خالد سعید: صحرا میں نخلستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بوسن روڈ کے اطراف شیشوں میں لپٹے شاپنگ پلازوں کی بنیادوں میں پرنسٹن سگریٹ کی وہ راکھ شامل ہے جو کئی منطقی مباحث کے دوران بنی۔ ایسے ہی ایک پلازے کی جگہ سنٹرل کالج ملتان تھا۔ جس کے احاطہ میں ایک شخص اپنی ٹانگوں کو قینچی بنائے، بایاں ہاتھ بغل میں گھسائے، راکھ بنانے میں مشغول جھوم رہا تھا۔ راکھ کپڑوں میں اکٹھی ہوتی اور نیلی جین سے نیچے اتر جاتی۔ یوں ہی جھومتے اچانک اس نے سگریٹ گرائی، ”اچھا لالہ ول“ کہتا اپنی ایف ایکس کی طرف چل پڑا۔ مٹیالی ڈبیا گھومی اور غائب ہو گئی۔ یہ خالد سعید کے ساتھ میرا پہلا ان کاؤنٹر تھا۔ (ان کاؤنٹر اس لئے کہ پہلی ہی واردات قاتلانہ تھی)۔

مہینوں بعد دوسری ملاقات انسٹیٹیوٹ آف انگلش سٹڈیز میں ہوئی۔ ملتان آرٹس فورم کے اجلاس یہاں منعقد ہوتے تھے اور پھر ہر جمعہ ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ میں خاموشی سے آخری نشستوں پر بیٹھا گفتگو سنتا اور خاموشی سے پلٹ جاتا۔ واپس آ کر لغت اور گوگل کے سہارے بہت سی باتیں سمجھنے کی کوشش کرتا اور اکثر ناکام رہتا۔ ابھی کچھ ہی ہفتے گزرے تھے کہ خالد سعید کے جلالی روپ کا ٹریلر نظر آیا، ساونڈ افیکٹ ابھی باقی تھے کہ مبشر مہدی کی انٹری ہوئی (جب مجھے مبشر مہدی کی کڑی نظر کی وجہ سے فورم کے اجلاسوں میں پیچیدہ اصطلاحات اور سمجھ نہ آنے والی باتوں کو نوٹ کرنے والی ڈائری لے جانا ترک کرنا پڑی تو میں اس ٹریلر کو ریوائنڈ کرتا اور مبشر مہدی کو دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہوتا کہ اس کے ساتھ اچھا ہی ہوا تھا)۔

اب میں باقاعدگی سے نہ صرف فورم کے اجلاسوں میں جانے لگا بلکہ اجلاس کے بعد گول باغ کی چائے پر خالد سعید کے اور روپ دیکھنے کا موقع بھی میسر آ گیا۔ ستمبر 2009 میں میرا داخلہ زکریا یونی ورسٹی میں ہوا اور میں ذکرین لٹریری فورم پر بھی خالد صاحب کو دیکھنے لگا تب یونی ورسٹی کیفے بھی ان کی رونقوں سے آباد تھے۔ خالد صاحب کے پاس یونی ورسٹی میں کوئی آفس نہیں تھا مگر کئی پروفیسر اس تگ و دو میں رہتے کہ ان کا ٹھکانا ان کے آفس میں رہے۔ طلبہ آتے اور ان کے مسائل وہیں راہ داریوں میں حل ہو جاتے۔ ویسے تو بیشتر پروفیسروں کے کمروں کا میسر ہونا بھی ان کے ذاتی مسائل ہی کی وجہ سے تھا۔

کئی دفعہ لٹریری سوسائٹی کے دوست اکٹھے ان کے پاس پہنچ جاتے تو کرسیوں کو خیرباد کہہ کر استاد کمرے کے فرش پر ہی ہمارے ساتھ بیٹھ جاتے۔ آتے جاتے لڑکیاں مڑ مڑ کر دیکھتیں اور جاڑوں میں تو اس کام کی سیل لگ جاتی جب کوٹ پر مفلر عین برابر جگہ پر ہوتا، گرے اور سفید بالوں کی تہیں جمی ہوتیں اور مانگ باریک گویا پل صراط کا منظر دے رہی ہوتی۔ اوپر سے کمال یہ کہ بات نظارے تک نہیں رکتی۔ استاد دیکھنے بھالنے اور بولنے چالنے دونوں ہی میں دو قدم آگے ہے۔

بس کوئی آئے اور گفتگو کرے تو سہی پھر آنا جانا لگا ہی رہے گا۔ ایک دفعہ میں خالد صاحب سے لفٹ لے کر کیمپس سے واپس جا رہا تھا کہ راستے میں ان کی ایک جاننے والی مل گئی۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ہو لی۔ اس نے میرے تعارف کا پوچھا تو استاد نے جوش میں آ کر پہلے تو اپنی آخری محبوبہ ایف ایکس سے ریل والی کیسٹ نکال کر آواز بند کی۔ پھر اسی جوش خطابت میں عرض کیا، ”یہ قاضی القضاۃ ہیں، میرے استاد ہیں، شریعت پڑھاتے ہیں اور ہماری شادیوں کے لئے فتوے نکالیں گے جیسے۔ پھر انہوں نے جو جو حوالے پیش کیے میری اگلی پچھلی نسلیں تک ان سے لاعلم ہوں گی۔

میرے یونی ورسٹی آنے کے کچھ ہی عرصے بعد نیر مصطفی لاہور چلا گیا اور جاتے جاتے میرے نہ چاہتے ہوئے بھی فورم کے سیکریٹری کی ذمہ داریاں سونپ گیا۔ پہلے تو وہ بار بار مجھے آفر کرتا رہا، پھر اجلاس سے ذرا پہلے باہر لے کر گیا اور ایسا موقع پھر نہ ملنے کی وارننگ اور خالد سعید کی رضامندی کا اشارہ دیتے ہوئے رجسٹر میرے ہاتھ میں تھما دیا

اس ذمہ داری نے مجھے خالد سعید کے اور قریب کر دیا۔ پہلے ہی ہفتے جب میں ان کے گھر گیا تو کوپی اور چوچو کی شکل میں ایک چھوٹے بھائی اور بڑی بہن کا اضافہ ہو گیا (چو چو بڑی اس لئے ہے کہ اس کا رعب دبدبہ اور ڈیل ڈول دونوں ہی مجھ سے زیادہ تھے )۔ یوں خالد سعید کا ٹھکانہ میرے لئے ملتان میں پہلا گھر تھا۔ فورم کی ذمہ داری کے ابتدائی مہینوں میں ہر دوسرے روز کسی مسئلے کے پیش نظر ان کے گھر یا شعبہ نفسیات پہنچ جاتا اور ہر دفعہ وہ بات سنتے، کش لگاتے اور اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ لہراتے ہوئے کہتے، ”جو بہتر لگے، وہی کرو۔ تم آزاد ہو، خودمختار ہو۔ ”ہر دفعہ واپسی پر مجھے“ ڈیڈ پؤٹ سوسائٹی ”کا جان کیٹنگ اور“ ون فلیو اوور دی ککوز نیسٹ ”کا آرپی مک مرفی یاد آتا، میں ہواؤں میں اڑتا پر اعتماد اور آزاد محسوس کرتا، نیموں اور ادرشوں کی کایا کلپ کرنے کا حوصلہ لے آتا۔ بس جب فورم کی کتابیں چھپنے کے نزدیک ہوتیں تو ان کا فون آتا “وہ قاضی سطور کی اشاعت کے لئے چیک لے جانا، میری ممتاز اطہر سے بات ہو گئی ہے۔” اس سے آگے نہ وہ کچھ کہتے، نہ میری کچھ پوچھنے کی ہمت ہوتی۔

یہ بات میرے لئے ایک مدت تک راز رہی کہ خالد سعید بائیں بازو، دائیں بازو۔ لبرل، مذہبی۔ عورت، مرد۔ بوڑھے، جوان سب میں بیک وقت کیسے مقبول اور پسندیدہ ہیں۔ پھر ایک روز شعبہ نفسیات ہی کی راہ داری میں خالد سعید ایک نقاب پوش سے مخاطب تھا کہ جیسا تم چاہتی ہو ان میں سے کوئی ویسا نہیں ہو سکتا، کیوں کہ تم خود ویسی نہیں ہو سکتی جیسا یہ سب چاہتے ہیں۔ تو جو جیسا ہے اسے ویسا قبول کرنا سیکھو کیوں کہ یہی ان کی پہچان ہے اور رشتوں کا حسن تو اختلاف ہی ہے۔ خالد سعید نے نہ صرف لوگوں کو ویسا قبول کیا بلکہ اسی قبولیت نے انہیں آزادی دینا سکھایا اور یہ امر انہیں کسی بھی اور شخص سے کئی قدم آگے لے جا کھڑا کرتا ہے۔

بطور استاد وہ صرف سکھانے پر یقین رکھتے ہیں۔ میں ان کا باقاعدہ شاگرد بے شک نہیں رہا مگر مجھے معلوم ہے وہ نمبروں اور گریڈوں کے سسٹم سے یکسر الٹ چلتے ہیں۔ وہ طلبا سے محض کلاس تک آنے کی درخواست کرتے ہیں اور باقی سب ذمہ داری اپنی سمجھتے ہیں۔ پڑھانا ان کی ذمہ داری ہے بس پھر بچہ پاس ہو جاتا ہے چاہے اس نے جوابی صفحہ پر کچھ بھی لکھا ہو۔ ایک دوست نے دوسرے دوست کے جواب میں درج کیے گانے پر اعتراض کیا اور اس کے پاس ہونے پر شک کا اظہار کیا۔

استاد نے گانے کے بول پوچھے، جو کچھ یوں تھے ”چن کتھاں گزاری اے رات وے، میرا جی دلیلاں دے وات وے“ وہ پرچہ تہذیب اور اخلاقیات کی تاریخ سے متعلق تھا۔ اس دن کا باقی لیکچر گانے کے سوال کا جواب ہونے کی دلیل میں گزر گیا۔ یوں خالد سعید سے پڑھے ہوئے لوگ تین حصوں میں بٹ جاتے ہیں : اول الذکر وہ جو کورس محض سند کی ضرورت کی خاطر پڑھ رہے ہوتے ہیں اور استاد کو بعد میں صرف اس لئے یاد رکھتے ہیں کہ بنا رٹا لگائے آسانی سے اچھے نمبروں میں پاس ہو گئے تھے۔

دوم وہ جن کے لئے وہ ایک کورس اور سمیسٹر پوری زندگی کے ایک باب میں بدل جاتا ہے اور تیسرا گروہ مختصر مگر سب سے خوش قسمت ہے جن کے لئے کورس سے زیادہ خالد سعید استاد کے درجے سے کہیں آگے جا کر تمام عمر ان کے دلوں میں بسیرا کرتا ہے۔ انہوں نے ایمرسن کالج میں ہر وہ مضمون پڑھایا جس کا استاد یا تو میسر نہ تھا یا چائے مالٹے کھا کر سرک لیتا تھا۔ بعض اوقات کسی اور مضمون کے طلبہ خالی ان کی گفتگو سننے آ بیٹھتے تھے۔ جب وہ نفسیات دانوں کی مختلف تھیوریاں پڑھانا شروع کرتے ہیں تو ہر تھیوری نہ صرف درست لگنے لگتی ہے بلکہ وہ خود اس کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اس بھرپور مشق کے بعد سمیسٹر کے اختتام پر نہ صرف کلاس ہر تھیوری اور نفسیات دان کو اچھی طرح گھول کے پی چکی ہوتی ہے بلکہ اس قابل بھی ہو چکی ہوتی ہے کہ خود کچھ تھیوریوں کو اپنانے یا جھٹلانے کا فیصلہ کر سکے۔

یہ جمہوری رویہ صرف بطور استاد ختم نہیں ہو تا بلکہ وہ اپنے مریضوں کو بھی ایک سے زیادہ حل بتا کر واپس بھیجتے ہیں۔ ہمارے ہاں، جہاں نفسیاتی پیچیدگیاں ایک ٹیبو سے کم نہیں، وہاں خالد سعید بطور ماہر نفسیات بہت سے مریضوں کا علاج ایسے کر رہا ہے کہ انہیں معلوم بھی نہیں ہونے دیتا۔ ایک روز راہ چلتے ملاقات ہوئی تو فوراً پوچھا، ”فلانی کو تم جانتے ہو؟“ میں نے عرض کیا، ”جی ساتھ ہی پڑھتی ہے۔“ جاتے جاتے کہتے گئے ”تو بھئی اسے وقت دو، کوئی بات چیت کرو۔

” میں پہلے سمجھا استاد کی کوئی تعلق والی ہو گی۔ پھر دل میں ایک معصوم سی امید نے انگڑائی لی، کیا معلوم بچی مجھ پر فریفتہ ہو۔ کچھ ہی دنوں میں امید کا دیوالیہ نکلا جب خبر ہوئی کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خالد سعید کے آستانہ کا طواف کرتی ہے۔ ان کے علاج میں ذاتی پسند، ناپسند اور نظریات کا کوئی عمل دخل نہیں۔ میں نے ان کو ماڈرن، الٹرا ماڈرن والدین کو اپنے بچوں کے علاج کے لئے مدرسے داخل کرانے اور حفظ کرانے کا مشورہ دیتے سنا ہے۔ وہ ماہر نفسیات ہونے کی پریکٹس بیشک صدقہ جاریہ کے طور پر کرتے ہیں مگر اپنے مریضوں سے کبھی اکتاتے نہیں۔ حالانکہ میں ان کے کچھ مکھی کی طرح پیچھے پڑ جانے والے مریضوں سے واقف ہوں۔

محض پیار ہی خالد سعید کا ہتھیار نہیں۔ جب اپنی کچھ ذاتی الجھنوں کے سبب میں شدید ذہنی دباؤ میں تھا اور دماغی سکون کی گولیاں بے اثر ہو چکی تھیں تو میں نے خالد سعید سے ان۔ سی۔ بی۔ اے۔ کے برگد کی چھاؤں میں ہر دوسرے روز ملاقات کی۔ پہلے انہوں نے ذی شعور جان کر دلیل سے سمجھایا، پھر مکالمہ کیا، پھر زندگی کے تجربے بتائے، پھر دوا پر لائے اور جب میرے دماغ کے فتور، وسوسے اور اندیشے رد نہ ہوئے تو خالد سعید کا لہجہ سخت ہوا اور وہ دو ٹوک بات پر آ گئے۔ مجھے لگا اس برگد میں چھپے کؤوں کی ساری بیٹیں آج میری چھترول دیکھ کر خشک ہو جائیں گی، مگر استاد اچانک غصے میں اٹھا اور ایک فیصلہ سناتا چلا گیا۔ اس غصے سے جو افاقہ ہوا تو زندگی سنبھل گئی۔

ایک اور روپ ان کا یاروں کی محفل کے لئے ہے۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہیں یار اکٹھے ہوں اور خالد صاحب کا گانا نہ سنا جائے، بس پھر ان کے گرد دائرہ بنتا ہے اور ان کو ایک تھال تھما دیا جاتا ہے۔ ان کی انگلیاں اور ناخن تھال کی سطح پر یوں رقص کرتے ہیں کہ سامع، ”ایک اور، ایک اور“ کی فریادیں کرتے تھکتے نہیں۔ انہوں نے ہماری رسم حنا پر ایسا ہی تھال پیٹا تھا، آج بھی کوئی رشتہ دار ملے تو تھال والے استاد کا احوال ضرور پوچھتا ہے۔

جوانی کے عشق کا حال تو کچھ زیادہ معلوم نہیں کہ بقول مظہر ترمذی استاد گوری کی پنڈلیوں کو دیسی تیل سے رگڑ کر بھورا کرنے کی اوکسیڈنٹل کوششوں میں مبتلا رہے ہیں۔ البتہ بعد کے کئی فرائیڈین معشوقانہ عشق ایسے ہیں کہ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر وہ غوطے لگائے کہ نمکین پانی بھی سندھڑی ماں سا میٹھا ہو گیا۔ ایک حسینہ نے اپنے موبائل کے ان باکس میں موجود ان کے پیغامات تک رسائی دی۔ واللہ وہ میسجز محبت کی شاندار نظمیں تھیں جن کے استعارے آکاش کی وسعتوں کو سمیٹے ہوئے تھے۔ خالد سعید کا عشق۔ علم، فلسفہ اور تہذیب سے گندھی وہ مٹی ہے جو صحراؤں بیابانوں میں بھی خشک نہیں ہوتی۔

مجھ سمیت کئی لوگوں نے خالد سعید کا بہت انتظار کیا ہو گا۔ 2013 کی بہار کے دن تھے جب میں شعبہ انگریزی کی سیڑھیاں اترتا نیچے آیا اور سرائیکی سنٹر کے سامنے خالد سعید میرے انتظار میں نئی سگریٹ سلگا رہے تھے۔ اس سگریٹ کے دوران میری بات مکمل ہوئی، خالد سعید کا جسم ناامیدی سے تھکا تھا اور آنکھوں میں سرخی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے ’اچھا قاضی‘ کی بجائے گڈ لک کہا اور میں دور جاتی ایف ایکس کو دیکھتا رہا۔ عموماً اًختلاف پر خالد سعید دو قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور وجہ اختلاف کی پرتوں کو سلجھنے کا وقت دیتے ہیں مگر کبھی کبھی وہ ایک ہی لمحے میں راستہ جدا کرتے ایسی راہوں کے مسافر ہوتے ہیں کہ پھر دوسرے آدمی سے کبھی سامنا نہیں ہوتا، دنیا چاہے جتنی ہی گول ہو۔

خالد صاحب نے افسانے لکھے، تراجم کیے، نظمیں کہیں، مضامین اور رپورتاژ رقم کیے۔ ہر چیز اپنے اندر نہ صرف مکمل تھی بلکہ روایتی تسلسل میں ایک نئی ایجاد سے کسی صورت کم نہ تھی۔ خالد سعید نے کم لکھا اور زیادہ لکھوایا۔ کچھ دوستوں کا خیال ہے انہوں نے ہمیشہ توصیف ہی کی۔ بری چیز کو بھی اچھا کہا۔ بلکہ ان کے تنقیدی مضامین کو توصیفی سمجھا گیا مگر خالد سعید اپنی ڈگر پر چلتا رہا اور اگر یہ حوصلہ میسر نہ ہوتا تو مجھ سے کئی کبھی کچھ نہ کہہ پاتے۔

انہوں نے صرف تعریف نہیں کی بلکہ پوری ایک نسل کی آواز میں آواز ملا کر اس کے لہجے کو تقویت دی ہے۔ نئی پہچان اور نئی راہوں کا راستہ دکھلایا ہے۔ لاہور سے مری اور حاصل پور کے دور دیہاتوں کی پوسٹنگ کے بعد وہ چاہتے تو بے شک ملتان نہ آتے۔ اور اگر وہ ملتان نہ آتے تو یہاں سے بہت سے لوگ باہر نہ جا سکتے۔ نیر مصطفی اکثر ان کے بارے میں کہتا ہے کہ استاد کو لکھنے سے زیادہ عشق، پڑھانے اور مکالمہ کرنے سے ہے۔ اگر ان کی بطور استاد انرجی لکھنے میں صرف ہو جاتی تو نجانے کیسے شاہکار پارے تخلیق پا جاتے۔

ایسی بلندی پر پہنچ کر بھی وہ کسی تعلیمی یا ادبی سیاست کا حصہ نہیں بنے، بلکہ بس لکھتے رہے اور لکھنے پڑھنے والوں کا حوصلہ بنے رہے۔ مقبولیت اور خالد سعید تو ایک دوسرے کی چڑ ہی رہے۔ وہ ہمیشہ فیم سے دور بھاگتے رہے۔ ہم نے کئی دفعہ فورم کے کتابی سلسلے ’سطور‘ کا خالد سعید نمبر نکالنے کا سوچا مگر انہوں نے سختی سے روک دیا، ایسا ہی ہر دفعہ انہوں نے فورم کے لاءف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پر کیا، ان کو خبر ہوجاتی اور وہ کچھ اور سنے بنا ء کسی اور شخصیت کا نام پیش کر دیتے۔ جب انہیں ’موزیک‘ خالد سعید نمبر کا علم ہوا تو انہوں نے یہی کہا تھا، ”کیا وقت ضائع کر رہے ہو اور بہت لوگ ہیں کام کرنے کے لئے، تم یہ چھوڑو اور افسانے لکھو بس۔“

خالد سعید کی زندگی بظاہر بے ترتیب سی نظر آئے مگر یہ زندگی شام و سحر کی گردش میں اک رمز پر گزر رہی ہے، وہ رمز جو اکیلے ان کے بستر کے قریب پڑے شاہ حسین کے کلام، فرائیڈ، مارکیز، نرودا اور ڈاکٹر اجمل سے نہیں ملی، بلکہ اس رمز کے طول و عرض میں تونسوی، عامر سہیل، مدھر ملک اور نیر مصطفی جیسوں کی دھڑکنیں شامل حال رہی ہیں۔ یہ وہ رمز ہے جو ہر لمحے میں جینے کا سلیقہ دے جاتی ہے۔ استاد نے اپنی تحریر سے گھریلو کاموں اور پڑھانے سے پڑھنے تک کے ہر لمحہ کو نہ صرف جیا ہے بلکہ ایسا جذب کیا ہے کہ ہر لمحہ امر ہو گیا۔ اسی بے ترتیبی میں وہ نہ صرف صبحوں کے ذائقے لیتے ہیں، فاختاؤں کا دانہ کرتے ہیں بلکہ اس عمر میں بھی اپنے پانی کے گیلن بھرنے کے لئے سہارا نہیں ڈھونڈتے۔

گزشتہ گیارہ برسوں میں اگر میں نے خالد سعید کو ٹوٹا ہوا دیکھا تو تب جب کوپی اپنی عمر سے کہیں زیادہ جی جانے کے بعد گزر گیا۔ اب کی بار خالد سعید کو جڑنے میں بہت وقت لگا مگر اس کی آنکھوں میں پھر سے وہ چمک لوٹ آئی جو ان کے بنیادی فلسفے کا ثبوت ہے کہ کام یاب تو وہی ہے جو موسموں کی گردش میں ہر بار گر کر کھڑا ہو جائے۔ کوپی کے بعد چوچو بھی چل بسی اور استاد پھر اکیلا ہو گیا۔ اب کے اپنی اداسی کا سامان انہوں نے دو شریر بلوں کی شکل میں کیا، جو ہر لحظہ اک ادھم مچائے رکھتے ہیں۔

نیر اور عاقب نے مارچ 2020 میں بہاول پور میں پہلا فکشن فیسٹیول سجایا تو کئی مہینوں بعد خالد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اس دن ان کی گفتگو پہلے کی ہر گفتگو سے الگ تھی۔ وہ بات کرتے کرتے کہیں اور نکل جاتے اور پھر کچھ کہتے کہتے واپس موضوع پر آ جاتے۔ اس دن میں نیر سے بہاول پور رکنے کا وعدہ کر کے آیا تھا، مگر جیسے معلوم ہوا خالد صاحب واپس ملتان جانے کو ہیں تو مدتوں کی ملاقات کی پیاس بجھانے کا سوچا اور ان کے ساتھ ہو لیا۔ اس دن بارش پورا راستہ نہ تھمی اور شاہ شمس کی گلیاں دریا بنی ہوئی تھیں۔ خالد صاحب سے گپ شپ نہ ہو سکی۔ ایک تو موسم بے ایمان تھا، اوپر سے ڈرائیور صاحب نے لتا لگا دی۔ بس پھر میں استاد کو سر دھنتا، سروں میں کھوتا دیکھتا رہا۔

شاعر، ادیب، مترجم، ماہر نفسیات سب ہاتھ جوڑ کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں جب زندگی کا استاد۔ خالد سعید سامنے آتا ہے۔ جس کا پہلا سبق درویشی ہے۔ وہ درویشی جس کے عجز میں ایک بے نیازی ہے پھر کیسے شہرت اور رتبے پر وہ درویشی نہ غالب آئے جو انہوں نے اپنے ہر چاہنے والے کو سونپی ہے۔ اس گھٹن زدہ سماج اور بوسیدہ سے نظام کے بیچ ممتاز اطہر کا جملہ ہمیشہ یاد رہتا ہے ’اس قحط الرجال میں غنیمت ہے خالد سعید‘۔ ممتاز اطہر غنیمت کا لفظ برت سکتا ہے۔ میں تو صحرا میں نخلستان کہوں گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *