ضیا شاہد صحافت کی ضیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج دوسرا اتوار ہے اور خبریں کا سنڈے میگزین میرے سامنے کھلا پڑا ہے۔ میں ضیا شاہد صاحب کا کالم ڈھونڈ رہی ہوں۔ مگر آج بھی میگزین پر ان کے کالم والا صفحہ سونا پڑا تھا۔ میں سنڈے میگزین میں صرف ان کا کالم بہت رغبت سے پڑھا کرتی تھی۔ باقی بس سرسری نگاہ ڈال کر گزر جاتی۔ میں ہمیشہ ضیا شاہد صاحب سے کہا کرتی تھی ”آپ اتنا کام کیسے کر لیتے ہیں۔“ جواب میں وہ بھینچے ہوئے منہ کے ساتھ دھیمے سے مسکرا دیا کرتے۔ ضیا شاہد صاحب کا نام بھلا کس نے نہیں سنا ہو گا۔

ظاہر ہے وہ ایک منجھے ہوئے صحافی تھے۔ میں نے بھی پہلے ان کے اخبار اور ٹی وی چینل کے بارے میں بہت سن رکھا تھا۔ مگر کبھی ذاتی ملاقات نہ ہوئی تھی۔ آج سے لگ بھگ ساڑھے تین برس پہلے میں نے مشرق اور جسارت میں کالم لکھنا شروع کیا تو ایک روز مجھے ایک انجانے نمبر سے کال آئی۔ آپ مریم ارشد بات کر رہی ہیں۔ جی میں بات کر رہی ہوں۔ ہولڈ رکھیے! ضیا شاہد صاحب آپ سے بات کریں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد آواز آئی۔ جی! میں ضیا شاہد بول رہا ہوں۔

ضیا شاہد صاحب کیسے ہیں آپ۔ میں نے پوچھا۔ جی خیریت سے ہوں مریم صاحبہ! آپ بہت اچھا لکھتی ہیں ، میں چاہتا ہوں آپ صرف ہمارے اخبار کے لیے لکھیں۔ اب ہمیں تو لگ رہا تھا جیسے کوئی خزانہ ہاتھ آ گیا ہے۔ اور کیوں نہ ہوتا جب کوئی کسی مشہور اخبار میں لکھنا چاہتا ہو اور خود اس اخبار کا مالک آپ سے لکھنے کو کہے تو اس لمحے کا احساس دیدنی ہوتا ہے۔ خیر ہم نے جھٹ پٹ مان لیا۔ اس وقت ایڈیٹوریل پیج پر لیاقت رازش پوری ہوا کرتے تھے۔

انہوں نے مجھے ای میل ایڈریس بھجوا دیا اور ہم نے انہیں کمپوزڈ کالم بھیجنا شروع کر دیا۔ اس طرح خبریں میں لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب بھی خواتین کا کوئی دن یا ایشو ہوتا ضیا شاہد صاحب مجھے فون کر کے کہا کرتے آپ فلاں موضوع پہ لکھیں۔ ایک روز فون کر کے کہنے لگے ہمارے چینل فائیو پر ایک پروگرام ہوتا ہے کالم نگار کے نام سے ، میں چاہتا ہوں آپ اس میں شرکت کریں۔ لیکن ہم نے کہا کہ نہیں! ضیا شاہد صاحب ہم سے یہ نہیں ہو گا۔ کچھ دن بعد پھر فون آیا کہ میں چاہتا ہوں آپ ضرور آئیں کالم نگار میں۔

مگر ہم نے پھر انکار کر دیا کیونکہ ہمیں میڈیا پر جانے کا کچھ خاص شوق نہیں تھا۔ کچھ دنوں بعد پھر فون آیا اور ڈانٹ کر بولے آپ کیوں نہیں آ رہیں۔ ہم حیران بھی ہوئے اور اس مرتبہ ہمیں تجسس ہوا کہ جا کر دیکھنا چاہیے کہ بھلا یہ پروگرام ہوتے کس طرح ہیں۔ فوراً ہامی بھری اور چل پڑے۔ پہلے ہی پروگرام کو خاصا انجوائے کیا ، ماسوائے شرکاء کے انتظار میں بوریت ہوتی تھی۔ خواتین ہمیشہ وقت کی پابندی اور تمام نظم و نسق کا خوب خیال رکھتی ہیں۔

میں ہمیشہ وقت پر پہنچا کرتی تھی لیکن چار شرکاء میں سے لازماً ایک یا دو دیر سے آیا کرتے۔ خیر پھر ہوا یوں کہ میں تقریباً پورے دو سال ہفتے میں دو مرتبہ کالم نگار پروگرام میں شرکت کی۔ 2018 کی انتخابی مہم میں کئی روز لگا تار لائیو ٹرانسیشن میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ ضیا شاہد صاحب کو ان تھک کام کرتے ہوئے دیکھ کر میں حیرتوں میں گم ہو جاتی۔ ان کے پورے دفتر میں سب ان کو چیف صاب کے نام سے پکارا کرتے۔ میں نے ان کو عجیب عزم سے کام کرتے دیکھا۔

دن بھر کام کرتے اور شام آٹھ بجے اپنا پروگرام کرتے۔ اکثر فون کر کے مجھے سیمینارز وغیرہ میں بلایا کرتے اور افطاری پر بھی جہاں صحافت اور ادب کے جھلملاتے ستارے شریک محفل ہوا کرتے۔ جب مجھے پتہ چلا کے وہ عمر کے اس حصے میں بھی کالم نگار کے کالم خود پڑھا کرتے تو میں حیران ہی رہ گئی۔ ایک مرتبہ میں ان کے دفتر میں گئی تو دیکھا کہ میز پر ایک جہازی سائز کا کمپیوٹر دھرا ہوا تھا۔ میں استفسار بھری نظروں سے دیکھ ہی رہی تھی کہ بول پڑے۔

دیکھیں یہ میرا کمپیوٹر ہے ، ساتھ ہی ہاتھ میں ایک عدسہ پکڑ کر بتانے لگے کہ میں اس سے کالم پڑھتا ہوں ، پھر چھپنے کے لیے بھیجتا ہوں۔ ہم نے تو یہ سن کر اپنی انگلیاں دانتوں میں داب لیں۔ کیا جذبہ ہے اپنے اخبار کے معیار کو قائم رکھنے کا۔ قائداعظم محمد علی جناح پہ مرتب کی گئی کتاب ’سچا کھرا لیڈر‘ کی تقریب رونمائی میں ہمیں مع اپنے دستخط کے کتاب تحفتاً دی۔ میرے لیے یقیناً یہ اعزاز کی بات ہے۔ وہ آرٹ پیپر پر چھپی ہوئی بہترین تزئین و آرائش سے سجی قائد کے شایان شان کتاب ہے۔

ضیا شاہد صاحب نہ صرف جدید صحافت کے بانی تھے بلکہ ہم جیسے نوآموز لوگوں کے لیے ایک رول ماڈل بھی تھے۔ طویل عرصے سے کمر کی شدید تکلیف میں مبتلا تھے۔ واکر سے چلتے تھے۔ کام، کام اور کام کی زندہ مثال تھے۔ خدا جانے ٹائم مینجمنٹ انہوں نے کس طرح سیکھا۔ انہوں نے اپنے تاب دار کیریئر میں بے شمار کتابیں لکھیں۔ چند کتابیں قلم فاؤنڈیشن کے توسط سے مجھے بھیجیں وہ بہت معلوماتی اور چشم کشا ہیں۔ خبریں اخبار سب سے پہلے بریکنگ نیوز دیتا جو دیکھتے ہی دیکھتے چند دنوں میں سچ ثابت ہو جاتی۔

اکثر اپنے بیٹے عدنان شاہد کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں ڈبڈبا جاتیں اور آواز رندھ جاتی۔ ان کے کالمز کا ایک سلسلہ چلا تھا ”میرا دوست نواز شریف“ جو پڑھنے والوں کے لیے یقیناً بہت سے شواہد لیے ہوئے ہے۔ ضیا شاہد صاحب نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں صحافت کے میدان میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے۔ ضیا شاہد ایک عجیب و غریب انسان تھے۔ کام جیسے ان کی گھٹی میں پڑا تھا۔ آرام کا لفظ تو شاید ان کی ڈکشنری میں تھا ہی نہیں۔

وہ جہد مسلسل کی منہ بولتی تصویر تھے۔ میں نے تو انہیں بہت دیر سے دیکھا ، البتہ صحافت کے میدان میں ان کے نام کا ڈنکا بجا کرتا تھا، سنا ضرور تھا۔ وہ پس ماندہ لوگوں کے حق میں اور انسانی حقوق کا استحصال کرنے والوں کو للکارتے تھے۔ ان کی ان تھک محنت اور لگن نے خبریں اخبار اور میڈیا سیل کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں کوئی اور مظلوموں کی آواز تک نہیں پہنچتا تھا ، ضیا شاہد کا اخبار اور چینل وہاں بھی جاتا۔

ایک مرتبہ جب میرے استاد محترم معروف پینٹر کوکوز ڈین والوں پہ ان کے اپنوں نے ظلم ڈھائے تو میرے کہنے پر فوری طور پر ان کے کرائم رپورٹر پہنچے اور اخبار اور چینل فائیو پر بریکنگ نیوز دی۔ میں ان کی ممنون رہوں گی۔ ضیا کا مطلب روشنی ہے۔ ضیا شاہد نے یقیناً تاریکیوں میں درماندہ لوگوں کے حقوق کے لیے صحافتی شمعیں جلائیں۔ ”جہاں ظلم وہاں خبریں“ کے نام سے باقاعدہ کیمپین چلائی۔ پاکستان میں پانی کی کمی کے بڑھتے ہوئے مسائل پر نہ صرف سب سے زیادہ لکھا بلکہ اسے ایک تحریک کی ترغیب دی۔

ضیا شاہد حقوق کے لیے بکھرے شکستے لوگوں کی آواز تھے۔ فکر و آگہی سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ اپنے سفر میں انہوں نے دنیا والوں کی تنقید اور ستم بھی سہے ہوں گے۔ کیا خبر زندگی کی ڈھلتی شام انہوں نے ہسپتال میں کیسے کاٹی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *