معراج بھائی (4)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک شام اچانک بلا اطلاع صائمہ اور وقار آ گئے تھے اور تیمور حسب معمول ہائیکنگ پر تھا اور عفت کا حلیہ بھی کچھ عجیب سا تھا اور وہ پریشے سے بیٹھ کر پشتو سیکھ رہی تھی۔ دونوں میاں بیوی حیران رہ گئے مگر عفت ان کو دیکھ کر خوش ہو گئی اور بھاگ کر گلے ملی۔

یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے عفت؟ تیمور کہاں ہے؟
صائمہ نے تعجب بلکہ غصے سے کہا
اس کو نہ جانے کیا ہوا، وہ یک دم ان کے گلے لگ کر رونے لگی، صائمہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
کیا بات ہے؟ تم لوگوں کی لڑائی ہو گئی ہے کیا؟
نہیں پھپھو، بس دل اداس ہو گیا تھا۔
وہ آنسو پونچھتے ہوئے شرمندگی سے ہنسنے لگی
بہرحال تیمور اس طرح کیوں گیا، ان دنوں ہائیکنگ کے لئے جانا ضروری تو نہیں ہے۔
وقار نے سنجیدگی سے کہا۔

اور اسی وقت تیمور آ گیا اور ماں باپ کو دیکھ سچ مچ خوشی سے دیوانہ ہو گیا اور ان کا سارا غصہ بھی کہیں دور غائب ہو گیا۔ رات کے کھانے پر وقار نے بتایا کہ وہ اور صائمہ ایک وفد کے ساتھ دو ہفتے کے لئے یورپ جا رہے ہیں اور پھر سرکاری عمرہ کرتے ہوئے واپس آئیں گے۔

تو اگر تم لوگ اپنا ٹرپ لمبا کرنا چاہتے ہو تمہاری مرضی ہے۔

وقار نے پائپ کا کش لے کر کہا تو تیمور فوراً ہی راضی ہو گیا اور عفت کو بھلا کیا اعتراض ہوتا کیونکہ وہ تیمور کے قریب آنا چاہتی تھی اتنا قریب کہ وہ باقی سب بھول جائے۔ اگلے دن وہ لوگ صبح ہی نکل گئے اور ان کے پیچھے پیچھے معراج بھائی بھی کیونکہ وقار احمد کی ساری تیاری انہیں ہی کرنا تھی۔

بس اب وہ اور تیمور تھے اور ان کی لمبی لمبی ڈرائیوز تھیں اور ڈھیروں باتیں تھیں مگر کوئی ’خاص‘ بات زیر بحث نہ آتی تھی، وہ ہر روز نیچے کھانا کھانے جاتے اور وہ کچھ نہ کچھ پریشے کے لئے لے کر آتی۔ چمکیلی دوپہروں میں تتلیوں کے تعاقب میں جاتے اور بلاوجہ ہنستے۔

بہت خوبصورت اور روشن دن تھے۔ دونوں ہاتھ پکڑ کر لمبی واک پر جاتے، وہ ثمر اور عمر کی بچپن کی شرارتوں کا ذکر کرتی تو مارے محبت اس کی آنکھیں بھیگ جاتیں تو تیمور دلچسپی سے اس کا چہرہ دیکھتا۔

بہن بھائیوں کا ہونا بھی ایک بلیسنگ ہے عفت
وہ اس کا ہاتھ نرمی سے دبا کر بولا

میرا کوئی بہن بھائی نہیں تھا اور پانچ سال کا بورڈنگ چلا گیا، اس لئے کزنز کے بھی قریب نہ ہو سکا اور کئی بار جب میں چھٹیوں گھر آتا تو ممی اور بابا آؤٹ آف ٹاؤن ہوتے تھے۔

وہ ایک ٹرانس کے عالم میں تھا۔

معراج بھائی مجھے گھر لاتے اور ہر طرح سے مجھے لک آفٹر کرتے، پہلے بابا کی وجہ سے پھر میری وجہ سے ان کی ساری زندگی ہمارے گھر ہماری خدمت میں گزر گئی۔ میرے بچپن اور ٹین ایج میں وہ میرا ایک سہارا تھے۔

عفت خاموشی سے سن رہی تھی، آج کل معراج بھائی نہیں تھے تو شاید ان کو مس کر رہا تھا مگر اس طرح سارا وقت اس کا تھا اور واقعی ہی وہ لوگ بہت انجوائے کر رہے تھے۔

یہ اسی دن کی بات تھی جب دوپہر کو تیمور نے رحمان کو نیچے بھیجا اور وہ ان لوگوں کے لئے میتھی آلو اور تندور کے پراٹھے لے آیا اور برآمدے میں ہی وہ لوگ کھانے کے بعد دنیا جہاں کی باتیں کر رہے تھے کہ اچانک تیمور کے فون پر کوئی ٹیکسٹ آیا تو وہ ’ایکسکیوزمی‘ کہہ کر برآمدے کی سیڑھیاں اترتا چلا گیا اور پھر عفت نے اس کو تیزی سے گاڑی پر جاتے دیکھا، اس کو تعجب تو ہوا مگر اسی وقت پریشے برتن اور چیزیں اٹھانے آ گئی تو وہ اس کچھ باتیں کرنے کے بعد کمرے میں آ گئی اور تیمور کو فون کیا مگر فون بند تھا۔ وہ لیٹ گئی اور ایک میگزین پڑھتے ہوئے اس کی آنکھ لگ گئی۔ سوئے ہوئے اس کو خواب میں لگا کہ کوئی اسے پکار رہا ہے۔

بی بی، بی بی،

یہ پریشے تھی، اٹھ جاؤ بی بی اس وقت سونا اچھا نہیں ، وہ اپنے مخصوص لہجے کہہ رہی تھی، ا اس نے بے خیالی سے ٹائم دیکھا تو پانچ بج رہے تھے۔

تیمور کہاں ہیں؟ واپس آ گئے؟ لیمپ آن کرو پلیز یا پردے ہٹاؤ! پریشے نے لیمپ آن کر دیا
جی بی بی صاب آ گئی اور مراج بائی بھی آ گئی

اچھا ٹھیک ہے، تم چائے بناؤ، میں نیچے آ رہی ہوں۔ وہ فریش ہو کر باہر نکلی، کپڑے بدل کر بہت اچھا میک اپ کیا، تیمور کی پسندیدہ خوشبو شنیل گیبرئیل میں خود کو بسایا اور جب آئینہ دیکھا تو اپنی تاب آپ ہی نہ لاسکی تھی۔ وہ سیڑھیاں اترنے لگی، پرانی طرز کے اس وسیع و عریض شاہانہ گھر کی اس وقت کچھ لائٹس آن تھیں اور کچھ آف لہٰذا جب وہ سیڑھیوں سے نیچے آ رہی تھی تو اندھیرے میں تھی مگر بیک یارڈ میں کھلنے والا بھاری بھرکم لکڑی کا دوازہ قدرے روشنی میں تھا اور وہیں تیمور اور معراج بھائی کھڑے کوئی بات کر رہے تھے، معراج بھائی نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے پکڑ رکھا تھا اور تیمور کی باڈی لینگوئج کچھ مضطرب سی تھی، اتنے میں وہ وہاں پہنچ گئی۔

آپ کب آئے معراج بھائی
اس نے آرام سے کہا، تو دونوں اچھل پڑے
تھوڑی دیر پہلے بی بی
وہ سر جھکا کر حسب عادت بے حد احترام سے بولے
اور آپ کے ہاتھ کو کیا ہوا؟
چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا جی
اوہو! آپ ٹھیک۔
معراج بھائی آپ کی گاڑی ارشد اسلام آباد لے گیا ہے، ایک دو دن میں ٹھیک ہو جائے گی۔

تیمور نے عفت کی بات کاٹ کر کہا تو عفت نے تعجب سے اسے دیکھا اور دونوں کی نظریں ملیں۔ تیمور کی آنکھیں لہو رنگ تھیں اور ایک عجیب سا پتھریلا پن اور سرد مہری تھی، بیوی کو دیکھ کر آج وہ آنکھیں محبت سے نہیں چمکی تھیں اور پھر وہ سائیڈ سے ہو کر باہر نکلتا چلا گیا اور معراج بھٰائی بھی تیزی سے اس کے پیچھے لپکے مگر تیمور کی وہ نظر عفت کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئی تھی۔

سچ کہتے ہیں کہ یہ پھپھو کی سوکن تھے اور اب شاید میری بھی

وہ سوچتے ہوئے لاؤنج میں آ گئی اور زکیہ چائے کا تام جھام لے آئی، وہ مسلسل تیمور کے بارے میں سوچ رہی تھی اور بار بار اس کے بدن میں ایک سرد لہر دوڑ رہی تھی۔ کیا تھا ان آنکھوں میں؟

زکیہ آپ پریشے اور بیٹی کو بلاؤ اور سب میرے ساتھ چائے پیو!
اس نے کہا تو زکیہ نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی،
نہیں بی بی آپ پیؤ، پریشے تو ویسے بھی رحمانا کے ساتھ اوپر گئی ہے۔
اوپر؟ مطلب
جی اس کے ماں کے لڑکی ہوئی ہے وہاں گئی ہے
اس نے سادگی سے کہا، بہو کی نسبت اس کی اردو صاف تھی۔

ماں کے لڑکی ہوئی ہے، اوہ مائی گاڈ! اسے ہنسی آ گئی اور پھر وہ قہقہے لگانے لگی اور ہنستے ہنستے آنکھو ں سے آنسو بہنے لگے۔

بی بی آپ ٹھیک ہو ناں؟
ہاں میں ٹھیک ہوں۔ میں چائے نہی پیؤں گی اور نہ ہی رات کا کھانا کھاؤں گی۔
یہ کہہ کر وہ اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی اور زکیہ برتن سمیٹتے ہوئے گہری سوچ میں گم تھی۔

کمرے میں آ کر اس نے دوپٹہ نوچ کر ایک طرف پھینک دیا اور ٹہلنے لگی، عجیب سی آگ تن من کو دہکا رہی تھی، دل میں احساسات کا طوفان چھپائے وہ جیتی جاگتی لڑکی تھی اور جانتی تھی کہ اس کا اور تیمور کا تعلق نارمل نہیں تھا۔ ایک پڑھی لکھی اور میچور انسان ہونے کے ناتے وہ جانتی تھی کہ انٹی میٹ تعلق کے لئے بعض اوقات وقت چاہیے ہوتا ہے اور وہ تیمور کی طرف سے پیش قدمی کی منتظر تھی مگر آج اس کی نگاہوں کی بلاوجہ کی اجنبیت، لاتعلقی، اور سرد مہری اس کے اندر ایک الاؤ دہکا گئی تھی اور اس نے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ساس سسر تو موجود نہیں تھے مگر گھر تو کھلا تھا اور اس کے اپنے ماں باپ کا گھر بھی تھا اور ویسے بھی جاب جوائننگ کے دن قریب آ رہے تھے۔

اس نے ساری رات ٹہلتے ہوئے گزار دی اور تیمور بھی رات بھر نہ لوٹا تھا، شاید گیسٹ روم تھا۔ اس نے ساری پیکنگ کی اور فجر کا وقت ہو گیا تو نماز پڑھ کر کمرہ ان لاک کیا اور سو گئی۔ اگلے دن وہ دیر سے اٹھی مگر لگ رہا تھا کہ میلوں پیدل مسافت کی ہے۔ عفت نے شاور لیا، آرام دہ کپڑے پہنے اور انٹر کام پر زکیہ کو چائے کے لئے کہا مگر ناشتے کو پھر منع کر دیا تھا۔ زکیہ تھوڑی ہی دیر میں چائے اور کچھ بسکٹ لے آئی تھی۔ وہ زکیہ سے تیمور کے بارے میں پوچھنا نہیں چاہتی تھی اس لئے ایک اضطرابی سی کیفیت میں تھی۔

زکیہ میں آج واپس جا رہی ہوں ، اس لئے ارشد سے کہو کہ ایک گھنٹے میں گاڑی تیار کر کے کار پورٹ میں لے آئے۔

جی بی بی لیکن صاب اور مراج بائی تو۔
میں اکیلی جا رہی ہوں!
جی مریم آن کر سامان باندے گا بی بی،
اس نے بیٹی کے بارے میں کہا
نہیں ضرورت بس اور چائے بھجواؤ۔
وہ کنپٹیاں دباتے ہوئے بولی تو زکیہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد چائے لے آئی۔
بی بی اجازت ہو تو عرض کروں
آپ کو اجازت کی ضرورت نہیں ہے، کہیے!
بی بی گاڑی تو کل سے صاب کے پاس ہے اور وہ گھر نہیں ہیں۔
عفت سناٹے میں تھی
اوہ ہاں مم میں بھب بھول گئی تھی وہ مجھے پتہ کہ تیمور۔

بات بنائے نہ بن رہی تھی اور زکیہ ایک گہری نظر اس پر ڈال کر باہر نکل گئی۔ شرمندگی، غصے اور صدمے سے اس کا خود پر قابو پانا مشکل تھا، اس قدر غیر ذمہ داری، کوئی ایمرجنسی ہو جاتی تو، اس نے پے درپے تیمور کے فونز پر فون کیے مگر وہ آف جا رہے تھے اور باہر اندھیرا پھیل رہا تھا۔ پریشے اور رحمان بھی واپس آ گئے تھے اور اس کے لئے گھر کے درخت سے چیریز توڑ کر لائے تھے مگر کوئی بھی چیز اسے خوش نہیں کر سکتی تھی اور رات بھی آرام سے سر پر آ گئی۔ اس نے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے ابا کو فون کیا اور وہ اس کی آواز سن کر خوش ہو گئے تھے۔

تیمور اور معراج بھائی بس ابھی نکلے ہیں کھانا کھا کر،
مطلب؟ عفت پر ایک بجلی سی گری

ہاں بیٹا تیمور پریشان تھا کہ تم اکیلی ہو مگر کل دوپہر تک پہنچ جائے گا ان شاء اللہ، یہ الیکشن کے کام اب شروع جو ہو گئے ہیں، تمہاری امی نے کچھ چیزیں تمہارے لئے بھیجی ہیں اور ہاں ویک اینڈ پر عمر ثمر آئیں گے تمہارے پاس، اچھا لو اماں سے بات کرو۔

ان کی یک طرفہ باتیں ہی ختم نہ ہو رہی تھیں
وہ سکتے کے عالم میں بیٹھی تھی۔ ماں نے سلام دعا کے ساتھ ہی اس غیر حاضر دماغی کو محسوس کر لیا تھا،
کیا بات ہے بیٹا تم ٹھیک ہو ناں؟
نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں

اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا اور فون بند کر دیا تو فوراً رضوانہ کا فون آنے لگا مگر اس نے کال کاٹ دی تھی۔ اس نے پھر زکیہ کو انٹرکام کیا کہ وہ اور پریشے آج اس کے کمرے میں سو جائیں اور وہ رات کا کھانا نہیں کھائے گی تو خوشی خوشی انھوں نے اپنے بستر قالین پر کر لئے تھے اور پریشے چونکہ ٹی وی کی بے حد شوقین تھی ، سو باہر لاؤنج میں ٹی وی دیکھنے لگی تھی مگر زکیہ کمرے میں آ گئی اور ساتھ تھوڑا سا کھانا بھی ٹرے میں لگا کر لائی تھی۔

وہ قریب آ کر ہولے ہولے عفت کو دبانے لگی اور عفت اپنے آپ کو اتنا مضحمل اور بے دم محسوس کر رہی تھی کہ چاہنے کے باوجود منع نہ کر سکی۔

بی بی آپ ٹھیک ہو ناں؟ زکیہ نے اس کے کندھے دباتے ہوئے جیسے بے حد آہستگی سے کہا،

عفت کو نہ جانے کیا ہوا کہ وہ رونے لگی، اتنا ہلکا اس نے اپنے آپ کو کبھی محسوس نہیں کیا تھا، زکیہ اسے دباتی اور تھپتھپاتی رہی پھر اس کا سر چوم کر اٹھی، اسے پانی پلایا اور تھوڑا سا کھانا بھی زبردستی کھلایا۔ عام پہاڑی لوگوں کے برعکس زکیہ اور اس کا خاندان پریشے سمیت بہت صاف ستھرا رہتا تھا اور عفت کے آنے کے بعد وہ زیادہ خیال رکھ رہی تھیں ، اس لئے عفت کو پرابلم نہیں ہوتی تھی۔ زکیہ دوبارہ آ کر اس کے ہاتھ دبانے لگی۔

بی بی آپ تو سونے کی ڈلی ہو، کس آگ میں جل رہی ہو!
اس نے ایک سرگوشی سی کی تو عفت دنگ رہ گئی، اسے کیا پتہ ہے۔

سو جاؤ بی بی، وہ اس کا سر سہلانے اور کچھ گنگنانے لگی مگر عفت کو صرف ایک ہی فقرے کی سمجھ آ رہی تھی ”بس اللہ ہی اللہ باقی فانی“ اور وہ آہستہ آہستہ نیند کی گہری وادی میں اتر گئی۔

اگلی صبح اس کی آنکھ اماں کے فون سے ہی کھلی،
کچھ نہیں اماں بس ذرا تھک گئی تھی
وہ زبردستی ہنستے ہوئے بولی
کچھ بھی ہے تیمور کو تمہیں تنہا چھوڑ کر نہیں آنا چاہیے تھا، ہمیں یہ بات اچھی نہیں لگی۔

اب اس بات کا کیا جواب دیتی۔ شام چھ بجے وہ آ گیا، ہمیشہ کی طرح فریش اور خوبرو اور اس کے آتے ہی گھر میں زندگی کی لہر دوڑ گئی مگر وہ نیچے نہ گئی لیکن پریشے نے بتایا کہ بہت سے مہمان بھی ساتھ ہیں۔

مراج بائی کہتی کہ صاب وزیر بنے گا

وہ رازداری سے بولی، مگر عفت نے اسے نیچے جا کر کام دیکھنے کو کہا تھا۔ رات گیارہ بجے وہ کمرے میں آیا تھا، شاور لے کر چینج کیا اور بستر میں بیٹھ کر فون دیکھنے اور میسجز کرنے لگا۔ اس نے نامناسب رویے اور بلا اطلاع غائب رہنے پر دو لفظ معذرت کے بھی نہ کہے، گویا عفت کا کمرے میں ہونا نہ ہونا ایک برابر تھا۔

کہاں تھے دو دن سے؟ اور میرے فون کیوں نہ اٹھائے اندازہ تھا تمہیں کہ میں یہاں اکیلی ہوں
عفت نے کھولتے ہوئے پوچھا،
لاہور تھا اور بزی تھا ، باقی تم اکیلی کہاں تھی، زکیہ کا خاندان تھا ناں
اس لہجہ طنزیہ سا تھا،

تیمور یہ تو میں جان گئی ہوں کہ تم کہیں اور انٹرسٹڈ تھے اور ابھی بھی ہو لیکن تم نے مجھ سے شادی کیوں کی؟

وہ مٹھیاں بھینچتے ہوئے بولی

لائٹ آف کرو مجھے سونا ہے اور صبح اپنی پیکنگ کرا لینا، کل شام کو ہم لاہور کے لئے نکل رہے ہیں۔ اس کی طرف سے کروٹ بدلتا ہوا سرد مہری سے بولا

عفت ششدر تھی۔ فیری ٹیل شادی کا ہنی مون اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا۔

(باقی آئندہ۔۔۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *