EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

’بن لادن‘ خاندان کی الف لیلوی داستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الف لیلہ کا ذکر آئے تو بے انتہا مال و دولت، حسین و جمیل کنیزیں، جادوئی قالینوں کے ساتھ انتہائی دشوارگزار علاقوں میں ناقابل یقین ایڈونچرز کی فلم ذہن میں چلنے لگتی ہے۔ ان کہانیوں میں کردار جھونپڑیوں سے نکل کر محلات کے مالک بن جاتے ہیں۔ ہم میں سے کون ہے جسے علی بابا کی کہانی یاد نہیں؟ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے والے لکڑہارے کا ایک ہی رات میں شہر کا امیر ترین تاجر بن جانا آج بھی اسی قدر دلچسپ ہے جتنا گزرے زمانوں میں تھا۔

اکیسویں صدی میں بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والے ’بن لادن خاندان‘ کی کہانی بھی طلسم ہوشربا سے کم نہیں، اگر اسے بیسویں صدی کی الف لیلہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ اس داستان میں بھی تمام الف لیلوی عناصر موجود ہیں۔ اس خاندان کے ایک فرد اسامہ بن لادن کو دنیا 11 ستمبر 2001 ء کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے حوالے سے جانتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ نائن الیون کے واقعے میں اسامہ ملوث تھا یا نہیں، اگرملوث تھا تو کس حد تک، اس فیملی کے عروج کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔

اسامہ کے باپ اور بن لادن خاندان کے سربراہ شیخ محمد بن عوض بن لادن نے دنیا کے غریب ترین خطے یمن کے علاقے حضرموت میں آنکھ کھولی۔ انیس سال کی عمر میں انھوں نے غربت سے تنگ آ کر روزگار کے لئے ایک ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ قریباً چارعشروں پر محیط سفر میں یہ خاندان حضرموت کی تنگ اور دشوار گزار گھاٹیوں سے نکل کر مملکت کے شاہی خاندان، دنیا کے امیر ترین بزنس ٹائیکونز کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ کے اداکاروں کے ساتھ بھی بزنس کرنے اور دوستیاں نبھانے لگا۔

یہ سعودی مملکت کا پہلا غیر شاہی خاندان ہے جس نے اپنے ذاتی جہاز اڑائے۔ حالیہ دنوں میں شاہی خاندان سے ناسازگار تعلقات کے سبب بن لادن خاندان مشکلات کا شکار ہے، مگر ایک وقت تھا جب اس خاندان کے افراد مٹی کو بھی ہاتھ لگاتے تو وہ سونا بن جاتی تھی۔

عالمی سطح پر ”دہشت گرد“ کے طور پر ”بدنام“ اسامہ کے باپ کو اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام اور مدینہ منورہ کی مسجد النبوی کی توسیع اور انتظام کے علاوہ بیت المقدس میں گنبد صخرا اور مسجد اقصیٰ کی مرمت و بحالی کا اعزاز بھی بخشا۔ یاد رہے کہ 1967 ء میں اسرائیل کے بیت المقدس پر قبضے سے پہلے گنبد صخرا کی مرمت اور بحالی کا ٹھیکہ بھی بن لادن ہی کے پاس تھا۔ 1960 ء کے عشرے میں شیخ بن لادن ذاتی طیارے میں ایک ہی دن میں مکہ، مدینہ اور بیت المقدس کا سفر کرتے رہے۔

صحافت کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز حاصل کرنے والے معروف امریکی صحافی اسٹیو کول نے اپنی کتاب ’بن لادن‘ میں ان ٹھیکوں کی بابت تفصیل سے بات کی ہے۔ کول یروشلم کے شہری ریکارڈ کے حوالے سے لکھتے ہیں، (جو اب اسرائیل کی ملکیت ہے ) 1960 کے عشرے میں مسجد اقصیٰ اور گنبد صخرا کی بحالی پر 516000 اردنی دینار کا خرچ آیا جس میں سے ڈیڑھ لاکھ دینار شیخ محمد بن لادن نے اپنی جیب سے خرچ کیے۔ اس کے علاوہ اردن کے شاہ حسین کو جو 167,000 اردنی دینار ادا کرنا تھے، وہ بھی بن لادن نے اپنی جیب سے ادا کیے۔ باقی خرچ سعودی حکومت نے اٹھایا۔

دوسرے الفاظ میں بن لادن کنسٹرکشن کمپنی نے آدھے سے زیادہ اخراجات اپنے ذمہ لیے۔ اس بات کا تذکرہ اسامہ نے بھی 1999 ء میں معروف عربی ٹی وی چینل ’الجزیرہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا کہ شیخ نے انجینئرنگ کی خدمات اور لیبر کا معاوضہ بھی نہیں لیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسجد الحرام کی صفائی کے ٹھیکے کی بولی بن لادن کمپنی ایک ریال سالانہ لگاتی ہے اور اس خدمت کا شرف کسی اور کے ہاتھ میں نہیں جانے دیتی۔

ٹھوس ثبوت اور مقدمے کے بغیر دنیا کی کوئی عدالت کسی کو دہشت گرد قرار نہیں دے سکتی لیکن اگر نائن الیون حملے میں اسامہ کے ملوث ہونے کو حقیقت مان لیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ تاریخ میں اس سے پہلے شاید ہی کسی خاندان کا کوئی فرد دنیا کے امن پر اس قدر زیادہ اثر انداز ہوا ہو۔ اوراگر یہ سچ ہے تو پچھلے 20 سالوں میں مشرق وسطیٰ کے حالات میں جو منفی تبدیلیاں آئیں اس میں اس میں بھی اس خاندان کے ایک چشم و چراغ کا بہت ہاتھ ہے، امریکا کو افغانستان اور پھر عراق پر حملے کا اخلاقی جواز فراہم کرنے والا بھی اور پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں اور پاکستانی فوج اور قبائلیوں میں تعلقات کی خرابی کا ذمہ دار بھی اسی خاندان کا ایک فرد ہے۔

اسی طرح امریکی حملے کے بعد عراق کی خانہ جنگی اور القاعدہ کی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں آئی ایس آئی ایس یا داعش کے قیام کا بھی بالواسطہ اور بلاواسطہ ذ مہ دار فرد اسی خاندان میں پلا بڑھا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس قدر منفی تبدیلیوں کا ذمہ دار قرار دیے جانے والے فرد کا یہ خاندان نائن الیون کے پندرہ سال بعد بھی ایک پراسراریت کی چادر میں ملفوف ہے۔ اس کے بارے میں دنیا بہت کم جانتی ہے، جو کچھ جانتی ہے اس میں بھی حقیقت کم اور افسانہ زیادہ ہے۔

نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن کے بارے میں لاتعداد کتب لکھی گئیں۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ صرف ایمیزون نامی آن لائن بک شاپ پر موجود ساڑھے چار ہزار سے زیادہ کتب کا موضوع اسامہ بن لادن ہے۔ کسی کی زندگی پر لکھی گئی کتابوں میں یہ پہلو بہت اہم ہوتا ہے کہ لکھاری چشم دید گواہ ہے یا نہیں اور کتاب کے موضوع سے اس کا کتنا گہرا تعلق ہے۔

کچھ مستثنیات کو چھوڑ کر اسامہ کی ذاتی زندگی پر لکھی جانے والی تمام کتب ایسے لوگوں نے لکھیں جو اس سے شاید ہی کبھی ملے ہوں یا اس کے خاندان یا دوستوں سے ان کا شاید ہی کوئی تعلق رہا ہو۔ ان کتب کی اکثریت اسامہ کو ایک افسانوی ولن کے طور پر پیش کرتی ہیں اور اس کے بارے میں جو باتیں کی جاتی ہیں ان کی واقعاتی شہادتیں ان کتابوں یا مضامین میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ اس اعتبار سے ان کتب اور مضامین کی صحافتی یا علمی حیثیت پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔

ان بے شمار کتب میں سے ایک ’Inside the Kingdom: My Life In Saudi Arabia‘ اسامہ کے سوتیلے بھائی یسلم بن لادن کی سوئس نیشنل بیوی کارمن کی خود نوشت ہے جو اس نے اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے میں لکھی۔ یہ کتاب 1974 ء سے 2001 ء کے عہد پر محیط ہے جس میں 1985 ء تک کا عرصہ اس نے بن لادن کے وسیع خاندان کے ساتھ ایک مشترکہ کمپاونڈ میں گزارا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کتاب کا موضوع اسامہ یا اس کی دہشت گردی نہیں بلکہ اسامہ کے باپ کا انتہائی غربت سے بے انتہائی امیری تک کا سفر زندگی، ان کی 22 بیویوں اور 54 بچوں پر مشتمل ایک خاندان کے دلچسپ قصے ہیں جو مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زندگی بسر کر رہا تھا۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ دوسرے مصنفین کے برعکس کارمن ان واقعات کی چشم دید گواہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے جو اس نے بیان کیے ہیں۔ کارمن بن لادن، ایرانی ماں اور سوئس باپ کے گھر جنیوا کے قریب لوزان نامی قصبے میں پیدا ہوئی اور وہیں پلی بڑھی۔ اس کی ماں کا تعلق ایران کی اشرافیہ سے تھا جو پڑھنے کے لئے سوئٹزر لینڈ گئی اور ایک سوئس دوست سے دل ہار بیٹھی۔ کارمن آٹھ سال کی تھی کہ اس کا سوئس باپ کسی دوسری عورت کی خاطر بیوی اور چار بیٹیوں کو چھوڑ کر چلا گیا اور اس کی ماں نے بیٹیوں کی تن تنہا پرورش کی۔ ماں بظاہر مسلمان تھی مگر کارمن کے بیان کے مطابق اسے مذہب سے خاص دلچسپی نہ تھی لہٰذا اس نے بیٹیوں کو بھی مذہب سے متعارف نہ کرایا۔

اسامہ کے بڑے بھائی یسلم سے کارمن کی ملاقات اس وقت ہوئی جب یسلم اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ چھٹیاں منانے کی غرض سے 1973 ء کے موسم گرما میں جنیوا گیا اور وہاں اس نے کارمن کے گھر کا ایک حصہ کرائے پر لیا۔ شرمیلا مگر ذمہ دار یسلم ابتدائی ملاقاتوں ہی میں نہ صرف کارمن کے عشق میں بری طرح گرفتار ہو گیا بلکہ اس نے اسی ٹرپ میں اسے شادی کی پیشکش بھی کر دی۔

یوں سوئزر لینڈ میں پلنے والی کارمن ’بن لادن خاندان‘ کی بہو بن کر سعودی مملکت میں زندگی بسر کرنے لگی۔ خودنوشت میں کارمن مملکت اور بن لادن فیملی سے بیزار نظر آتی ہے مگر اپنے سسر ( جن کا انتقال اس کی شادی سے قریباً چار سال پہلے ہو چکا تھا) کا ذکر بڑے اشتیاق اور احترام سے کرتی ہے۔

شیخ محمد بن عوض بن لادن 1920 ء کی دہائی کے اواخر میں یمن سے ایک مزدور کے طور پر روزی کمانے مملکت میں وارد ہوئے، جہاں یہ کچھ عرصہ بندرگاہ کی گودی پر کام کرتے رہے مگر بہت جلد انھوں نے ذاتی کنسٹرکشن کمپنی کی بنیاد رکھی اور ان تھک محنت، اور معیاری کام سے نہ صرف ملک کے اہم ترین تعمیراتی ٹھیکے حاصل کیے بلکہ غیر معمولی ذہانت سے شاہی خاندان میں بھی اثر و رسوخ پیدا کر لیا۔ تیل نکلنے کے بعد سے مملکت میں سڑکوں، شاہراہوں کی تعمیر، مساجد کی توسیع اور انتظام کے ساتھ ساتھ محلات کی تعمیر زوروں پر تھی، نتیجتاً بن لادن خاندان تیل کی دولت کے ثمرات سے بالواسطہ فائدہ اٹھانے لگا اور جلد ہی اس پورے خطے میں روزگار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ادارہ بن گیا۔

یہ وہ دور تھا جب ملکوں کے درمیاں ویزا کی پابندیاں اتنی سخت تھیں نہ ہی سعودی حکمران غیر ملکیوں کو شہریت دینے میں اس قدر حساس واقع ہوئے تھے جتنے آج کل ہیں، ورنہ شاید مملکت کا امیر ترین غیر شاہی خاندان آج بھی حضرموت کی گھاٹیوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہوتا۔

کارمن کے مطابق شیخ بہت محنتی آدمی تھے۔ اپنے مزدوروں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے تھے۔ 1950 ء میں یمن پر مصری حملے کے دوران بن لادن نے مصری فوج کی طرف سے برستی گولیوں کے دوران میں ایک ائر بیس کی تعمیر میں اپنے ہاتھوں سے حصہ لیا۔ یہ وہ موقع تھا جب مملکت کے قریبی اتحادی امریکہ کے حکمران شاہ فیصل کو جمال ناصر کی جارحیت کے مقابلے میں صبر کی تلقین کر رہے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صفحات: 1 2 3

تزئین حسن

تزئین حسن نے ہارورڈ یونیورسٹی امریکا سے حال ہی میں صحافت میں ماسٹرز مکمل کیا ہے اور واشنگٹن کے ایک انسانی حقوق کے ادارے کے ساتھ بہ حیثیت محقق وابستہ ہیں۔ ان کے مضامین جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور نارتھ امریکا میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

tazeen-hasan has 6 posts and counting.See all posts by tazeen-hasan

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے