EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر گلیلیو ببلیکل فلکیاتی نظریات کے خلاف اظہار اسی دور کی عدم برداشت کا سامنا رہتا تو ہم آج بھی کرۂ ارض کو کائناتی مرکز تصور کر رہے ہوتے۔ اگر سائنس کے سمندروں میں غوطہ زن لوگوں کو معاشرتی عدم برداشت کے نتیجے میں شیطانی پیروکار ہی سمجھا جاتا رہا ہوتا تو انسان آج فلک شگاف عمارتیں تعمیر نہ کر پاتا، فضاؤں میں پرندوں کی مانند اڑ نہ رہا ہوتا، اپنی تاریک راتوں کو دن کے اجالوں کے مشابہ نہ کر پاتا۔ یہ سب کچھ اختلاف رائے رکھنے والوں کے استقلال کا نتیجہ ہے۔

اگر سقراط اسں دن اپنے درست نظریات پر قائم رہا اور عدم برداشت کا سامنا کیا تو ہی حقیقت آشکار ہوئی اور آج فلسفہ ہم تک پہنچا ہے۔ اگر فلسفے کی کھوج میں گم ہوئے تو ہی حقیقت صدیوں بعد ہمارے سامنے ہے۔

اگر یورپی قومیں بدستور سائنس کو خلاف مذہب سمجھتے رہتے تو تاحال انسانی ترقی ایک خواب ہوتا۔ قصۂ مختصر، جب بھی معاشرے نے اختلاف رائے کرنے والوں کو سنا اور سمجھا تو نتیجتاً معاشرتی اصلاح نصیب ہوئی۔ اس کے برعکس جن قوموں نے اختلاف رائے رکھنے والوں کو معاشرتی دشمن سمجھا ، وہ قومیں ترقی کی دوڑ میں کہیں بہت پیچھے رہ گئیں۔

اسلام نے جب اپنے پیروکاروں کو حصول علم اور ریسرچ کی ترغیب دی تو مسلمانان عالم نے میدان سائنس میں کئی معرکے سر کیے۔ ایک دور تھا جب بغداد کی درسگاہوں کو مسلمانوں کی رفاقت حاصل تھی جبکہ یورپی اقوام لائبریریوں اور درسگاہوں کو نذر آتش کرنے کے درپے تھیں۔

برصغیر پاک و ہند میں مسلم معاشرہ عدم برداشت کی ہی وجہ سے دوسری قوموں سے پیچھے رہ گیا۔ پرنٹنگ پریس پہ فتوی بازی سے لے کر پولیو ویکسینز کو ممنوعہ قرار دینے والے ہم مسلمان عدم برداشت کا جگمگاتا مجسمہ ہیں۔ برطانوی سامراج کے نئے تعلیمی افق کو خلاف مذہب سمجھنے والوں نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا جس کے خلاف علی گڑھ تحریک نے بیڑا اٹھایا اور جدید علوم کی اہمیت اجاگر کی۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی معاشرہ دو گروہوں میں منقسم ہو گیا۔ یہ تقسیم تاحال قائم ہے۔ بعض کے نزدیک پاکستانی ریاست کو ایک Theocracy ہونا چاہیے۔ تو دوسروں کے نزدیک ایک سیکولر ریاست۔ انہی اختلافات کے بہ موجب 1973 تک ہم کوئی متفقہ ریاستی دستور بنانے سے قاصر رہے۔ اس کے بعد عدم برداشت اور شدت پسندی کے جو بیج 80 کی دہائی میں ضیا کی مارشل لاء حکومت نے بوئے وہ ہم آج تک کاٹ رہے ہیں۔

فی زمانہ پاکستان جیسے معاشرے میں جو وجوہات عدم برداشت کا سبب بن رہی ہیں، ان میں سے کچھ اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

سب سے پہلے مذہبی اختلافات کی بات کی جائے ، یہ سوچ کہ میرا مذہب ہی دنیا میں تمام مذاہب سے بہتر ہے۔ یہ بیان ایسا ہے کہ جیسے ایک بچے کا یقین ہے کہ میرے ماں باپ ہی دنیا کے سب سے اچھے اور بہترین ماں باپ ہیں۔ مذاہب میں اختلاف ایک دوسرے سے نفرت کا باعث بنا ہے۔ اس کائنات میں جنگ اور مذہب کے نام پر سب سے زیادہ جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ فرقہ وارانہ تعصب ایک شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مذہب کی آڑ میں آئے دن کوئی ہنگامہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ہر فرد مذہب کو لے کر سخت رویہ رکھتا ہے جس سے ایک دوسرے سے نفرت اور عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری بڑی وجہ ریاستی قوانین کی پیچیدگی اور ان پر عمل کی کمی ہے۔ کئی قوانین ایسے بنائے گئے ہیں کہ افراد کو لگتا ہے کہ قانون انہیں انصاف نہیں دلوا سکتا لہٰذا وہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں جو کہ عدم برداشت کی وجہ بن رہا ہے۔ مثال کے طور پر سلمان تاثیر کا قتل ، اس واقعے میں ریاستی قوانین اور ریاستی اداروں کی کمزوری اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا گیا۔

’موب جسٹس‘ پاکستان میں دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ریاستی رٹ آئے دن چیلنج ہو رہی ہے اور بغیر کسی خوف کے ایک ہجوم خود فیصلہ کرتا ہے اور خود ہی سزا دیتا ہے۔ مشال خان کا قتل جو کہ ایک ہجوم کے ہاتھوں ہوا ، سراسر غیر قانونی تھا۔ اسی طرح بہاولپور یونیورسٹی میں پروفیسر کا قتل عدم برداشت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مذہبی عدم برداشت میں مدارس کا باقاعدہ کردار رہا ہے۔ ہر مدرسہ اپنے پسند کے نظریات معصوم ذہنوں میں ایک تسلسل کے ساتھ بھرتا رہتا ہے۔ ایک مدرسہ پانچ سات سال ایک بچے کو چندے پر تعلیم دیتا ہے۔ بچے کو جنت کے خواب دکھائے جاتے ہیں اور ان خوابوں کی قیمت کسی مخالف فرقے کے شخص کی یا کسی کافر کی جان ہوتی ہے۔ مدرسے کے یہ بچے سالہا سال ذہنوں میں نفرت پالتے رہتے ہیں اور ایک موقع کی تاک میں رہتے ہیں کہ کب وہ کسی کافر یا گستاخ کو جہنم واصل کر سکیں۔

مدرسوں کے بچوں کا سلیبس یہ ہے کہ نماز کیسے پڑھی جائے، کون سی نماز قبول ہوتی ہے اور کون سی نہیں۔ کب کوئی شخص گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ ؟ یہ ہے ان کروڑوں بچوں کا مستقبل۔ جو بچہ تعلیم ہی نفرت کرنے کی حاصل کرتا ہے ، اسے محبت کرنا کیسے آئے گا؟ بغیر innovation کے سالہا سال سے پڑھتے ہوئے ایک ہی سلیبس میں نہ تو کوئی جدت آئی اور نہ ہی کوئی اخلاقی یا مذہبی ہم آہنگی کا پرچار ہوا ہے جس سے عدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے اور مذہب جو کہ ایک جمہوری طرز کی دعوت دیتا ہے ، مکمل طور پر عدم برداشت کی طرف جا رہا ہے۔

یکساں تعلیمی نظام کا عدم وجود پاکستان جیسے معاشرے میں عدم برداشت کو جنم دے رہا ہے ۔ بڑے بڑے اداروں میں پڑھنے والے طلبا عام طور پر ریشنل اور لوجیکل مائنڈ کے حامل ہوتے ہیں اور وہ تحمل مزاجی سے مخالف کی رائے سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں اس کے برعکس عام پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں میں ایسا کوئی میکنزم نہیں ہے کہ بچوں کو ایسی تربیت دی جائے اور ایسا سلیبس پڑھایا جائے جس سے ان کی شخصیت میں ٹھہراؤ اور برداشت جیسی اہم خصوصیات پیدا ہوں۔

اگر کوئی بھی مذہب کے بارے ریسرچ کا بیڑا اٹھاتا ہے تو اسے بدعت کا نام دیا جاتا ہے ۔ ہم اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ آج سے دس بارہ صدیاں پہلے ہونے والا مذہبی کام ان لوگوں کی اپنی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق تھا اور آج کے دور میں جب انسان ترقی کے اس دور میں پہنچ چکا ہے تو مذہب کے بارے میں رائے دینا یا کوئی ریسرچ کرنا یہ ایک علمی کام ہے نہ کہ کوئی بدعت۔ آج مذہبی علم Sacrosanct سمجھ کر مذہبی تحقیق کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔

ہمارے معاشرے میں عدم مساوات 73 سالوں سے چلی آ رہی ہے اور خاص طبقہ حکمرانی اور امیر ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں عدم برداشت جیسی موذی بیماریاں پیدا ہوئی ہیں۔ ایک مثالی اور مساوی معاشرہ ہمیشہ ترقی کرتا ہے ، پاکستان میں عدم مساوات کی وجہ سے عدم برداشت بڑھی ہے اور معاشرہ ترقی کی بجائے پستی کی طرف گیا ہے۔ عدم مساوات کی وجہ سے کئی لوگ جرائم کرتے ہیں اور اسی طرح عدم برداشت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

سیاسی اختلافات کی بات کی جائے تو یہ ایک اہم فیکٹر ہے جس نے عدم برداشت کو بڑھاوا دیا ہے ۔ ایک دوسرے سے اختلاف اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ لوگ باہم دست و گریباں ہو جاتے ہیں جس سے صرف اختلاف ہی جنم لیتا ہے۔ اسمبلیوں میں منتخب نمائندے تو پاکستان کی ویلفیئر کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں لیکن وہاں جو ماحول بن چکا ہے اس سے عام شہری کو کوئی امید نہیں رہی ہے کہ ہمارے مسائل زیر بحث آئیں گے اور نہ ہی وہ مقصد جس کے لیے نمائندوں کو اسمبلیوں میں بھیجا جاتا ہے ، پورا ہو رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ عدم برداشت کا سامنا کر رہا ہے۔

عدم برداشت کے اثرات

عدم برداشت بڑھنے کی وجہ سے معاشرے سے امن جاتا رہا ہے جو کہ آج کل ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں کہ امن کا مکمل طور پر فقدان نظر آتا ہے ، کہیں کوئی سکون اور خوشی باقی نہیں رہی ہے۔ ہر طرف بے چینی اور بد امنی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

عدم برداشت بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور یہ شرح دن بدن بڑھ رہی ہے۔ عدم مساوات کی وجہ سے وسائل کی ترسیل جو کہ مساوی نہیں ہے ۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے لوگ سڑکوں کا رخ کرتے ہیں اور ڈاکہ زنی، چوری اور ڈکیٹی کرتے ہیں۔ مناسب روزگار نہ ہونے کی وجہ سے غیر قانونی افعال کرتے ہیں۔

بڑھتی عدم برداشت کی وجہ سے معاشرے کا امیج عالمی سطح پر بہت برا جاتا ہے۔ عورت مارچ میں آویزاں بینرز اس بات کی عکاسی کر رہے ہوتے ہیں کہ پاکستان میں برداشت ختم ہو چکی ہے اور یہاں عورتوں کے ساتھ بہت ظلم کیا جاتا ہے۔

بنیادی انسانی حقوق ہر فرد کا حق ہے جن کو پورا کرنے کی ریاست اور معاشرہ ذمہ دار ہوتا ہے ۔ بڑھتی عدم برداشت کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ لوگوں میں اس بات کا شعور نہیں ہے کہ عدم برداشت کی وجہ سے کب دوسرے فرد کے حقوق میں دخل اندازی ہو رہی ہوتی ہے، اس بارے میں شعور اجاگر ہونا بہت ضروری ہے۔

عدم برداشت کی وجہ سے معاشرے میں کوئی بھی پروگریسو سوچ سامنے نہیں آ پاتی کیونکہ ایسا معاشرہ عدم برداشت جہاں موجود ہو ، وہاں ترقی پسند سوچ کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اور ایسی سوچ جو معاشرے میں جدت لائے اگر اس کو کھلے دل سے قبول نہ کیا جائے تو وہ دب جاتی ہے ، جس سے معاشرتی ترقی رک جاتی ہے۔ پاکستان میں عدم برداشت کی یہ سوچ کافی حد تک مستحکم ہو چکی ہے اور معاشرے پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

معاشرتی اصلاح کرنے والے افراد کو ہمیشہ عدم برداشت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو روایتی مکتبہ فکر کو چیلنج کرتا ہے اسے معاشرتی استحکام کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے اور اسے معاشرتی آئسولیشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شعب ابی طالب کی گھاٹی میں مسلمانوں کو آئسولیٹ کرنا ، اس کی معروف مثال ہے۔

عدم برداشت کا رویہ کیسے ختم ہو گا؟

بین المذاہب ہم آہنگی کسی بھی معاشرے کو پرامن بنانے کے لیے ناگزیر ہے ، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے بہت ساری اقدامات ہیں جو اب اٹھانا ضروری بن چکے ہیں۔

درس و تدریس کے نظام میں بہتری لائی جائے۔ اداروں میں ہر شدت پسند سوچ کئ حوصلہ شکنی کی جائے اور اسے بدلنے میں کردار ادا کیا جائے۔ بچوں کو پڑھایا جائے کہ کوئی بھی مذہب برا نہیں ہے۔ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔ جب سکول کی سطح پر ایسے صحت مند دماغ پیدا کیے جائیں گے تو یہی لوگ معاشرے میں جا کے مزید ہم آہنگی کا سبب بنیں گے۔ نفرت کا درس دینے کی بجائے اگر محبت کا درس دیا جائے تو یہ دنیا کتنی خوبصورت جگہ بن سکتی ہے۔

ریاستی اداروں اور قانون کی رٹ قائم ہونی چاہیے۔ کوئی بھی عدم برداشت والا عمل ہونے سے پہلے قانون اور ادارے حرکت میں آئیں اور اپنا فعال کردار ادا کریں جس سے معاشرے میں عدم برداشت کو روکا جا سکے گا۔ اگر پاکستان میں سیکشن 295 سی سے متعلق کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ادارے فوراً حرکت میں آئیں اور لوگوں کے فیصلہ کرنے سے پہلے اس پر ایکشن لیں اور ایف آئی آر درج کر کے معاشرے میں یہ بات واضح کریں کہ ریاستی ادارے اور قانون موجود ہے۔ پاپولزم کی بنیاد پر نہیں بلکہ انصاف اور قانون کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ ہمارے ہاں ایک ہجوم کے احتجاج پر فیصلے دیے جاتے ہیں اور رد کیے جاتے ہیں۔

مدراس میں تعلیمی نصاب سرکاری طور پر دیا جانا چاہیے اور ان مدارس کی رجسٹریشن ہونی چاہیے اور بچوں کی بھی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔ بچوں کو درس نظامی کے ساتھ ساتھ دنیاوی اور سائنسی علوم سے بھی روشناس کروایا جانا چاہیے تاکہ وہ صحت مند دماغ لے کر معاشرے میں آئیں۔ مدارس کے علماء کی سرکاری طور پر ٹریننگ کا بندوست کیا جانا چاہیے تاکہ وہ بچوں کو اس کے مطابق پڑھائیں۔

ریاست پاکستان کا ایک بہت بڑا المیہ مذہبی اداروں کو حکومتوں کا سیاسی گٹھ جوڑ کے لیے استعمال کرنا بھی ہے ، اس طرح لوگوں کے درمیان نفرت بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ عوامی سطح پر عام لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر کسی سیاسی کھیل کا حصہ نہ بنیں۔

مذہبی ریسرچ اور جدت کو تقویت دینی چاہیے ۔ مذہب کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے اور لوگوں کو مذہب میں جمہوریت کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ دوسروں کے مخالف رائے کو سنیں ، معقول اور مؤثر جواب دیں۔ دلائل کی بنیاد پر مؤثر اور صحت مند بحث و مباحثہ کے نظام کا اطلاق بہت ضروری بن چکا ہے۔

کلاس سسٹم ایک ایسا قاتلانہ نظام ہے جو ہمارے معاشرے کی رگوں میں پیوست ہو چکا ہے۔ امیر مزید امیر اور غریب بہت غریب ہوتا جا رہا ہے۔ سوشلزم اور مارکسزم کی صورت میں اس کا حل ہمارے سامنے رہا لیکن اس کا اطلاق ندارد۔ گو کہ یہ ایک ایسا انقلابی نظریہ ہے جسے حاصل کرنا ایک خواب ہے۔ لیکن ریاست اتنی کوشش تو کر سکتی ہے کہ کسی حد تک مساوات کی بنیاد پر لوگوں کو حقوق مہیا کر سکے۔

سیاسی اختلافات اور سیاسی نظریات کے معاملے میں معاشرے میں موجود عدم برداشت ایک زہر قاتل ہے جو اب ایک روایت بن چکا ہے۔ ’میری جماعت ہی ٹھیک ہے اور میرا سیاسی لیڈر ہی کل کائنات ہے‘ جیسے نظریات بہت نقصان دہ ہیں۔ سیاسی کارکنان کا باشعور ہونا انتہائی اہم ہے اور عوامی نمائندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو سیاسی ہم آہنگی کا درس دیں۔ سیاسی انتقام کی آگ کئی گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اس جنگ پر جتنا جلد قابو پایا جائے اتنا بہتر ہے ، وگرنہ چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔

اختلاف رائے کسی بھی معاشرے میں روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس معاشرے میں اختلاف کرنے والے ناپید ہوں وہ معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا بالکل غلط نہ ہو گا کہ تاریخ انسانی کی تمام تر ترقیوں کا راز اختلاف رائے میں مضمر ہے۔ معاشرتی اصلاح کا سفر اختلاف رائے سے شروع ہوتا ہے۔ لہٰذا معاشرتی رواداری و برداشت نہ ہو گی تو اختلاف رائے کا عمل ناپید ہو جائے گا۔ نتیجتاً معاشرتی تبدیلی محض ایک خواب رہ جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے