بل اور میلنڈا گیٹس اور میری کام والی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میں نے ایک نظر موبائل فون کی تازہ ترین خبروں پر ڈالی۔ جہاں بل گیٹس اور ان کی بیوی کا بیان علحیدگی نمایاں تھا اور دوسری نظر سامنے زمین پر بیٹھی اپنی کام والی پر ڈالی۔ کوثر نے میرے گھر کام اس وقت شروع کیا تھا جب اس کی تیسری بیٹی کو پیدا ہوئے ایک ہفتہ ہوا تھا اور بچی کو اس سے چھین کر گھر سے بے دخل ہوئے دو دن۔ مجھے اس کو کام پر رکھنے میں جھجک محسوس ہوئی تو اس نے مجھے کہا کہ آپ نہیں رکھیں گی کام پر تو میں کہیں اور کام کروں گی کیوں، کہ کام تو مجھے کرنا ہے۔ آج بھائیوں نے بھی کہا ہے کہ یہاں رہنا ہے تو خود کمانا ہو گا۔ یوں میرے گھر اس کے کام کی ابتداء ہوئی۔ ان بیتے برسوں میں اس کے ہاں سات بیٹیاں ہوئیں جو یکہ بعد دیگرے اس کے ساتھ گھر کا اور باہر کا کام کر کے ہاتھ بٹاتی رہیں۔ اور پوری طرح قد نکلنے سے پہلے شادی کر کے اس کو اپنے بوجھ سے آزاد کرتیں رہیں۔

کوثر کا شوہر کسی کپمنی میں باورچی تھا جو کماتا تھا وہ صرف اپنی عیش و عشرت پر اور نشہ بازی پر اڑاتا تھا۔ گھر میں کھانے کو کچھ ہے یا نہیں، کون بیمار ہے، کسی کو پوچھنا ہے یا نہیں۔ یہ اس کی ذمے داری نہیں۔ پہلے ایک سوکن اس پر لایا اور پھر دوسری۔ وجہ اس پہلی بیوی سے صرف بیٹیاں ہو نا تھا۔ اس کی سزا سوکنوں کی صورت میں اور کبھی گھر سے نکال کر اور کبھی مار کر دی گئی۔ غرض یہ کہ ایک عام سی کہانی جو ہمارے معاشرہ میں تقریباً معمول کی بات ہے۔ مگر اس کہانی میں کچھ تبدیلی یوں آئی، کہ اتنا سب ہو نے کے بعد اس ان پڑھ، عورت نے دن رات محنت کر کے، اپنا آپ بھلا کر اپنی بچیوں کی پرورش بھی کی، اور پھر شادیاں بھی کیں۔ اس سب میں خدا کے بعد اس کی بیٹوں نے اس کی مدد کی۔

باپ نے حسب معمول صرف سر پر ہاتھ رکھ کر باپ ہونے کا فرض نبھایا۔ آج وہی عورت جو شوہر کے ہاتھوں ماریں کھا کھا کر اپنی بینائی سے محروم ہونے کے درپے ہے۔ اپنے شوہر کی نوکری اور علاج کا سوال کر رہی ہے اور بضد ہے کہ کسی طریقے سے اس کی دونوں باتیں پوری کرنے کا کوئی حیلہ بھی کروں۔ میں نے جب اس سے پوچھا کہ تم وہ سب بھول چکی ہو جو ماضی میں تمھارے ساتھ وہ کرچکا ہے؟ اس نے پھیکی سی ہنسیی سے جواب دیا کہ با جی! مارنے والا بھول گیا ہوگا پر میری ہڈیاں آ ج بھی درد کرتیں ہیں۔ کہنے والے طعنے دے کر بھول گئے ہیں پر وہ باتیں آج بھی سونے نہیں دیتی پر میں کیا کروں؟ بچیاں تو سب اپنے گھر بار کی ہو جائیں گیں۔ میرا تو بڑھاپے کا سہارا میرا سر کا سائیں ہی ہے۔ اس نے مجھے چھوڑا تھا نا، میں نے تو نہیں چھوڑا اس کو۔ میں تو آج بھی اس کی ساتھی ہوں۔

میری نظروں کے سامنے بل گیٹس اور ان کی بیوی کا بیان کا متن گھوم گیا ”۔ ہم اپنی 27 سالہ ازدواجی زندگی کو باہمی رضا مندی اور خوشی سے ختم کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی محبت ختم بھی ہو سکتی ہے“ ۔ اس پر کیا تبصرہ کیا جائے کہ دنیا کے ایک کونے پر پیسہ، آرام و آسائش، توجہ، دھیان، برابری مل کر بھی محبت کو بچانے سے قاصر ہیں اور دنیا کے دوسرے سرے پر محبت کہہ لیں یا پھر ضرورت کہہ لیں آج بھی کہیں اپنا وجود رکھتی ہے۔ ”جیف بینز“ کے معاملے میں بھی تقریباً اسی طرح کی صورتحال رہی۔

اب ان کی سابقہ اہلیہ ایک عام شخص کے ساتھ خوش ہیں۔ اگر ہم اس کو اپنے معاشرے اور خطے کی نظر اور سوچ سے دیکھیں تو شاید یہ جذباتیت کہلاے گی کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی تک عورت کو آزادی رائے کا صیح معنوں میں حق نہ دے پائے۔ مگر جب میں اس کواپنے معاشرے کی عورت کی نظر سے دیکھوں تو سوائے محبت سے محروم، سمجھوتے کے رشتے کے اور کچھ سمجھ نہیں آتا۔

یہ نہیں مرد اس سب میں کہیں شریک نہیں مگر سمجھوتے کا رشتے کا بوجھ زیادہ تر عورت کے حصے میں آتا ہے تو پھر کون سی محبت اور کیسی محبت؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *