کیا اطلاق میں ناکامی، نظریہ کی ناکامی ہوتی ہے



ممتاز مضمون نگار محترم برکت حسین شاد کی ایک پوسٹ پر ایک صاحب علم، دوست نے تبصرہ کرتے ہوئے سوشل ازم کو روس اور چین کے حوالے سے ایک ناکام شدہ اور متروک نظریہ کہا اور اس کے مقابلے میں سوشل ڈیموکریٹک نظام کی کامیابی کی مثال مدلل طریقے سے تاریخی معاشی ارتقا کی روشنی میں بیان فرمائی ہے۔ محترم تبصرہ نگار سوشل ڈیموکریٹک نظام کی مثال کے طور پر یورپ کی فلاحی جمہوری حکومتوں کو سرمایہ دارانہ نظام کی نمائندہ علامت کے طور پر بیان فرما رہے ہیں، جبکہ درحقیقت عملی طور پر ایسا نہیں ہے بلکہ مغربی یورپ کا سوشل ڈیموکریٹک نظام پچھتر فی صد سوشل ازم کے بنیادی اصولوں پر مشتمل ہے، جبکہ روایتی سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ تقریباً پچیس فی صد پر مشتمل ہے اگر ان ممالک کے سماجی ارتقا کے مختلف تدریجی ادوار کو سامنے رکھا جائے تو زرعی و جاگیرداری سماج کے بعد صنعتی دور میں محنت کش کے استحصال کے غیر انسانی اور ظالمانہ استحصال کا بدترین ماحول پایا جاتا تھا، اسی ماحول میں کارل مارکس، اور دوسرے کئی دانشوروں نے سماج میں محنت، سرمایہ اور طریقہ ہائے استحصال کی معاشی جدلیات کا شعور اپنی تحقیق سے اپنی تصنیفات کی شکل میں دیا۔

جس سے مظالم اور استحصال کے شکار طبقات میں اپنے بنیادی انسانی حقوق کے مطالبہ کرنے کا شعور حاصل ہوا، اور ان طبقات کی طرف سے ردعمل کی جھلک گاہے بگاہے اٹھنے والی تحریکوں کی شکل میں دکھائی دینے لگی، تب ہی یورپ کے صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک نے اپنے معاشرے اور ترقی یافتہ صنعت کو بچانے کے لیے اپنے نظام میں اصلاحات کر کے سوشل ڈیموکریٹک نظام تشکیل دے کر، پیدا ہوئی بے چینی کا تدارک کیا۔ آج وقت گزرنے کے ساتھ ان ممالک کا بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دینے والا نظام دنیا کے لیے ایک بہترین مثال بن چکا ہے گویا یہاں بھی یہ نظام بنیادی طور پر ”جمہوری سوشل ازم“ ہی ہے۔

جبکہ دور حاضر میں سرمایہ دارانہ نظام کی نمائندہ مثال کو، امریکہ کے نظام کی شکل میں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ دور حاضر میں نظریہ سوشل ازم کے مدمقابل جو نظام پوری شدت کے ساتھ کھڑا ہے، وہ امریکہ کا سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ جو اپنے سرمائے کے ارتکاز اور کئی بار اپنے نظام کو مکمل ناکام ہو جانے اور مسمار ہو جانے سے بچانے کی کوششوں سے اپنے ہی سرمایہ داری نظام کے اصولوں سے انحراف کا کئی بار، مرتکب ہو چکا ہے، ماضی قریب کی کساد بازاری جس نے امریکہ میں کئی شعبوں کے ساتھ ساتھ رئیل سٹیٹ کے شعبے اور اس کے نتیجے میں بینکاری کے نظام تک کو مسماری کے دہانے پر پہنچا دیا تھا، اگر یہاں اپنے بنیادی نظریے سے مکمل انحراف کرتے ہوئے حکومت ان شعبوں اور بینکوں کی فیڈرل ریزرو یعنی عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کردہ سرمائے سے ناگہانی خطیر مدد نہ کرتی تو یہ نظام تاش کے پتوں سے بنے گھر کی طرح تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔

دور حاضر میں بھی وہاں سرمایہ داری کی مصنوعی چمک دمک کے پیچھے ہر روز سات ہزار افراد اپنے گھروں سے محروم ہو کر سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، معاشی تفاوت اتنا شدید ہو چکا ہے جس کی جھلکیاں ان مصنوعی طور پر پیدا کی گئی چکا چوند کے باوجود نظر آنی شروع ہو گئی ہیں۔ اس ظاہری چمک کے پیچھے دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک جو بار بار اس مہذب دور میں بھی افریقہ سے لے کر ایشیا تک ظالمانہ فوجی اور سازشی استعمارانہ تجاوز کی مدد سے قابض ملکوں کے قیمتی اثاثوں کی لوٹ مار سے اپنے استحصالی معاشرے کی چند بڑی مچھلیوں کی دولت میں اضافے کرنے کے مشن میں مصروف ہے، یعنی حقیقت میں دوسرے غریب ممالک کے عوام کا خون پی کر اپنے سماج کے چہرے کی سرخی کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔

چاہے اس مقصد کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں آمریتوں کی سرپرستی یا کھلی مدد کرنی پڑے، جیسا کہ ہمارے ملک پاکستان میں کیا جاتا رہا، اور اب تک کیا جا رہا ہے، کہ جب بھی یہاں کوئی لولی لنگڑی اور مجبور سی جمہوری حکومت بھی آئی تب تب امریکہ نے پاکستان پر معاشی اقتصادی اور سیاسی پابندیاں عائد کر دیں، اور ہمیشہ یہاں باوردی مقتدرہ کو سرپرستی، حوصلہ افزائی، سازش اور مدد سے اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔

پاکستان اور مصر اس سلسلے میں اس ظالمانہ تجاوز اور استحصال کی کلاسیکی امثال بن چکے ہیں۔ اسی طرح افریقہ میں فوجی آمریتوں اور تشکیل شدہ مسلح گروہوں کی مدد سے وہاں کی معیشتوں کو تباہ اور لاکھوں کروڑوں باشندوں کو بھوک قحط، بیماری اور ظلم و ہلاکت کا نشانہ بنایا گیا۔ کھلی مداخلت اور سازشوں سے شمالی امریکہ کے ممالک مثلاً وینزویلا وغیرہ میں خانہ جنگی کروا کر کھلی مداخلت کرتے ہوئے، ان ممالک کی معیشتوں کو تباہ کیا گیا۔

ان تمام استحصالی اور مجرمانہ مہمات کے ارتکاب کے لیے انتہائی چالاکی سے میڈیا کو اور پراپیگنڈہ کو بطور ایک ہتھیار استعمال کرنے کی باقاعدہ ایک سائنس تشکیل دی گئی۔ مثال کے طور پر اس استحصالی اور ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کے مختلف پینتروں اور حربوں کو جو یہ اپنے معروف بنیادی نظریات سے انحراف کرتے ہوئے اختیار کرتے رہے، اس کو اس نظام کی خوبی یعنی لچک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اور بدنیتی سے دوسری طرف سوشل ازم کے عظیم الشان نظام کو چند جامد مثالوں سے ہمیشہ کے لیے ناکام ثابت کرنے اور دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، گویا اگر امریکہ اپنے بنیادی معروف اصولوں سے انحراف کرے تو یہ ان کے نظام کی خوبی ہوتی ہے، اور اگر چین یا روس ایسا کریں تو یہاں یہ ان کے نظریہ کی ناکامی بتائی اور مشتہر کی جاتی ہے۔

سوشل ازم کوئی جامد نظام یا خراب ہو چکی مشین نہیں ہے بلکہ بنی نوع انسان کے بنیادی حقوق کی مضبوط ضمانت پر مشتمل ایک ایسا نظریہ ہے، جو اپنے بنیادی مقصد کے حصول کے لیے کسی بھی جامد اور محدود طریقہ کا محتاج نہیں، یہ نسل انسانی کے مستقبل کا نظام ہے، جہاں ایک محروم و غریب کے بنیادی ترین انسانی حقوق کے لیے کسی کو مکمل ذمہ دار اور جوابدہ بنایا جائے گا، اور محروم انسانوں کو ان کی ناکامی اور محرومی کا جواز خدا کی رضا اور مشیت نہیں بتایا جائے گا۔

سوشل ازم طریقہ کار کی قید نہیں لگاتا، لیکن مقاصد اور ذمہ داری کا تعین مضبوطی کے ساتھ کر دیتا ہے۔ لہذا روس یا چین کی مثالیں دینا، مناسب و متعلق نہیں ہے، اگر کسی نظام کے کسی جگہ کسی بھی وجہ سے پوری کامیابی حاصل نہ کر سکنا نظریہ کی ناکامی ہوتی ہے، تو پھر تو دنیا میں مذاہب ہر جگہ عملی طور پر انسانی فلاح و بہبود کا مقصد حاصل کرنے میں واضح طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں، جبکہ مذاہب کا بنیادی پیغام ہی انسانیت کی فلاح بتایا جاتا ہے۔

لیکن یہ طبقات تاریخ کے غالب ادوار میں غاصب حکمرانوں اور استحصالی قوتوں کے سہولت کار۔ مدد گار اور مفاد کنندہ کے طور پر سامنے آئے ہیں، سرمایہ دارانہ خون آشام نظام کے استحصال کو خدا کی طرف سے لکھی تقدیر بتا کر دنیا میں ان استحصالی قوتوں کے مظالم کے خلاف صبر اور احتجاج نہ کرنے کی تلقین کرتے، اور ان غاصبوں کے جواز کی حمایت میں تعبیریں کرتے دکھائی دیتے ہیں، پھر تو اس فلاح انسانی کے مقصد میں ناکامی کی پاداش میں سب سے پہلے ان مذاہب کو متروک قرار دینا بنتا ہے، لیکن ایسی بات کرنا بھی گناہ اور جرم ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مذہب کی صفوں سے آواز حق بلند کرنے کی کسی نے بھی کوشش کی تو اس کے ساتھ وہ بہیمانہ سلوک کیا گیا جیسے نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین کے ساتھ کیا گیا، صحابی رسول ﷺ حضرت ابو زر غفاری کے ساتھ کیا گیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ سازش اور ظلم سے کسی مخصوص مقام پر کسی نظریے کے اطلاق کی کوشش کا سر تو قلم کیا جا سکتا ہے اسے پابند سلاسل تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس نظریے، پیغام اور روح کو قتل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انسانی علم و شعور کی بڑھتی ہوئی سطح اب اس مقام کے نزدیک پہنچ چکی ہے جب ہر محروم اپنی محرومی کی وجوہات پر سوچنے اور سوال اٹھانے لگا ہے۔ بلا تخصیص و تعصب، انسانی بنیادی حقوق کے حصول کے یکساں مواقع کا مطالبہ دن بدن زور پکڑ رہا ہے، اور وہ دن دور نہیں جب یہ بڑھتا ہوا شعور ان غاصبوں کی پھیلائی تاریکیوں کے پردے چاک کر دے گا اور شرف انسانیت کا نیا سویرا طلوع ہو گا۔

Facebook Comments HS