مدیحہ گوہر، بمبئی اور ششی کپور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو اپریل کا مہینہ ہر سال آتا ہے اور چلا جاتا ہے لیکن 2018 کے بعد اپریل کے ساتھ ہمیشہ کے لئے افسردہ کر دینے والی ایک یاد وابستہ ہو گئی ، جب 25 اپریل 2018 کو میری شفیق استاد، اجوکا تھیٹر کی آرٹسٹک ڈائریکٹر اور روح رواں مدیحہ گوہر (ہم سب کی مدیحہ آپا) کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے لڑتے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

میری خوش قسمتی کہ یونیورسٹی کے فوراً بعد میں اجوکا تھیٹر سے وابستہ ہو گیا، جہاں شاہد محمود ندیم اور مدیحہ گوہر جیسے لوگوں کی صحبت ایک خاندان کی طرح نصیب ہوئی، وہاں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب کچھ نیا کرنے یا سیکھنے کو نہ ملا ہو، کبھی ریہرسلز ہو رہی ہیں تو کبھی غلام عباس، انتظار حسین یا منٹو کی کہانیوں اور مضامین کی ریڈنگز، کبھی دوسرے شہروں میں تھیٹر پرفارمنس کے لئے سفر تو کبھی بین الاقوامی تھیٹر فیسٹیولز میں نمائندگی کے لئے بیرون ممالک کے دورے، غرض کہ ہر لمحہ قیمتی اور تعلیم و تعلم سے بھرپور رہا۔

مدیحہ آپا مطالعہ پر بہت زور دیتی تھیں، ہم کیا پڑھتے ہیں اور ہمیں کون کون سی کتابیں پڑھنی چاہئیں ، وہ ہمیشہ اپنی رائے اور مشورے دیتیں۔

اجوکا تھیٹر کے ڈراموں کے موضوعات سیاسی اور سماجی ہوتے ہیں۔ اس لئے اسکرپٹ (جو اکثر شاہدندیم لکھتے ہیں ) تو ہمیشہ ہی بہترین اور مضبوط ہوتا تھا، لیکن اس پر مدیحہ گوہر کے کمال ایستھیٹکس، جدید تھیٹر کی تکنیک پر عبور اور ڈائریکشن اجوکا کے ڈراموں کو بین الاقوامی سطح کے معیار پر لے جاتے تھے۔

جب ہم کسی انٹرنیشنل تھیٹر فیسٹیول میں شرکت کرتے تو ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی کہ ہم دوسرے ممالک کے تھیٹر شوز ضرور دیکھیں، اگر ہم سستی کرتے تو وہ زبردستی ہمیں ساتھ لے کر جاتیں کہ سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے، ہر شو کے بعد اس کی ڈائریکشن، ایکٹنگ اور پروڈکشن کو لے کر سیر حاصل قیمتی گفتگو کرتیں اور ہم سے رائے بھی لیتیں۔

اسی طرح فارغ وقت میں ان کی کوشش ہوتی کہ ہوٹل میں پڑے رہنے کی بجائے جس ملک میں آئے ہیں کم از کم وہاں کی مشہور نمائندہ جگہیں تو ضرور گھومیں، اس لیے وہ سائٹ سیئنگ کی نگرانی خود کرتیں۔

ان کے ساتھ گھومتے ہوئے کبھی گائیڈ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی کیونکہ ان کا ہر نئی جگہ کے متعلق پہلے سے مطالعہ ہوتا تھا اور وہ ہمیں تاریخ اور حال بتاتی جاتی تھیں۔

مدیحہ گوہر علم کے ایک چشمے کا نام تھا جس کا فیض ہمیشہ جاری رہتا تھا، کوئی سیکھنے والا ہو سہی وہ مواقعوں کے ڈھیر لگا دیتیں۔

میرے امریکہ منتقل ہونے کے بعد جب بھی ان سے بات ہوتی تو ہمیشہ پوچھتیں کہ کون کون سی کتابیں پڑھیں؟ کون سی اچھی موویز دیکھیں؟ مشورے دیتیں کہ فلاں مووی کی ڈائریکشن بہت اچھی ہے ، تمہیں دیکھنی چاہیے یا فلاں مووی میں فلاں ایکٹر نے بہت اچھا کام کیا ہے ، وہ تو تم ضرور دیکھو۔

میرے پاکستان جانے کی ایکسائٹمنٹ میں ایک پہلو ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا بھی ہوتا تھا، کہتیں جن دنوں لٹریچر فیسٹیول ہوتا ہے تب آیا کرو اور سارے سیشن اٹینڈ کیا کرو، امریکہ میں میرے پاس جتنی بھی کتابیں ہیں ان میں سے زیادہ تر انہی کے گفٹ ہیں۔

زندگی کے تقریباً دو عشرے تھیٹر اور ٹی وی کرنے، پڑھنے اور دیکھنے کے بعد بطور ایک ادنی تھیٹر کارکن، میری رائے میں مدیحہ گوہر اپنی شخصیت کے بہت سے پہلوؤں کو لے کر یعنی بطور ایکٹریس، ڈائریکٹر، ایکٹیوسٹ، نقاد اور اپنے کام سے ان کی کمٹمنٹ اور ڈیڈیکیشن کے لحاظ سے مجھے پاکستان میں ان کا ثانی نظر نہیں آتا۔

”شی واز ون اینڈ اونلی“

ویسے تو ان کے ساتھ بہت سے ممالک کے دورے کیے، بے شمار انٹرنیشنل فیسٹیولز میں شرکت کی لیکن یہاں میں ایک یادگار ممبئی کے دورے کی روداد پیش کروں گا، جب میں تھیٹر کی دنیا میں نومولود تھا تاکہ اندازہ ہو کہ وہ اپنی سرپرستی میں چھوٹے سے چھوٹے کارکن سے کتنا اچھا اور بڑا کام لے لیتی تھیں۔

یہ غالباً جولائی 2004 کی بات ہے، تقریباً صبح دس بجے میں اجوکا تھیٹر لاہور کے آفس میں ماہانہ نیوزلیٹر مرتب کر رہا تھا کہ انٹرکام بجا ، میری ڈائریکٹر مدیحہ گوہر نے مجھے تھیٹر کی آفیشل ای میل چیک کرنے کو کہا۔ میں نے سائن ان کیا اور تمام ای میلز پرنٹ کر کے فائل میں لگا کر ان کے کمرے میں بھجوا دیں۔ کمپیوٹر کی سکرین پر روٹین کی ای میلز میں ایک کے ٹائٹل نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کروائی، ٹائٹل تھا:

”سنجنا کپورپرتھوی تھیٹر ممبئی“ سنجنا کپور مشہور بھارتی ایکٹر ششی کپور کی بیٹی ہیں اور ان کے دادا پرتھوی راج کپور نے ممبئی میں پرتھوی تھیٹر قائم کیا تھا جو آج ایک انسٹی ٹیوشن بن چکا ہے اور سنجنا کپور اس کی روح رواں ہیں۔

میل میں انہوں نے کسی مستقبل قریب میں ہونے والے تھیٹر فیسٹیول کے لیے اجوکا تھیٹر کے ڈرامے ”ایک تھی نانی“ کی تفصیلات مانگی تھیں ، اس ڈرامے کی ہدایات مدیحہ گوہر نے دی تھیں جبکہ اس کو لکھا شاہد محمود ندیم نے ہے جو کہ اجوکا تھیٹر کے آرٹسٹک ڈائریکٹر ہیں اور مدیحہ گوہر کے شوہر بھی۔ (شاہد ندیم ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل انسان اور اعلیٰ پائے کے لکھاری ہیں میرے خیال میں وہ پاکستان کے اپنی نوعیت کے واحد رائٹر ہیں ، جن کی تحریروں اور ڈراموں میں سماجی تاریخی اور سیاسی پہلو اعلیٰ آرٹسٹک انداز میں موجود ہوتے ہیں ، میں نے زندگی میں ان سے بہت کچھ سیکھا ہے )

یعنی یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا ، اب صرف کاسٹ اور پروڈکشن کی تفصیلات مانگی گئی تھیں، اسی شام میری ڈائریکٹر نے مجھے یہ خبر دی کہ میں اس دورے میں نہ صرف بطور ایکٹر شامل ہوں بلکہ اس کا ٹور مینجر بھی میں ہی ہوں۔ میں بہت سٹپٹایا کہ اداکار کی حد تک تو ٹھیک ہے یہ ٹور مینیجر تو بہت ذمہ داری والا کام ہے۔ گو کہ میرے ساتھ جو ٹیم جا رہی تھی وہ سینیئر ایکٹرز پر مشتمل تھی اور بہت کوآپریٹو تھی اور پھر خود مدیحہ گوہر بھی ساتھ تھیں لیکن پھر بھی میرے لیے یہ کام چھوٹا نہیں تھا۔

ویزے، جہازوں کی ٹکٹیں، انڈیا میں لوکل ٹریول، جہاں جہاں ڈرامہ ہونا ہے ، وہاں کے لوگوں سے کوآرڈینیشن، ہوٹلز میں کمروں کی تقسیم، ریہرسل، شوسے پہلے تمام انتظامات کو چیک کرنا، پھر شو کے دوران سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے ، پر نظر رکھنا اور جس شہر میں جانا ہے، وہاں تمام کاسٹ کے لئے گھومنے پھرنے کے انتظامات وغیرہ وغیرہ۔

دورے سے پہلے ہی مجھے دورہ پڑ چکا تھا۔ ہمارے مینیجر جو یہ کام کرتے تھے کسی ایمرجنسی کی وجہ سے ساتھ جانے سے قاصر تھے ، اب آفیشلی میں ہی یہ کر سکتا تھا۔ یاد رہے کہ اس دورے میں ہمیں دہلی، ممبئی، بینگلور اور پھر امرتسر میں پرفارم کرنا تھا، خیر میری ڈائریکٹر نے یہ ڈھول میرے گلے میں ڈال دیا اور کہا:

You can do it
اب مرتا کیا نہ کرتا اس ڈھول کو بجانے کی تیاری شروع کر دی

ڈرامے کی کاسٹ میں سمیہ ممتاز، زہرہ سہگل، عذرا بٹ، سرفراز انصاری، فیضی، رضیہ ملک، مدیحہ گوہر اور راوی شامل تھے۔

زہرہ سہگل بالی ووڈ کی مشہور ویٹرن ایکٹریس جو بہت سی فلمیں کر چکی تھیں، ان کی ایک بہن جو پارٹیشن کے بعد پاکستان آ گئی تھیں، ان کا نام عذرا بٹ تھا (اب یہ دونوں اس دنیا میں نہیں رہیں ) ڈراما انہیں دو بہنوں کے گرد گھومتا ہے اور سکرپٹ ان کی زندگی پر بیس کرتا ہے

یہ ایک یادگار ٹور تھا ، بہت سے شہروں کی بہت سی یادیں لیکن اس نشست میں میں صرف ممبئی کے پرتھوی تھیٹر کے تجربات شیئر کروں گا۔

ممبئی میں ہمیں پرتھوی تھیٹر میں پرفارم کرنا تھا ، جہاں انڈیا کی پرفارمنگ آرٹ انڈسٹری کے بڑے نام اس شو کو دیکھنے آ رہے تھے ۔ دونوں بہنیں زہرہ سہگل اور عذرا بٹ پارٹیشن سے پہلے اکٹھے اسی ادارے سے منسلک رہیں، پرتھوی تھیٹر کے ڈراموں میں ششی کپور بچپن میں عذرا بٹ کے بیٹے کا کردار ادا کیا کرتے تھے، کئی دہائیوں کے بعد پاکستان میں بس جانے والی عذرا بٹ اپنی بڑی بہن کے ساتھ یہاں پرفارم کر رہی تھیں، یقیناً یہ نہ صرف کپور فیملی بلکہ وہاں کی انڈسٹری کے لئے ایک بڑا اور تاریخی واقعہ تھا۔

ہم ممبئی کے علاقے ”جوہو بیچ“ پہنچے ساحل کے کنارے واقع ایک خوبصورت ہوٹل میں چیک ان کرنے کے بعد ہم تھیٹرہال دیکھنے چلے گئے جہاں ہم نے پرفارم کرنا تھا، میرے ہمراہ ہمارے لائٹ اور ساؤنڈ مین ”ندیم میر“ بھی تھے ، ہم نے جائزہ لینے کے بعد وہاں کے عملے کو ضروری ہدایات دیں اور واپس ہوٹل آ گئے کیوں کہ میں بحر ہند میں ڈوبتے ہوئے سورج کا نظارہ مس نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ہوٹل ساحل سمندر پر تھا اور چند قدم کے فاصلے پر اس پر شکوہ سمندر کی لہریں ساحل کی ریت کو چھو کر واپس جا رہی تھیں ، ہوٹل کے کمرے سے نکلتے ہی سیڑھیاں اتر کر میں ریت پر ننگے پاؤں چل رہا تھا اور دور انڈے کی زردی کی مانند سورج اس خوبصورت سمندر میں اتر رہا تھا ، بڑے بڑے بحری جہاز چیونٹیوں کی طرح سلو موشن میں سورج کو مس کر کے گزر رہے تھے اور مجھے ان یورپی اور عربی ٹریولرز کی یاد آ رہی تھی جو سونے کی چڑیا کہلانے والے انڈیا میں اپنی قسمت آزمائی کے لیے آتے تھے، یہاں کے لوگوں کی سادگی کا خوب فائدہ اٹھاتے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ جاتے تھے۔

کولمبس بھی تو انہیں ساحلوں کی آرزو لئے نکلا تھا اور بھٹکتے ہوئے امریکہ دریافت کر بیٹھا۔ ایک طرف سمندر اور دوسری طرف ناریل کے خوبصورت اونچے درختوں میں سے جھانکتی ہوٹلز کی قطار جو ایک کمانی کی صورت دور تک پھیل رہی تھی، ایک طلسماتی حسین نظارہ تھا۔

کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جن کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے ان کو بیان کرنے کے لیے لفظ بعض اوقات کم پڑ جاتے ہیں۔

اس خوبصورت شام کا ابھی اختتام نہیں ہوا تھا ، غروب آفتاب کے بعد جیسے ہی میں ہوٹل کی سمندر کی طرف والی لابی میں داخل ہوا تو کاؤنٹر پر موجود خاتون میزبان نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا اور کہا

Sir this lady wants to see you

ہلکی نیلی جینز، سفید ٹی شرٹ میں ملبوس ایک نوجوان لڑکی مجھ سے بولی کیا آپ فرقان مجید ہیں؟ میں نے کہا جی میں ہی فرقان ہوں ، فرمائیے؟ اس کے چہرے پر حیرانی عیاں تھی، گوری رنگت ہلکی سبز آنکھیں لمبے سیدھے بالوں کا بڑا سا جوڑا جس میں اس نے اپنا بال پن ”ٹک ان“ کیا ہوا تھا ، درمیانے قد کی یہ پر اعتماد ممبئی کی لڑکی ” انامکا“ پرتھوی تھیٹر کی جانب سے ہماری کوآرڈینیٹر تھی جو بنیادی طور پر شملہ سے تھی لیکن یہاں ممبئی میں ماسٹرز آف تھیٹر کر رہی تھی۔

اس کی آنکھوں میں حیرانی محسوس کرتے ہوئے میں نے کہا آپ کو مجھ سے مل کر مایوسی ہوئی؟ وہ جلدی سے بولی نہیں نہیں ”ناٹ ایٹ آل“ دراصل میں ایک انکل ٹائپ آدمی ایکسپیکٹ کر رہی تھی لیکن آپ تو بہت ینگ ہیں اور اتنا بڑا ٹور مینیج کر رہے ہیں

(میرے دل میں پھر خیال آیا اب تمہیں کیا بتاؤں راہ پیا جانے تے واہ پیا جانے )

میں نے کہا اس کا مطلب ہے آپ کو خوشی ہوئی، اس سے رہا نہ گیا بڑے اعتماد اور شرارت سے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی کہ اگر خوشی ہو تو پھر؟ میں نے فوراً کہا میں باذوق آدمی ہوں ، آپ کی خوشی میں میری خوشی، اس نے زور کا قہقہہ لگایا جس کا اختتام ہلکی سی شرماہٹ پر ہوا لیکن اس نے جلدی سے بات بدلتے ہوئے کہا آپ کی اردو بہت اچھی ہے، میں آپ کی کوآرڈینیٹر ہوں ، اس نے اپنی فائل کھولی اور بتانا شروع کیا کل آپ کتنے بجے ہال میں پہنچیں گے، اسٹیج کب ملے گا، کب ریہرسل ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ میری اس کی کسی بات پر کوئی توجہ نہیں تھی ، سوائے اس کے کہ گاڑی کتنے بجے لینے آئے گی کیونکہ وہاں پہنچ کے سمجھ آتی ہے کہ کب کیا ہو گا۔

اگلے دن ناشتے کے بعد ہم تھیٹر ہال پہنچے، سب اداکار دوپہر سے پہلے ریہرسل کے لیے پہنچ گئے، زور و شور سے ایک زبردست ریہرسل ہوئی، ہر کام بہت عمدہ طریقے سے ہوا اس میں انامیکا کا کردار بہت اہم تھا ، اس نے انتہائی پروفیشنل طریقے سے تمام انتظامات مکمل کیے ، جو کچھ بھی مجھے درکار ہوا اس نے پلک جھپکتے میں حاضر کر دیا، میں اس کی ڈیڈیکیشن سے بہت متاثر ہوا، سارا وقت وہ میرے آس پاس ہی رہی، بعض اوقات تو میرے منہ سے لفظ بعد میں نکلتے تھے اور وہ پہلے سمجھ جاتی تھی کہ اب مجھے کیا چاہیے، کل شام کی گفتگو کی وجہ سے وہ میرے ساتھ کافی ”کمفرٹیبل“ ہو چکی تھی۔

ٹی بریک میں وہ دو کافی کے کپ بنا کر لے آئی اور ایک مجھے تھما دیا، اس وقت میں کافی پسند نہیں کرتا تھا ”دودھ پتی وہ بھی کاڑھ کر پینے والا میں“ اس کا دل رکھنے کے لئے ”حقے کا پانی“ بھی پی گیا، اس دوران اس نے مجھ سے بہت سی باتیں شیئر کیں، لاہور اور اردو سے اس کو عشق تھا، لاہور کے متعلق اس نے بہت کچھ پوچھا، اس کی تمنا تھی کہ وہ کبھی لاہور دیکھ سکے، اردو میں اس کی اتنی دلچسپی دیکھ کر میں نے اسے فیض کا قطعہ سنایا

رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے

مجھے شعر یاد نہیں رہتے لیکن یہ قطعہ کسی صورت یاد رہ گیا ، وہ یہ سن کر مسحور ہو گئی اور پورے دن میں متعدد بار اس کی فرمائش کر ڈالی، میں نے اپنے تھیٹر کے لوگو والی شرٹ پہن رکھی تھی ، اس نے شرٹ کی بہت تعریف کی، میرے پاس ایک ایکسٹرا شرٹ ہوٹل میں پڑی تھی، میں نے اسے کہا میں جانے سے پہلے تمہیں یہ شرٹ گفٹ کروں گا، وہ بہت خوش ہوئی اور بولی آپ بھول تو نہیں جائیں گے؟ میں نے کہا ”ہرگز نہیں“

ریہرسل کے بعد مجھے بتایا گیا کہ سنجنا کپور اور تھیٹر و فلم ایکٹر ”مکرند دیش پانڈے“ نوجوانوں کے ساتھ اداکاری پر ایک نشست کر رہے ہیں اور مجھے وہ اٹینڈ کرنی ہے، مدیحہ آپا نے خاص تاکید کی کہ اس مختصر ورکشاپ میں تمہاری شرکت بھرپور ہونی چاہیے۔

اس ہال میں تقریباً پچاس لوگوں کے ساتھ جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل تھے ، انہوں نے اداکاری کی مہارت سے متعلق ایک زبردست سیشن کیا جس میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

اس کے بعد بتایا گیا کہ اجوکا تھیٹر کی ٹیم کا دوپہر کا کھانا ششی کپور صاحب کے گھر میں ہے، پرتھوی تھیٹر کے بالکل سامنے 6 منزلہ عمارت پرتھوی ہاؤس کہلاتی ہے، ششی کپور وہیں رہتے تھے، ہم اس عمارت میں داخل ہوئے، لفٹ کے ذریعے آخری منزل پر پہنچے، جب لفٹ کا دروازہ کھلا تو ہم ان کے ڈرائنگ روم میں تھے، اس بلڈنگ کی آخری منزل ششی کپور کی رہائش گاہ تھی، انہوں نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا اور بولے

young man you are late

(کیوں کہ ہماری بقیہ ٹیم پہلے سے وہاں موجود تھی اور میں ریہرسل کے بعد مکرند دیش پانڈے کا سیشن اٹینڈ کر رہا تھا) انہوں نے خود پلیٹ مجھے تھمائی اور کھانوں کے متعلق بتانا شروع کیا۔

کھانا کھانے کے بعد میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور ان سے جی بھر کے باتیں کیں پرانی اور نئی فلموں کے بارے میں، ان کی ڈائریکشن کے حوالے سے، فلموں کے بجٹ کے حوالے سے، نہ جانے میں نے کیا کچھ پوچھ ڈالا لیکن انہوں نے بڑے تحمل کے ساتھ میرے سوالوں کے نہ صرف جواب دیے بلکہ بلکہ میرے تجسس کو بہت سراہا۔

میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ڈائریکشن میں طبع آزمائی کیوں نہ کی، وہ بولے میں نے ایک فلم کی ڈائریکشن دی تھی ، اس کا نام ”عجوبہ“ تھا جس کے ہیرو امیتابھ بچن تھے ، وہ اس بری طرح فلاپ ہوئی کہ میں نے مڑ کر ڈائریکشن کی طرف کبھی نہیں دیکھا۔

ان کے گھر کے چاروں طرف دیواریں شیشے کی تھی جہاں سے ہر طرف دور تک ممبئی شہر نظر آتا تھا، انہوں نے مجھے شہر دکھانا شروع کیا کہ اس طرف یہ علاقہ ہے وغیرہ، بہت سے فلمی اداکاروں کے گھر بھی دکھائے، ان کا گھر سادہ لیکن انتہائی باذوق طریقے سے سجایا گیا تھا، میں نے ان سے باتھ روم کا پوچھا تو انہوں نے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا جب میں دروازے میں داخل ہوا تو یہ ان کا بیڈروم تھا، ہر طرف ان کی مرحوم یورپین بیوی اور بچوں کی تصویریں سجی تھیی، میں نے کمرے سے ملحقہ باتھ روم استعمال کیا اور جیسے ہی باہر نکلا تو ششی کپور اپنے بیڈ پر ایک بڑے فوٹو البم کے ساتھ بیٹھے تھے وہ بولے

young man come here i will show you my life

اس فوٹو البم میں ان کی بچپن سے لے کر آج تک کی تصویریں تھیں پہلی فلم کب کی، بیوی سے پہلی ملاقات، شادی، پہلا بچہ وغیرہ سب اس میں موجود تھا۔

اس شخص کو ملنے کے بعد مجھے ریئل جینٹلمین کے معنی سمجھ آئے، کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ جینٹلمین کیا ہوتا ہے تو میں ایک نام لوں گا ”ششی کپور“

اس رات ہم نے ایک کامیاب شو کیا، جسے دیکھنے فلم انڈسٹری کی بہت سی شخصیات آئیں، ساری کپور فیملی بھی وہاں موجود تھی، شو کے بعد ایک پر تکلف عشائیہ تھا، رشی کپور سے ملاقات ہوئی جنہوں نے اپنی فیملی نیتو سنگھ اور رنبیر کپور سے بھی ملوایا، رنبیر کپور اس وقت ابھی فلموں میں نہیں آیا تھا اور پڑھ رہا تھا میں نے تھوڑی دیر اس سے گپ شپ کی۔

وہاں مجھے بہت سے عظیم لوگ نظر آ رہے تھے جن سے میں ملنا چاہتا تھا ڈیوڈ دھون، اے کے ہینگل، ایلا آرون، رندھیر کپور، ایکتا کپور وغیرہ اس دوران کچھ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے مجھے گھیر لیا اور مجھ سے میرے ممبئی ایکسپیریئنس کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا، میں ان سے باتوں میں مصروف تھا کہ ان کے پیچھے ایک انتہائی باوقار خاتون نظر آئیں، انہوں نے مجھ سے مخاطب ہو کے کہا

you did really well in the show

میں نے شکریہ ادا کیا اور انتہائی ایکسائٹمنٹ میں ان کا ہاتھ تھام لیا اور اپنے فوٹو گرافر کو ڈھونڈنا شروع کر دیا (شاید زندگی میں پہلی مرتبہ میں چاہتا تھا کہ کسی کے ساتھ میری تصویر کھنچ جائے ) وہ میری آل ٹائم فیورٹ ایکٹریس ”تبو“ تھیں انہوں نے ہنس کے مجھے دوسرے ہاتھ سے تھپکی دی۔ وہ اپنی والدہ کے ساتھ آئی تھیں، انہوں نے بھی پاکستان اور لاہور کی باتیں شروع کر دیں، ان سب کے خیال میں لاہور کوئی ایسی جگہ تھی جہاں سے ادب کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

یہ یادگار اور خوبصورت شام گزارنے کے بعد جب ہم ہوٹل کے لیے نکلے تو مجھے اچانک ”انامیکا“ کا خیال آیا ایک تو میں اس سے مل نہیں سکا تھا ، دوسرا میں نے اس سے تھیٹر کے لوگو والی شرٹ دینے کا وعدہ بھی کیا تھا، اگلے دن ہمیں ممبئی کے کسی اور علاقے میں جانا تھا اور پرتھوی تھیٹر واپس آنے کا کوئی پلان نہیں تھا، مجھے اندر ہی اندر بہت گلٹ ہوا، میں جلدی سے تھیٹر ہال میں گیا لیکن وہ بالکل خالی تھا چند ایک لوگ تھے جن کا انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا

میں نے سوچا صبح جب گاڑی لینے آئے گی تو میں ڈرائیور سے کہوں گا کہ پرتھوی تھیٹر سے ہوتا ہوا جائے تاکہ میں اسے مل لوں اور شکریہ کے ساتھ شرٹ بھی دوں۔

ہم ہوٹل پہنچے میں نے شرٹ نکال کر بیگ کے اوپر رکھ دی تاکہ بھول نہ جاؤں، صبح ناشتے کے بعد جب گاڑی لینے آئی تو میں نے ڈرائیور سے کہا کہ ہم نے تھیٹر سے ہوتے ہوئے جانا ہے ، اس نے بتایا کہ اس طرف بہت ٹریفک ہے۔ تقریباً ایک گھنٹہ ایکسٹرا لگ جائے گا۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو ادھر سے چلے جائیں گے، میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ مدیحہ آپا کا فون آیا کہ ہم پہنچ چکے ہیں۔ آپ لوگ کہاں رہ گئے؟ میں نے بھاری دل کے ساتھ شرٹ واپس بیگ میں رکھی اور ڈرائیور کو دوسرے ہوٹل کی طرف چلنے کو کہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *