رمضان میں ماہواری: پاکستانی خواتین کِن مشکل حالات کا سامنا کر رہی ہیں؟

کریم الاسلام - بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’موجیں ہیں تم لوگوں کی جو سارے روزے نہیں رکھنے پڑتے‘، ’کچھ نا کچھ روزے تو رہ ہی گئے ہوں گے‘، ’آپ نماز کیوں نہیں پڑھ رہیں؟‘ ’اچھا پیریڈز آنے والے ہیں اِسی لیے موڈ خراب ہے۔‘ یہ کچھ ایسے جملے ہیں جو ماہواری یا پیریڈز کے دوران روزے نا رکھنے والی خواتین کو اکثر سُننے پڑتے ہیں۔

پاکستان کے پدرسری معاشرے میں ناصرف خواتین کو اُن کے پیریڈز کی وجہ سے ہتک اور طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ جسمانی اور جذباتی تبدیلی کے اِن مشکل دنوں میں بھی رمضان کے اہتمام میں شریک ہونا اُن کی مجبوری بن جاتی ہے۔

اِس سلسلے میں ہم نے چند نوجوان پاکستانی خواتین سے بات کی اور جاننے کی کوشش کی کہ رمضان میں ماہواری کے دوران اُنھیں کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اِن کا تدارک کس طرح کیا جا سکتا ہے۔

’معاشرے کا رویہ ہے کہ اگر لڑکی پیریڈز پر ہے تو اُسے چھپانا چاہیے‘

ایک غیر سرکاری تنظیم چلانے والی لالہ رُخ نے بی بی سی کو بتایا کہ شروع سے ہی اُن کی فیملی میں ماہواری کے بارے میں کُھل کر بات نہیں کی جاتی تھی۔

’میرے گھر میں پیریڈز کو ایک ٹیبو سمجھا جاتا تھا۔ جب مجھے پیریڈز آتے تھے تو والدہ گھر کے دیگر افراد کو اشاروں میں بتا دیا کرتی تھیں کہ یہ آج روزہ نہیں رکھ سکتی۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں ماہواری پر بات اور سینیٹری پیڈز تک رسائی مشکل کیوں؟

خواتین ماہواری پر کھل کر بات کیوں کر رہی ہیں؟

’خوفزدہ ہوتی تھی کہ کپڑوں پر داغ لگ جائے گا‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی گراناز بلوچ کے خیال میں ماہواری سے متعلق خاندانی رویے ہمارے مجموعی معاشرتی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

’معاشرے کا رویہ یہ ہے کہ اگر لڑکی پیریڈز پر ہے تو اُسے چھپانا چاہیے۔ اگر کسی جگہ صرف خواتین موجود ہیں اور اُن میں سے کچھ کا پیریڈز کی وجہ سے روزہ نہیں ہے تو پھر بھی وہ کچھ کھا پی نہیں سکتیں۔‘

’ایسی صورتحال میں مجھے اکثر جھوٹ بولنا پڑتا تھا کہ میں روزے سے ہوں اور پھر گھر آ کر کھاتی تھی۔ اب میں یہ کرتی ہوں کہ بیگ میں کچھ کھانے کی چیز رکھ کر لے جاتی ہوں۔ کبھی کبھی تو باتھ روم میں بھی چھپ کر کھانا پڑتا ہے۔‘

لیکن ماہواری سے گزرنے والی اِن عورتوں کے لیے گھر سے باہر کھانا پینا بھی چیلنجز سے خالی نہیں۔ پیشے کے لحاظ سے ماہرِ نفسیات آمنہ کریمی اپنا تجربہ بتاتی ہیں۔

’ایک بار رمضان کے دنوں میں، میں پیریڈز پر تھی اور میرا روزہ نہیں تھا۔ میرے دفتر کے ایک ساتھی نے مجھے پانی پیتے دیکھا تو پوچھا کہ کیا آپ کا روزہ نہیں۔‘

’میں نے جواب دیا کہ نہیں تو وہ سمجھ گئے لیکن اُس کے بعد اُنھوں نے مجھے ایسی عجیب نظروں سے دیکھا جو میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔‘

گراناز بلوچ

BBC
گراناز بلوچ کے خیال میں ماہواری سے متعلق خاندانی رویے ہمارے مجموعی معاشرتی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں

پیریڈز میں سحری اور افطاری

ماہِ رمضان کے دوران پیریڈز پر ہونے والی خواتین کے لیے ایک اور پریشانی سحری اور افطاری کے اہتمام کی ذمہ داری بھی ہے۔

ماہواری سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے والی این جی او ’ہر گراؤنڈ‘ چلانے والی صدف ناز کے مطابق ابتدائی چند دنوں میں درد اتنا شدید ہوتا ہے کہ کچھ خواتین کے لیے بیٹھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اِس صورتحال میں افطاری اور سحری کا اہتمام انتہائی تکلیف دہ کام ہے۔

’میرے گھر میں یہ ہوتا تھا کہ پیریڈز کے دوران بھی مجھے عام دنوں کی طرح صبح سحری کے وقت اُٹھنا پڑتا تھا اور انتظامات میں حصہ لینا پڑتا تھا۔ پھر سارا دن کچھ نہیں کھانا پینا اور افطاری میں بھی شریک ہونا۔ ہم بہنوں کو یہ باور کرانا ہوتا تھا کہ سب کچھ نارمل ہے۔ یہاں تک کہ ہم دوپٹے لے کر کمروں میں چلی جاتی تھیں یہ تاثر دینے کے لیے کہ ہم نماز پڑھ رہی ہیں۔‘

صدف بتاتی ہیں کہ پیریڈز کے دوران اکثر شام کے اوقات میں اُن پر نقاہت طاری ہو جاتی تھی لیکن شرم کے مارے اتنی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ اپنی والدہ یا بہنوں سے کچھ کھانے کو مانگ سکیں اور کبھی کبھی تو بہنیں بھی اِس بارے میں آپس میں بات کرنے سے کتراتی تھیں۔

صدف ناز

BBC
صدف ناز کا کہنا ہے کہ اگر اہلخانہ سحری اور افطاری کا انتظام آپس میں بانٹ لیں تو اِس طرح ماہواری کے دنوں میں خواتین آرام کر سکتی ہیں

اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بیرونِ ملک گزارنے والی لالہ رُخ کی رائے میں مغربی معاشرے کے برعکس ہمارے یہاں صنفی رول پہلے سے ہی طے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ سمجھا جاتا ہے کہ سحری یا افطاری بنانا عورت کا ہی کام ہے اور اکثر مرد حضرات اِس میں شریک نہیں ہوتے۔ نا عورت نا ہی مرد پیدائشی طور پر یہ کام کرنے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ کھانا پکانا یا گھرداری ہر شخص کو آنا چاہیے۔‘

لالہ رُخ کے مطابق مذہب ماہواری سے گزرنے والی خواتین کے لیے نماز روزے سے استثنا کی رعایت دیتا ہے لیکن اگر معاشرہ ماہِ رمضان میں اُن پر سحری اور افطاری کی تیاری کی اضافی ذمہ داریاں ڈال رہا ہے تو یہ زحمت ہی ہوئی۔

مردوں کے سوال

صدف ناز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مردوں کے نازیبا سوالات بھی رمضان کے دنوں میں ماہواری سے گزرنے والی خواتین کے لیے تکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’کچھ مرد حضرات کو معلوم تو ہوتا ہے کہ کوئی خاتون پیریڈز پر ہیں لیکن وہ ٹوہ لیتے ہیں۔ اُنھیں یہ اندازہ نہیں کہ اُن کا یہ رویہ خواتین کے لیے کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ اِن دنوں میں کن جسمانی، جذباتی اور ذہنی تبدیلیوں سے گزرتی ہیں کیونکہ یہ سب کچھ اُن مرد حضرات کے ساتھ نہیں ہوتا لہذا شاید وہ اِس کی سنگینی سے بھی واقف نہیں۔‘

صدف کے مطابق ’اکثر مرد پوچھتے ہیں کہ آپ نے رمضان میں کتنے روزے رکھے؟ حالانکہ اُنھیں پتہ ہوتا ہے کہ خواتین کے کچھ روزے ماہواری کی وجہ سے چھوٹ جاتے ہیں۔ یہ سوال ہونا ہی نہیں چاہیے کہ آپ نے کتنے روزے رکھے۔‘

لالہ رخ

BBC
لالہ رُخ نے بتایا کہ شروع سے ہی اُن کی فیملی میں ماہواری کے بارے میں کُھل کر بات نہیں کی جاتی تھی

مرد کیا کریں؟

اِس رپورٹ کی تیاری میں بی بی سی نے جن خواتین سے بات کہ اُن سب نے اِس بات پر زور دیا کہ پاکستانی مردوں کو احساس کرنا چاہیے کہ ماہواری کے دوران خواتین کس تکلیف سے گزرتی ہیں۔

آمنہ کریمی مردوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ ماہواری سے گزرنے والی کسی عورت سے بہت زیادہ سوالات نا کریں۔

’اگر آپ کسی خاتون کو رمضان میں کھاتے پیتے دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ وہ پیریڈز پر ہیں۔ اِس بارے میں مزید سوالات کرنے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کی آدھی آبادی عورتوں کی ہے تو دنیا کی نصف آبادی کو پیریڈز ہوتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔‘

’ہاں اگر آپ پیریڈز کے بارے میں حقیقتاً جاننا چاہتے ہیں تو ہم سے پوچھ سکتے ہیں۔ اگر آپ سنجیدگی اور احترام سے سوال کریں گے تو ہم ضرور آپ کو اِس بارے میں معلومات دے سکتی ہیں۔‘

گراناز بلوچ کے بقول ماہواری کے بارے میں معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

’ہمیں گھر میں شوہر، والد اور بھائیوں کو سمجھانا چاہیے کہ یہ ایک حیاتیاتی عمل ہے جس میں کوئی شرم یا چھپانے کی بات نہیں۔ یہ کوئی انوکھی چیز نہیں۔ ماوؤں کو بیٹوں کو بتانا چاہیے کہ میں آپ کی والدہ بھی اِس عمل سے گزری ہوں اور آپ جس عوررت سے شادی کریں گے وہ بھی اِس عمل سے گزرے گی۔‘

آمنہ کریمی

BBC
آمنہ کریمی مردوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ ماہواری سے گزرنے والی کسی عورت سے زیادہ سوالات نا کریں

عورتوں کا ساتھ دیں

گراناز بلوچ کہتی ہیں کہ یہ مردوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طور پر ماہواری کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور جانیں کہ مہینے کے مخصوص ایام میں اُن کی مائیں، بیویاں اور بہنیں کس مرحلے سے گزرتی ہیں۔

’شوہروں کو چاہیے کہ وہ ماہواری کے دوران اپنی بیویوں کا ساتھ دیں۔ رمضان میں باہر سے کھانا آرڈر کیا جا سکتا ہے جیسا عام دنوں میں کیا جاتا ہے تاکہ اُن کی شریکِ حیات کو کچن میں نا جانا پڑے۔ اِس کے علاوہ تعلیمی اداروں اور دفاتر کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے انتظامات کریں کہ ماہواری سے گزرنے والی خواتین کسی مخصوص جگہ پر بیٹھ کر آرام کر سکیں اور کھا پی سکیں۔ مخصوص ایام میں اُنھیں چھٹیاں بھی دی جا سکتی ہی۔‘

صدف ناز کا کہنا ہے کہ ’اگر گھر کے دیگر افراد خاص طور پر خواتین آپس میں ذمہ داریاں بانٹ لیں تو رمضان میں پیریڈز خواتین کے لیے کافی آسان بنائے جا سکتے ہیں۔ اگر اہلخانہ سحری اور افطاری کا انتظام آپس میں بانٹ لیں تو اِس طرح پیریڈز پر موجود خواتین آرام کر سکتی ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19381 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp