آئی اے رحمان: سائبان نہ رہا

دردمندوں کے خانہ ہائے دل میں گہرے ملال کی ویرانی اتر آئی ہے۔ دکھ کی سسکی کو ضبط کی تلقین کا یارا نہیں رہا۔ آتی جاتی سانس کی دھونکنی میں رہ رہ کر اٹھتے احساس زیاں کی کٹار چلی آئی ہے کہ اب جانب کہسار سے اترتے ابر سیاہ کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں کس سے رہنمائی چاہیں گے۔ بحران کی حلقہ در حلقہ بچھی بارودی سرنگوں میں کس سے سمت پوچھیں گے۔ اجتماعی ناکامیوں کے تاحد نظر پھیلے تسلسل میں کس سے امید، سعی اور توازن کا درس لیں گے۔ کون ہماری کم مائیگی کا احساس دلائے بغیر علم کی کھڑکیاں کھولے گا۔ کون اپنے ذاتی کردار سے عمل کی راہیں دکھائے گا۔ افراسیاب خٹک سے پرویز رشید، نصرت جاوید سے وسعت اللہ خان اور خاور ممتاز سے بینا سرور تک، کون ہماری دھرتی کے لعل و جواہر کو ایک لڑی میں پروئے گا۔

آنے والی نسلیں جب آئی اے رحمان کو جاننا چاہیں گی تو انہیں بتا دیجئے گا کہ ابن عبدالرحمان نے اکانوے برس کی بامعنی زندگی جن آدرشوں کی آبیاری میں صرف کی، وہ تھے، آزادی، مواقع کی مساوات، جمہوریت، امن عالم اور حقوق انسانی۔ آئی اے رحمان کی ذاتی صفات کا بیان ہو تو وہ علم کی گہرائی، حریت فکر، ذہنی دیانت، کردار کی استقامت اور سچے انکسار کا عملی نمونہ تھے۔ درویش کی یہ بساط نہیں کہ آئی اے رحمان کی تحریر کی خوبیوں اور تقریر کی تاثیر پر رائے زنی کی جسارت کرے۔ قومی منظر پر آئی اے رحمان نے استحصالی گروہوں اور پیوستہ مفادات کے خلاف پاکستان کے لوگوں کا مقدمہ مرتب کیا۔ عالمی سطح پر آئی اے رحمان انسان کے امکان کا نقیب تھا۔

گیانی کہتے ہیں کہ پیشے اور منصب کی قدر پیمائی تجرید میں طے نہیں پاتی۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ فرد نے اپنے پیشے کا معنی کیسے متعین کیا۔ اپنے کردار سے کسی منصب کا افق کیسے وسیع کیا۔ اعتزاز حسین ہنگو کا ایک گمنام طالب علم تھا اور ملالہ یوسف زئی سوات کی ایک کم سن طالبہ۔ اپنے ساتھی طالب علموں کی جان بچانے کے لئے اعتزاز خود کش حملہ آور سے بھڑ گیا اور ملالہ نے بچیوں کی تعلیم کے لئے آواز اٹھائی تو دونوں نے پاکستانی بچوں کی آئندہ نسلوں کے لئے ایک معیار قائم کر دیا۔ آئی اے رحمان صحافی تھے لیکن انہوں نے صحافی کے منصب کو عوام کے حق حکمرانی کی وکالت، امتیازی قوانین کی مخالفت، انسانی حقوق کے تحفظ، آزادی اظہار، صنفی مساوات، مذہبی رواداری، محنت کشوں کے بہتر حالات زندگی اور امن عالم کی تحریک تک وسعت دے دی۔ رحمان صاحب کو نعرہ بازی سے شغف نہیں تھا۔ وہ قانون، دلیل اور مکالمے کی مدد سے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے تھے۔ علم اور شخصی ظرف کی وسعت ایسی تھی کہ حدود وقت اور گروہی شناخت کی لکیروں سے ماورا تھے۔

چشم تصور دیکھتی ہے کہ اٹھارہویں صدی کے امریکہ میں ہنری پیٹرک سے پارلیمانی خطابت کے نکات پر بات ہو رہی ہے اور اسی انہماک سے فرانس میں والٹیئر سے فلسفے اور تھامس پین سے حقوق انسانی کی باریکیوں پر مکالمہ کر رہے ہیں۔ انیسویں صدی میں لنکن سے غلامی کی پولیٹیکل اکانومی پر بات ہو رہی ہے اور دادا بھائی نورو جی سے نوآبادیات کے سوال پر نکتہ آفرینی فرما رہے ہیں۔ بیسویں صدی میں کارل پوپر سے جمہوری آزادیوں اور کرسٹوفر کاڈویل سے ادبی حقیقت نگاری پر بات ہو رہی ہے۔ رسمی تعلیم فزکس میں پائی تھی لیکن کسی عالم دین سے فقہی معاملات پر بات کرتے تو معلوم ہوتا کہ زندگی اسی دشت کی سیاحی میں گزری ہے۔ بھارت میں بیٹھے ہیں تو کلدیپ نیئر، جسٹس جگ موہن سنہا اور ہنس راج کھنہ سے نشست و برخاست ہے، پاکستان میں فیض صاحب اور ڈاکٹر اقبال احمد سے ملاقات ہے۔ سندھ میں جبری غلامی سے دست و گریبان ہیں تو بلوچستان میں قوم پرست دکھیاروں کے غمگسار ہیں۔ ایوب آمریت میں پابند سلاسل رہے، بنگالی ہم وطنوں کے ہمدرد، بھٹو صاحب کے غیر جمہوری رجحانات کے سخت ناقد اور ضیا آمریت کے اسیر۔ اگست 1990 میں بے نظیر حکومت توڑنے پر پاکستان ٹائمز کی ادارت چھوڑ دی۔ اپریل 1993 میں غلام اسحاق خان کے 58 (2) بی استعمال کرنے کے خلاف ایک اشتہار شائع کرنے پر گرفتار ہوئے۔ جس بہادری سے مذہبی دہشت گردی کی مزاحمت کی، اسی اخلاص سے دہشت گردوں کے خلاف ماورائے قانون ہتھکنڈوں کی مخالفت۔ رحمان صاحب کسی سیاسی جماعت کے مجاور نہیں تھے، وہ انسان دوستی کی لگن میں پاکوب رہے۔

رحمان صاحب نے ہمیں اپنے ضمیر کی روشنی میں حرف انکار کی تعلیم دی۔ ان کے اسی درس کی روشنی میں ایک اختلافی نکتے پر رائے دینا چاہوں گا۔ سب جانتے ہیں کہ رحمان صاحب مارکسسٹ نظریات کے حامی تھے اور درویش نوجوانی ہی میں مارکسزم سے منحرف ہو گیا۔ ان کی شفقت اور ہیچمداں کی نیاز مندی میں کوئی خلل نہیں آیا۔ اپنی محدود سمجھ کے مطابق اس عقدے کی گرہ کشائی کرتا ہوں۔ بیسویں صدی سرمائے اور اشتراکیت کی کشمکش سے عبارت تھی۔ ایک طرف عالمی بالادستی کا کھیل تھا، دوسری طرف انصاف اور آزادی کے دو دھاروں میں توازن کا سوال تھا۔ تصویر کے دونوں رخ یکساں تاریک تھے۔ ہمارے عوام کا حق حکمرانی سلب کرنے والوں نے مغرب کی دریوزہ گری اختیار کی تو رحمان صاحب نے مقامی حقائق کی روشنی میں اشتراکی بلاک سے وابستگی اختیار کر لی۔ وہ تاریخ کی درست سمت پر تھے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ سوویت یونین کے شہری ہوتے تو سٹالن ازم کی سخت مخالفت کرتے۔ وہ روس میں سخاروف اور امریکہ میں ناؤم چامسکی تھے۔ سرد جنگ ختم ہوئی تو سرمایہ دار بلاک کا وہ رخ بھی بے نقاب ہو گیا جو سرمائے کے بل پر جمہوریت کو یرغمال بنانا چاہتا ہے۔ نئے حالات میں رحمان صاحب غریب کے استحصال اور سرمائے کی زورآوری سے برسرپیکار رہے۔ یہی درست تاریخی رویہ تھا۔ عزیزو، ماتم کی گھڑی ہے کہ ہمارے ملک کا بہترین شہری رخصت ہو گیا۔ مقام فخر ہے کہ رحمان صاحب نے انسانی کردار کا بہترین ممکنہ نمونہ پیش کیا۔ انصاف اور آزادی میں توازن کی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ اب بھی رات کی رات پڑی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words