یتیم و مسکین خانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت ملک کے اندر بے یقینی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ کئی روز پہلے تحریک لبیک پاکستان کے امیر اور علامہ خادم حسین رضوی کے بیٹے سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملکی حالات تیزی سے خراب ہوتے چلے جا رہے ہیں، حکومت وقت کی نا اہلی کی وجہ سے معاملات افہام و تفہیم کے دائرے سے نکل کر پر تشدد دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ آس سب کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ فرانس میں گستاخانہ خاکے شائع کر کہ ہر مسلمان کے جذبات کو مجروح کیا گیا ملکی و بین الاقوامی سطح پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے مگر ایک جماعت جو کہ اب کالعدم قرار دی جا چکی ہے اس کے مظاہروں کی نوعیت سب سے الگ تھی ان کا مطالبہ تھا کہ فرانس کے ساتھ سفارتی و تجارتی رابطے ختم کر دیے جائیں۔ شدید احتجاج کے بعد حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا کہ آئندہ کچھ ماہ میں معاملہ پارلیمٹ میں اٹھایا جائے گا اور اس کے ذریعے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کر کے ان کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کردیے جائیں گے۔

اسی عرصہ کے دوران اس وقت کے امیر تحریک علامہ خادم حسین رضوی کا انتقال ہو گیا اور ان کے بیٹے سعد حسین رضوی نے ان کی جگہ لی اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم دکھایا۔

معاہدے کی تاریخ قریب آنے تک حکومت کو یہ احساس ہو گیا کہ انھوں نے جو معاہدہ کیا ہے اس کو پورا نہیں کیا جا سکتا بجائے افہام و تفہیم سے کام لینے کے حکومت نے سعد رضوی کو ہی گرفتار کر لیا اور پر تشدد احتجاج کی داغ بیل ڈال دی۔ گرفتاری کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور ساتھ ہی ساتھ اس نے احتجاج کو لپیٹ میں لیتے ہوئے ملکی کئی اہم سڑکیں بند کردیں۔ اس دوران دو قسم کی رائے سامنے آئی ایک احتجاج کے حق میں تھی تو دوسری احتجاج کے طریقہ کار کے خلاف، طریقہ کار کے خلاف رائے یہ تھی کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچائے پر امن احتجاج کیا جائے اور احتجاج میں سڑکیں بند کرنے کی بجائے وزیراعلٰی و وزیراعظم ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائے یا پھر ایسی سرکاری عمارات کے باہر دھرنا دیں جس سے حکومت سے اپنے مطالبات منوائے جا سکیں نہ کہ عام شاہراہوں کر بند کر کہ عوام الناس کی زندگیوں کو متاثر کیا جائے۔ یہ ایک بالکل جائز اور مناسب طریقہ احتجاج بھی تھا۔ مگر مظاہرین اپنی جگہوں کو چھوڑنے سے انکار کرتے رہے۔

اور یوں ابتدا ہوا پولیس بمقابلہ عوام کا پہلا راؤنڈ جس میں دونوں طرف سے غیر انسانی سلوک کی وڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر چلتی رہیں۔ حالات مزید خراب ہونے پر رینجرز اور فوج کو طلب کر لیا گیا۔ احتجاج جاری رہا اور دو تین تک مسلسل دونوں جانب سے پر تشدد واقعات ہوتے رہے۔ کئی مقامات پر پولیس افسران کو ہجوم نے ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور مغوی بنائے رکھا تو کہی پولیس کے ہتھے چڑھنے والے مظاہرین پر شدید تشدد کیا۔ زخمیوں کے ساتھ ساتھ دونوں جانب شہادتیں بھی ہوئیں۔

پولیس کے مطابق بروز اتوار تھانہ نواں کوٹ میں مظاہرین کی جانب سے پیٹرول بم کے ساتھ حملہ کیا گیا اور اعلٰی افسر کو اغوا کر لیا گیا جس کے بعد آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ اس آپریشن میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے سیدھی گولیاں چلائیں گئی جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین جاں بحق ہو گئے اور درجنوں زخمی بھی ہوئے۔

سوال یہ ہیں کہ لواحقین اپنے پیاروں کا خون کس کے ہاتھ میں تلاش کریں؟ ماؤں کے دلاروں کو کون انصاف دے گا؟ یہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ کس قسم کے انسان بستے ہیں یہاں؟ یہاں کوئی قانون ہے؟ کوئی ریاست ہے جو ریاست مدینہ کہلائی جا سکے؟ یہاں کوئی عدل کے پیمانے ہیں؟ کس سے انصاف مانگیں گے مقتولین؟ پولیس افسران کی شہادتیں رائیگاں جائیں گی؟ پولیس افسران کے یتیم بچوں کو کون بتائے گا کہ آپ کے والد عاشقان نبی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر گئے؟ کون بتائے گا کہ مظاہرین کے پیاروں کو کہ آپ کے مرحوم ناموس رسالت پر پہرہ دیتے شہید ہو گئے؟ اس پولیس بمقابلہ مظاہرین میں کون حق پہ ہے کون بتائے گا ہمیں؟ کس کو شہید لکھنا ہے کون ضابطہ طے کرے گا؟

یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بقول وزیر اعظم عمران خان کے ریاست مدینہ اس میں کوئی قانون باقی ہے؟ مجھے تو لگتا ہے کہ آج ریاست یتیم کوگئی ہے مسکین ہو گئی ہے۔ ایک ایسا ملک ہے جہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں، صاحب اقتدار یہاں اپنی گردنوں میں سریے رکھتے ہیں ہر کوئی وقت کا فرعون ہے جس کے ہاتھ میں طاقت ہے وہ ہی مطلق العنان بن جاتا ہے۔ اس میں کوئی صاحب اقتدار کو پوچھنے والا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی منظم جتھوں کو قابو کرنے والا ہے۔ یہاں جس کی لاٹھی ہے اس کی ہی بھینس ہے۔ جس کے ہاتھ میں طاقت آتی ہے وہی ظالم و جابر بن جاتا ہے۔ صاحب اقتدار کو اب جوابدہ ہونا پڑے گا! پولیس افسران بھی محافظ قوم ہیں اور مظاہرین بھی ریاستی باشندے، مگر دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کر طاقتوں کا استعمال کروانے والوں کو جوابدہ ہونا پڑے گا!

تشدد اور طاقت کا استعمال ہی ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی کہ طاقت کے نشے میں کمزور کو کچلنے والوں کو بھی حساب دینا پڑے گا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *