سنہ 2020 میں انسانی حقوق کی صورتحال – اہم نکات


کوویڈ 19 کا بحران

● سال کے آخری دن تک 10,105 افراد وائرس کے باعث وفات پا چکے تھے، مصدقہ کیسز کی تعداد 479,715 ہو چکی تھی اور وائرس کی ایک نئی اور زیادہ متعدی قسم کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔

● وبا کے دوران میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں فیکٹری اور نجی ملازمین اپنی ملازمتیں کھو بیٹھے اور سب سے زیادہ نقصان دیہاڑی دار مزدوروں کا ہوا۔

● زیادہ تر جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی اور صفائی کے فقدان کے باعث قیدیوں کے وبا سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا۔ وزارت انسانی حقوق نے اعتراف کیا کہ اس نے جن جیلوں کا دورہ کیا وہاں ایس او پیز پر خاطرخواہ عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا۔

● وبا نے تعلیمی اداروں پر کاری ضرب لگائی اور طلباء کو آن لائن کلاسز لینا پڑیں۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان، خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اور گلگت۔ بلتستان کے ان ہزاروں طلباء کو اٹھانا پڑا جنہیں قابل اعتماد انٹرنیٹ تک یا تو رسائی کم تھی یا بالکل نہیں تھی۔

● کوویڈ 19 کے بحران کے دوران میں اعلیٰ سطح کی رابطہ کمیٹی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر پارلیمان کی منظوری کے بغیر تشکیل دیے گئے۔

● سندھ کوویڈ 19 ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس 2020 ء مزدوروں، کرایہ داروں اور سکول جانے والے بچوں کے والدین کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم اقدام تھا۔

● تمام صوبوں اور وفاقی علاقہ جات میں نقل و حرکت کی آزادی وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی حد تک محدود کی گئی، اگرچہ کہا جاتا ہے کہ چند علاقوں میں ان پابندیوں کا من مانا اطلاق کیا گیا۔

● وبا کے دوران میں اجتماعات کو محدود کرنے کے حوالے سے متضاد اقدامات دیکھنے کو ملے۔ بڑے بڑے مذہبی اجتماعات کی نسبت سیاسی اجتماعات کو زیادہ پابندیوں کا سامنا رہا۔

قوانین اور قانون سازی

● پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں نے کل 80 ایکٹ منظور کیے۔ ان میں 20 وفاقی اور 65 صوبائی ایکٹ شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا نے اس سال تمام صوبوں سے زیادہ 38 ایکٹ منظور کیے۔

● وفاقی حکومت نے صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور 2020 ء میں ایسے آٹھ آرڈیننس جاری کیے گئے، جس سے درست پارلیمانی طریق ہائے کار نظرانداز ہوئے۔

● قومی اسمبلی کی ایک اہم کامیابی 10 مارچ کو زینب الرٹ، ریسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ کی منظوری تھی۔ توقع ہے کہ یہ قانون ایک فوری ردعمل کے نظام کے ذریعے بچوں کے خلاف جرائم پر قابو پانے میں مدد دے گا۔

عدل و انصاف کی فراہمی

● سال کے آخر تک عدلیہ میں 21 لاکھ مقدمات زیر التوا تھے۔ 2019 میں یہ تعداد 18 لاکھ تھی۔

● قومی احتساب بیورو کے طور طریقے بنیادی انسانی حقوق، بشمول شفاف ٹرائل اور معین طریق کار کے حق، وقار کے حق، نقل و حرکت اور خلوت کی آزادی، اور تجارت اور کاروبار کرنے کے حق کے منافی رہے۔

● اخباری اطلاعات نے اس بات کی تصدیق کی کہ فوجی عدالتوں سے مبینہ دہشت گردی کے جرائم میں سزا پانے والے 196 افراد کو پشاور ہائی کورٹ نے ایک ایسے حکم کے تحت بری کر دیا جس میں انصاف کے قتل پر سخت فرد جرم بھی شامل ہے۔

● سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات پر دائر کیے گئے ایک صدارتی ریفرنس کو اختلاف رائے رکھنے والے ججوں کو دھمکانے کا ایک طریقہ قرار دیا گیا۔

سزائے موت

● اخباری اطلاعات سے اکٹھے کیے اعداد و شمار کے مطابق 2020 ء میں کم از کم 177 کو موت کی سزا سنائی گئی۔ یہ تعداد 2019 ء کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے جب 578 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ سال کے دوران میں کسی کو بھی پھانسی دیے جانے کی اطلاع نہیں ملی۔

پاکستان اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے

● اگرچہ پاکستان نے اپنی پانچویں مرحلہ وار رپورٹ سیڈا کا جائزہ مکمل کیا، فروری میں سول سوسائٹی کی جانب سے سیڈا کے 75 ویں اجلاس میں جمع کرائی گئی متبادل رپورٹ میں کئی اہم سفارشات کی گئیں جن میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک فعال اور موثر قومی ادارے کا قیام بھی شامل تھا۔

● 2019 ء کی طرح، ماورائے عدالت ہلاکتوں، انسانی حقوق کے دفاع کاروں کی صورت حال، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ، مذہب یا عقیدے کی آزادی، اور ایذا رسانی اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی جانب سے ملک کے دورے کی درخواستیں زیر التوا رہیں۔

انسانی حقوق کے قومی ادارے
● قومی کمیشن برائے انسانی حقوق مئی 2019 سے غیر فعال ہے اور نئے چیئرپرسن کا تقرر اب تک نہیں ہوسکا۔
● قومی کمیشن برائے حقوق نسواں کا عہدہ نومبر 2019 ء سے خالی ہے۔

● وزارت انسانی حقوق نے بالآخر قانون منظور ہونے کے ایک سال بعد قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

● اگرچہ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا تھا، تاہم سال کے آخر تک یہ کمیشن غیرفعال رہا۔

امن عامہ

● پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سابق قبائلی اضلاع میں جنگجوؤں کے حملوں میں اضافہ ہوا جب کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ایسے واقعات میں کمی دیکھی گئی۔

● سال کے دوران میں خودکش حملوں میں تو نمایاں کمی ہوئی لیکن ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی اور 2019 ء میں ہونے والے 24 حملوں کے مقابلے میں 2020 ء میں ایسے 49 واقعات پیش آئے۔

● پولیس اہلکاروں کو، خاص کر پنجاب میں، حراست میں ہلاکتوں سمیت کئی خلاف ورزیوں کا مورد الزام ٹھہرایا گیا۔

● اکتوبر میں، سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو سکیورٹی ایجنسیوں نے اغواء کر لیا اور انہیں حزب اختلاف کے ایک سیاست دان کی گرفتاری کے احکامات جاری کرنے پر مجبور کیا۔ اس سے اعلیٰ سطح پر پولیس پر ناجائز دباؤ کی عکاسی ہوتی تھی۔

● بلوچستان کے علاقے تربت میں فرنٹیئر کور کے ہاتھوں ایک غیر مسلح طالب علم حیات بلوچ کی ماورائے عدالت ہلاکت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔

جیل اور قیدی

● پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی موجود رہے۔ وفاقی محتسب کے مطابق، 116 جیلوں میں 64,099 کی گنجائش کے برعکس 124 فیصد کے تناسب سے 79,603 قیدی موجود رہے۔

● بدقسمتی سے، ہائی کورٹس کی جانب سے کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم کرنے کے لئے مخصوص درجوں کے قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کے فیصلوں کو سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا۔

● پنجاب جیل خانہ جات ایکٹ کے ضوابط پر نظرثانی کا عمل سال کے آخر تک حکومتی منظوری کا منتظر رہا۔
جبری گمشدگیاں

● موجودہ حکومت کی جانب سے 2018 ء سے کیے گئے وعدوں کے باوجود، جبری گمشدگیوں کو ایک علیحدہ اور مکمل بالذات جرم قرار دینے سے متعلق بل اب تک منظور نہیں کیا جا سکا۔

● جبری گمشدگیوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے آغاز سے لے کر اب تک، لاپتا افراد کی تعداد کے لحاظ سے خیبر پختونخوا فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ دسمبر 2020 ء کے آخر تک صوبے میں درج مقدمات کی کل تعداد 2,942 رہی۔

● جبری گمشدگیوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار اصل صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ لوگوں کو سال بھر اٹھایا اور رہا کیا جاتا رہا اور متاثرین کے خاندان انتقامی کارروائی کے خوف کا باعث ایسے مقدمات کی پیروی سے ہچکچاتے رہے۔

● انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس، جس نے قراردیا تھا کہ تحقیقاتی کمیشن سزا سے استثنا کے خاتمے میں پوری طرح ناکام ہو چکا تھا، کے ایک سخت جائزے کے باوجود حکومت نے مؤخر الذکر کی مدت میں مزید تین سال کی توسیع کردی۔

● 16 جون 2020 ء کو انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کی جبری گمشدگی اور اس کے بعد شروع ہونے والی بین الاقوامی مہم کے بعد وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ وہ ان کی تحویل میں تھے اور ان پر غداری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

● سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد میں مبینہ طور پر سکیورٹی ایجنسیوں نے اغواء کیا اور انہیں 12 گھنٹے تک زیر حراست رکھا۔ اس اقدام کو اختلاف رائے کو دبانے اور ایک مسلسل خوف کی فضاء قائم رکھنے کی کوشش قرار دیا گیا۔

جمہوری ترقی

● بلدیاتی انتخابات مقررہ مدت گزر جانے کے کافی عرصہ بعد بھی چاروں صوبوں میں زیرالتوا رہے جو الیکشن ایکٹ 2017 ء کی خلاف ورزی اور 18 ویں آئینی ترمیم کی نفی تھی۔

● الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق، ووٹروں کے درمیان صنفی تفاوت کم ہو چکا ہے اور انتخابی فہرستوں میں شامل کیے گئے نئے ووٹروں میں اکثریت خواتین کی ہے۔

● جب کراچی میں مون سون کی بارشوں کے دوران میں شہری زندگی تقریباً معطل ہو گئی تو شہر کی تباہ حال مقامی حکومت کو اس کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا۔

● خیبر پختونخوا میں نئے ضم ہونے والے اضلاع (سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات) کو مرکزی دھارے میں لانے کا وعدہ پورا نہ ہوسکا۔

● کوویڈ 19 کے باعث اگست سے ملتوی ہونے والے گلگت۔ بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات نومبر میں منعقد ہوئے اور پاکستان تحریک انصاف نے نئی حکومت بنائی۔

نقل و حرکت کی آزادی

● اکتوبر میں، رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما محسن داوڑ کو ’سکیورٹی خطرات‘ کی بناء پر کوئٹہ داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

● وفاقی حکومت کی جانب سے ساحلی شہر گوادر کے گرد باڑ لگائے جانے کی منصوبہ بندی کیے جانے کی اطلاعات نے شہریوں کو ان خدشات میں مبتلا کر دیا کہ ان کی نقل و حرکت کی آزادی محدود ہو جائے گی۔

اجتماع کی آزادی

● دسمبر میں پی ٹی ایم نے کراچی میں ایک جلسہ منعقد کیا جس کے ایک روز بعد کراچی پولیس نے ’لوگوں کو ریاست کے خلاف جرائم پر اکسانے‘ کے الزام میں پی ٹی ایم کے کئی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔ بعد ازاں، رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو گرفتار کر لیا اور وہ سال کے آخر تک زیرحراست تھے۔

● بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے آن لائن کلاسز میں حصہ لینے کے لیے بہتر انٹرنیٹ کنکشنز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے نافذ کی گئی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 144 کے تحت متعدد طلباء کو گرفتار کر لیا گیا۔

انجمن سازی کی آزادی

− اگرچہ سندھ نے 2019 میں طلبا یونین کی بحالی کے قانون منظوری کے حوالے سے مثبت پیش قدمی کا مظاہرہ کیا مگر 2020 میں اس پر مزید پیش رفت نہیں ہو سکی نہ ہی کسی اور صوبے نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی قدم اٹھایا۔

− ملک بھر میں غیرسرکاری تنظیموں کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اندراج کی سخت پالیسی کا اطلاق جاری رہا۔ کئی تجزیہ کاروں کا خدشہ ہے کہ صوبائی چیریٹیز قوانین کا مقصد انجمن سازی کی آزادی پر ایسی پابندیاں عائد کرنا ہے جو دستور پاکستان کے منافی ہیں اور جن کی پاکستان پر عائد عالمی قانونی ذمہ داریاں اجازت نہیں دیتیں۔

آزادی اظہار

− کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے مطابق، اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران میں کم از کم 10 صحافی جان سے گئے جبکہ کئی کو دھمکیوں، اغواء، تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

− زمین کی الاٹمنٹ کے 34 برس پرانے مقدمے میں جنگ میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری سے اؚس تاثر کو تقویت ملی کہ یہ ذرائع ابلاغ کو مقتدر حلقوں کے موقف کے آگے جھکنے کے لیے مجبور کرنے کی کوشش تھی۔

− آزادانہ آوازوں کو خاموش کرنے کی منظم مہم کے دوران میں ایکسپریس ٹربیون سے وابستہ صحافی بلال فاروقی کو غداری کے الزامات پر کئی گھنٹوں تک گرفتار رکھا گیا۔

− بلوچستان میں صحافی انور کھیتران کے قتل کی وجہ ان کی رپورٹنگ بتائی جاتی ہے، جس کے باعث علاقے کے قبائلی سردار ان سے نالاں تھے۔

− 2020 میں تحفظ بنیادؚ اسلام بل کی منظوری آزادانہ آرا اور اختلاف رائے کو دبانے کی ایک اور کوشش قرار دی گئی۔ سول سوسائٹی کے دباؤ کے بعد بل کی منظوری بالآخر روک دی گئی تھی۔

− ذرائع ابلاغ پر قدغنوں کا سلسلہ پورا سال جاری رہا۔ کئی صحافیوں نے شکایت کی کہ وہ غیرریاستی یا ریاستی عناصر کے خوف کی وجہ سے اپنی زبان بند رکھنے پر مجبور ہیں۔

ڈیجیٹل حقوق

− بلوچستان کے کئی اضلاع اور خیبرپختونخوا کے سابق قبائلی اضلاع میں انٹرینٹ سروس کا معیار بہت پست رہا یا وہاں ’قومی سلامتی‘ کے نام پر انٹرنیٹ سروس دستیاب ہی نہیں تھی۔

− گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز پر ’سپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشنز‘ کے بدستور کنٹرول کی وجہ سے وہاں انٹرنیٹ سروس کا معیار بہت ناقص تھا جس کا نقصان ان دونوں علاقوں کے طلباء کو اٹھانا پڑا۔

− الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کے تحت نومبر میں غیرقانونی آن لائن مواد کا خاتمہ و روک تھام (ضابطہ، نگرانی اور حفاظتی اقدامات) قواعد کے اطلاق نے حکومت کو ڈیجیٹل مواد پر مکمل پابندی عائد کرنے کا قانونی راستہ فراہم کیا۔

− اکتوبر میں معروف ڈیجیٹل ایپ ٹک ٹاک پر یہ کہہ کر عارضی پابندی لگا دی گئی کہ یہ ’فحاشی‘ اور ’بداخلاقی‘ کو فروغ دے رہی ہے۔

مذہب یا عقیدے کی آزادی

− مذہبی اقلیتوں اور اقلیتی مسلم فرقوں کے خلاف مذہب کی بے حرمتی کے الزامات، مذہب کی جبری تبدیلی اور ان پر مظالم کا سلسلہ جاری رہا۔

− ایچ آر سی پی نے 2020 میں مذہب کی جبری تبدیلی کے کم از کم 31 واقعات قلم بند کیے، جن میں سے چھ واقعات کمسن بچیوں سے متعلق تھے۔

− پولیس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2020 کے دوران میں کم از کم 586 افراد کو مذہب کی بے حرمتی کے مقدمات میں ملوث کیا گیا۔ اکثریت کا تعلق پنجاب سے تھا۔

− جماعت احمدیہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے اراکین کے خلاف مذہبی بنیادوں پر کم از کم 24 مقدمات درج ہوئے۔ متاثرین میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے ایک سنار بھی شامل تھے جن پر ایک گائے کو ذبح کر کے گوشت سنی مسلمانوں میں تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

− جماعت احمدیہ کے کم از کم تین افراد کو ٹارگٹ کلنگ کے مختلف واقعات میں ہلاک کیا گیا۔ ان میں توہینؚ رسالت کے مقدمے میں ملوث ایک بڑی عمر کے شخص بھی شامل تھے جنہیں احاطہ عدالت میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

− آزادی کے ساتھ عبادت کا حق بدستور مشکلات کا شکار رہا: حکومت نے اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کا اعلان کیا تو انتہا پسند گروہوں اور حکومت کی اتحادی مرکزی سیاسی جماعتوں نے تعمیر روکنے کا عزم ظاہر کیا۔

− سول سوسائٹی، وزارت مذہبی امور و بین العقائد ہم آہنگی کے تحت تشکیل پانے والا قومی اقلیتی کمیشن قانون کے ذریعے قائم ہونے والا خودمختار ادارہ نہیں ہے، اور یہ امر سول سوسائٹی کی شدید مایوسی کا سبب ہے۔

عورتیں

− عالمی معاشی فورم کے جنسی تفاوت کے عالمی گوشوارے میں 153 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا درجہ 151 تھا۔

− ایچ آر سی پی کو گھریلو اور آن لائن تشدد کی بڑھتی ہوئی شکایت موصول ہوئیں جس سے ظاہر ہوا کہ وبا کے دوران میں عورتیں اور زیادہ غیرمحفوظ ہوئی ہیں۔

− ذرائع ابلاغ کی اطلاعات پر مبنی، ایچ آر سی پی نے 2020 کے دوران میں ’عزت‘ کے نام پر قتل کے 430 واقعات قلمبند کیے جن میں 148 مردوں اور 363 عورتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

− ستمبر میں لاہور۔ سیالکوٹ موٹروے پر ایک عورت کے ساتھ اس کے بچوں کی موجودگی میں اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے نے عوام کو غم و غصے اور صدمے سے دوچار کیا۔ لاہور پولیس کے سربراہ نے اس اندوہناک صورتحال کو یہ کہہ کر اور زیادہ گمبھیر کر دیا کہ اسے (متاثرہ عورت کو) ’اپنا راستہ چنتے وقت احتیاط کرنی چاہیے تھی‘ ۔

− عورتوں کے حقوق کے کارکنان نے عورت کی پاک دامنی کی تصدیق کے لیے ’دو انگلیوں کے معائنے‘ جیسے فرسودہ اور غیراخلاقی قانون کو عدالت عالیہ لاہور میں چیلنج کر کے اہم کامیابی حاصل کی۔

− تربت میں پیش آنے والے ایک انتہائی اندوہناک واقعے میں مسلح رہزنی کے دوران میں تین افراد نے ایک عورت کو اس کے گھر میں گولیاں مار کر ہلاک اور اس کی چار سالہ بچی کو زخمی کر دیا۔ اؚس دعوے نے بلوچستان بھر میں غم و غصے کی فضا پیدا کر دی کہ حملہ آوروں کو ”ڈیتھ اسکواڈ ’کے ایک مقامی رہنما نے بھیجا تھا۔

بچے

− ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کے 2,960 واقعات قلمبند ہوئے۔ اصل تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔

− زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی عمر پر نظر دوڑائیں تو اور زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ ایک سال کی عمر والے بچے بھی محفوظ نہیں رہے، اور جرائم کی نوعیت خاص طور پر بھیانک تھی جس کا دائرہ اغواء کے بعد زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے بعد قتل تک پھیلا ہوا تھا۔

− جون میں راولپنڈی میں آٹھ سالہ ملازمہ زہرہ شاہ جس نے پنجرے میں بند طوطے آزاد کیے تھے، کی اپنے مالکان کے ہاتھوں پر تشدد ہلاکت کی عوامی سطح پر شدید مذمت ہوئی۔

− بلوچستان میں ایک انتہائی بہیمانہ واقعے میں قلعہ عبداللہ میں ایک آٹھ سالہ بچے کی درخت سے لٹکتی لاش برآمد ہوئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تصدیق کی کہ اسے دو افراد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

محنت کش

− نج کاری کی پالیسی کے تحت، پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ نے 4,500 سے زائد ملازموں کو ملازمت سے فارغ کیا جس کی محنت کشوں کے حقوق کے کارکنان نے شدید مذمت کی۔

− پنجاب حکومت نے پاکستان کے توثیق شدہ عالمی معاہدات اور شعبہ محنت کے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کارخانہ جات کو معائنے سے استثنی دے دیا۔

− ایک اندازے کے مطابق، 2020 میں عدالت عالیہ سندھ کے احکامات کی روشنی میں 2,437 جبری مزدوروں کو جبری مشقت سے رہائی ملی۔

− پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے اندازوں کے مطابق، سال کے دوران میں 116 کان کن اپنے کام کے مقام پر حادثات کا شکار ہو کر جان سے گئے، اس کے باوجود پاکستان نے ابھی تک آئی ایل او کنونشن 176 کی توثیق نہیں کی جو کان کنوں کی حفاظت کے لیے گہرائی کی حد کا تعین کرتا ہے۔

− صوبائی حکومتوں سے ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا کہ وہ آئی ایل او کنونشن 144 کے تحت سہ فریقی لیبر کانفرنسیں منعقد کریں۔

تعلیم

− عام طور پر، کوویڈ 19 کی وجہ سے متعارف ہونے والی آن لائن کلاسز کا فائدہ صرف ان خوش قسمت طالب علموں کو ہوا جنہیں ڈیجیٹل رسائی حاصل تھی، جب کہ کسی قسم کی مدد سے محروم متعدد ایسے طالب علموں کو صورتحال سے نبٹنے کے لیے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،

− ماہرین تعلیم نے خدشات کا اظہار کیا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی تعطل کے باعث اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

− ملک بھر میں یونیورسٹی طلباء نے فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا اور وہ فیسوں کی معافی کا مطالبہ کرتے رہے جس کے ردعمل میں پولیس نے کئی ایسے مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے بے جا طاقت کا استعمال کیا۔

صحت

− کوویڈ 19 نے مستعدی اور سہولیات، دونوں میدانوں میں شعبہ صحت کی خامیوں کو بے نقاب کیا۔ حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ملے جلے پیغامات اور معیاری قواعد و ضوابط (ایس او پیز) کا ناقص اطلاق عوام کو وبا کی سنگینی سے روشناس کرنے میں ناکام رہا۔

− کوویڈ 19 لاک ڈاؤن کے دوران میں بڑے سرکاری ہسپتالوں میں شعبہ بیرونی مریضاں کی بندش نے صحت کے بحران کو اور زیادہ گمبھیر کیا۔

− وبا کے بحران کے دوران میں فیصلے زیادہ تر معیشت کو مدنظر رکھ کر کیے گئے، اور انہیں عوام کی غالب اکثریت کی حمایت حاصل تھی، جس کا خیال تھا کہ ان کا عقیدہ ان کی حفاظت کرے گا، اور یوں انہوں نے ماسک جیسی انتہائی بنیادی حفاظتی تدبیر کو بھی کوئی اہمیت نہ دی۔

− پہلی لہرکے بعد عارضی وقفے کے دوران میں، ایس او پیز کی پاسداری کم ہو گئی اور نتیجتاً متوقع دوسری لہر کئی ہلاکتوں کا سبب بنی۔

− وبا نے صحت کے دیگر مسائل سے توجہ ہٹائی تو پولیو ویکیسن اور ڈینگی کنٹرول پروگرام کو سال کے آخر تک ملتوی کر دیا گیا جس سے ان بیماریوں کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

ماحول

− وبا کے باعث نافذ لاک ڈاؤن کے دوران میں فضائی آلودگی میں مختصر وقفے کے بعد، سال کے اختتام تک فیصل آباد اور لاہور سب سے زیادہ آلودہ شہروں کے حوالے سے دہلی سے آگے نکل گئے۔ اؚن شہروں میں ہوا کا معیار نقصان دہ سطحوں تک پہنچ گیا۔

− صوبے بھر میں ہونے والی مون سون بارشوں میں کم از کم 30 ہلاکتوں کے بعد سندھ حکومت نے 20 اضلاع کو ”آفت زدہ ’قرار دیا۔

− خیبر پختونخوا میں تجاوزات اور جنگلوں کی غیرقانونی کٹائی پر ہونے والی سرکاری تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ہری پور میں لینڈ ڈویلپرز خطرات میں گھرے وسیع جنگلوں کو تجارتی و رہائشی علاقوں میں بدل رہے ہیں۔

Facebook Comments HS