کورونا ویکسین کی عالمی سیاسی معیشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سماج کو درپیش کسی بھی چیلنج کا تحلیل و تجزیہ کرنے کے لیے، سیاسی و اقتصادی پہلوؤں کی برتری کا انکار ممکن نہیں ہے۔ پولیٹیکل ڈسکورس (سیاسی کلامیہ) کے تحت معنویت کے فریم اور سماجی بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے، یہ پولیٹیکل ڈسکورس دراصل کیپیٹل کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ کسی بھی بیانیہ کو حقیقت کے روپ میں تبدیل کرنے کے لیے، ماضی کے واقعات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران، کورونا کے وقوع پذیر ہونے پر مختلف بیانیے رائج ہوئے، کم زور بیانیوں کو طاقت ور بیانیوں نے شکست دی اور طاقت ور بیانیے سماج میں اجتماعی بیانیہ کی شکل اختیار کر گئے۔

اگرچہ پولیٹیکل ڈسکورس کے تحت کورونا سے متعلق عالمی سطح پر بیانیہ تشکیل دیا گیا تاہم اس بیانیہ کی تشکیل میں پولیٹیکل اکانومی کے تصورات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کورونا کے باعث ہونے والے ایک فیصد سے بھی کم ہلاکتوں میں ہمارے احباب اور ان کے رشتے دار بھی شامل ہیں جن کے بچھڑنے پر، ہم ان کے دکھ میں شریک ہیں۔ دوسری جانب 98 فیصد سے زائد صحت یاب افراد، اس مرض کے مہلک نہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ ہمیں کورونا کے اقتصادی پہلوؤں کو سمجھنا ہوگا تاکہ سرمایہ دارانہ معیشت کے استحصالی حربوں کا ادراک کیا جاسکے۔

کورونا ویکسین سے متعلق پیدا ہونے والی لہر نے نوآبادیاتی خطوط کو تقویت بخشی ہے، چونکہ مغربی ممالک ویکسینیشن کی سرکاری پرستی کے ذریعے سے سرمائے کی فراہمی کو یقینی بنا چکے ہیں تاہم تیسری دنیا کے ممالک پر اقتصادی دباؤ کے چیلنجز ہیں، امریکا اب تک اپنی آبادی سے تین گنا زیادہ ویکسین حاصل کر چکا ہے جبکہ یونیسیف کے مطابق گزشتہ ماہ تک سو سے زائد ممالک ویکسین کی ایک خوراک بھی بھی بندوبست نہیں کر سکے، سب سے اہم امر یہ ہے کہ آخر کیسے کمپنیوں کے منافع کمانے کی روش نے عدم مساوات اور عدم استحکام کی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔

یورپی یونین نے ایک ارب ساٹھ لاکھ خوراکیں، برطانیہ نے اکیس کروڑ نوے لاکھ خوراکیں، کینیڈا نے اٹھارہ کروڑ اسی لاکھ خوراکوں کا آرڈر کمپنیوں کو دے رکھا ہے۔ کمپنیاں اب ویکسین کی قلت پیدا کر کے زیادہ منافع کمانے کا منصوبہ کر رہی ہیں، ویکسین کی تیاری دنیا بھر کی جا سکتی ہے تاہم کمپنیوں کے زیر ملکیتی پیٹنٹ ویکسین کی پروڈکشن پر قدغن لگا رہے ہیں۔ آکسفرڈ یونیورسٹی نے ابتدائی طور پر اوپن سورس ویکسین بنانے کا وعدہ کیا تھا، جسے کوئی بھی ملک دوبارہ تیار کر سکتا تھا لیکن عالمی استعماریت کی ایک نئی شکل میں قائم بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے آکسفرڈ یونیورسٹی کو فارماسیوٹیکل کمپنی کے ساتھ شراکت پر مجبور کیا جس کے بعد سویڈن کی آسٹرا زینیکا کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر کے یونیورسٹی نے ملکیتی حقوق سرینڈر کر دیے، ویکسین کی تقسیم اور پیٹنٹ کے جواز نے ایک بار پھر یورپ اور امریکا کو گلوبل ساؤتھ کے استحصال کے ذریعہ اپنی دولت کو بڑھایا ہے۔

اکیسویں صدی کا پہلا عشرہ افغان جنگ کے باعث لاکھوں پختونوں کے قتل عام میں گزرا، پہلی دونوں دہائیوں میں امریکا بہادر نے دہشت گردی کا خوف مسلط کرنے کے بعد اسلحہ ساز کمپنیوں کو فوائد پہنچائے، گلوبل کیپٹل ازم نے دوسری دہائی میں، اقتصادی بحران اور کساد بازاری سے انسانوں کی زندگیاں ہڑپ کیں، اس صدی کی تیسری دہائی نے کورونا کے ذریعے انسانوں پر عالمی سطح پر غضب کیا ہے۔ یہ غضب الہی ہے یا پھر کیپٹل ازم کی چیرہ دستیاں، یہ راز بھی کھل جائے گا۔

تیسری دہائی میں برپا ہونے والے عہد کورونیت نے انسانوں کو بڑی آزمائش سے دو چار کیا ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں، عالم انسانیت نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بالا دستی کو استعماری حربوں سے نافذ کرنے کا مشاہدہ کیا ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی کی کوکھ سے جنم لینے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ہمیشہ سرمائے کے ارتکاز کو محدود افراد تک مقید کرنے کے ٹھوس منصوبے تشکیل دیے ہیں۔

راک فیلر فاؤنڈیشن کی دس برس قبل لکھی گئی دستاویز میں عہد کورونیت کو انسانی جانوں کے ضیاع سے محفوظ رکھنے پر استدلال کیا گیا تھا، اس دستاویز کا اہم نکتہ شخصی آزادیوں کو رضا کارانہ طور پر سرنڈر کرنا تھا جس کے بعد ویکسینیشن کے ایک نئے عہد کا جنم لینا ناگزیر تھا۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے زیر کنٹرول عالمی میڈیا، اور مقامی سرمایہ داروں کی گرفت میں موجود قومی میڈیا، انھی کمپنیوں کے مفادات کا نگہبان بن چکا ہے۔ اس نگہبانی کے پیچھے اربوں ڈالرز کے معاشی فوائد کارفرما ہیں۔

کورونا وبا کی حقیقت کو، ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ریاستوں کے گٹھ جوڑ سے اپنے مفادات کے تحفظ کے تابع کر دیا ہے، نوم چومسکی کے متعین کردہ میڈیا پراپیگنڈہ ماڈل کے تحت قومی اور عالمی ذہن کی تشکیل کی جا چکی ہے، اس ذہن سازی کے مکمل ہونے کے بعد ، اب ثمرات سمیٹے جا رہے ہیں۔ ریاست کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے جبڑوں تلے دینے میں قومی میڈیا نے موثر کردار نبھایا ہے۔ کورونا وائرس کی تشخیص کو لازمی موت کے ساتھ جوڑا گیا اور پھر انسانی زندگی کو تحفظ دینے کے لیے ویکسینیشن کے منصوبوں کو تقویت دی گئی ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت میں، انسان کو سرمائے کے تابع تصور کیا جاتا ہے اور اس کے لیے ریاست کی تکون میں شامل عسکری اور سول بیوروکریسی کو بہ طور طاقت ور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

حکومت پاکستان نے، ریاستی خزانے سے دوا ساز کمپنیوں سے کورونا ویکسین خریداری کی دستاویز پر دستخط کیے اور ایک بار پھر قومی دولت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی گود میں ڈال دیا گیا، صرف یہی نہیں بلکہ متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ عدم انکشافی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت ریاست پاکستان کو ویکسین خریداری کا معاہدہ خفیہ رکھنے اور انھیں منظر عام پر لانے کی اجازت نہیں ہوگی اور ریاست اس معاہدے کی پاسداری کرے گی، کورونا وبا کا خاتمہ اب ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مرضی سے ہوگا اس میں ریاستوں کا بھی کوئی کنٹرول اور عمل دخل نہیں رہے گا۔

حکومت پاکستان نے کورونا ویکسین کے لیے ابتداء میں 15 کروڑ ڈالرز مختص کیے جنھیں بڑھا کر 25 کروڑ ڈالرز یعنی 38 ارب 47 کروڑ روپے تک کیا جا رہا ہے، پاکستان نے چین کی کمپنیوں کے ساتھ ویکسین خریداری کا معاہدہ کیا اور پہلے فیز میں 10 لاکھ خوراکیں وطن پہنچ چکی اور حکومت 10 کروڑ پاکستانیوں کو ویکسین لگانے کا منصوبہ رکھتی ہے، یقیناً ویکسین خریداری کے فنڈز میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے ایک ارب 50 کروڑ روپے کورونا ویکسین خریدنے کے لیے مختص کر دیے ہیں جبکہ سندھ حکومت 50 کروڑ روپے مالیت کی ویکسین خرید رہی ہے۔ سندھ حکومت نے تو نجی کمپنی اے جے ایم کو کورونا ویکسین کی 10 لاکھ خوراکیں فراہم کرنے کے لیے باضابطہ خط لکھا ہے۔

ریاستی خزانوں سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اربوں روپے مالیت کے فوائد پہنچانے کے ساتھ ساتھ انھیں نجی جیبوں سے بھی پیسے سمیٹنے کی اجازت دی گئی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے سابق جج اللہ نواز نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستان میں ہر غیر قانونی کام، قانون کے تحت کیا جاتا ہے۔ چنانچہ پرائیویٹ ویکسین فروخت کی سرکار نے اجازت دے دی اور روسی ساخت سپوتنک ویکسین کی 8 ہزار روپے قیمت مقرر کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کے وقت دوا ساز کمپنیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔

یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں روس ساختہ سپوتنک ویکسین علی گوہر فارماسیوٹیکل کمپنی (اے جی پی) نے منگوائی اور پہلے فیز میں 50 ہزار خوراکیں منگوا کر 12 ہزار سے زائد قیمت پر فروخت کر دی اور اس کے لیے پاکستان کے طاقت ور ترین پرائیویٹ میڈیکل اداروں، ہسپتالوں اور لیبز کے ذریعے سے اس ویکسین کی پندرہ روز میں ہی کھپت کرا دی گئی۔

اے جی پی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین طارق محی الدین ہیں جو سن 87 ء میں میکگل یونیورسٹی کے جیوش جنرل ہسپتال میں فنانشل مینجر تعینات ہوئے اور پھر سعودی شاہی خاندان کی زیر ملکیت کمپنی موارد میں سن 93 ء میں چیف فنانشل افسر مقرر ہوئے۔ سن 99 ء میں آرگینن جوائن کی جو اب امریکا کی مرک اینڈ کمپنی کارپوریشن کا حصہ ہے اور 2006 ء میں آرگینن کمپنی کے پاکستان میں ایم ڈی مقرر ہوئے۔ طارق محی الدین خان کراچی میں نیدر لینڈ کے اعزازی قونصل جنرل کا عہدہ بھی رکھتے ہیں۔ اے جی پی نے 1989 ء میں پاکستان میں بہ طور دوا ساز کمپنی کام کا آغاز کیا اور کورونا وائرس سے ایک سال قبل پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 2018 ء میں رجسٹریشن کرائی، کروڑوں روپے مالیت کی کورونا ویکسین خریداری کرنے والی اس کمپنی نے صرف 3 لاکھ 39 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

اے جی پی نے پاکستان میں آپریٹ کرنے والی مولر اینڈ فلپس کمپنی کے ساتھ مل کر کورونا ویکسین کی فروخت کا معاہدہ کیا۔ مولر اینڈ فلپس کا پاکستان میں ادویات فروخت کرنے کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے، پاکستان میں اس کی 65 شاخیں ہیں اور 46 ہزار فارمیسیوں تک رسائی حاصل ہے ان میں متعدد فارمیسیوں کے مالکان ایوانوں میں بیٹھے جمہوری نمائندے ہیں۔ اب کمپنی میں، پاکستان کے مزید کون کون سے با اثر افراد نے کورونا ویکسین کے لئے سرمایہ کاری کی، ریاست کو اس پر تحقیق کرنی چاہیے۔

پاکستان میں پرائیویٹ طور پر کورونا ویکسین فروخت کرنے کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی تک محدود رکھا گیا۔ حکومت نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو شہریوں کو لوٹنے کے لیے جو معاہدہ کیا اس میں ان کمپنیوں کو درآمدی ویکسین کی تجارت کی قیمت میں لینڈنگ لاگت میں 40 فیصد تک اضافہ کرنے کی اجازت دی اور ہسپتالوں یا لیبز کو قیمت میں مزید 15 فیصد تک اضافہ کرنے کا اختیار دیا گیا یعنی مجموعی طور پر قیمت میں 55 فیصد تک اضافہ کی سرکار نے خود منظوری دی۔

ویکسین کا یہ کاروبار عالمی اداروں کے ساتھ منسلک ہے۔ عالمی سطح پر ویکسین کی خریداری اور فراہمی لیے کوویکس کو منتخب کیا گیا ہے، یہ جنیوا میں قائم ایک عالمی ادارہ ہے، کوویکس کے ذریعے سے کوویڈ ویکسین کی مختلف ممالک ترسیل کی جا رہی ہے، کوویکس کے اہداف میں 20 فیصد عالمی آبادی تک ویکسین کی رسائی کو ممکن بنانا ہے، ویکسین عالمی یونیسیف، ڈبلیو ایچ او کے مالی اشتراک سے تیار کی جا رہی ہے۔ یونیسیف اس ویکسین کی خریداری پر 2 ارب 50 کروڑ ڈالرز خرچ کر رہا ہے۔ پاکستان نے جون 2020 ء میں اس ویکسین کے لیے معاہدہ کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو کورونا ویکسین کی ایک کروڑ 70 لاکھ خوراکیں فراہم کی جائیں گی، چند روز قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کوویکس کے تحت جرمنی سے ویکسین پہنچنے کی خبر دی ہے۔

ویکسین کی خریداری کے اس عالمی کاروبار میں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ریاستی فنڈز کا استعمال کیا ہے۔ امریکا کے سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے کورونا ویکسین کے لیے 3 ارب ڈالرز مختص کیے ہیں، یہ فنڈز فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ویکسین کی تیاری کے لیے ادا کیے گئے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، کورونا ویکسین کی خریداری کے لیے حکومتوں نے 6 ارب 50 کروڑ برطانوی پاؤنڈز مختص کیے جبکہ نجی اداروں نے ایک ارب 50 کروڑ پاؤنڈز کمپنیوں کو دیے ہیں۔

دسمبر 2020 ء کی اس رپورٹ کے مطابق، فائزر کمپنی کو 2 ارب 25 کروڑ پاؤنڈز، آسٹرا زینیکا 8 ارب 19 کروڑ پاؤنڈز، ماڈرینا ایک ارب 90 کروڑ پاؤنڈز، نوواویکس ایک ارب 79 کروڑ پاؤنڈز، سائنوویکس ایک ارب 62 کروڑ پاؤنڈز، جونسن اینڈ جونسن 78 کروڑ 60 لاکھ پاؤنڈز، کیور ویک ایک ارب 25 کروڑ پاؤنڈز، جی ایس کے 57 کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈز، ٹرانسلیٹ بائیو 30 کروڑ پاؤنڈز کورونا ویکسین کے لیے ادا کیے گئے ہیں۔

عالمی سطح پر اسلحہ ساز کمپنیاں اور دوا ساز کمپنیاں طاقت ور ادارے ہیں، ان اداروں کے ذریعے سے ریاستوں کی اقتصادیات کو کنٹرول کیا جاتا ہے جس کے لیے مالیاتی ادارے بہ طور معاون کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

کورونا عہد میں عام آدمی پر معاشی جبر اور ریاستی استحصال نے زندگی کی پیچیدگیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ کیپٹل ازم اور سٹرکچرل ازم کے عملی تصورات نے، ایک بار پھر اپنے استحصالی و یرغمالی منصوبوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اقتصادی طور پر کمزور ممالک پر ویکسین کی خریداری کے دباؤ سے مزید قرضوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، یہ لامتناہی قرضوں کی دلدل میں پھنسانے کا نیا استعماری حربہ ہے۔ ہمیں آج یہ سوچنا ہوگا کہ شخصی آزادیوں کو سرمایہ دارانہ معیشت کے تابع کرنے سے، آخر کیسے اقتصادی لوٹ کھسوٹ کی جاتی ہے اور ہم دانستہ و غیر دانستہ طور پر ان منصوبوں کے معاون کار بن جاتے ہیں۔ دنیا میں اب محکوم و حاکم، کالونائزڈ اور کالونائزر کے نئے تصورات کے تحت ممالک کی تقسیم ویکسین اور نان ویکسین کی بنیاد پر کرنے کا اندیشہ ہے، اس نئے امتیاز کے خلاف مزاحمتی سوچ پیدا کرنی چاہیے تاکہ عالمی سطح پر ویکسین کے نام پر استحصالی و استعماری طاقتوں کے نئے حربوں کو ناکام بنایا جاسکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments