لارنس آف عربیہ نے جب پیر بن کر افغان بادشاہ کے خلاف بغاوت برپا کی
چھوٹے کمرے میں یہ کتابیں کس لیے پڑی ہیں، سب لوگوں نے حیرانی میں ایک دوسرے کو دیکھا اور ملک زونڈی خان نے عاجزی سے کہا ”پیر صاحب یہ کتابیں کچھ عرصے پہلے کابل سے لائی گئی تھیں پھر کہنے لگا کہ سردی کے بعد نوروز میں یہاں گاؤں میں ایک سکول بنائیں گئے اور یہ صرف ہمارے گھر میں نہیں بلکہ سارے علاقے میں پہلی اور دوسری جماعت کی کتابیں پہنچائی گئی ہیں۔“
میں نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو اور بھی افسردہ بنا کر کہا تم لوگوں کو اللہ کا قرآن چاہیے یا یہ دنیاوی کتابیں؟
سب لوگ حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
میں فوراً رو پڑا اور روتے ہوئے کہا: رات کو خواب میں نے قرآن شریف دیکھا جو سخت غصے میں گاؤں سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں اس کے سامنے کھڑا ہوا اور پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا گاؤں کو چھوڑ کر کسی اور جگہ جا رہا ہوں۔
اس طرح کے مختلف واقعات ناول نگار نصیر احمد احمدی نے اپنے مقبول ناول ڈیوڈ جونز (پیر بغدادی) میں تحریر کیے ہیں۔ یہ مذکورہ واقعات ذہنی اختراع نہیں بلکہ اس اسکرپٹڈ جاسوسی چالوں کا حصہ رہے ہیں جو انگریزوں نے امیر امان اللہ خان کی حکومت گرانے کے خلاف ترتیب دیے تھے۔ اور سادہ لوح اٖفغانوں کو جو دین اسلام سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں۔ ان کے اس لگاؤ کو انگریزوں نے امیر امان اللہ خان کے حکومت کے خلاف استعمال کیا۔
امیر امان اللہ نے والد کے قتل کے بعد افغانستان کا اقتدار سنبھالا تھا۔ انہوں نے جلد ہی افغانستان کو ایک خود مختار ملک تسلیم کروایا اور اس کے ساتھ انہوں نے ملک میں اصلاحات متعارف کروائیں۔ تعلیم کو عام کیا۔ ترقی کے نئی راہیں کھولیں انگریزوں کو یہ سب منظور نہیں تھا۔
انگریزوں نے امیر امان خان کی حکومت گرانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا۔ جس میں وہ ناکام رہے۔ بالآخر انہوں نے اٖفغانوں کی مقدس اسلام سے محبت کے پہلو کو امیر امان اللہ خان کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے لئے انگریزوں نے مشہور زمانہ انگریز جاسوس لارنس اف عربیہ کو افغانستان میں خدمات سرانجام دینے کے لئے تعینات کیا۔
یاد رہے لارنس اف عربیہ وہی ہیں جس کو مسلمانوں کی عظیم خلافت خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے سعودی عرب بھیج کر سلطنت کے حصے بخرے کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔
لارنس اف عربیہ نے امیر امان اللہ خان کی حکومت ختم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ افغانستان کے مشرقی علاقوں میں پیر بن کر امیر امان اللہ خان کی پالیسیوں کئی خلاف منفی پروپیگنڈا کر کے انہیں اسلام کے منافی عمل قرار دیا۔ ان کے پروپیگنڈے کی زد میں آ کر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں امیر امان اللہ خان کے خلاف بغاوت نے سر اٹھایا جو بالآخر امان اللہ خان کے جلاوطنی پر ختم ہوئی۔
ناول پیر بغدادی میں ایک پیر کا ذکر ہے جس کو کرم شاہ کے نام سے یاد کیا گیا۔ یہی کرم شاہ لارنس اف عربیہ تھا، جس کی تصدیق رئیا ٹیلی سٹیوراٹ نے اپنے کتاب (افغانستان جنگ کے شعلوں میں ) کا ذکر کر کے کیا ہے۔ وہ کتاب کے باب نمبر 27 میں لکھتی ہیں۔
26 مئی کے بعد سے لارنس افغان ہند سرحد سے دس میل پر واقع میران شاہ میں رائل ائرفورس کی چوکی میں رہنے لگا تھا۔ وہ اسی باب میں مزید لکھتی ہے۔ بچہ سقہ کے حملے سے قبل ہمفریز ( افغانستان میں انگریزوں کا نمائندہ) کا کابل سے آخری پیغامات میں سے ایک پیغام کچھ یوں تھا ”مجھے بذریعہ تار لارنس کے بارے میں آگاہ کیا جائے کہ وہ کہاں ہے۔ نیز مجھے واضح تردیدی بیان دینے کی اجازت دی جائے کہ وہ سرحد کے آس پاس رہ رہا ہے یا اس نے افغانستان کا دورہ کیا ہے۔“
رئیا ٹیلی آگے اسی باب میں لارنس افغانستان میں موجودگی کے بارے میں لکھتی ہیں۔
افغانستان میں ایک روایت کے مطابق بغاوت کے دوران اس کے مشرقی پہاڑوں میں ایک پیر نظر آیا تھا۔ لیکن بعد میں غائب ہو گیا اور اس کا کہیں بھی پتا نہیں چلا تھا۔ بعض اوقات اس کا نام پیر کرم شاہ بتایا گیا تھا۔ اور بعض اوقات پیر منشی اور یقین یہی کیا جانے لگا تھا کہ وہ لارنس ہی تھا۔
چونکہ پٹھانوں کی آنکھیں چمکدار اور نیلی ہوتی ہیں۔ اس لیے محض نیلی آنکھوں کی وجہ سے لارنس کو فرائض کی ادائیگی کے لئے نا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ تاہم پشتو بولنے میں اناڑی پن کی وجہ سے اسے ناموزوں قرار دیا جاسکتا ہے۔
عرب میں اپنی تمام تر تجربہ کاری کے باوجود جب لارنس کو عربی میں گفتگو کرنی پڑتی وہ کبھی بھی صحیح عربی نہیں بول سکتا تھا کہ اسے ایک عرب خیال کیا جاتا۔ یہ حقیقت ہے کہ چار پراسرار پیر افغان پہاڑوں میں گھومتے پھرتے تھے۔
امیر امان اللہ خان کے دور کو گزرے ہوئے نوے سے زائد سال ہو رہے ہیں لیکن اس کے قوم کے ساتھ وقت کے لارنس اب وہی چال چل رہے ہیں جو ان کے خلاف چلے گئے تھے۔ اب بھی پیر، ملا اور دیگر مذہبی رہنما کے شکل میں پیر کرم شاہ کے کردار امیر امان خان کے قوم کو پسماندگی اور جنگ کی آگ میں جھونک رہے ہیں۔



By giving the names and references in their original language, most probably ,in English, will be better to look into for any further readings by any reader. Thanks.