اینگلو انڈین: ’روشن خیال‘ اور ’فرض شناس‘ برادری جس نے بہتر اور محفوظ مستقبل کے لیے پاکستان چھوڑ دیا

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’میرے والد ہیا سینتھ پال اینگلو انڈین تھے۔ وہ مرتے دم تک کراچی میں صدر کے علاقے میں گزارے گئے اپنے بچپن اور جوانی کے ایام یاد کرتے رہے۔ گھر میں آج بھی والدہ پاکستانی کھانے پکاتی ہیں جو ہم سب شوق سے کھاتے ہیں۔‘

ان خیالات کا اظہار حال ہی میں نیدر لینڈز کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والی ممبر پارلیمان ماریئیل پال نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پاکستان میرے لیے دوسرا گھر ہے، رشتہ داروں کے ساتھ رابطے موجود ہیں۔ پاکستان کے لیے کچھ کر سکی تو ضرور کروں گی۔‘

ماریئیل پال ساٹھ کی دہائی میں نیدر لینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے انٹرنیشنل لا میں اعلیٰ تعلیم کے بعد قانون اور اکنامی کے شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ وہ بین الاقوامی تجارت، یورپی اقتصادی پالیسی اور مائیکرو اکنامکس پر بھی کام کر چکی ہیں۔

پاکستان کے اینگلو انڈینز جنھیں بھلا دیا گیا

برصغیر میں برطانوی راج کے دوران کئی برطانوی شہری ملازمت یا کاروبار کے سلسلے میں یہاں آ کر بس گئے تھے اور یہاں انھوں نے شادیاں بھی کی تھیں۔ ان کی نسلیں اینگلو انڈینز قرار پائیں۔

اینگلو انڈین مغربی اور ہندوستانی ناموں کا امتزاج ہیں، اور ان کی مخصوص روایات اور مختلف رنگ و روپ ہیں۔ اینگلو انڈین برطانوی دورِ حکومت کی علامت تصور کیے جاتے ہیں۔

ماریئیل پال کے والد ہیا سینتھ پال بھی ایک اینگلو انڈین تھے جو ان کی والدہ کینڈیڈا پال کی طرح پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔

اس جوڑے نے ساٹھ کی دہائی میں اچھے مستقبل کی خاطر پاکستان کو چھوڑ کر نیدر لینڈز میں سکونت اختیار کرلی تھی۔

انڈیا کے شہر کولکتہ میں ہزاروں کی تعداد میں اینگلو انڈین رہائش پذیر ہیں مگر پاکستان میں موجودہ دور میں اینگلو انڈینز کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، مگر ساٹھ کی دہائی وہ وقت تھا جب پاکستان کے کئی شعبوں میں اینگلو انڈین بہت ہی اہم خدمات انجام دے رہے تھے۔

ان میں کچھ نمایاں ناموں میں پاکستان ایئر فورس کی بنیاد رکھنے والے پیٹرک ڈیسمنڈ کیلیگن اور میرون مڈل کوٹ، اداکارہ پیشنس کوپر، پاکستان کے پہلے چیف جسٹس سر عبدالرشید اور چوتھے چیف جسٹس اے آر کارنیلیئس، کرکٹر ڈنکن شارپ اور سابق گورنر پنجاب سلیمان تاثیر شامل ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت اگر ملک میں تربیت یافتہ اینگلو انڈین اہلکار نہ ہوتے تو شاید ایئر فورس، ڈاکخانہ، ریلوے اور دیگر محمکوں کی بنیاد رکھنے میں مزید وقت لگ سکتا تھا۔

مگر اسی اور نوے کی دہائیوں میں اینگلو انڈینز نے بڑی تیزی سے پاکستان کو چھوڑنا شروع کر دیا تھا۔

anglo-indian couple

اس سلسلے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار تو دستیاب نہیں تاہم 2007 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد 1500، انڈیا میں دس لاکھ اور بنگلہ دیش میں دو لاکھ تھی۔ مگر اب خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں یہ تعداد اس سے بھی کم ہو چکی ہے۔

ماریئیل پال کا کہنا تھا کہ ’تقسیم برصغیر کے وقت میرے دادا اور دادی انڈیا میں تھے۔ تقسیم کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئے جبکہ ہمارے دادا دادی کے کچھ رشتہ داروں نے کینیڈا اور آسڑیلیا کر رُخ کر لیا۔ میرے والدین کراچی صدر کے علاقے میں پیدا ہوئے تھے۔‘

اسی طرح کئی ایسے اینگلو انڈینز بھی ہیں جو پاکستان سے انڈیا منتقل ہوئے تھے۔

لاہور میں موجود سماجی و کاروباری شخصیت ہارون راشد کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں اینگلو انڈین کمیونٹی کے ساتھ وقت گزارا ہے۔

اپنی یادوں کے حوالے سے انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں اس زمانے کی ایک تصویر بھی شیئر کی ہے۔

https://twitter.com/harounrashid2/status/1306595127314362380

ہارون کا کہنا تھا کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی کے دوران پاکستان کے تمام بڑے شہروں کراچی، لاہور، راولپنڈی وغیرہ میں اینگلو انڈین عام تھے۔ لاہور کے گڑھی شاہو اور کراچی کے صدر کے علاقوں میں ان کی اکثریت ہوتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اینگلو انڈین خواتین کی شناخت ان کے لباس سے ہوتی تھی اور انھیں صبح، دوپہر، شام تعلیمی ادارے یا کام کے لیے آتے جاتے دیکھا جا سکتا تھا۔

’یہ لوگ عموماً پاکستان ریلوے، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں کے علاوہ مختلف محکموں میں انتہائی فرض شناسی سے خدمات انجام دیتے تھے۔ میری نسل کے لوگوں کو یاد ہو گا کہ جب تک یہ لوگ پاکستان ریلوے جیسے محکموں میں خدمات انجام دیا کرتے تھے اس وقت تک پاکستان ریلوے جدید ترین سروس فراہم کرتی تھی۔‘

ہارون کا کہنا تھا کہ ’میں نے خود اپنی ابتدائی تعلیم اینگلو انڈین خواتین اساتذہ سے حاصل کی تھی۔۔۔ اب بھی ان سے دوستی کی یادیں موجود ہیں۔‘

اینگو انڈینز پاکستان سے کیوں چلے گئے؟

شازلی ڈیوڈ برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں رہائش رکھتے ہیں۔ ان کے والد ڈیوڈ ویلسین پنجاب کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور بطور ڈاکٹر خدمات سرانجام دیتے تھے۔

شازلی کی والدہ کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تھا۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی یا ان کے والدین کی تصاویر اس تحریر میں شائع ہوں کیونکہ ان کے کچھ رشتہ دار اب بھی راولپنڈی اور ایبٹ آباد میں رہائش پزیر ہیں۔

شازلی نے ہمیں بتایا کہ ان کے والدین نے پاکستان کیوں چھوڑا۔ ’میں دو یا تین سال کا تھا جب میرے والدین نے نوے کی دہائی میں پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔‘

اس وقت ان کے والد کے زیر انتظام ایک چرچ پر حملہ ہوا تھا۔

’اس واقعے کے بعد ہمارے والدین نے فیصلہ کیا کہ اب پاکستان میں رہنا مشکل ہو چکا ہے۔ پہلے میرے والد برطانیہ آئے اور پھر انھوں نے ہماری والدہ اور ہم تین بہن بھائیوں کو بھی برطانیہ بلا لیا۔‘

دوسری طرف ماریئیل پال کا کہنا ہے کہ ’میرے والد انجینیئر تھے۔ انھوں نے اچھی ملازمت اور مستقبل کی خاطر پاکستان چھوڑا۔ مگر پاکستان کے ساتھ رابطہ رکھا اور شادی بھی پاکستان ہی میں کی۔ اس زمانے کا پاکستان ایک جدید اور روشن خیال پاکستان تھا۔ یہاں کسی کو کسی قسم کے مسائل کا سامنا نہیں تھا۔‘

ماریئیل کے والد انھیں بتایا کرتے تھے کہ کراچی میں وہ چرچ کے لیے خدمات انجام دیتے تھے۔ وہاں پر مسجد کے لیے بھی کام کرتے تھے۔ ان کی دوستی مسیحی برادری سے زیادہ مسلمانوں سے تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اسی اور نوے کی دہائی کے اندر شاید بین الاقوامی صورتحال، افغٖانستان اور سابق سوویت یونین کی جنگ کے پاکستان کے معاشرے پر اثرات مرتب ہوئے۔

’میرے کئی رشتہ داروں نے بتایا کہ مذہبی رواداری، ملازمتوں اور ترقی کے مواقع کم ہونے کی بنا پر وہ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔‘

ماریئیل پال کا کہنا تھا کہ ’میری اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے علاوہ اس وقت اینگلو انڈینز کی ایک بڑی تعداد کینیڈا اور آسڑیلیا میں مقیم ہے۔‘

ہارون کا کہنا تھا کہ اسی اور نوے کی دہائی کے اندر کینیڈا، آسڑیلیا اور جرمنی کے علاوہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی پڑھے لکھے اور ہنر مند تارکین وطن کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں اینگلو انڈینز کے لیے مواقع کم سے کم ہونے کے علاوہ ان کے لیے مختلف معاشرتی مسائل بھی جنم لے رہے تھے۔

’ان لوگوں نے یورپ اور امریکہ کو اپنی نئی منزل بنا لیا جہاں پر اب وہ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان کے لیے خدمات انجام دینے والی اینگلو انڈینز کی اولادیں اب پاکستان میں موجود ہوں گی۔‘

ماریئیل پال کا کہنا تھا کہ ’کراچی میں اس وقت بھی میرے کچھ کزن اور رشتہ دار موجود ہیں۔ اپنے والدین کے ہمراہ چھ مرتبہ کراچی کا دورہ کر چکی ہوں۔ ہر دفعہ کراچی میں بہت تفریح کی اور مجھے بہت مزہ آیا۔ مگر ہر بار اور ہر تھوڑے عرصے کے بعد خبر ملتی رہی کہ کئی خاندان پاکستان چھوڑ کر مختلف ممالک میں منتقل ہو گئے ہیں۔‘

اینگلو انڈینز اب بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں

ہارون نے بتایا کہ غالباً یہ کوئی نوے کی دہائی کے اواخر کا واقعہ ہے۔ ’میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہانگ کانگ گیا ہوا تھا۔ جہاں پر میری اہلیہ کو جوتوں کی ضرورت پڑی مگر ان کے ناپ اور پھر پسند کے جوتے نہیں مل رہے تھے۔ انھوں نے اردو میں کہا کہ میں اب ہانگ کانگ میں کہاں اپنے جوتے تلاش کروں۔

’ان کا یہ جملہ ایک اینگلو انڈین سیلز گرل نے سن لیا۔ اس نے اُردو ہی میں کہا کہ مجھے بتائیں میں آپ کی تلاش میں مدد کرتی ہوں۔‘

ہاروں کے مطابق ’ہمیں اردو میں جواب سن کر بہت حیرت ہوئی۔ اس باوقار خاتون سے بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ ہانگ گانگ منتقل ہو چکی ہیں۔ مگر گھر میں اب بھی اردو بولی جاتی ہے۔

’ہم تھوڑی دیر اس خاتون کے پاس رکے تو وہ ہم سے کرید کرید کر ان جگہوں کے بارے میں پوچھتی رہی جہاں پر کبھی اس کے والدین رہتے تھے۔‘

وہ اس مثال سے ثابت کرتے ہیں کہ ’اینگلو انڈینز اب بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔‘

اسی طرح ماریئیل کا کہنا تھا کہ ’میری جیت کی خبر دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا اور پاکستان میں پھیل گئی تھی۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے اینگلو انڈین کو بہت خوشی ملی ہے۔

’میں شاید پہلی اینگلو انڈین ہوں جو برصغیر سے باہر نکل کر ممبر پارلیمان بنی۔ اینگلو انڈینز نے میری جیت کا جشن پوری دنیا میں منایا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر بھی دنیا بھر میں موجود اینگلو انڈین نے میری کامیابی کے ذکر میں پاکستان کا ذکر کیا۔ جس سے ان کی پاکستان سے محبت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔‘

’اینگلو انڈینز کی اکثریت ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انھوں نے مختلف ایسوسی ایشنز اور یونیز بنا رکھی ہیں۔ انھیں منظر عام پر آنا پسند نہیں۔ یہ سب ایک سال میں اپنا کوئی نہ کوئی اجلاس کرتے ہیں جس میں زیادہ تر پاکستان ہی کی باتیں ہوتی ہیں۔۔۔ ان لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنے گروپس بنا رکھے ہیں جہاں پاکستان سے متعلق اپنی یادیں اور تصاویر شیئر کرتے رہتے ہیں۔‘

شازلی ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ ’میرے والدین کے لیے پاکستان چھوڑ کر برطانیہ میں سیٹ ہونا کبھی بھی آسان نہیں تھا۔ پاکستان میں میرے والد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ان کا بڑا حلقہ احباب موجود تھا۔‘

’میرے والد کی پاکستان کی میڈیکل ڈگری کو برطانیہ میں قبول نہیں کیا گیا تھا۔ برطانیہ میں طب کی پریکٹس اور ملازمت کے لیے انھیں فائنل ایئر کا دوبارہ امتحان دینا پڑا۔ ایسی ہی صورتحال میری والدہ کے ساتھ بھی تھی۔‘

’انھیں ہم پانچ بہن بھائیوں کے اخراجات پورے کرنے تھے۔ میرے ڈاکٹر والد اور نرس والدہ نے مختلف چھوٹے موٹے کام کیے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میرے والد نے پاکستان چھوڑنے کے بعد کئی برسوں تک کافی مشکل وقت گزارا۔‘

ماریئیل کے والدین کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ’میرے والد کو نیدر لینڈز میں ملازمت تو مل گئی تھی مگر انھیں ڈچ زبان نہیں آتی تھی جس کی وجہ سے انھیں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘

’ہمارے گھر میں بات صرف اردو اور انگریزی میں ہوتی تھی۔ میں نے ڈچ زبان سکول جا کر سیکھی۔ ہمارے والدین نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہر قربانی دی۔ وہ بھرپور سوشل ورک بھی کرتے رہے۔ میرے والد نے ہاکی کا ایک کلب بھی قائم کیا جس سے ان کا کافی نام بنا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس مقام تک پہچنے میں مجھے دوسروں کی نسبت کچھ زیادہ محنت کرنا پڑی۔ وہاں پر اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ نیدر لینڈز کا معاشرہ انصاف اور میرٹ پر مبنی ہے۔‘

ماریئیل بچپن ہی سے سخت محنت کی عادی ہو گئی تھیں۔ ’میں سکول اور یونیورسٹی میں سوشل ورک کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتی تھی۔ میں نے زمانہ طالب علمی سے اپنے اخرجات اٹھانے کے لیے کام کیا۔ سیاست میں بھرپور دلچسپی تھی مگر حالات کا تقاضا تھا کہ پیشہ ورانہ زندگی گزار کر معاشی حالات بہتر کر کے عملی سیاست میں حصہ لیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ معاشی طور پر کچھ مستحکم ہوئیں تو عملی سیاست میں حصہ لیا۔ پہلے پارٹی میں نام بنایا پھر عوام میں۔

ہارون کا کہنا تھا کہ وہ کئی اینگلو انڈینز کو جانتے ہیں جن کو پاکستان چھوڑنے کے بعد اپنے قدم جمانے کے لیے سخت محنت کرنا پڑی۔ ’وہ محنتی لوگ تھے۔ جہاں بھی گئے ان کی اکثریت نے اپنا مقام بنا لیا۔‘

محقق صاحبزادہ جواد احمد الفندی کے مطابق تقسیم برصغیر کے بعد ہی سے اینگلو انڈین مشکلات کا شکار ہونا شروع ہو چکے تھے۔

’برطانوی حکومت نے ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے کئی برسوں تک مختلف اقدمات کیے۔ برطانوی دور حکومت میں ملازمتیں کرنے والوں کو برطانوی پاسپورٹ فراہم کیے جاتے رہے۔ وہ اپنی شناخت، آباؤ اجداد کی تلاش میں ہوتے تو ان کے لیے لائبریری قائم کی گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی اصل مشکلات کا آغاز ستر کی دہائی کے بعد ہوا جب پاکستان اور انڈیا میں موجود اینگلو انڈینز پاکستان اور انڈیا کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے تھے۔ یہ لوگ تقسیم برصغیر کے بعد پاکستانی یا انڈین شہری بن چکے تھے۔

’اندازوں کے مطابق سب سے زیادہ اینگلو انڈین پاکستان سے بیرون ملک منتقل ہوئے۔ یہ پاکستان کا روشن خیال چہرہ سمجھے جاتے تھے۔‘

ان کے مطابق اینگلو انڈینز کے جانے سے ’نہ صرف پاکستان کے روشن خیال امیج کو نقصاں پہنچا بلکہ پاکستان محنتی، فرض شناس اور قابل اعتماد کمیونٹی سے بھی محروم ہو گیا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19381 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp