اہلیہ کے انتقال کے بعد ‘لاپتا’ صحافی مدثر نارو کی بازیابی کے مطالبے میں شدت
صدف چغتائی اپنے شوہر کی بازیابی مہم میں پیش پیش تھیں، تاہم اُن کے اچانک انتقال پر انسانی حقوق کی تنظیمیں، سماجی کارکن اور صحافی افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مدثر نارو کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ اہلیہ کے انتقال کے بعد اپنے کم سن بیٹے کی دیکھ بھال کر سکیں۔
کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں صدف کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدف نے 20 مئی کو اقوامِ متحدہ کے کمشنر برائے جبری گمشدگیوں کی ایک سماعت میں بھی شریک ہونا تھا، لہذٰا جن حالات میں اُن کی موت ہوئی اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
مدثر کے اہلِ خانہ کے مطابق مدثر کی اہلیہ خاوند کی گمشدگی کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔
HRCP mourns the loss of artist and activist Sadaf Chughtai, mother of a three-and-a-half-year-old son. That she spent the last three years struggling to find her husband, poet, filmmaker and journalist #MudassarNaru is a measure of the tragedy. @FindNaaruAlive pic.twitter.com/UvvjcRr1wu
— Human Rights Commission of Pakistan (@HRCP87) May 8, 2021
مدثر نارو صحافت کے علاوہ، شاعری اور ادب سے بھی لگاؤ رکھا تاہم اُنہیں پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کا ناقد بھی سمجھا جاتا تھا۔
اطلاعات کے مطابق مدثر نارو اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ سیر کے لیے گئے تھے جہاں وہ ہوٹل سے باہر گئے اور اس کے بعد لاپتا ہو گئے۔
مدثر کی گمشدگی کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ شاید وہ دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم کئی روز کی تلاش کے باوجود اُن کا کچھ پتا نہ چل سکا۔
مدثر کی اہلیہ نے بعدازاں اُن کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی اور وزیرِ اعلٰی خیبرپختونخوا نے بھی اس معاملے کا نوٹس لے لیا۔
ان کی اہلیہ صدف چغتائی اور ان کے دوستوں نے بعدازاں اُن کی بازیابی کے لیے مہم چلائی اور مختلف مواقع پر احتجاج بھی کرتے رہے۔
مدثر نارو کی اہلیہ کے انتقال کے بعد اب پھر سوشل میڈیا پر مدثر نارو کی بازیابی کا مطالبہ کیا جا رہا ہیے جب کہ اُن کے تین سالہ بیٹے کے ساتھ اظہار ہمدردی بھی کیا جا رہا ہے۔
اس بچے کے سوالوں کا جواب کس کے پاس ہے؟ “میری ماما کہاں ہیں؟ میرے بابا کب آئیں گے؟”
مدثر محمود نارو اور صدف چغتائی کا ساڑھے تین سالہ بیٹا سچل۔
نارو تین سال سے لاپتہ ہے اور صدف چغتائی در بدر کی ٹھوکریں کھاتے کھاتے اس جہاں سے رخصت ہوگئی۔ @FindNaaruAlive pic.twitter.com/OXzyWfpLfZ
— Shiraz Hassan (@ShirazHassan) May 8, 2021
اُن کے بقول اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارتِ داخلہ اور دفاع کو 10 روز کے اندر جواب داخل کرنے کا نوٹس بھیجا، لیکن کسی نے جواب داخل نہیں کرایا۔
ایمان مزاری کے بقول چار مئی کو سماعت کے دوران وزارتِ دفاع نے جواب داخل کرایا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس اور ملٹری انٹیلی جنس نے بتایا ہے کہ مذکورہ شخص اُن کی تحویل میں نہیں ہے۔
On 20 August 2018, Mudassar Naaru was disappeared from Kaghan while on a trip there w/ his family. The police station refused to register an FIR.
In October 2018, Mudassar Naaru's father approached the Commission of Inquiry on Enforced Disappearances for registration of FIR 1/7
— Imaan Zainab Mazari-Hazir (@ImaanZHazir) May 8, 2021
اُن کے بقول مدثر کی گمشدگی کے بعد جب صدف نے اس معاملے کو اُٹھایا تو اُنہیں بھی ابتدا میں ہراساں کیا گیا۔
معروف گلوکار شہزاد رائے نے ٹوئٹ کی کہ مدثر کا کم سن بیٹا اب اس دنیا میں اکیلا ہے اور اپنے والد کا انتظار کر رہا ہے۔
#sachl is waiting for his father #MudassarNaaru 🙏 @ShireenMazari1
— Shehzad Roy (@ShehzadRoy) May 9, 2021
So tragic. I met Sadaf a few times, a bright young artist with a kind heart. She was struggling to find her husband who has been missing for the last few years. Hope the truth about she and Naaru comes to light soon. They & their families deserve justice. https://t.co/HQYho7icQc
— Nida Kirmani (@NidaKirmani) May 8, 2021
حال ہی میں پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا تھا کہ کابینہ کی کمیٹی برائے قانون نے جبری گمشدگی کو مجرمانہ فعل قرار دینے کا قانون منظور کر لیا ہے جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق شکایات کا ازالہ ہو گا۔


