جانشینان پیمبر کا چلن دیکھ لیا


مولانا طارق جمیل صاحب نے جب اپنے کاروبار کی توجیہ بیان کی تو لوگ عش عش کر اٹھے کہ مولانا نے کاروبار کا آغاز ایک نیک کام کے لیے کیا ہے اور لوگ ہیں کہ بلاوجہ بک بک کر رہے ہیں۔ ایسے میں ابوالحسن آزاد نے ”ہم سب“ پر اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے ”ایم ٹی جے کا ناڑا اور قوم کی شلواریں“ کے عنوان سے مضمون لکھا۔ جس میں آزاد صاحب اخلاقیات اور اقدار کے ملبے پر کھڑے ہو کر نوحہ کناں تھے۔ انھیں قوم کی ذہنی، فکری اور شعوری بلوغت پہ تو شکوک و شبہات تھے ہی لیکن ساتھ ہی انہیں یہ دکھ بھی کھائے جا رہا تھا کہ مولانا مشعل راہ ہیں وہ مینارہ نور ہیں مگر یہ لوگ بصیرت نہیں رکھتے کہ ان کی سیرت کا احاطہ کر سکیں۔ مجھے بھی مضمون پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔

تو میرے قرطاس ذہن پر ایک بے ربط واقعہ ابھرا جو اس مضمون کے ساتھ تو بظاہر کوئی مماثلت نہیں رکھتا۔ ایک کافر کا واقعی جسے دوزخ میں سڑنا ہے، جسے جنت میں موجود سینکڑوں گز لمبی حوروں کی قربت نصیب ہونے کا کوئی امکان نہیں جن کا لالچ دے کر مولانا لوگوں کے منہ سے رال ٹپکاتے ہوئے انہیں نیکی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اس شخص نے اپنے دور کے گورنر سے کامرس کالج کے قیام کا مطالبہ کیا۔ گورنر نے جواباً کہا کہ ہم ایسا کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی ڈھنگ کی عمارت میسر نہیں یہ سن کر وہ شخص اپنے عالی شان محل نما گھر کی چابیاں گورنر کی میز پر چھوڑ کر واپس آ گیا۔

لیکن وہ کفر کی دلدل میں دھنسا ہوا شخص جسے انسانیت کی فلاح و بہبود کے سوا کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا اگر وہ بھی مولانا کی طرح سوچتا تو آج لاہور شہر کے وسط میں ایک عظیم الشان ہیلی کالج کی بجائے گنگا رام نام کا ہوزری برینڈ کھڑا ہوتا۔ اسے ایمان کی دولت میسر نہ تھی مگر مولانا اہل ایمان میں شامل ہیں اور ان کا اس بات پر مکمل یقین ہے کہ غریبی کفر تک لے جاتی ہے اور مولانا کسی بھی صورت میں کفر کے قریب تک نہیں بھٹکنا چاہتے اس لیے انھوں نے سب سے پہلے اپنی غربت کے خاتمے کو ترجیح دی اور ایک وسیع و عریض گھر بنایا پھر ایک مہنگی ترین گاڑی خریدی پھر کئی بڑے بڑے کاروباری منصوبے تکمیل دیے اور پھر اچانک ان کے ایمان نے انہیں جھنجھوڑا تو انھوں نے مدرسے چلانے کے لیے زکوٰۃ کی بجائے کرتے بیچنے کا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

مولانا کا خیال ہے کہ شاید وقت کی گنگا بہنے کے ساتھ ساتھ کچھ ”آزاد“ لوگ یہ کہنے لگیں کہ مولانا ایک بہت بڑے عالم دین تھے جنہوں نے بڑی کسمپرسی کی زندگی گزاری اور کرتے بیچ بیچ کر مدرسے چلاتے رہے۔ عین اسی طرح جیسے لوگوں کے کانوں میں ایک بادشاہ کی ٹوپیاں سی سی کر زندگی بسر کرنے کی بانسری مسلسل بجائی گئی اور بالآخر لوگوں نے اسے حقیقت تسلیم کر لیا۔

حضرت ناڑے نے نہ تو آدھی قوم کو ننگا کیا ہے اور نہ ہی اخلاقیات کا جنازہ نکالا ہے ہاں شاید یہ ممکن ہے کہ مذہب کا دھندہ کرنے والے چند بھاڑے کے فتویٰ فروشوں کی شلواریں اتریں ہوں۔ جو شاید اتنا آسان کام نہ تھا۔ اخلاقیات کا جنازہ تو اس دن نکلا تھا جب ریپ اور جنسی واقعات کو عورتوں کے پہناوے سے جوڑا گیا اور انہی لوگوں نے اس بیانیہ کی حمایت اور تائید میں فتوے داغے۔ اگر عورت کے لباس کو جنسی بے راہروی کا شکار بننے کی وجہ بتانے سے اس سماج کی اخلاقیات اور اقدار پر کوئی حرف نہیں آتا، اگر اس سماج کی اخلاقیات کو ایک مشتعل گروہ کے کافر کافر کے نعرے لگاتے ہوئے ایک ماں کے نور نظر کو بیچ چوراہے پر سنگسار کرنے سے کوئی دھچکا نہیں لگتا۔ اگر چار سال کی معصوم بچیوں اور لاچار اور بے بس خواتین کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے سے اخلاقیات پر کوئی حرف نہیں آتا تو ہم بھی ایسی کسی اخلاقیات کے قائل نہیں جس کا ناڑا ایک ملاں کے کاروبار کو زیر بحث لانے سے کھل جاتا ہے۔

کون سی اخلاقیات کا درس دینے میں بال سفید کیے۔ کون سا نعرہ حق بلند کیا، نعرہ حق کے معانی جابر اور ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کی بات تھی۔ اسی لیے کہا گیا تھا کہ جن علماء دین کو بادشاہوں کے درباروں میں دیکھو ان کے ایمان پر شک کرو۔ مگر یہاں تو بنا ہے شاہ کا مصاحب اور پھرے ہے اتراتا والا منظر نامہ تھا۔ دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ جو یہ سارا کاروبار زندگی اب آپ کو نفرت پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں آپ کے مطابق مولانا کی محبت کی بانسری کی سریلی لے لوگوں کو سنائی نہیں دے سکتی تو اس کے ذمہ دار بھی ایسے ہی چند مذہب کے بیوپاری ہیں جنہوں نے سامراجی قوتوں کے اشاروں پر مذہب کی ایسی تشریحات پیش کیں اور کر رہے ہیں کہ نفرت اور اشتعال انگیزی کا بازار گرم ہو گیا۔

یاد رہے مولانا کی افزائش بھی اسی نرسری میں ہوئی ہے۔ حضرت حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے محبت اور اخلاقیات کا درس دیتے دیتے بال سفید نہیں کیے بلکہ یہ چاندی مذہب کا بیوپار کرتے کرتے آئی جو بالآخر کرتے پاجامے کی فروخت تک آ پہنچا ہے۔ اور جسے آپ آگہی فروز چراغ گردان رہے ہیں وہ تو ایسے کھوپے تیار کرنے میں مسلسل مصروف عمل ہیں جو آگہی کو دہلیز چشم کے پار نہیں اترنے دیتے۔ اور جس بڑھتی ہوئی فحاشی، حیا باختگی اور ناپید ہوتی ستر پوشی کی آپ کو فکر لاحق ہے اس کے معانی یہ بالکل نہیں کے ہر خرقہ سالوس کے اندر چھپے حرم فروش مہاجن کو عزت اور تکریم کا جبہ پہنا دیا جائے۔ لہذا میری عاجزانہ درخواست ہے کہ آپ قوم کی شلواریں اترنے کی فکر چھوڑیں اور خرقہ سالوس میں چھپے مہاجن ڈھونڈیں۔

گنہگار ہوں کھری بات کہے دیتا ہوں
ہم نے جانشینان پیمبر کا چلن دیکھ لیا

Facebook Comments HS