ہم پناہ مانگتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم طوفان کے دہانے پر ہیں۔ تبدیلیوں کا ایک تلاطم خیز ریلا تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ کچھ بحران داخلی نوعیت کے ہیں، کچھ معاملات کا تعلق اس خطے سے ہے اور کچھ تبدیلیاں عالمی سطح پر نمودار ہو رہی ہیں۔ ویکسین دریافت ہونے کے باوجود ٹھیک ٹھیک بتانا مشکل ہے کہ کورونا کا بحران حتمی تجزیے میں کیا شکل اختیار کرے گا۔ بہرصورت کورونا کے بعد کی دنیا میں معیشت اور سماجی اقدار میں بہت سی تبدیلیاں جنم لیں گی۔ ہماری پیداواری بنیاد کمزور ہے، بوجوہ بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات معدوم ہیں، غیرملکی قرضوں اور تارکین وطن سے ترسیلات زر پر بہت زیادہ انحصار کرنے والی ہماری معیشت پر کڑؑا وقت آ سکتا ہے۔

تین برس پہلے ملک میں سیاسی تبدیلی کا سونامی آنے کے بعد سے ہماری خارجہ پالیسی منجدھار میں ہے۔ کبھی ہم چین سے دوستی کی گہرائی آزماتے ہیں، کبھی ترکی، ایران اور ملائشیا سے تزویراتی تعلقات کے سراب کے پیچھے بھاگتے ہیں اور کبھی خلیج کے راستے مغرب کے کوئے ملامت میں سجدہ سہو ادا کرتے ہیں۔ اس اٹھا پٹخ کا حاصل یہ ہے کہ چین سے قریب 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا خواب ایران اور چین میں 400 ارب ڈالر سے زیادہ کے طویل مدتی سمجھوتے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

گوادر میں سعودی عرب کی دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے موعودہ محمل سے پردہ اٹھتا ہے تو سعودی عرب کی بھارت میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نظر آتی ہے۔ یورپین یونین کو چھ ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات کے لالے پڑتے ہیں تو ہم اسلاموفوبیا کے خلاف مسلم امہ کی قیادت بھول کر اندرون ملک توہین مذہب کے مقدمات کے اعداد و شمار جمع کرنے دوڑتے ہیں۔ افغانستان میں ہماری چار عشروں کی سعادت مندی کا حاصل یہ نکلا کہ طالبان سے بات کرنا تو اشرف غنی سے معاملت کرنے سے بھی زیادہ کٹھن ہے۔ افغانستان پر منڈلاتی خانہ جنگی کا دھواں ہمارے شہر سے ہو کر گزرے گا اور اس پر مستزاد یہ کہ اطلاعات کے مطابق ہم سے فوجی اڈے بھی مانگے جا رہے ہیں۔

اگست 2019 میں بھارت نے یک طرفہ اقدام کر کے جموں کشمیر کی آئینی حیثیت بدل ڈالی تو ہمیں معلوم ہوا کہ قومی ساکھ کی حقیقی قیمت کیا ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر کسی نے ہماری فریاد نہیں سنی۔ ہمارے صاحبان ذی وقار کو یاد آیا کہ ہم نے تو کبھی بھارتی آئین کی شق 370 تسلیم ہی نہیں کی تھی۔ البتہ 35 الف پر اصرار جاری رہنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا توازن ہی بدل گیا تو استصواب کا خیمہ تاریخ کی آندھی میں اڑ جائے گا۔ یہاں رک کر تاریخ کے ایک اصول کی باز آفرینی کرنا ہو گی۔

قومی اور بین الاقوامی سطح پر طاقت کی حرکیات ایک ہی ہوتی ہیں۔ اگر ملک کے اندر دستور کی پاسداری اور حرف قانون کی بالادستی کو طاقت کے بل پر روندنا جائز قرار پائے گا تو جان لینا چاہیے کہ اس پھیلی ہوئی دنیا میں انصاف کے لئے ہماری دہائی کی شنوائی نہیں ہو پائے گی۔ بھارت نے زور آوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر پر اپنی مرضی مسلط کی ہے۔ اگر ہم نے عالمی سطح پر اپنا اخلاقی تشخص برقرار رکھا ہوتا، اگر ہماری معیشت مضبوط ہوتی، اگر ہماری سیاسی ساکھ دولخت نہ ہوتی تو 22 کروڑ کی آبادی والی قوم کی آواز کو یوں نظرانداز کرنا آسان نہ ہوتا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ ہماری ریاست کی طاقت ہمارے شہریوں کی طاقت سے راست تناسب رکھتی ہے۔ اپنے شہریوں کو تعلیم، قانون کے تحفظ، انسانی حقوق، روزگار اور بہتر معیار زندگی سے محروم کرنے والی ریاست وہ عصائے سلیماں ہے جو تاریخ کی آزمائش نہیں جھیل سکتا۔

پاکستان کے قابل احترام سفیروں پر ہمارے وزیر اعظم کی برہمی اس صنعت کار کی اپنے سیلزمینوں کو ڈانٹ ڈپٹ ہے جو اپنے کارخانے کی مصنوعات کے معیار پر نظر نہیں رکھتا۔ کیا وزیر اعظم واقعی نہیں جانتے کہ ہمارے سفیر دنیا کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کا معجزہ نہیں دکھا سکتے۔ کیا دنیا نہیں جانتی کہ پاکستان آنے والے غیر ملکی زعما اسلام آباد کے نواحات کا دورہ کیوں کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کے ہر بیرونی دورے سے قبل ریاستی منصب داروں کی متعلقہ ملک میں پیشوائی آمدورفت کیوں ہوتی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم ایوب عہد کی درخشندہ روایات پر لہلوٹ ہیں۔ اگر ممکن ہو تو مئی 1950 میں لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ یا ذوالفقار علی بھٹو کی جیرالڈ فورڈ سے ملاقات کا احوال پڑھ لیں۔ ہنری کسنجر نے اپنی یادداشتوں میں ذوالفقار علی بھٹو اور ہلیری کلنٹن نے بے نظیر بھٹو کی سیاسی فراست بیان کر رکھی ہے، اسے دیکھ لیں۔

بار دگر عرض ہے کہ بیرونی دنیا میں پاکستان کا احترام اسی تناسب سے طے پائے گا جتنا احترام ہماری ریاست اپنے شہریوں کو دے گی۔ وزیر اعظم معیشت اور سیاسی شفافیت کی بجائے احتساب سے شغف رکھتے ہیں۔ جاننا چاہیے کہ احتساب نظام انصاف کا محض ایک جزو ہے۔ ریاست کا حق تعزیر شہری آزادیوں کے تحفظ، معاشی ترقی کی جستجو اور تمدنی اقدار کے ہموار ارتقا کے تابع ہے۔ انصاف پھانسی گھاٹ کا بازار سجانے کا نام نہیں اور قوم کی معیشت یتیم خانے کی خیراتی نیکی کے سہارے نہیں چلتی۔ بے شک اسلام آباد اور چند بڑے شہروں میں پناہ گاہیں قائم کرنا وزیر اعظم کی غریب پروری کی عمدہ مثال ہے لیکن پناہ تو کسی آفت، ابتلا اور مصیبت سے مانگی جاتی ہے۔ ہماری اصل مصیبت معیشت کی بدحالی ہے، ہماری ابتلا تعلیم کی کمی ہے، ہماری تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ہمارے لئے عفریت ہے، ہماری سیاست کی ناقابل پیش گوئی غیر شفافیت نے ہمیں بے حال کر رکھا ہے۔ ہم اختیار کے ہٹیلے پن سے پناہ مانگتے ہیں اور پاکستان کے لوگوں کے لئے احترام، تحفظ اور دستور میں دی گئی آزادیوں کی ضمانت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *