ایک ہندو کی رگوں میں مسلما ن کا خون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دہلی کے ہندو مسلم فسادات کے دوران ایک غریب مسلمان سبزی فروش نوجوان نے بھاگ کر ایک ہندو کے گھر پناہ لی۔ یہ 2020 ء کا اوائل تھا اور کسی سیاسی مسئلے پر دہلی میں ہر طرف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی تھی، جس نے جلد ہی انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہندو انتہا پسندوں کے ایک جتھے نے مسلمانوں کے بازار کو ہر طرف سے گھیر لیا اور بے دردی سے سب کو مارنا شروع کر دیا۔ عبداللہ نامی سبزی فروش بھی اس حملے میں زخمی ہوا لیکن وہ کسی نہ کسی طرح وہاں سے اپنی جان بچانے میں کامیاب رہا۔

وہ بھاگ کر سکھوں اور ہندوؤں کے محلے میں جا نکلا اور ایک گھر کا دروازہ کھلا دیکھ کر، بغیر دستک دیے اندر گھس گیا اور گھر کی بوڑھی مالکن سے مدد کی التجا کی۔ بوڑھی نے اس کا نام پوچھا تو عبداللہ بولا ”میں بھگوان کا بندہ ہوں“ ۔ اس خاتون کے بیٹے کا نام بھگوان داس تھا جسے سب ٹائیگر کے نام جانتے تھے، وہ سمجھی کہ زخمی لڑکا اس کے بیٹے کا کوئی دوست ہے اور پناہ کی تلاش میں آیا ہے۔ بھگوان داس کی ماں نے عبداللہ کے ساتھ اپنے بیٹے جیسا سلوک کیا اور اس کی خوب دیکھ بھا ل کی۔

شام کو ٹائیگر گھر آیا تو اس کے کپڑے خون سے لتھڑے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک چھرا تھا۔ ماں اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر اپنا سر پیٹنے لگی اور پوچھا یہ سب کیا ہے۔ وہ بولا، ماں آج میں نے حساب برابر کر دیا۔ سب کو چن چن کر مارا۔ اس نے بڑے فخر سے اپنا سینہ چوڑا کر کے اپنی ماں کو بتایا کہ آج اس نے اپنے باپ کا بدلہ لے لیا۔

2001 ء میں انڈین پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے دوران بھگوان داس کا باپ بھی مارا گیا تھا جو سپیکر آفس میں ایک چپڑاسی تھا۔ بھگوان داس کی عمر ایک سال تھی جب اس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور بچپن سے اسے یہی بتایا اور پڑھایا جا رہا تھا کہ اس کے باپ کے قاتل مسلمان ہیں۔ وہ اپنے سینے میں انتقام کی آگ لے کر بڑا ہوا۔ وہ اپنے باپ کے قاتلوں سے اتنی نفرت کرتا تھا کہ وہ اس ٹرین کی بوگی پربھی سوار نہیں ہوتا تھا جہاں اسے کوئی داڑھی یا ٹوپی والا شخص بیٹھا نظر آتا۔

وہ انہیں ملیچھ سمجھتا تھا اور بھارت دیس سے ان کے وجود کو مٹا دینے کا حامی تھا۔ بھگوان داس کی ماں اسے پولیس کا ایک افسر بنانا چاہتی تھی لیکن اس نے اپنے ہائی سکول کے زمانے سے ہی نوجوانوں کی ایک تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی جو ایک بڑی سیاسی پارٹی کی ذیلی جماعت تھی۔ بھگوان داس کی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے اپنے گھر کا نظام چلاتی اور اپنے اکلوتے بیٹے کی تعلیم کا بوجھ اٹھاتی۔ وہ اپنے بیٹے کو ایک بڑا انسان بننے کی ترغیب دیتی۔ اس نے کبھی بھی اپنے بیٹے کو باپ کا بدلہ لینے پر نہیں اکسایا وہ تو بس چاہتی تھی کہ بیٹا پولیس کا افسر بنے اور مظلوموں کی انصاف دلانے میں مدد کرے۔

اپنے بیٹے کوہاتھ میں خون آلود خنجر کے ساتھ، لہو میں رنگے کپڑوں میں دیکھ کر بھگوان داس کی ماں رام رام کرتے ہوئے چلانے لگی، تو اس کے شور کی آواز سے عبداللہ کی آنکھ کھل گئی جو ان کی کھولی میں نیم بے ہوشی کی حالت میں بے سدھ پڑا تھا۔ عبداللہ کمرے سے باہر آیا تو اپنے سامنے بھگوان داس اوراس کے ہاتھ میں بڑا سا چھرا دیکھ کر گھبرا گیا اور گھر کی مالکن کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگا۔ بھگوان داس کے لیے بھی یہ سب کچھ پریشان کن تھا۔

وہ کسی غیر مرد کو اپنے گھر میں دیکھ کر طیش میں آ گیا اور اپنی ماں سے پوچھنے لگا یہ کس کو گھر میں بٹھا رکھا ہے؟ یہ تیرا کیا لگتا ہے؟ ماں جو پہلے ہی صدمے سے دو چار تھی، مزید دلبرداشتہ ہو کرغصے سے بو لی یہ تیری ماں کا یار ہے جسے میں نے گھر میں پناہ دے رکھی ہے۔ ماں کی بات بھگوان داس کی سمجھ میں نہیں آئی لہذٰا وہ آگ بگولا ہو کر عبداللہ کی طرف لپکا اور اسے زمین پر پٹخ کر پوچھنے لگا، سچ سچ بتاؤ تم کون ہو؟

عبداللہ، جو پہلے ہی زخموں سے چور تھا اور اس کی ہمت بھی جواب دے چکی تھی، جھٹ سے بولا میں عبداللہ ہوں اور ساتھ والی مسلم کالونی میں رہتا ہوں۔ یہ بات سننا تھی کہ بھگوان داس کا خون اور جوش مارنے لگا اور اس نے خنجر عبداللہ کے سینے میں گھونپنے کے لیے ہوا میں بلند کیا۔ بھگوان داس کی ماں جو اب تک مظلومیت کی تصویر بنی کھڑی، اپنے بیٹے کو قاتل اور وحشی سمجھ رہی تھی، اس نے فوراً ایک دیوی کا روپ دھار لیا اور اپنے پاگل بیٹے کو اپنے بازوؤں سے جکڑ کر عبداللہ کو بچانے کی کوشش کرنے لگی۔ اس وقت بھگوان داس کے سر پر تو خون سوار تھا اس نے اپنی ماں کو زور سے دھکا دیا اور پھر عبداللہ کو مارنے کے ہاتھ اٹھا یا۔ اب کی بار اس کی ماں نے بیٹے کو اپنی ممتا کا واسطہ دے کر بات سننے کو کہا۔

بھگوان داس کواپنی ماں سے بہت محبت تھی، دنیا میں واحد وہی اس کا سہارا تھی۔ وہ اپنی ماں کو کل کائنات سمجھتا تھا۔ جب بھی اس نے اپنی ماں سے کوئی بڑی چیز مانگنی ہوتی وہ ماں کو اسی کی مامتا کا واسطہ دے کرراضی کر لیتا۔ تبھی ممتاکا واسطہ سنتے ہی اس کے بڑھتے ہوئے ہاتھ وہیں رک گئے۔ وہ بولا، ”ماں تو نے ایک مسلمان کو اپنے گھر میں کیسے گھسنے دیا؟“ ماں بولی، ”بیٹا میں تو سمجھی یہ تیرا کوئی دوست ہے جو زخمی حالت میں مدد کے لیے تیرے پاس آیا۔

اسی سے پوچھ لو اس نے کہا کہ وہ بھگوان کا بندہ ہے۔“ بھگوان داس نے نفرت بھری نظروں سے عبداللہ کو دیکھا اور پوچھا ”کیوں بے تو جھوٹ کیوں بولا؟ تو مجھے کب سے جانتا ہے؟“ عبداللہ لرزتے ہونٹوں اور تھر تھراتی آواز میں بولا، ”میں نے کب جھوٹ بولا، میں نے تو سچ ہی کہا تھا کہ“ میں بھگوان کا بندہ ہوں ”اور اس کے بعد ماں نے کچھ پوچھا ہی نہیں تو میں کیا بتاتا۔“ یہ بات سن کر بھگوان داس نے ماں کی طرف مڑ کر دیکھا اور بولا ”یہ تو نے کیا کر دیا ماں“ ۔ بھگوان داس کی نظر میں اس کا سار ا گھر پلید ہو چکا تھا اور وہ اپنے گھر میں کسی ملیچھ کا خون نہیں بہانا چاہتا تھا۔ وہ عبداللہ کے سینے سے اٹھا اور اسے بھاگ جانے کو کہا لیکن ساتھ ہی بولا، ”کبھی پھر ملا تو ضرور ماروں گا۔“

عبداللہ کی جان خلاصی ہوئی اور وہ بھاگ کر اپنے محلے چلا گیا۔ بھگوان داس نے اپنے گھر کا سارا سامان جلا دیا اور برتن باہر پھینک دیے کیونکہ اس کے نزدیک گھر کا سب مال اب ان کے استعمال کے قابل نہیں رہا تھا اور گھر کو دوبارہ پوتر کرنے کے لیے ضروری تھا گھر کو اچھی طرح دھویا جائے اور عبداللہ نے جس جس چیز کو چھویا اسے آگ لگا دی گئی۔ خیر بعد میں بھگوان داس کو حکومت کی طرف بڑی امداد بھی حاصل ہوئی کیونکہ اس نے دعوی کیا کہ کسی مسلمان نے اس کے گھر پر حملہ کیا اور ان کا سارا سامان جل گیا۔

عبداللہ اپنے گھر پہنچا تو وہاں ایک اور قیامت برپا تھی۔ اس کا باپ اور بڑا بھائی مسلم کش فسادات کے دوران مارے جا چکے تھے اور گھر میں اس کی اکیلی ماں بیٹھی لاشوں پر ماتم کناں تھی۔ عبداللہ کے پاس اپنی باپ اور بھائی کے کفن، دفن کے لیے پیسے تک نہیں تھے لیکن کمیونٹی کی مدد سے مردوں کو دفنا دیا گیا۔ ہندو مسلم فسادات نے جہاں ہزاروں گھر برباد کیے وہاں عبداللہ کا خاندان بھی اجڑ چکا تھا۔ عبداللہ کی ماں نیم پاگل ہو گئی اور ہر وقت اپنے بیٹے کو یہی کہتی رہتی بیٹا انہیں چھوڑنا مت، کہیں وہ تجھے بھی نہ مار دیں۔ عبداللہ بے روز گار ہو چکا تھا اور اس نے ایک مقامی این جی او کے دفتر میں آنا جا نا شروع کر دیا جہاں اسے کمینول رائٹس پر بولنے اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی تربیت دی جاتی۔ لیکن کہیں ناں کہیں اس کے اندر بھی اپنے باپ اور بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کی آگ سلگ رہی تھی۔

دہلی میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات کی آگ ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ دنیا بھر میں کرونا کی وبا پھوٹ پڑی اور اس کے اثرات بھارت میں بھی آنے شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ اپریل 2021 ء کے وسط میں دہلی میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد پھیپھڑوں اور سانس لینے کی بیماری کا شکار ہونے لگی۔ کیا ہندو، کیا مسلمان، سب کو جان کے لالے پڑ گئے۔ عبداللہ اور بھگوان داس کی بوڑھی مائیں بھی ہسپتال پہنچ گئیں۔

ایک کی ماں آکسیجن کی کمی کا شکار تھی اور دوسرے کی ماں کو پلازماتھراپی کے لیے خون درکار تھا۔ عبداللہ پچھلے سال ہی کوورڈ 19 سے صحت یاب ہو چکا تھا اس نے رضا کارانہ طور پرہسپتال میں بلڈ پلازما کے لیے اپنا خون دینے کا فیصلہ کیا جو کسی طرح بھگوان داس کی ماں کو لگا یا گیا، جس سے اس کی جان بچ گئی۔ ماں کی صحت یابی پر بھگوان داس بہت خوش تھا اور اس نے مندر جا کر مورتیوں پر بڑا چڑھاوا چڑھایا۔ عبداللہ نے بھی مسجد جا کر منت مانی کہ اگر اس کی ماں کرونا سے بچ گئی تو وہ اپنے خون کی ایک اور بوتل انسانیت کے لیے وقف کر دے گا لیکن اس کی ماں آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے پاؤں رگڑ رگڑ کر مر گئی۔

عبداللہ اپنی ماں کی میت لے کر ہسپتال سے نکل رہا تھا اور بھگوان داس اپنی ماں کو ہسپتال سے گھر لے جانے کے لیے داخل ہو رہا تھا۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوا، ایک کی آنکھ میں ماں کی بے بسی کی موت آنسو تو دوسرے کی آنکھ میں ماں کی جان بچ جانے پر خوشی کے آنسو تھے۔ دونوں جان کے دشمنوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ بھگوان داس ماں کی صحت یابی پر خوش تھا اور ترنگ آ کر بولا، جا ہم نے تیری جان بخش دی، آج اپن بہت خش ہے، ہماری ماں کی جان بچ گئی، دیکھ مگر پھر میرا راستہ مت کاٹنا ”۔

عبداللہ کو جان کر خوشی ہوئی کہ بھگوان داس کی ماں جان بچ گئی، وہ تھوڑی دیر کے لیے اپنی ماں کا غم بھول گیا اور بولا،“ میں تمھاری ماں چرنوں کو چھونا چاہتا ہوں جس نے میری جان بچائی۔ بھگوان داس کے اندر پھر ٹائیگر والی روح آ گئی اور گرجدار آواز میں بولا، ”ابے سالے تو نے جس جس برتن کو چھوا میں نے وہ سب توڑ دیے، اب تو میری ماں کو چھوئے گا۔ بھگوان داس کو شاید معلوم نہیں تھا اس کی ماں کی جان عبداللہ کے خون کی وجہ سے بچی۔ بھگوان داس کی ماں رگوں میں ایک مسلمان کا خون بلڈ پلازما کی صورت میں دوڑ رہا تھا۔ اگر یہ بات اسے معلوم ہو جائے تو شاید وہ کسی کو بھی ملیچھ نہ سمجھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *