معین اختر: عظیم اداکار یا عظیم تر انسان؟


اور یوں یہ دونوں فنکار طے شدہ ریکارڈنگ میں حصہ لینے پر رضامند ہو گئے۔ شو کی ریکارڈنگ میں ابھی کافی دن باقی تھے تاہم دو اہم شخصیات کی مقررہ تاریخ پر دستیابی اور رضامندی سے انتظامات حتمی مرحلے میں داخل ہونے لگے۔ پروگرام کی نوعیت کے مطابق ایک ہی میدان کے سینئر اور جونیر کے درمیان مکالمہ درکار تھا اور یہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ، اپنی مثال آپ تھے۔

اطمینان کے یہ لمحے، اس وقت پریشانی کی شکل اختیار کر گئے جب جونیر فنکار نے اپنی کسی ایمر جنسی (اور اس کے سبب ہونے والی مجبوری) کی وجہ سے شو میں شرکت سے معذرت کر لی۔ گویا اب جونیر فنکار کے لیے کسی متبادل کو ڈھونڈنا ہو گا۔ سینئر فنکار کو جب اس تبدیلی سے آگاہ کیا گیا تو انھوں نے برملا، اس نئی صورت حال میں شو میں آنے سے ہی معذرت کر لی۔ ان کے سامنے متبادل کے طور پر کئی نام پیش کیے گئے مگر انھوں نے اس بات کو دو ٹوک انداز سے واضح کر دیا کہ وہ اس شو میں تب ہی حصہ لیں گے جب وہ ہی فنکار ان کے ہمراہ ہوں گے جن کے لئے پہلے بتایا گیا تھا۔ تسلسل سے کئی نئے نام تجویز ہوئے، مگر ان کا انکار جاری رہا اور ساتھ ساتھ یہ اصرار بھی کہ اس کے بغیر میں نہیں آؤں گا۔

آئیں اب آپ کا ان دو فنکاروں سے تعارف کراتے چلیں۔ سینئر فنکار ہیں لہری صاحب اور جونئر فنکار ہیں معین اختر!

یہ سوال کہ لہری صاحب کیوں بہ ضد تھے کہ وہ صرف اور صرف معین اختر کے ساتھ ہی آئیں گے، اس کا جواب اس تحریر میں شامل ہو گا مگر پہلے، اس ہر دل عزیز شخصیت، باکمال میزبان اور ہمہ جہت اداکار معین اختر کو، کچھ اور مناظر میں بھی دیکھتے چلیں۔

غالباً 1987 ہے اور وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے شو کی تیاریاں جاری ہیں۔ سکرپٹ بھی فائنل ہو چکا ہے اور میوزیکل آئٹمز بھی۔ سو اب ساری توجہ ریہرسل پر ہے جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے فنکار حصہ لے رہے ہیں۔

اب قافلہ شو کے لئے وزیراعظم ہاؤس روانہ ہے کہ پیغام ملتا ہے کہ تقریب میں اب اردن کے بادشاہ بھی موجود ہوں گے اس لئے کمپئرنگ انگریزی میں ہوگی۔ ساتھی خاتون میزبان نے تو فوراً معذرت کرلی۔ معین اختر، انگریزی سکرپٹ کی فراہمی کی شرط پر اس چیلنج کے لئے تیار ہیں۔ سکرپٹ کے انگریزی ترجمہ کی ذمہ داری گلوکارہ ٹینا ثانی کے والد نے قبول کی۔ اس ہنگامی صورت حال اور نہایت کم وقت کے باوجود، معین اختر اپنی روایت کے ساتھ تقریب پر چھائے رہے اور زبان کی تبدیلی، ان کی رگ ظرافت کو متاثر نہ کرسکی۔ انھوں نے ابتدا ہی میں، اپنے کالے کرتا شلوار زیب تن کرنے کو، مسکراتے ہوئے، کالے گلاب کی انفرادیت سے تشبیہ دی۔

تقریب کے آخر میں، معین اختر کی سنجیدگی بھی اپنے عروج پر نظر آئی۔ تقریب کے اختتام پر، تھیٹر کی روایت کے مطابق شو کے شریک فنکاروں کا احتراماً سر جھکانے کا جب مرحلہ آیا تو کہیں سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ سٹیج سے بہت آگے آ کر اس روایت کو دہرایا جائے۔ معین اختر نے بلا جھجک ایسا کرنے سے معذرت کی اور یہ موقف اپنایا کہ روایت یہ ہے کہ جہاں پرفارمینس ہوئی ہے، وہاں ہی bow کیا جائے۔ کچھ دیر کی پس پردہ گفت و شنید کے بعد ، سمجھ داری اور روایت کو برتری حاصل ہوئی اور معین اختر سرخ رو ہوئے۔

پی ٹی وی کے چینل تھری کی نشریات کے آغاز کی تقریب میں بھی وہی میزبان! آتے ہی اپنی اسلام آباد ہوٹل کی بکنگ منسوخ کرادی کہ اس کی اس لئے ضرورت نہیں کہ پی سی (راولپنڈی) میں ان کا ٹھہرنا اعزازی ہے۔ ہمیشہ کی طرح یہ آرزو ضرور کی کہ کچھ نئے فنکار اس شو میں بھی متعارف کرا دیے جائیں۔

طویل شو کے آن ایر جانے کے بعد ہیڈکواrٹرز سے پیغام آیا کہ ممکن ہو تو معین اختر کا انٹرویو کر لیا جائے۔ شو کی تمام تر تھکن کے باوجود سینیرز کے کہے پر فوراً رضامندی ظاہر کر دی۔ تیکنیکی مسائل کی وجہ سے بہت وقت ضائع ہونے کے بعد ، رات گئے انٹرویو کی ریکارڈنگ شروع ہو سکی۔ خاتون میزبان کی میزبانی کا پہلا دن تھا۔ غالباً یہ بھانپتے ہوئے، خود زیادہ بولنے کی ذمہ داری لے لی تاکہ نو آموز کو پریشانی اور شرمندگی نہ ہو۔

رات اور ڈھل چکی تھی جب یہ انٹرویو تمام ہوا۔ نئی میزبان نے ایک اور امتحان کھڑا کر دیا ”معین صاحب آج ٹی وی میں میرا پہلا دن ہے اور آج ہی اتنی دیر ہو گئی ہے۔ میرے والد مجھے لینے آرہے ہیں۔ آپ تھوڑا سا رک جائیں۔ وہ آپ کے بہت بڑے پرستار ہیں۔ وہ آپ کو دیکھ کر مجھ پر ناراض نہیں ہوں گے“

سارے دن کی ذہنی اور جسمانی مصروفیات سے گزرنے والے نے، سب بھول کر حامی بھر لی اور پی ٹی وی اکیڈمی کے کاری ڈور میں ٹہلنا شروع کر دیا۔ جیسے یہ واقعی ان کی ڈیوٹی ہو اور انھوں نے ہی اسے انجام دینا ہو۔

نہ جانے کتنی دیر تک یہ چہل قدمی جاری رہی اور انتظار ختم ہونے کو نہ آیا۔ وہ مسلسل اس کوری ڈور میں، ادھر سے ادھر وقت گزارنے کے لئے اکیلے خود کو مصروف رکھتے رہے اور پھر بالآخر انھیں یہ کہنا پڑا ”بی بی، ہارٹ کا مریض ہوں۔ اب اس سے زیادہ انتظار ممکن نہیں“

معین اختر کی شخصیت کا انسانی رخ تو لہری صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے ہی نمایاں ہو گیا تھا۔ جب انھوں نے بار بار یہ ضد کی کہ وہ معین آختر کے بغیر اس شو میں نہیں آئیں گے اور یہاں سے بار بار یہ اصرار ہوا کہ ہم آپ کی خواہش کے مطابق کسی اور مہمان کو آپ کا ساتھ بلا لیتے ہیں۔ دراصل یہ تب کی بات ہے جب لہری صاحب پر فالج کا نیا نیا اثر ہوا تھا۔

اپنی ضد اور ٹی وی کے اصرار پر، آخرکار، وہ اپنے دل کی بات زبان پر لے ہی آئے ”بھائی معین مجھے باتھ روم بھی لے کر جاتا ہے، کوئی اور لے کر جائے گا کیا؟

Facebook Comments HS