گولڈن گرلز سے گرینڈ گولڈی کا مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب سے پہلے تو گولڈن گرلز کو مبارک باد کہ اتنے ٹیبو قسم کے موضوعات پر اتنا دبنگ لکھ رہی ہیں۔ اس خط و کتابت نے بہت سے لوگوں کو چونکا دیا بلکہ چوکنا کر دیا۔ کچھ کو آئینہ نظر آیا اور کچھ اس آئینے میں اپنی شبیہ دیکھ کر بھی کچھ نہ سمجھے۔ کچھ کو اپنی شکل بری لگی لیکن انہوں نے آئینے ہی کو گالی دی اور دکھانے والیوں کو بھی۔ گولڈن گرلز کی جانب سے مجھے بھی اس پر لکھنے کو کہا۔ انہوں نے جو لکھا وہ اپنے تجربات اور مشاہدے کی بنیاد پر لکھا ہے۔ کوئی کیسے اس سے منکر ہو سکتا ہے؟ اچھا تو یہ ہے کہ آپ آئینہ توڑنے کے بجائے اپنی صورت سنوارنے پر توجہ دیں۔ رابعہ جب آپ نے پیغامات بھیجے کہ اس پر کچھ لکھیے تو میں نے کہا تھا کہ میں ضرور لکھوں گی بس ان دنوں ناروے کے بارے میں مضامین لکھنے میں بہت مصروف ہوں۔ اب یہ سلسلہ اپنے اختتام کے نزدیک ہے اور قدرے فرصت ہے تو میں نے وعدہ پورا کرنے کا ارادہ کر لیا۔ خاص طور پر تحریم کا حالیہ کالم پڑھ کر تو میں نے طے کر لیا کہ اب لکھنا ہے۔ میں تحریم کی تحریر سے متفق ہوں۔

ہمارے معاشرے میں عورت کو کمزور کہا جاتا ہے۔ لڑکیاں ڈری ڈری سی، سہمی ہوئی سی اور مرد کو بہادر اور قوی سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہاں کمزور اور بزدل مردوں کی کمی نہیں۔ کمزور مرد لفاظی بہت عمدگی سے کرتا ہے۔ اپنے لفظوں کے پھولوں سے پورا گلدستہ بنا دیتا ہے۔ میں ان ہی کمزور مردوں پر کچھ لکھ رہی ہوں۔

یہ باتیں بڑی بڑی کرتے ہیں جیسے انسانیت کی بھلائی، انسان کی قدر و قیمت، خلوص اور محبت کے نغمے، وفا کے ترانے اور اقوال زریں۔ لیکن جب وقت آتا ہے تو ان سب آدرشوں سے دستبردار ہو کر کسی بہانے کی اوٹ میں جا چھپتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ہی مدار کے گرد گردش کرتے ہیں۔ خود اعتمادی سے محروم، فیصلے کی ہمت سے عاری یہ مرد دوسروں پر الزام دھرنے میں اپنی عافیت دیکھتے ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے معیار اپنے لیے کچھ اور اور دوسروں کے لیے کچھ اور ہوتے ہیں۔

کمزور مرد ذہین عورت سے خائف رہتا ہے۔ عورت کے سوال اور سوال کے جواب اور بحث اسے خوفزدہ کر دیتی ہے۔ یہ کمزور مرد کچھ کچھ نرگسیت کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ یونانی دیومالا Mythology میں ایک انتہائی خود پسند بلکہ خود پرست کردار Narcissus ہے جو پانی میں اپنا ہی عکس دیکھ کر خود پر فدا ہو گیا تھا۔ یوں اپنے آپ کو اس قدر چاہنے اور خود پر مرمٹنے والی کیفیت کو علم نفسیات میں نرگسیت [Narcissism]اور ایسے شخص کو نرگسیت زدہ [Narcissistic]کا نام دیا گیا۔ ہمارے معاشرے میں نرگسیت زدگان ہر شعبہ زندگی میں مل جاتے ہیں۔ انہیں پہچاننا زیادہ مشکل نہیں۔

خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ

ان کا بس نہیں چلتا کہ اپنی مورتی بنا کر سجا لیں اور دن رات اس کی آرتی اتاریں۔ نفسیات کی دنیا میں نرگسیت کے شکار لوگوں کو اپنی محبت میں گرفتار تو نہیں کہا جاتا۔ نرگسی لوگوں کی صحیح تعریف یہ ہوگی کی وہ اپنی خود ساختہ شخصیت کو کامل سمجھتے ہیں اور خود اپنے کو ہی آئیڈلایز کرتے ہیں۔ یہ کیفیت ایک پرسنلٹی ڈس آرڈر ہے۔ دیکھیے تو آس پاس ہی نظر آ جائیں گے۔

ظاہر وہ یہی کرتے ہیں کہ وہ نہایت اصول پسند اور منصف مزاج ہیں۔ لیکن ان کے معیار میں دوغلاپن ہوتا ہے۔ عورت کے حقوق، آزادی اور خودمختاری پر بات تو کرتے ہیں۔ خود کو فیمینسٹ بھی ظاہر کرتے ہیں لیکن یہ بھی چاہتے ہیں کہ عورت ان کی محتاج رہے۔ عورت کو سیدھی راہ دکھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اور اگر آپ سوال کریں انہیں چیلنج کریں تو جیسا کہ تحریم نے کہا پھر وہ اچھی عورتیں نہیں رہتیں۔ ان پر ٹھپے لگ جاتے ہیں۔

کسی کو گرو بننے کا شوق ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں رہبر مان لیا جائے۔ وہ آپ کی انگلی پکڑ کر آپ کو چلنا سکھانے کا ذمہ لیتے ہیں۔ آپ کو بھی باور کرا دیتے ہیں کہ آپ کو ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ اور پھر وہ آپ کی انگلی پکڑ کر پہنچہ پکڑنے کی تگ ودو میں لگ جاتے ہیں۔ ان کی ساری روشن خیالی دھری رہ جاتی ہے۔ وہ عورت کو محکوم، بے بس اور لاچار ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ان کی نام نہاد مردانگی کو تسکین ملتی ہے۔

یہ بھی عورت کو کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ خراماں خراماں آپ کو باور کرا ہی دیں گے کہ وہ آپ کے بہی خواہ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ آپ کے لیے کیا بہتر ہے۔ پھر جو لوگ کبھی آپ کو بہت اچھے لگتے تھے وہ اب برے لگنے لگے ہیں۔ جن سے آپ سمجھتے تھے کہ آپ کی ذہنی ہم آہنگی ہے وہ اب دشمن کے کیمپ میں کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

اگر آپ کی زندگی میں کوئی نرگسیت زدہ ہے تو اس سے نجات حاصل کیجئے۔ نرگسیت زدہ شخص کسی حد تک آپ کی سوچوں پر بھی پہرے بٹھا دیتا ہے۔ آپ خود کو مجبور اور محکوم پاتے ہیں۔ وہ آپ کو اپنی ہی ذات کی نفی کرنے پر آمادہ کر لیتے ہیں۔ آپ اپنے تمام اختیارات انہیں سونپ دیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جب معصوم سی لڑکیاں کسی کو آئیڈئلائز کرتے کرتے اس کی محبت میں بھی گرفتار ہو جاتی ہیں۔ الفاظ کا جادو جگا کر اور کچھ وقت آپ کی ”رہنمائی“ میں صرف کر کے وہ اب کسی دوسرے مشن میں لگ جاتے ہیں اور آپ تنہائی کا شکار ہو کر سوچنے پو مجبور ہو جاتی ہیں کہ آخر یہ سب تھا کیا؟

ایسے لوگوں کے لیے دوپٹے بھگونے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔ اس چاہے جانے کی آرزو میں عورت نے بہت ظلم سہ لیے اب چاہت کے بجائے احترام کا مطالبہ کرے۔ عورت کو آخر اپنے حقوق کیوں مانگنے پڑتے ہیں؟ یہ بنیادی انسانی حقوق ہیں جن کی سراسر نفی کی جاتی ہے۔ جتنا حق مرد کا آزاد فضا میں سانس لینے کا اتنا ہی عورت کا ہے۔ آج کی عورت اپنے فیصلے خود کر سکتی ہے۔ غلط بھی ہوا تو وہ اس سے سیکھ لے گی۔

کچھ بات ان سے جن کی عورت کے نشیب و فراز پر کڑی نظر ہے لیکن جب ان کے کسی عضو کی پیمایش پر بات آتی ہے تو تلملا اٹھتے ہیں۔ یہ سچ ہے ان کی نظر اور سوچ کے لحاظ سے یہی مردانگی ہے۔ مرد جب اپنے جنسی تجربات اور اپنے آب حیات پر بات کرتا ہے تو بڑی واہ واہ ہوتی ہے۔ پڑھنے والے بھی دل کھول کر انہیں داد دیتے ہیں۔ لیکن جب عورت ماہواری کے بارے میں بات کرتی تو اسے لعن طعن ملتی ہے۔ مرد تو ایک طرف، عورتیں بھی آپ کو شرمندہ کرنے میں لگ جاتی ہیں۔

حال ہی ناروے کے بارے میں حقائق پر مبنی اور قطعی غیرجانبدار ہو کر مضامین لکھے۔ اس میں ایک یہ بھی تھا کہ نارے میں ”گے“ کمیونیٹی کیسے رہتی ہے۔ اس پر جو کچھ سننا پڑا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم بحث نہیں کر سکتے۔ تحمل کی بھی کمی ہے اور دلیل کی بھی۔ رائے قائم کرنے میں بھی جلدبازی کرتے ہیں۔ رابعہ آپ نے ٹھیک کہا تھا کہ بات ہو گی تو مسئلے حل ہوں گے۔ سوچا تو میں نے بھی یہی تھا۔ معلوم مگر یہ ہوا کہ سننے والے کان تو ہیں لیکن سمجھنے والے ذہن عنقا ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *