کی ایک کہانی نہیں مکمل کر پایا اور ان کے چہروں پر ان کے ماضی بلکہ مستقبل کی بھی پوری داستان نقش تھی۔

میں پری کرما سے ہوتا ہوا مندپ میں پہنچا لیکن ہر طرف اندھیرا اور ویرانی سی تھی۔ میں مورتیوں تک پہنچنے کے لئے نیم تاریکی میں گربھوتی کی طرف بڑھا لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں تھا، نہ مورتیاں نہ کوئی پجاری۔ ایک خوف میرے اندر سرایت کر گیا، کسی انجانے کا ڈر، کسی انہونی کی فکر، میرے صاف ستھرے دفتر والے کپڑوں میں پسینہ رچ رہا تھا اور میرں ہونٹوں پہ کپکپی طاری ہو گئی تھی۔

میں نے اپنی بینائی کو اندھیرے سے مانوس کیا لیکن کوئی مورتی نظر نہیں آئی۔ مجھے یہاں بلا کر یہ کہاں چلی گئیں، برہما، وشنو اور شیوا دیوتاؤں کی بیویاں سرسواتی، لکشمی، پرواتی اور گنگا جمنا کے بت بھی نظر نہیں آ رہے۔ یہ کیسا مندر ہے جس میں کوئی اوتار ہی نہیں! کیا یہ دیویاں مجھ سے دفعتاً ناراض تو نہیں ہو گئیں۔ کیا انہوں نے خود کو کچھ اور شکلوں میں تبدیل کر لیا ہے۔ نہیں نہیں بھگوان مجھے معاف کر دے۔ کہاں تیرے اوتار میں وہ خوبصورت مورتیاں اور کہاں یہ بلیاں، کتے، ننگ دھڑنگ غلیظ بچے۔

میں نے حقارت سے بچوں کی طرف دیکھا۔ یہ بچے تو کسی اور دھرم کے لگتے تھے۔ کیا وہ ان بچوں کے دھرم کی وجہ سے تو نہیں یہاں سے چلی گئیں۔ میں حیران پریشان اپنی سوچوں کے اضطراب میں غوطے لگا رہا تھا۔ میں کس سے شکتی مانگوں، کس کو شانتی کے لئے پکاروں، کس کے آگے ہاتھ پھیلا کر اپنا دکھ درد سناؤں! کیا ان بچوں نے یہاں پناہ لے رکھی ہے یا قبضہ کر کے مورتیوں کو توڑ پھوڑ دیا ہے؟ میری آنکھوں سے دو موٹے آنسو نکلے اور رائیگاں ہو گئے۔ انہیں میں نے دیوی کے آگے بہانے کے لئے سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔

میں واپس جانے کے لئے مڑا تو نیم اندھیرے میں کسی سے ٹکرایا۔ میرے سامنے تین بچیاں ہاتھ پھیلائے کھڑی تھیں، اپنی شکلوں سے کتنے وقتوں کی فاقہ زدہ۔ ان سب کا دایاں ہاتھ میرے آگے پھیلا ہوا تھا اور وہ مجھے ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے میں کوئی دیوتا تھا۔ مجھے ایک جھرجھری سی آئی۔ کیا میں واقعی ان کا دیوتاؤں بن گیا ہوں۔ یہاں کون معبود ہے اور کون عبد۔ کون بندہ ہے اور کون بندہ نواز۔ کون لینے والا اور کون دینے والا۔ کون ظاہری لٹا ہوا اور کون باطنی بکھرا ہوا۔ میں ان بچیوں کو دیکھتا رہا۔ میں تو خود یہاں مانگنے آیا تھا اور یہ مجھ سے مانگ رہی تھیں۔

’تم لوگ کہاں سے آئے ہو؟‘ میری زبان لڑکھڑائی۔
’بابو جی، ہم تو اب یہیں رہتے ہیں۔‘ یہ کتنی ہلکی اور شیریں آواز تھی۔
’تم یہاں کیوں رہتے ہو، پہلے کہاں رہتے تھے؟‘
’گھر، ماں باپ، سب ختم ہو گئے، بلوہ ہوا تھا نا شہر میں۔ ہم مندر میں آ کر چھپ گئے جان بچانے کے لئے۔‘

میں اس میں سب سے چھوٹی بچی کی موٹی موٹی عقابی آنکھوں کی تاب نہ لا سکا۔ ’بابو جی کیا آپ کو بھی کسی نے مارا پیٹا ہے؟‘ یہ جملہ میرے کانوں میں گونجنے لگا۔

میں ان بچیوں کو کسی انجانی طاقت کے ماتحت پھر غور سے دیکھنے لگ گیا۔ مجھے ان گندے اور چھوٹے جسموں میں سب کچھ نظر آ رہا تھا۔ انسانیت، شیطانیت، دیو ی دیوتا، رام، راون، دنیا، مایا، نروان، کرما۔ اب پسینے کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے لہو بھی ٹپک رہا تھا۔ میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن بولا تو حلق سے جاتا ہے کانٹے سے نہیں۔

’بابوجی آپ ٹھیک نہیں ہیں۔ میں آپ کے لئے پانی لاؤں؟‘ یہ ان میں سے سب سے بڑی بچی کی آواز تھی۔
میں دو زانو ہو کر ان کے سامنے بیٹھ گیا، ان کے ہاتھوں کو نرمی سے پکڑ کر نیچے کیا اور ان کے آگے اپنا دایاں ہاتھ پھیلا دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words