شادی سے چند روز قبل نوجوان کی ہلاکت: لواحقین کے معاف کرنے کے باوجود ملزمان کو سزا کیسے ہوئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کوسٹ گارڈ

BBC

’اس کی منگنی ہو چکی تھی اور ایک ہفتے بعد اس کی شادی ہونا تھی۔ میرا چھوٹا بھائی نہ صرف ہمارے گھر کا سہارا تھا بلکہ پورے گوادر شہر کی رونق تھا۔ ہم تو اس کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے لیکن وہ ہمیں چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔‘

یہ الفاظ ہیں دل مراد کے بڑے بھائی سعید احمد کے۔

دل مراد کو گذشتہ برس جون میں بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں تین کوسٹ گارڈز نے منشیات فروش قرار دے کر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ گوادر میں دل مراد کے ساتھ کوسٹ گارڈز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دوسرے شخص در محمد بھی تھے جو 10 بچوں کے باپ تھے۔ کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ دونوں فرار ہونے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

گوادر میں دہرے قتل کا یہ مقدمہ اپنی نوعیت کا ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین کی جانب سے نہ صرف مقدمے کی پیروی نہیں کی گئی بلکہ انھوں نے ملزمان کو معاف بھی کر دیا تھا۔ اس کے باوجود گوادر کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے چشم دید گواہوں کے بیانات کی روشنی میں کوسٹ گارڈ کے تینوں اہلکاروں کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14، 14 سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

گوادر کی ترقی: ’یہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا کے لیے ہو گی، ہمارے لیے کچھ نہیں‘

گوادر: وہ باڑ جو شہر کو شہریوں سے جدا کر دے گی

تاہم تینوں اہلکاروں کی جانب سے سزا کے فیصلے کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہائی کورٹ میں ملزمان کی جانب سے اپیل عطااللہ لانگو ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے۔

عطااللہ لانگو ایڈووکیٹ کے مطابق تینوں اہلکاروں کے خلاف فیصلے میں بہت سارے قانونی سقم ہونے کی بنیاد پر سزا کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے۔

گوادر

BBC

یہ واقعہ کب پیش آیا تھا؟

اس واقعے کے حوالے سے لواحقین کے مدعیت میں درج کروائی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق چھ جون 2020 کی شب تین کوسٹ گارڈز نے گوادر کے گول چوک کے قریب محنت مزدوری کرنے والے دو افراد کو منشیات فروش قرار دے کر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

گوادر پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق کوسٹ گارڈز کی جانب سے ان افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں ان پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم ان کے رشتہ داروں نے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا۔

در محمد کے بھائی محمد عمر کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق فائرنگ سے در محمد شدید زخمی ہوئے تھے جبکہ دل مراد نامی نوجوان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

در محمد کو گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں بعد ازاں وہ بھی زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے تھے۔

اس کیس میں ملزمان کا سراغ کیسے ملا؟

گوادر پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ یہ کیس ابتدائی طور پر نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا لیکن اس کیس کا نہ صرف ایک چشم دید گواہ تھا بلکہ موت سے قبل درمحمد نے بھی بیان دیا تھا۔

پولیس اہلکار کے مطابق اس واقعے کے چشم دید گواہ گول چوک کے قریب ایک نرسری کے چوکیدار تھے جنھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ دونوں افراد کو کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ہلاکت سے قبل درمحمد نے جو بیان دیا تھا اس میں بھی انھوں نے کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کا الزام عائد کیا تھا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان شواہد کی بنیاد پر کوسٹ گارڈز کے حکام کو لیٹر جاری کرتے ہوئے واقعے کے ذمہ دار اہلکاروں کو پولیس کے حوالے کرنے کے لیے کہا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اہلکاروں کو پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا لیکن کوسٹ گارڈز کی جانب سے ایک ایف آئی آر درج کرائی گئی جس میں مارے جانے والے دونوں افراد کو بھی نامزد کیا گیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق کوسٹ گارڈز کی جانب سے ایف آئی آر میں یہ کہا گیا تھا کہ دونوں افراد منشیات فروش تھے اور ایک کارروائی کے دوران فرار ہونے کی کوشش میں ان پر فائرنگ کی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق کوسٹ گارڈز کی ایف آئی آر میں کارروائی میں شامل جن اہلکاروں کا ذکر کیا گیا تھا ان کے خلاف سیشن کورٹ گوادر میں مقدمے کا چالان دائر کیا گیا۔ ان اہلکاروں میں صوبیدار رمضان، نائیک شاہد اور نائیک نثار شامل تھے۔ پولیس کے مطابق ان اہلکاروں نے گرفتاری دینے کی بجائے ضمانت حاصل کی اور مقدمے کے فیصلے تک ضمانت پر رہے۔

گوادر

BBC

مقدمہ درج کروانے کے بعد بہت سی پیشکشیں کی گئیں

سعید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بھائی کے قتل کیے جانے کے چند دن بعد حکومتی اہلکاروں سمیت علاقے کے عمائدین بھی ان کے گھر آئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں سے غلطی ہوئی ہے اس لیے ان کو معاف کیا جائے۔ ہمیں بہت ساری پیشکشیں کی گئیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ آپ لوگوں کو امداد کے طور پر نوکریاں دی جائیں گی لیکن ہم نے کہا کہ ہم معاف کریں گے لیکن اپنے بھائی کے خون کا سودا نہیں کریں گے۔ ہم نے ان کو معاف کر دیا تھا۔‘

سعید احمد کے بقول ’علاقے کے بعض عمائدین نے ہمیں کہا کہ حکومت کے ساتھ کون لڑ سکتا ہے اور پھر آپ لوگ غریب ہیں۔ آپ لوگ کہاں عدالتوں میں طویل عرصے تک کیس لڑ سکتے ہو۔‘

اس واقعے میں ہلاک ہونے والے دوسرے شخص در محمد کے بھائی محمد عمر نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ ان کی بھائی کی ہلاکت کے بعد حکومتی اہلکار ان کے گھر آئے تھے جس پر انھوں نے ملزمان کو معاف کیا تھا۔

’ہمیں بتایا گیا کہ آپ کو یہ دیں گے وہ دیں گے لیکن ہم نے انھیں ویسے ہی معاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بھائی اللہ کا مال تھا جو ان سے چلا گیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم غریب لوگ ہیں۔ کئی کئی روز تک سمندر کے اندر رہ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ہمارے پاس عدالتوں کا چکر لگانے کے لیے وقت تھا نہ وسائل اس لیے ہم نے اللہ کی خاطر خون معاف کیا۔‘

لواحقین کے معاف کرنے کے باوجود ملزمان کو سزا کیسے ہوئی؟

ملزمان کو معاف کرنے اور لواحقین کی جانب سے مقدمے کی پیروی نہ کرنے کے باوجود ملزمان کے خلاف سرکار کی جانب سے مقدمے کو چلانے کی وجوہات جاننے کے لیے سرکاری وکیل الفت حسین ایڈووکیٹ سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

تاہم سینیئر قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضٰی ایڈووکیٹ سے لواحقین کی جانب سے معاف کرنے کے باوجود ملزمان کو سزا ملنے کے قانونی پہلوﺅں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تعزایرات پاکستان کی دفعہ 302 کمپاﺅنڈایبل یعنی قابل راضی نامہ ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر قتل کو ایسے طریقے سے کیا جائے جس سے فساد فی الارض کا پہلو نکلے تو عدالت راضی نامے کے باوجود اس کیس کو چلا سکتی ہے۔

ان کی رائے کے مطابق عدالت نے فساد فی الارض کے پہلو کو مد نظر رکھ کر ان کو سزا دی ہے جس کی سزا 14 سال عمر قید بنتی ہے۔

گوادر

BBC

’دل مراد کی ایک ہفتے بعد شادی ہونی تھی‘

دل مراد کے بڑے بھائی سعید احمد کا کہنا ہے کہ دل مراد کی شادی کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی۔

’جس گھر میں شادی کی تیاری جاری ہو اور وہاں موت ہو جائے تو کہرام ہی برپا ہوتا ہے اور یہی ہمارے گھر ہوا تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ‘بھائی کی موت سے دو تین روز پہلے ہم نے گھر میں بریانی بنائی تھی۔ اس کو بریانی کھانے کا بہت شوق تھا۔ دل مراد نے مجھ سے کہا تھا کہ بہنیں بلاجواز میری شادی میں تاخیر کر رہی ہیں۔ کہتی ہیں یہ جوڑا نہیں بنا اور وہ جوڑا نہیں بنا۔ اس نے مجھے کہا تھا کہ اگر اس کی فوراً شادی نہیں کرائی گئی تو وہ کراچی جائے گا اور شادی کے لیے جمع کیے گئے سارے پیسے وہاں خرچ کرے گا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم غریب لوگ ہیں، وہ نہ صرف ہمارے خاندان کے بچوں کو خرچہ دیتا تھا بلکہ ان کے لیے عید وغیرہ کے کپڑے اور جوتے بھی خریدتا تھا۔ اس کی موت کے بعد تو خود میرے بچوں نے کہا کہ ہم یتیم ہو گئے۔’

سعید احمد کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کی موت کا دکھ اتنا زیادہ تھا کہ ان کے خاندان نے گذشتہ سال عید الفطر اور عیدالاضحیٰ تک نہیں منائی تھی۔

‘میرا بھائی بے گناہ تھا اور جب اس کو مارا گیا تو میں نے بھی مقدمہ درج کروایا تھا۔’

’دلمراد اپنے حس مزاح کے باعث ہر محفل کی جان تھا‘

دل مراد کے بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف ہر فن مولا تھے بلکہ اپنے حس مزاح کی وجہ سے وہ علاقے کے ایک مقبول اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ فٹ بال کے کھلاڑی بھی تھے۔

دل مراد کے بچپن کے دوست، ڈھوریہ آرٹس اکیڈمی گوادر کے سربراہ اور فلم ساز فیصل مراد نے بتایا کہ دل مراد اپنے حس مزاح کی وجہ سے ہر محفل کی جان تھے۔

فیصل مراد نے کا کہنا ہے کہ دل مراد قرآن مجید پڑھ سکتا تھا لیکن سکول میں نہیں پڑھا تھا مگر اس میں بہت صلاحیتیں تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ دل مراد کی حس مزاح بہت اچھی تھی۔ ’اس کی ان صلاحیتوں کو دیکھ کر میں نے اسے دو فلموں میں کاسٹ کیا اور وہ سٹیج پر بھی مزاحیہ اداکاری کر کے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتا تھا۔‘

گوادر

BBC

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ قرآن مجید پڑھ سکتا تھا اس لیے میں نے ان کو بلوچی پڑھنا سکھایا تاکہ ان کو فلموں میں جو کچھ بولنا ہے وہ اس کو یاد کرکے صحیح معنوں میں بول سکے۔

فیصل مراد کا کہنا ہے کہ ’واٹ ون‘ کے نام سے مختصر دورانیے کی ان کی ایک فلم مکمل ہوئی تھی جبکہ سوشل میڈیا کے نام سے فیچر فلم ان کی ناگہانی موت کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکی۔ دونوں فلموں میں مرکزی کردار دل مراد ہی کا تھا۔’

انھوں نے بتایا کہ وہ فٹ بال کے ایک بہترین کھلاڑی اور گوادر کی ایک مقامی ینگ مجاہد فٹ بال ٹیم کے گول کیپر بھی تھے۔

فیصل مراد کہتے ہیں کہ ’دل مراد پہلے ماہی گیر تھے لیکن بعد میں انھوں نے فلموں اور سٹیج ڈراموں میں کام کرنا شروع کیا، پھر انھوں نے کسی کا رکشہ چلانا شروع کیا تا کہ فلموں میں کام کے لیے شہر میں رہے کیونکہ ماہی گیری کی وجہ سے بعض اوقات کئی روز تک سمندر میں رکنا پڑتا تھا۔‘

آرٹس اکیڈمی کے بانی اور کاسٹنگ ڈائریکٹر اللہ بخش نے بتایا کہ دل مراد نے واٹ ون میں ایک استاد کا کردار ادا کیا تھا۔

’چونکہ گوادر میں نوجوان شراب اور دیگر نشوں کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں اس لیے اس فلم کا مقصد نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرنا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کی صلاحیتوں کی وجہ سے میں نے بھی یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان سے کام لوں جس کے لیے انھوں نے رضامندی بھی ظاہر کی تھی لیکن زندگی نے اس کے لیے ان کو مہلت نہیں دی۔

ہلاک ہونے والے دوسرے شخص درمحمد کون تھے؟

در محمد کے چھوٹے بھائی محمد عمر نے بتایا کہ ان کا بڑا بھائی ان کے گھر کا سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کے لیے والد کی جگہ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھائی کی ناگہانی موت سے نہ صرف ان کے بچے مشکلات سے دوچار ہو گئے بلکہ ان کا خاندان سرپرست سے محروم ہو گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp