سہیل وڑائچ: تضادستان میں بے تضاد شخص

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس سے وابستہ شخصیات کی وجہ سے بہت غنی اور ثروت مند ہے۔ اس میں ایسے صاحب علم، اہل نظر، کثیر المطالعہ، ویژنری اور تجربہ کار لوگ ہیں جو کمٹمنٹ اور لگن سے اس کی آبرو اور وقار کا باعث ہیں۔ سہیل وڑائچ کا شمار ایسے ہی صاحب نظر لوگوں میں ہے جنہوں نے اپنی عمر عزیز کا خاصا حصہ اس مشنری پروفیشن کو دیا اور نہ صرف اپنی بلکہ اس کی لاج رکھی اور مان بڑھایا۔ سہیل صاحب پاکستان کے ان بہت ہی معدودے چند جرنلسٹوں اور تجزیہ کاروں میں سے ہیں جو علم و دانش کی بنیاد پر میڈیا میں آئے اور تجربے اور ویژن کی دولت سے مالامال ہو کے سوسائٹی کی راہنمائی کر رہے ہیں۔

جب سے میں نے ان کو فالو کرنا شروع کیا، اور یہ کوئی تین دہائیاں ادھر کی بات ہے، تب سے وہ اپنے پروفیشن کو روزی روٹی کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہوئے نہیں بلکہ ایک مشن کے طور پراس سے کمٹمنٹ نبھاتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے انگلش کرنے پر 1987 ء میں ایف سی کالج لاہور میں لیکچرر کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا، اس کے ساتھ ساتھ 1987 ء سے روزنامہ ”جنگ“ میں سینئیر ایڈیٹر کام کرنا شروع کر دیا۔

2001 ء میں ملازمت کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ کے مستقل طور پر روزنامہ ”جنگ“ کے ہو گئے۔ 2002 ء میں پاکستان میں پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینل شروع ہونے پر ”جیو نیوز“ میں بانی رکن کے طور پر کام شروع کیا۔ وہ وہاں پر ”میرے مطابق“ پروگرام میں نامور جرنلسٹس اور تجزیہ کاروں حسن نثار اور افتخار احمد کے ساتھ معاصر موضوعات پر تجزیے پیش کرتے رہے، ساتھ ہی جیو نیوز پر ”لیفٹ رائٹ“ پروگرام کی میزبانی بھی کی۔ کچھ عرصہ کے لئے ”دنیا“ میڈیا گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رہے۔

وہاں سے ”جنگ“ اور ”جیو“ مراجعت کی اور ایڈیٹر روزنامہ جنگ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیو نیوز کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ معروف پروگرام ”ایک دن جیو کے ساتھ“ کی میزبانی، کالم نویسی اور تجزیہ کاری کے علاوہ اپنا بیشتر وقت مطالعہ، سیر و سیاحت، تحقیق و تصنیف، دوست احباب سے میل ملاقات اور شعر و سخن، موسیقی و آرٹ سے دل بہلانے اور مہمان نوازی میں گزارتے ہیں۔

سہیل وڑائچ نے جیو نیوز کے پروگرام ”ایک دن جیو کے ساتھ“ کو اردو میڈیا میں ایک برانڈ کی حیثیت دی، 2002 ء میں شروع ہونے والے اس پروگرام میں چھ سو شخصیات کے انٹرویوز ہوچکے اور سلسلہ جاری ہے۔ اس پروگرام میں انہوں نے اپنے منفرد اسلوب، مٹھاس بھرے پنجابی لہجے اور اردو زبان میں ٹیلی ویژن پر ادب، سماج، سیاست، آرٹ، فلم، تھیٹر، علم و تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور سپورٹس وغیرہ سے وابستہ نمایاں ترین شخصیات کے انٹرویوز کیے۔

یہ انٹرویوز اپنے عمدہ سٹائل اور جینوئن مطالب کی وجہ سے ناظرین میں اتنے مقبول ہوئے کہ ان کے بعض جملے ضرب الامثال کی طرح زبان زد عام و خاص ہوئے اور سہیل وڑائچ کی پہچان بن گئے ہیں، لوگ انہیں دیکھتے ہی ہنستے ہنستے وہ جملے دہراتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سہیل صاحب کے انٹرویوز کی مہمان شخصیتوں میں تنوع قابل توجہ ہے۔ اخبار اور نیوز چینل کے اپنے تقاضے اور وقت کی اپنی ضرورت ہوتی ہے، چنانچہ ان کی پکار پر تو لبیک کہنا ہی ہے، سہیل صاحب نے بھی یہ تقاضے نبھائے اور پکار کی ہاں میں ملائی سو معاصر سیاسی موضوعات سے متعلق شخصیات کے خاصے انٹرویو کیے اور ان سے ایسی معلومات عوام تک پہنچائیں جن سے سیاسی منظر نامہ بدل گیا، میاں محمد شہباز شریف کے ان کے ساتھ آخری انٹرویو کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، یہ انٹرویو مدت تک پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر چھایا رہا۔

یہ سب اپنی جگہ مگر وڑائچ صاحب کو تعلیم و تدریس، تحقیق و کنج کاوی، ادب و شعر، نغمہ و سرود، رقص و آہنگ، پینٹنگ، مجسمہ سازی اور پیکر تراشی سے دلی لگاؤ ہے، انہوں نے ان فیلڈز سے متعلق لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے انٹرویو کیے۔ اگرچہ سہیل صاحب کا طریقۂ کار یہ رہا ہے کہ وہ انٹرویو کرتے ہوئے نپے تلے اور مختصر سوال کرتے ہیں، مگر اپنے پسندیدہ موضوعات والی شخصیات سے انہوں جو سوال کیے وہ زیادہ تفصیلی اور عام روش سے ہٹ کے ہیں، آرٹ، موسیقی وغیرہ پر تو وحدت الوجود والی صورت نظر آتی ہے، ایسے لگتا ہے جیسے سہیل صاحب کا ذاتی ذوق و شوق لفظوں کا قالب اختیار کر رہا ہے، جواب سوال اور سوال جواب بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

ان کا ایک ہنر یہ ہے کہ دو ٹوک اور ٹو دی پوائنٹ بات کرتے ہیں، گفتگو اور نقطۂ نظر نپا تلا اور سوچا سمجھا ہوتا ہے، لفظ اور معنی دونوں اعتبار سے، گفتگو میں نہ کسی لفظ کی کمی نظر آتی اور نہ ہی اضافہ کھٹکتا ہے، اور معانی کے حوالے سے وہ سو فیصد واضح، غیر مبہم، بے سقم اور نتیجہ خیز بات کرتے ہیں، نہایت سادہ، مترادفات اور سجع و قوافی کے اہتمام اور پیچیدگیوں سے آزاد، بھاری بھرکم اور ثقیل اصطلاحات و مرکبات اور تعبیروں سے بالکل مبرا، دل میں اتر جانے اور نقش بٹھانے والی بات۔ وہ اس بات کے قائل، داعی اور پریکٹشنر ہیں کہ لفظ امیر ہوں تو معانی فقیر اور پسماندہ رہ جاتے ہیں، بیان اور اظہار میں تصنع ہو تو لفظ مدعا و معانی سے بانجھ رہ جاتے ہیں۔

سہیل وڑائچ ٹھیٹ پنجابی ہیں، قد و قامت، رہن سہن، چال ڈھال، بول چال، لہجے اور لحن ہر پہلو سے، انہیں اس پر کوئی کمپلیکس بھی نہیں ہے، انگریزی کی اعلی تعلیم لینے اور اردو کو ذریعہ اظہار بنانے کے باوجود، روایت دوستی، قلب و روح میں رچے بسے ماں بولی اور دھرتی سے والہانہ عشق کے راسخ احساسات کی بنا پر ہمیشہ اردو اور انگریزی میں اپنے فطری یعنی پنجابی لہجے میں بات کرتے ہیں، وہ بھی بلند آہنگ ہو کے، شرماتے ہوئے نہیں، تصنع اور بناوٹ سے بھی دور، گویا انہوں نے اپنے آپ کو لکھنوی اور دہلوی بنانے کے بجائے جاٹ اور پنجابی ہی رہنے کو ترجیح دی اور اس پر قائم ہیں، میڈیا انڈسٹری میں غیر معمولی اعلیٰ مقام اور پہچان حاصل کرنے کے باوجود۔

سہیل صاحب کا ڈیل ڈول، ہیکل اور جثہ اور ”ایک دن جیو کے ساتھ“ پروگرام میں ناشتے اور کھانے کے دستر خوان کی وسعت اور غذائی تنوع دیکھ کے لگتا ہے کہ وہ خاصے خوش خوراک ہیں، مگر یقین کریں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد کے ساتھ پروگرام میں ناشتے کی میز پر چٹ پٹے مزیدار کھانوں میں سے انہوں نے کسی ایک کو بھی ہاتھ نہیں لگایا، کیونکہ گھر سے ہی ناشتہ کر کے آئے تھے، مصدقہ ذرائع بتاتے ہیں کہ اکثر ایسا ہی ہوتا، بس پروگرام کے فارمیٹ اور مہمان نوازی کے جذبے کی لاج رکھتے ہوئے اپنے گھر کے علاوہ مہمان شخصیات کے گھروں میں بھی دوسروں کو کھانا کھلانے کا شوق پورا کر رہے ہیں۔

شخصیات کے بارے میں خندہ رو، ہنس مکھ، سراپا عجز، سراپا ناز وغیرہ جیسی اصطلاحیں رائج ہیں، آپ نے بھی سنی ہوں گی، مگر سہیل صاحب کے ساتھ بیٹھیں، باتیں کریں اور سنیں تو لگتا ہے وہ سراپا قہقہہ ہیں، کوئی بات اچھی لگے تو بے حد خوش ہوتے ہیں، کیفیت بھی دیدنی ہوتی ہے، یوں کہ وہ کھل کے قہقہے لگاتے ہیں، یہ مسلسل اور رواں ہوتے ہیں، بتدریج آگے بڑھتے، عروج پر پہنچ کر نیچے اترنا شروع کرتے ہیں، گویا نشیب و فراز یا سادہ لفظوں میں اونچ نیچ والے ہوتے ہیں، ہر عضو بدن ان میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہا ہوتا ہے، بعض اوقات وہ کرسی، صوفہ، بنچ، چارپائی، غرض جس چیز پر بھی بیٹھے ہوں، ساتھ دیتے، یعنی قہقہے لگاتی نظر آتی ہے، بہ مقدار شدت خوشی، قہقہوں کو ریکٹر سکیل سے ناپ پائیں تو 8.9 شدت کے تو ہوں گے۔ شکم مبارک میں ورود و اخراج خوشی موجیں مارتی نظر آتی ہے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پروفیشن بنانے والوں کو کم از کم دو گروپس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک وہ جو تقدیر یا تدبیر سے آئے اور تجربے کی بنیاد پر مہارت پا کے آگے بڑھتے رہے، اونچا مقام پایا اور نامور ہو گئے، دوسرا وہ جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد آیا، کوئی شوق سے اور کسی کو دانہ پانی کھینچ لایا، ان میں سے کم لوگوں نے صحافت کو اپنا سب کچھ سمجھا اور کمٹمنٹ سے ہی اسے اختیار کیے رکھا، اکثر نے تو اسے جز وقتی شغل بنایا اور اس سے دل لگی کرتے رہے کالم وغیرہ لکھنے کی حد تک۔

سہیل وڑائچ اس گروہ میں شامل ہیں، جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس پروفیشن میں آئے، چونکہ شوق اور لگن سے آئے، اس لئے ان کی سوچ، اپروچ اور عمل داری میں فرق ہے، اس طرح کہ انہوں نے میڈیا پروفیشن کے سارے تقاضے بھرپور انداز میں نبھائے، ساتھ ہی اندر کا کمٹڈ سکالر اور سابق استاد سر اٹھاتا رہا، چنانچہ معاصر موضوعات پر معرکۃ الآراء تحقیقی کتب تصنیف کیں، ان سب میں رائج تحقیقی معیار کو سامنے رکھا اور اس پر پورے اترے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو پر ”قاتل کون“ اور میاں نواز شریف پر ”غدار کون“ جیسی تحقیقی کتب نمونے کا درجہ رکھتی ہیں۔ بعض کے تو عنوان ہی مشہور ہوکے زباں زد خاص و عام ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کی اہم ترین سیاسی شخصیات اور فیصلہ کن اور حساس واقعات پر عمدہ تحقیقی کام انجام دیا ہے۔ ملک میں رونما ہونے والے واقعات کی قبل از وقت قیاس آرائی یا پیشگوئی اور ان کے پس منظر پر ان کی آراء قابل اعتبار بلکہ سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے ”دا پارٹی از اوور“ اور ”یہ کمپنی نہیں چلے گی“ جیسی منفرد عنوانات والی کتابوں کے ذریعے پاکستان کے سیاسی منظر نامے کی جو پیش گوئیاں کیں، وقت نے ان کی سچائی ثابت کی۔

اظہار مدعا کے لئے قصہ کہانی، تمثیل اور بالواسطہ بیان کو ابلاغ میں مہارت کی دلیل سمجھا جاتا ہے، کلاسیکل شعرا اور ادیبوں نے اس سے خوب استفادہ کیا، مثنوی مولانا روم بہترین مثال ہے، مگر یہ ہنر با استعداد ہونے کے باوجود آتا عرق ریزی اور خون دل جلانے سے ہے۔ سہیل وڑائچ نے اس اسلوب میں اپنی مہارت کا سکہ بٹھایا ہے، وہ میرے علم کے مطابق عصر حاضر میں اردو کالموں میں اس کثرت سے تمثیلی انداز کو اختیار کرنے اور کمال ہنر مندی سے نبھانے والے نمایاں ترین کالم نگار ہیں۔

طویل تحریروں اور مفصل ادب پاروں میں تو یہ کام آسانی سے ممکن ہے، لیکن کالم جیسی محدد اور مختصر صنف میں اس سے عہدہ برا ہونا بہت مشکل اور دشوار ہے، مگر سہیل وڑائچ نے اسے آسان بنا دیا ہے۔ تصوراتی اور تخیلاتی خطوط نویسی کو اردو کالموں میں بکثرت رواج دینا ان کا ایک اور کارنامہ ہے۔ اس اسلوب میں انہوں نے کبھی عالم بالا اور کبھی عالم آب و خاک میں ایک خطے سے دوسرے منطقے یا ایک سیاسی گروہ سے دوسرے طائفے کے کسی شخص کو خط لکھ کر دلچسپ انداز میں معاصر سیاسی موضوعات پر تجزئیات پیش کیے ہیں اور یوں اردو کالم نویسی کا سٹائل اور مطالب کے حوالے سے دامن وسیع کیا ہے۔

ادب و شعر، فنون لطیفہ اور میڈیا سے وابستہ افراد عام طور پر اپنے ہنر پر نازاں، اس کے اعتراف اور توصیف پر شادماں نیز اس کے طلب گار ہوتے ہیں، بعض تو خود تعریفی میں حدیں پار کر جاتے ہیں، ایسے بھی ہیں جو کم و بیش اپنے ہر کالم چھپنے پر دوست احباب اور متوقع قارئین کو فون کر کے کالم پڑھنے کا پوچھتے اور ہنرمندی سے اس پر تعریفی رائے نکلوا لیتے ہیں، لیکن اس امر میں استثنا بھی ہے، ایک قابل توجہ تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے، جو اس کمپلیکس سے ماورا ہیں، سہیل وڑائچ انہی خوش نصیبوں میں ہے، انہیں میں نے کبھی اپنے فضائل بیان کرتے اور گن گاتے نہیں سنا، نہ ہی کسی اور نے ان میں نرگسیت کے عارضے کا کبھی ذکر کیا۔

بناوٹ اور تصنع انہیں چھو کر بھی نہیں گزرے، حتیٰ کہ ان کی تحریر کا ڈکشن بالکل وہی ہوتا ہے جو ان کی گفتگو میں سنائی دیتا ہے۔ انہیں تحریر کے ساتھ ساتھ تقریر پر بھی کمال مہارت حاصل ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی بڑے بڑے اجتماعات، سیمینارز، کانفرنسز میں وہ گفتگو کو ہی ترجیح دیتے ہیں جو فی البدیہہ اور حسب حال ہوتی ہے، لکھا ہوا مقالہ شاید ہی کبھی پڑھا ہو، البتہ گفتگو کو شائع کریں تو مقالہ بن جائے، مرتب، منسجم اور اول و آخر زیر بحث موضوع پر محیط، ایسا جیسے یکسوئی کے ساتھ خاصی سوچ بچار کے بعد لکھا اور پھر ایڈٹ بھی کیا گیا ہو۔

بڑے آدمی کی سب سے اہم نشانی یہ ہے کہ اسے مل کر عام آدمی خود کو محترم اور بڑا محسوس کرے، ملاقات پر پچھتاتا نہ رہے کہ عالی جناب نے اظہار فضل اور ابلاغ ہنر سے اسے کیڑا مکوڑا بنا کے رخصت کیا، سہیل صاحب بڑائی کے اس معیار پر کما حقہ، پورا اترتے ہیں، ان سے جب بھی ملے ہمیشہ عزت نفس اور احترام میں اضافہ محسوس کیا۔ وہ ایک بہت اچھے سامع ہیں، جب کوئی بات کر رہا ہو، خواہ اس کی بات کم اہم ہی کیوں نہ، وہ توجہ سنتے اور اس کا رسپانس دیتے ہیں، ایسے جیسے کہنے والے نے بڑی کمال بات کی ہو، در اصل اس طرح سے دوسروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

ذاتی اوصاف اور شخصی خوبیوں میں سہیل صاحب بہت منفرد ہیں، ان کے حلقہ احباب اور دائرہ محبت میں ایک دفعہ داخل ہونے والا کبھی بے دخل نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنے ملازمین سے بھی نہایت دوستانہ اور مشفقانہ برتاؤ کرتے ہیں، چنانچہ ملازمین وغیرہ ملازم کم اور مرید زیادہ نظر آتے ہیں، یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنا کوئی ملازم کبھی نکالا نہیں، نہ ہی وہ خود چھوڑ کے گیا ہے، گویا:

کب نکلتا ہے کوئی دل میں اتر جانے کے بعد اس گلی میں دوسری جانب کوئی رستہ نہیں

اس پر مستزاد یہ وہ محمود و ایاز کے فرق کے قائل نہیں، سب کو ایک ہی معنوی آنکھ سے دیکھتے ہیں، اپنے تعلق داروں کو اون کرتے اور اس پر خوش ہوتے ہیں۔ ان کے ارد گرد کے لوگ صرف ذمہ داریاں نہیں نبھا رہے ہوتے اختیارات اور فوائد سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ میں نے ان کے پروگرام ڈائریکٹر اور پروڈیوسر بلال رزاق، مرید با صفا حمزہ ملک، باورچی عبید اللہ اور ڈرائیور سلیم شیخ کو ہمیشہ ان سے قلبی ذوق و شوق اور والہانہ عجز و نیازمندی سے ملتے جلتے دیکھا ہے اور یہ سب محض ظاہری اور سطحی تعلق سے ممکن نہیں، جب تک قلب و روح ہمراہی نہ کریں کوئی ایسا نہیں کر سکتا، اس میں مرتبے اور مقام کو بھی دخل نہیں۔ غرض سہیل وڑائچ ایک بڑا آدمی ہے، حقیقی معنوں میں (In letter and spirit) ، قدرت نے انہیں قد و قامت دیتے ہوئے بھی اس امر کو ملحوظ رکھا ہے۔ اپنے رویوں، عمل اور قول و فعل میں بھی وہ سادہ ہے، واضح ہے، کھرا ہے اور شفاف بھی، اندر سے بھی ویسا جیسا باہر سے نظر آتا ہے، بالکل بے تضاد شخص۔

(یہ مضمون سہیل وڑائچ کے ساتھ ایک بے تکلفانہ نشست میں پڑھا جانا تھا، مگر کرونا نے اس کی نوبت نہیں آنے دی، اس لئے یہاں پیش خدمت ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر محمد سلیم مظہر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *