آکسیجن کی کہانی (قسط سوئم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی جنگ عظیم عروج پر ہے ایک طرف برطانیہ، فرانس اور ان کی کالونیاں ہیں دوسری طرف جرمنی اور اس کے اتحادی یعنی آسٹرو ہنگری اور عثمانی سلطنتیں۔ لڑنے کے لئے ہندوستان سے دس لاکھ فوجی بھی لائے گئے ہیں جن میں کوئی چار لاکھ مسلمان شامل ہیں۔ بیلجیئم کے علاقے یائپرس میں قیامت کا رن پڑا ہوا ہے۔ یہاں بہت سے ہندوستانی جان پر کھیل جائیں گے۔ یہیں داد شجاعت دینے والے بلوچ صوبیدار، چکوال کے رہائشی خداداد خان کو تاج برطانیہ سب سے اعلی فوجی اعزاز وکٹوریہ کراس سے نوازے گا۔

گھمسان کی جنگ جاری ہے 22 اپریل 1915 ء کو جرمن فوجی سینکڑوں کی تعداد میں سلینڈر لا کر محاذ کے قریب ایک نامعلوم گیس کا اخراج کرتے ہیں دھویں کے بادل چھا جاتے ہیں جن کی لپیٹ میں آتے ہی خندقوں میں دبکی سپاہ کی آنکھوں اور چہرہ کی جلد میں شدید جلن ہوتی ہے، کھانسی کا دورہ، الٹیاں، دم گھٹنے، سر چکرانے اور غشی جیسی کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ یونہی کھانس کھانس کر ایک بڑی تعداد تکلیف دہ موت سے دو چار ہوجاتی ہے۔ جو بچتے ہیں ان کا نظام تنفس تادیر ناکارہ ہوجاتا ہے۔

یہ دنیا کی تاریخ میں کیمیائی ہتھیار کا پہلا استعمال ہے۔ برطانوی وزیر جنگ فیلڈ مارشل کچنر فوراً مایہ ناز سائنسدان اور کیمیاء دان جان سکاٹ ہیلڈین سے رابطہ کرتا ہے۔ ہیلڈین ایک غیر روایتی شخص ہے وہ یائپرس پہنچ کر خود کیمیائی حملے کا جائزہ لیتا ہے اور واپسی میں اپنے ساتھ اس گیس کا شکار ہونے والے ایک فرانسیسی فوجی کا پھیپھڑا اور وردی لے آتا ہے۔ آکسفورڈ میں واقع اپنے گھر کی لیبارٹری میں وردی پر لگے بٹن پر رہ جانے والے ذرات کا جائزہ لینے سے اس پر آشکار ہوجاتا ہے کہ کیمیائی ہتھیار کچھ اور نہیں، بلکہ کلورین گیس ہے۔

فوری طور پر یائپرس کے محاذ پر موجود فوجیوں کو ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ اگلے کیمیائی حملہ پر انہیں فوری طور پر اپنی جرابیں پیشاب میں بھگو کر منہ اور ناک پر اچھی طرح لپیٹ لینا ہے۔ پیشاب میں موجود امونیا کلورین گیس کے ساتھ ردعمل کر کے اپنا زہریلا پن کھو دے گی۔ ایسا کرنے سے زہریلی گیس کے شکار فوجیوں کو آرام ضرور ملتا ہے لیکن فقط وقتی طور پر۔ اموات میں کچھ کمی نہیں آتی۔

ہیلڈین اپنی لیبارٹری کو ائر ٹائٹ کرتا ہے اور کلورین کے کنستر سے گیس چھوڑ کر خود پر تجربہ کرتا ہے۔ ان خطرناک تجربات کے نتیجے میں دنیا کو دو نئی ایجادات ملتی ہیں۔ ریسپیریٹر ماسک جو آج کل کورونا کے مریض کی نگہداشت کرنے والے طبی عملے کے لئے لازمی ہیں اور آکسیجن کو دوا کے طور پر استعمال کرنے کی سائنسی تکنیک یعنی آکسیجن تھراپی۔

برسٹل انسٹیٹیوٹ اور طب ہوائی

1783 ء میں آکسیجن کی دریافت کے ساتھ ہی طب ہوائی نیومیٹک میڈیسن کے نام سے ایک نئی قسم کی طب کا بھی آغاز ہو گیا۔ ہوا سے الگ کی ہوئی گیسز کو مریضوں پر استعمال کر کے مختلف خیالی فوائد حاصل کیے گئے ان مصنوعی گیسوں میں آکسیجن کے علاوہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن اور نائٹرس آکسائیڈ پیش پیش تھیں۔

برطانیہ میں طب ہوائی کا پہلا اور منظم ادارہ برسٹل ہوائی انسٹیٹیوٹ تھا جو تھامس بیڈو نے قائم کیا تھا۔ بیڈو آکسیجن دریافت کرنے والے پریسٹلی اور لاوزیئر کی طرح فرانسیسی انقلاب کے حامی تھے۔ جب پریسٹلی کے خلاف برمنگھم میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور وہ برطانیہ سے جان بچا کر امریکہ منتقل ہو گئے تو بیڈو نے بھی احتجاجاً آکسفورڈ یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر کی حیثیت سے استعفی دے دیا اور برسٹل چلے آئے جہاں جیمس واٹ کی تحریک پر 1799 ء میں انہوں نے طب ہوائی کا ادارہ قائم کیا۔

جیمس واٹ کو کون نہیں جانتا؟ انہوں نے بھاپ سے چلنے والا انجن ایجاد کر کے برطانیہ کو پہلے صنعتی انقلاب سے ہم کنار کیا تھا۔ ان کا ایک بیٹا ٹی بی کا مریض تھا جو اس وقت تک ایک لاعلاج مرض تھا۔ گیسوں کی پیداوار اور ان کو ذخیرہ کرنا ایک بہت مشکل چیلنج تھا واٹ نے ناصرف اس معاملے میں اپنا سائنسی دماغ لڑایا بلکہ ان گیسوں کو مریض کے سانس تک پہنچانے کے ابتدائی آلات بھی بنائے۔ ہوائی طب کے اس ادارے میں تیسری اہم شخصیت نوجوان ہمفری ڈیوی کی تھی جنہیں اس کا سپرنٹنڈنٹ بنا دیا گیا انسٹیٹیوٹ میں کام کرتے ہوئے انہوں نے نائٹرس آکسائیڈ کے طبی استعمال پر بہت اہم کام کیا جو ان کی موت کے بعد سرجری میں دیے جانے والے انیستھیزیا کی اساس بنی۔

ڈیوی بذات خود ایک بہت بڑے محقق، موجد اور شاعر تھے۔ کیلشئم، میگنیشئم اور کلورین جیسے عناصر کی دریافت کا سہرا ان ہی کے سر ہے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ”ڈیوی لیمپ“ کی ایجاد ہے جس کی بدولت قدرتی گیس سے بھری کانوں میں کام کرنے والے کان کن آئے دن دھماکوں میں جل مرنے سے محفوظ ہو گئے۔

ولیم ورڈز ورتھ جیسا بڑا شاعر اپنی شاعری پر ڈیوی سے اصلاح لیتا تھا اور دونوں کے درمیان اسی طرح خط و کتابت ہوا کرتی جیسے غالب اور منشی ہر گوپال تفتہ کے مابین ہوتی تھی۔

برسٹل انسٹیٹیوٹ اپنے قیام کے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ ہوائی طب سے مریضوں کو کوئی افاقہ نہ ہوا۔ لیکن یہ پہلا ادارہ تھا جہاں سائنسی انداز میں آکسیجن بحیثیت دوا استعمال کی گئی۔

آکسیجن اور انیسویں صدی کی اتائی طب

برسٹل انسٹیٹیوٹ تو آکسیجن سمیت دیگر گیسز کے استعمال کے خاطر خواہ نتائج مرتب کرنے میں ناکام رہا لیکن امریکہ اور یورپ میں جگہ جگہ ایسے مراکز قائم ہونے لگے جہاں امیر مریضوں کو بھاری فیسوں کے عوض آکسیجن دی جاتی۔ پرائیویٹ ڈاکٹرز کے پمفلٹ اور اخباری اشتہارات میں آکسیجن کو صرف سانس اور دل کے عارضے ہی نہیں بلکہ پرانے سردرد، بڑھے ہوئے غدود، انگزائٹی (ہائپو کونڈریاسس) اور مالیخولیا، بدہضمی، السر، جگر کی خرابی، گردے کے مسائل، رحم کی بیماریاں اور جوڑوں کی سوجن کا اکسیر اعظم بنا کر پیش کیا جاتا۔

انیسویں صدی کے آخر تک آکسیجن سے جڑی اتائی طب درجنوں ایسے اشتہارات اور مقالے شائع کرچکی تھی جن میں اس معجزاتی دوا کو صرف سانس میں ہی نہیں بلکہ جلد پر، زیر جلد انجکشن اور وریدی انجکشن کی صورت میں لگائے جانے کے علاوہ معدہ، مقعد اور اندام نہانی تک میں دیے جانے کے ہوشربا فوائد بیان کیے گئے تھے۔

کیسا اتفاق ہے کہ آنجہانی مائیکل جیکسن، میڈونا اور جسٹن بیبر کی طرح دنیا بھر کے کتنے ہی بے تحاشا امیر افراد ہیں جو اسی طرح کی اتائی طب کا شکار ہو کر آج بھی انتہائی مہنگے آکسیجن چیمبر خریدتے ہیں۔

آکسیجن کا صنعتوں میں استعمال

انیسویں صدی کے آخر تک آکسیجن طب کے میدان میں اپنا کوئی کرشماتی کردار ثابت کرنے میں ناکام رہی لیکن پھر دھات سازی میں آکسیجن نے ایک انقلاب برپا کر دیا جب برطانوی موجد ہنری بیسیمر نے آکسیجن کی مدد سے کاسٹ لوہے اور ڈھلے ہوئے لوہے سے ایک بہت مضبوط اور لچک دار اسٹیل بنالیا۔ اس اسٹیل سے جنگی سامان سمیت جہاز سازی، ریلوے، گاڑیوں کی پیداوار اور تعمیراتی سرگرمی جیسی سینکڑوں صنعتوں میں برق رفتار ترقی ہوئی۔ یہ اسٹیل ہی تھا جس نے ایک عرصے تک برطانیہ کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنائے رکھا۔

اسٹیل کی سب سے زیادہ پیداوار کا یہ اعزاز برطانیہ کے بعد کافی عرصے امریکہ کے پاس رہا اور آج کل چین دنیا میں اسٹیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ پچھلے بیس پچیس سالوں میں بھارت کی ترقی میں اسٹیل کی اضافی پیداوار کا کلیدی کردار رہا ہے۔ آکسیجن کی بہت بھاری مقدار کے بغیر اسٹیل سازی کرنا ناممکن ہے چنانچہ بند پڑی ہوئی پاکستان اسٹیل ملز کی مزدور یونین کا دعوی کہ وہ پورے پاکستان کی آکسیجن کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں سائنسی لحاظ سے درست معلوم ہوتا ہے۔

1901ء سے ویلڈنگ اور دھاتوں کی کٹنگ میں ہوا کے بجائے خالص آکسیجن استعمال کی جاتی ہے جس سے شعلے کا درجہ حرارت بہت بڑھ جاتا ہے۔

تنفس کی فزیالوجی کی بہتر سمجھ

پچھلے دو سو سال میں ہم یہ جان چکے ہیں کہ آکسیجن کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ فضا میں موجود 21 فیصد آکسیجن پھیپھڑوں کے آخری سرے پر موجود چھوٹے چھوٹے بلبلے نما نالیوں (آلویولائی) سے خون کی باریک ترین رگوں میں پہنچ جاتی ہے جہاں خون کے سرخ خلیوں میں قیام پذیر ہیموگلوبن نامی پروٹین بہت پیار اور احتیاط سے اس کے چار مالیکیول کو تھام لیتا ہے اور پھر خون کے ساتھ گردش کرتے کرتے مختلف بافتوں (ٹشوز) میں اس آکسیجن کو اپنی گود سے اتارتا جاتا ہے اور اس کی جگہ جسم میں بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنی پیٹھ پر سوار کر کے پھیپھڑوں کی طرف واپسی کا سفر اختیار کرتا ہے۔

بافتوں میں جانے والی آکسیجن وہاں کے خلیوں میں نفوذ ہو کر بالآخر مرکزہ تک پہنچتی ہے جہاں مائٹوکونڈریا نامی عضو بے تابی سے اس کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ یہ فوراً آکسیجن کو آتشدان میں جلا کر جسم کے لئے توانائی پیدا کرتا ہے اس عمل میں حرارت، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی بھی وجود پاتے ہیں۔

ہیلڈین، انسانی تنفس اور جونیئر ہیلڈین

پہلی جنگ عظیم کے دوران خود پر زہریلی گیسوں کے تجربات کرنے والے جان سکاٹ ہیلڈین کو بابائے آکسیجن تھراپی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ہیموگلوبن کی آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ میں پیوستگی کے باہمی تعلق کو ثابت کیا۔ اسی طرح جسم انسانی میں آکسیجن کی کمی یعنی ہائپو کسیمیا کی تین اقسام یعنی آکسیجن کی کمی، ہیموگلوبن کی قلت اور دوران خون کا فقدان بھی پہلی مرتبہ انہوں نے ہی بیان کیا۔

پہلی جنگ عظیم میں جب ہیلڈین یائپرس میں کیمیائی حملے کا سراغ لگا رہے تھے توان کا نوجوان بیٹا جونیئر ہیلڈین بھی ایک دوسرے محاذ پر شریک حرب تھا۔ وہ فیض احمد فیض، جنرل اکبر اور میجر اسحق کی طرح ترقی پسند خیالات رکھتا تھا۔ 1956 ء میں جب برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مل کر نہر سویز کے مسئلے پر مصر کا گھیراؤ کیا تو وہ دلبرداشتہ ہو گیا اور اپنی برطانوی شہریت ترک کر کے بھارت میں جا بسا۔ اس کے نمایاں کارناموں میں جینیات پر تحقیق، ڈارون کے نظریات کی جدید وضاحت اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا تصور شامل ہیں۔ پہلے پہل کلوننگ کا خیال بھی اسی نے پیش کیا۔ انسانی جسم پر آکسیجن کی زیادتی کے اثرات کا تجربہ کرتے ہوئے ایک دفعہ وہ مرتے مرتے بچا۔ اسی طرح فضائی دباؤ کم کرنے کے ایک تجربہ میں اس کے کان کا پردہ پھٹ گیا۔

(جاری ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *