انصاف کب ملے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے پی ایس کے بچوں کی پہلی برسی تھی اور میں اشکبار آنکھوں سے ٹی وی پہ ان کی غمزدہ ماؤں کا پروگرام دیکھ رہی تھی اور ایک خاتون کو دیکھ کر سوچا اس کی آنکھیں کالج کی ایک کلاس فیلو سے بہت ملتی ہیں ، عین اسی وقت اسلام آباد سے بچپن کی دوست کا فون آیا کہ جلدی سے ٹی وی پہ فلاں چینل لگاؤ ، شاہانہ آ رہی ہے اس کا بیٹا اسفند بھی شہید ہوا ہے اے پی ایس سانحے میں۔

میں ایک دم چونک گئی اور کہا وہی تو دیکھ رہی ہوں اور کافی دیر سے یہی سوچ رہی تھی لیکن وقت اور صدمے نے شاہانہ کو ایسا بدلا کی ایک سال سے اس غمزدہ ماں کو ٹی وی پہ دیکھنے کے باوجود نہیں پہچان پائی۔

آج تقریباً چھ سال چار ماہ ہو گئے، اس سانحے کو وہ غمزدہ روز صرف اپنے بیٹے اسفند کی تصاویر لگاتی ہے۔ اس دوران ہم سب ہنسے خوشیاں منائیں لیکن یہ غمزدہ والدین تو جیسے مسکرانا ہی بھول گئے۔

نہ جانے ریاست سے ان کو انصاف کب ملے گا؟ لیکن میرے کانوں میں ایک ہی جملہ گونجتا رہتا ہے۔

”ہمارے بچے نہتے اسکول پڑھنے گئے تھے ، کسی جہاد یا جنگ پہ نہیں گئے تھے، ریاست ان کو صرف شہید قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی“ ۔

شاہانہ ان غمزدہ والدین میں سے ہے جنھوں نے اپنے بچوں کے لئے ریاست سے انصاف کی امید پہ عدالت میں کیس دائر کر رکھا ہے۔ یہ کیس نہ جانے کب تک چلے گا اور کب انصاف ملے گا۔

ملے گا بھی کہ نہیں؟ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا لیکن یہ والدین ہمت نہیں ہار رہے۔ انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

جان کی امان پاؤں تو ایک ماں ہونے کے ناتے میرا سوال ہے کہ کیا ان کو سانحۂ ساہیوال جیسا انصاف ملے گا؟

اے پی ایس وہ سانحہ تھا جس پہ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ جو صاحب اولاد نہیں بھی تھے وہ بھی رو رہے تھے۔
آج بھی جب سوچتی ہوں تو رونا آ جاتا ہے کہ کیسے ہمارے بچوں نے تڑپتے تڑپتے ماں باپ کو پکارا ہو گا۔
کچھ ننھے پھول تو آواز بھی بلند نہ کر پائے ہوں گے۔
کیا چھ سال کافی نہیں ہوتے ذمہ داران کا تعین کرنے کے لئے؟
کیا انتظار کیا جا رہا ہے کہ یہ والدین اپنی آس کے ساتھ خدا نخواستہ زندگیاں بھی کھو دیں؟

جیسے کہ حال ہی میں شہید حسن زیب اے پی ایس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ صرف یہ غمزدہ والدین نہیں ہم بھی ریاست سے انصاف چاہتے ہیں۔ کاش ہماری زندگی میں انصاف مل جائے۔

اللہ ان سب کو صبر دے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائے آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *