میری امی کا ناصر رضا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے چند سال پہلے سات رمضان ایک ایسا دن جس دن میری ماں سے دنیا کا سب سے قیمتی وجود ہمیشہ کے لئے دور ہو گیا۔ مجھ پر اس روز دکھ، درد، تکلیف اور بے بسی کے کئی معانی عیاں ہوئے۔ جب آپ کی دنیا میں سب سے قیمتی ہستی اپنی دنیا کے قیمتی وجود کے چلے جانے پر گریہ کناں ہو تو وہ لمحات قیامت سے کم نہیں ہوتے۔

میری ماں جن کے بارے میں بچپن سے یہی سوچتی ہوں کہ محبت امن، پیار، خلوص اور سچائی کا اگر کوئی مشترکہ وجود اس دنیا میں ہے تو وہ میری ماں کی صورت میں ہے ۔ مجھے اس وجود میں دنیا کی ہر اچھائی ملی، اس وجود کی قربت نے انسانیت کا ایسا درس دیا کہ ہمیشہ ہر بات اور معاملے میں انسانیت کو ہی فوقیت دی ۔

میں نے بچپن میں جو کچھ سیکھا، امی کے کردار سے سیکھا اور وہ سیکھ کا عمل ایسا تھا کہ آج تک ان میں سے کوئی سبق بھولا نہیں بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں مزید تازگی محسوس کرتی ہوں۔ میں نے امی کو ہمیشہ ایک مضبوط عورت کے روپ میں دیکھا۔ میری مسیحا نے زندگی میں آنے والے مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ ہمیشہ مضبوطی کے ساتھ کیا لیکن جب اپنے سے جڑے کسی فرد کے دکھ یا تکلیف کا موقع آیا تو ہمیشہ امی کو ریت کا ڈھیر محسوس کیا۔

آج کا دن بھی ایسا ہی تھا جب چند سال پہلے امی کو اپنے بھائی کی موت کی خبر ملی تو امی پھول کی پتیوں کی مانند بکھر گئیں۔ وہ بھائی جس کو امی پیار سے ”ناصر رضا“ کہتی تھیں، اس کی موت کی صورت میں دائمی جدائی نے جیسے امی کا کلیجہ چیر دیا ہو۔

میں امی کے دکھ تکلیف کو محسوس کر سکتی تھی ۔ بھائی سے محبت کا یہ عالم تھا کہ اپنے بیٹے کو گھٹی بھی ماموں سے ڈلوائی کہ بھائی کی جھلک میں ہمیشہ اپنے بیٹے میں دیکھ سکوں۔

پیار اس قدر تھا کہ ماموں کو کبھی نظر بھر کر نہیں دیکھا۔ ایک احترام اور محبت کا ایسا جذبہ جو میں آج تک سمجھنے سے قاصر رہی ، گھر میں ہمیشہ ہمارے بہن بھائیوں کے پیار کو دیکھ کر امی اپنے بہن بھائیوں کے پیار کی مثال دیتیں۔ امی اپنے گھر میں چھوٹی تھیں، اس لیے بھی گھر میں لاڈلی تھی اور ماموں کے ساتھ ان کا باپ بیٹی والا تعلق بھی تھا۔ ہر دکھ اور تکلیف آنے پر امی یہی کہتیں کہ ناصر رضا ہے ناں۔ جب گاؤں جاتیں تو ماموں کے گھر ضرور جاتیں اور واپسی پر ایک نئی تازگی لیے واپس آتیں۔

بہن اور بھائی کا ویسے بھی ایک الگ اور پیار بھرا رشتہ ہوتا ہے لیکن جب اس میں باپ بیٹی والا پیار بھی شامل ہو جائے تو یہ رشتہ دنیا کی سب سے قیمتی چیز محسوس ہوتا ہے۔ ماموں کی اچانک موت میری عظیم ماں کے لیے ایسی خبر تھی جس کے بعد جیسے ان کی دنیا دھندلا گئی ہو، دنیا کی خوبصورتی جیسے اپنی وقعت کھو چکی ہو اور جیسے ہر خوشی ناصر اپنے ساتھ لے گیا ہو۔ امی کی یہ کیفیت ہم سب کے لیے ناقابل برداشت تھی ۔ شاید امی نے ناصر رضا کے بغیر اپنی دینا کا کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ وہ دن آج بھی یاد کر کے روح کانپ جاتی ہے کہ ایک بے بس بہن کس قدر بے بس ہو سکتی ہے ۔ خدا کسی کو اس کے بھائی کی جدائی کا غم نہ دکھائے ۔ آمین۔

عجیب حوصلہ تھا کربلا کی بہنوں کا جنہوں نے اپنے بھائیوں کو اپنے سامنے شہید ہوتے دیکھا۔ آج ماموں کی برسی ہے تو یہ بہن اپنے بھائی کے لیے بہت کچھ لے کراس کے گھر گئی لیکن اس بار تیاری میں اشیاء کی صورت بدل گئی تھی، اب کی بار قرآن پاک کا تحفہ ساتھ لے کر ناصر رضا کے پاس گئی اور مجھے امید ہے کہ ناصر رضا بھی ہمیشہ کی طرح اپنی بہن کے تحفے کے انتظار میں ہو گا۔

کس نے کہا کہ انسان چلا جائے تو محبت اور تعلق ختم ہو جاتا ہے۔  اپنے پیارے بچھڑ جانے کے بعد زیادہ یاد آتے ہیں۔ ایک ایک لمحہ ان کے بغیر اذیت مسلسل معلوم ہوتا ہے ۔آج اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی اس بہن کا غم تازہ ہے، اللہ ہم سب کی ، جانے والوں کی اس بابرکت مہینے کے صدقے مغفرت فرمائے اور ہر بہن کا ناصر رضا اس سے کبھی جدا نہ ہو۔

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *