بہترین دماغوں کی خاموشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں فیس بک پر آپا قرۃ العین حیدر نے ایک پوسٹ لگائی جس میں انہوں نے بہترین دماغوں کی خاموشی کے حوالے سے اہم سوال اٹھائے۔ میں نے کمنٹ کی صورت میں وہاں چند سطریں ٹائپ کر دیں جنہیں علی زریون بھائی کے کہنے پر مضمون کی شکل دے رہا ہوں، اس لیے یہ مضمون آپا قرۃ العین حیدر اور علی زریون کے نام ہے۔

بہترین دماغوں کی خاموشی سے قبل ہم بہترین دماغوں پر کچھ بحث کرتے ہیں، مثلاً بہترین دماغ کا مطلب کیا ہے؟ بہترین دماغ کیسے بنتے ہیں؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے اس ضمن میں کوئی کردار ادا کر رہے ہیں؟ کیا بحیثیت مجموعی ہمیں بہترین دماغوں کی ضرورت اور اہمیت کا ادراک ہے؟

بہترین دماغ سے مراد ایسا شخص ہے جسے سماجی، معاشی، معاشرتی، سیاسی اور سائنسی منظرنامے کی علمی اور منطقی ہر دو اعتبار سے سمجھ بوجھ ہو۔ اس کی بصیرت کا کینوس محدود نہ ہو، وہ حال اور آئندہ کے مابین تمام ممکنہ راستوں اور واقعوں کا ادراک رکھتا ہو، اسے تاریخ کے رویوں کا علم ہو کہ تاریخ نے حضرت انسان کے ساتھ ساتھ کیا کیا سلوک کیے۔ اس میں تعصب، عقیدت اور مرعوب ہونے کی صفات بالکل نہ ہوں۔ وہ مبالغے اور حقیقت کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی اخلاقیات اور مذہبی اخلاقیات میں فرق کرنا جانتا ہو۔

بہترین دماغ کسی بھی معاشرے کا نمائندہ ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا خصوصیات کا حامل شخص مخصوص حالات میں ہی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس میں سب سے پہلے معاشرے کی ذاتی خواہش اور ماحول کا عمل دخل ہوتا ہے، یعنی کیا معاشرہ خود ایسے لوگ پیدا کرنا چاہتا ہے کہ نہیں؟

اس ضمن میں سب سے پہلے تعلیمی اداروں کا جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ کسی بھی دماغ کی تربیت کے لیے سب سے مقدس درس گاہ اس کا تعلیمی ادارہ ہوتا ہے۔ بچپن سے ہی بچوں کے ذہن میں یہ تصور راسخ کر دیا جاتا ہے کہ استاد تمہارا روحانی باپ ہے اور اس کی ہر بات معتبر، مستند اور سچی ہو گی لہٰذا ہمیشہ استاد کی عزت کرنی ہے چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ استاد کی عزت کرنے سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں لیکن یہ رویہ اس وقت قابل اعتراض بن جاتا ہے جب عزت اور تقدس سوال اور سیکھنے کے عمل کے آڑے آنے لگ جاتا ہے مثلاً اگر کسی بچے نے غلطی سے کوئی ایسا سوال پوچھ لیا جس کا جواب استاد کو نہیں آتا یا جس کی رو سے استاد کے کسی ذاتی نظریے پر چوٹ لگ رہی ہو تو وہ اسے انا کا مسئلہ بنا کر پورے تعلیمی دورانیے میں طالب علم کو زک پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔

تعلیمی اداروں سے باہر بھی کوئی مختلف ماحول نہیں، پوسٹ تھیو کریٹکٹ زمانے میں بھی بہت سی تھیوکریٹکٹ خصوصیات موجود رہتی ہیں جن میں بڑوں کا عزت و احترام درجہ اول پر ہے۔ بہترین دماغوں کی تخلیق میں سب سے پہلا عمل ان کے سوالات کے منطقی جوابات دینے کا ہے۔ ہمارے بزرگوں یا بڑوں کے پاس اگر کسی سوال کا تسلی بخش جواب نہ ہو تو وہ بجائے اسے منطقی سمت میں بھیجنے کے عقیدت کی طرف روانہ کرتے ہیں۔ اکثر اوقات ایسے سوالات کو بے کار اور وقت کا ضیاع کہا جاتا ہے۔ اس لیے بہترین دماغوں کی تعداد ہمارے ہاں بہت کم ہے کیونکہ شاذو نادر ہی کوئی اس عقیدت بھری فضاء کا پردہ چاک کر کے اونچی اڑان بھرنے کی سعی کرتا ہے۔

اب آتے ہیں اصل معاملے کی طرف کہ بہترین دماغ اگر کوئی ہمارے معاشرے میں ہیں بھی تو وہ خاموش کیوں ہوتے جا رہے ہیں، اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی بات ؛ ہمارا ماحول ہمارے اظہاریے کی حدود متعین کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کا ایک جم غفیر موجود ہے جن کا منطق یا دلیل سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں، چند ایک گنے چنے لوگ ضرور ہیں جو بات کو سمجھتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر پوسٹ ان تک جائے لہٰذا کوئی بھی بہترین دماغ جاہلوں کے جتھوں سے بیکار کی بحث میں وقت ضائع کرنے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دے گا۔

اسی طرح معاشرے میں بھی کسی سے گفتگو کرتے ہوئے اس کے پیمانے پر اترنا پڑتا ہے، گو کہ اس میں کوئی قباحت نہیں لیکن سامع کے لیے شرط ہے کہ وہ منطق، عقل یا دلیل سے کی گئی بات کو تسلیم کرے۔ اگر اس سے انکار بھی کرے تو برابر کی دلیل سے کرے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سامع کے نزدیک منطق اور دلیل کے اپنے پیمانے اور معیارات ہوتے ہیں کیونکہ ہم منطق اور دلیل کو بطور علم نہیں، بطور ذاتی پسند/ناپسند اور طبع موزوں کی عینک سے دیکھتے ہیں۔

ہمارا مجموعی رویہ سیکھنے کے لیے گفتگو/مکالمہ/بحث کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی علمی برتری ثابت کرنا ہوتا ہے۔ سامع ایسا نہ کرے تو مخاطب کہیں نہ کہیں اس رویے کا شکار ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور عوامی مجمعوں میں تو یہ رویہ اور بھی شدت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ ہمیں لگتا ہے کسی دوسرے سے متفق ہونا یا اپنی رائے تبدیل کرنے کا مطلب کم علمی اور ذاتی شکست ہے، لہٰذا سوشل میڈیا / پبلک گیدرنگ میں یہ سوچ کر کسی سے گفتگو کرنا کہ سامنے والا شخص ماحول کا نظرانداز کر کے صرف منطق اور دلیل سے کام لے گا، محض ایک خواب ہے۔

کتاب کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ ہے۔ سکول/ کالج کے نصاب میں تیس تیس چالیس چالیس برس پرانا مواد ڈالتے ہیں اور وہ بھی اپنے نظریاتی خنجر سے ختنہ کرنے کے بعد ، مبادا کہیں صدیوں سے روا رہنے والے نظریات پر کوئی ضرب نہ لگ جائے۔ اگر ادارہ چاہتا ہے کہ غالب کو صوفی شاعر ثابت کرنا ہے تو وہ دیوان غالب میں موجود تصوف کے موضوع سے ملتے جلتے اشعار کا انتخاب کر کے انہیں نصاب میں شامل کرے گا اور پھر امتحان میں طالب علم سے سوال پوچھے گا: ’’غالب صوفی شاعر تھے، مثالوں سے ثابت کریں۔‘‘

اب اس عمل سے گزرنے والے طالب علم نے ساری زندگی غالب کو صوفی شاعر ہی سمجھنا ہے کیونکہ تعلیمی ادارہ اسے دو سال یہی سکھائے گا کہ غالب صوفی شاعر تھے، ان کے فلاں فلاں شعر یاد کرو اور امتحان میں اس سوال کے پورے بیس نمبر حاصل کرو۔ یہاں تخلیقیت اور ریشنل تھنکنگ کا عمل کہاں گیا، بہترین دماغ بنانے کی کوئی ذرا سی بھی شعوری کوشش نظر نہیں آتی۔ یہی حال ہمارے دیگر شعبوں کا ہے۔ میٹرک اور ایف ایس سی میں پریکٹیکل کرنا تو دور کبھی لیبارٹری کی شکل تک نہیں دکھائی گئی، ہم سے بہتر فزکس تو وہ جانتے ہیں جو کسی الیکٹریشن کی دکان پر کام کرتے ہیں۔

ریسرچ کا حال بھی کچھ مختلف نہیں، ایک بار جو استاد لگ جائے وہ کہتا ہے اب مجھے پڑھنے کی کیا ضرورت؟ نگران کو خود بھی ٹاپک سے جڑے جدید مباحث کا علم نہیں ہوتا اور وہی چند مخصوص نمونے تھیسس لکھنے کے سامنے رکھ کر ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر لی جاتی ہیں۔ اگر کسی سے ان مسائل پر بات کی جائے تو وہ اپنی پابندیاں اور مجبوریاں بتانے لگ جاتا ہے۔

نرسری سے لے کر ایم اے تک ایک یا دو استاد ایسے ملے جو سوال پوچھنے والے طالب علم کو شاباش دیتے تھے یا سوچنا سکھاتے تھے لیکن ان کے اس عمل کی بھی حدود ہوتی تھیں۔ اس سے آگے وہ بھی کہہ دیتے تھے کہ کلاس میں ایسے سوال مت پوچھا کرو کیونکہ ہمیں ادارے کی طرف سے بھی کچھ ہدایات دی جاتی ہیں جن کی پاسداری کرنا ہمارا پیشہ ورانہ فرض ہے۔

جہاں بات بات پہ کافر کی اسناد اور جنت جہنم کے پروانے بانٹے جاتے ہوں وہاں کسی بہترین دماغ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ گفتگو کرے گا، بہت عجیب لگتا ہے۔ ہمارے یہ رویے کوئی نئے نہیں ہیں۔ ابن رشد سے لے کر جنید حفیظ تک کے واقعات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ جواب ہم دے نہیں سکتے اور خاموشی ہماری کم علمی، کج فہمی اور فرسودہ نظریات کی شکست محسوس ہوتی ہے لہٰذا سوال اٹھانے والی زبان کو خاموش کرا دینا ہی ہمارا آخری حربہ ہوتا ہے جس میں بفضل خدا ہم چودہ صدیوں سے کامیاب چلے آ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *