جب سارتر کی زندگی کی شام آ گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ژاں پال سارتر 1980 میں فوت ہوئے تو ان کے جنازے میں ساری دنیا سے آئے ہوئے پچاس ہزار لوگ شامل تھے۔ ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی مغربی فلاسفر کو اتنی مقبولیت ’عزت اور عظمت حاصل ہوئی ہو۔ سارتر کی موت کی خبر فرانس کے بڑے بڑے اخباروں کے ساتھ ساتھ امریکہ کے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی شہ سرخیوں میں بھی شامل تھی۔ ان کی موت کے بعد فرانس کے صدر ویلر دیستینگ نے ان کے احترام میں دوستوں کے ساتھ ان کی لاش کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارا اور اٹلی کے صدر نے ان کی محبوبہ اور شریک حیات سیمون دی بووا کو تعزیتی پیغام بھیجا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سارتر کی شخصیت اور فلسفے میں ایسی کیا مقناطیسیت تھی جس کے سحر میں ساری دنیا کے ہزاروں لاکھوں مرد اور عورتیں گرفتار تھے۔

اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ سارتر صرف فلاسفر ہی نہیں تھے وہ ایک ادیب بھی تھے۔ ان کے 1938 کے ناول NAUSEA نے ادبی حلقوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ اس ناول کے بعد ان کے ڈراموں اور کہانیوں نے اتنی دھوم مچائی کہ انہیں 1964 کے ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انعام لینے سے انکار کر دیا کہ ادیب اور اپنی فنی اور تخلیقی آزادی برقرار رکھنے کے لیے کسی ادارے سے منسلک نہیں ہونا چاہیے۔

سارتر ایک فلاسفر اور ایک ادیب ہونے کے ساتھ ایک سیاسی کارکن بھی تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد انہوں نے مختلف سیاسی تحریکوں میں فعال کردار ادا کیا۔ جب فرانس نے الجیریا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہا تو سارتر نے فرانس کی حکومت کی مخالفت کی۔ جب انہیں غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو فرانس کے صدر چارلز ڈیگال نے یہ کہہ کر انہیں رہا کر دیا کہ

YOU DO NOT IMPRISON VOLTAIRE

سارتر کی زندگی میں ایک وہ دور بھی آیا جب ان کے اپارٹمنٹ پر ان کے دشمنوں نے دو دفعہ بمباری کی اور فرانس کی شاہراہوں پر جلوس نکالے گئے جس میں نعرے لگائے گئے SHOOT JEAN PAUL SARTRE

سارتر نے امریکہ کی ویت نام کی جنگ کی پرزور مخالفت اور کیوبا کے کامریڈز فیڈل کاسترو اور چے گویرا کی پر زور حمایت کی۔

Jean Paul Sartre

سارتر کی ایک ادیب اور سیاسی کارکن کے طور پر عزت کی جاتی ہے لیکن ان کی سب سے زیادہ عزت ایک وجودی فلسفی کے طور پر کی جاتی ہے۔ وجودیت کے فلسفے کی جو بنیادیں سورن کرکیگارڈ اور مارٹن ہائیڈگر نے رکھی تھیں سارتر نے اپنی مشہور کتاب BEING AND NOTHINGNESS سے ان بنیادوں پو بلند و بالا عمارت تعمیر کی اور سارتر کے اکتوبر 1945 کے لیکچر EXISTENTIALISM IS A HUANISM نے اس فلسفے کو بہت مقبول بنایا۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ سارتر کے وجودی فلسفے کے جتنے حامی تھے اتنے ہی مخالف بھی تھے۔

سارتر کے وجودیت کے فلسفے پر جن دائیں اور بائیں بازو کے لوگوں نے سخت اعتراضات کیے ان میں ان کے مارکسسٹ فلسفی اور کمیونسٹ دوست بھی شامل تھے لیکن زندگی کے آخری سالوں میں سارتر کا مارکسزم کے بارے میں رویہ بدلا جس کا تخلیقی اور فلسفیانہ اظہار ان کی کتاب

CRITIQUE OF DIALECTICAL REASON

اور مقالے

MARXISM AND EXISTENTIALISM

میں دکھائی دیتا ہے۔ ان تخلیقات نے وجودیت اور مارکسزم کے فلسفوں میں پل تعمیر کیے ہیں۔

سارتر خوش قسمت تھے کہ انہیں سیمون دی بووا جیسی دانشور کا پچاس برس کا ساتھ ملا۔ وہ دوست بھی تھے محبوب بھی تھے اور تخلیقی ہمسفر بھی تھے۔ سارتر نے سیمون کے فیمنزم کے فلسفے کو اور سیمون نے سارتر کے وجودیت کے فلسفے کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ چونکہ سیمون اور سارتر دونوں لا مذہبی تھے اس لیے سارتر کی موت پر سیمون نے تاریخی جملہ کہا تھا

YOUR DEATH SEPARATED US AND MY DEATH WILL NOT BRING US TOGETHER.

نوٹ۔ اس تعارف میں NEIL LEVY کی کتاب SARTREکے چند اقتباسات سے استفادہ کیا گیا ہے۔

***     ***

سارتر کی وفات سے چند سال پیشتر ’جولائی 1975 میں جب ان کی عمر ستر برس تھی‘ ان کی دوست اور مداحMICHEL CONTAT نے ان کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کے چند اقتباسات کا ترجمہ ’ہم سب‘ کے قارئین کے لیے حاضر ہے

مشیل کانٹیٹ۔ : شہر میں آپ کے چاہنے والے آپ کے بارے میں فکرمند ہیں۔ آپ کی صحت کا کیا حال ہے؟

ژاں پال سارتر: میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ میری صحت اچھی ہے لیکن یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میری صحت بری ہے۔ پچھلے دو برس میں مجھے چند مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ میں ایک کلومیٹر سے زیادہ چلوں تو میرے ٹانگوں میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ میرا بلڈ پریشر بھی بڑھ گیا تھا جو اب دوا کھانے سے کم ہو گیا ہے۔ سب سے زیادہ مسئلہ یہ ہے کہ میری بائیں آنکھ میں خون بہنے لگا تھا جس سے اب نظر نہیں آتا۔ میں دائیں آنکھ سے تو تین برس کی عمر سے ہی نابینا ہو گیا تھا۔ اب بائیں آنکھ کا بھی مسئلہ ہو گیا ہے۔ مجھے روشنی تو نظر آتی ہے چہرے نظر نہیں آتے۔ اس وجہ سے میں لکھ پڑھ نہیں سکتا۔ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ میں لکھ تو سکتا ہوں لیکن اپنا لکھا پڑھ نہیں سکتا۔ اس وجہ سے میرا لکھاری ہونے کا پیشہ ہمیشہ کے لیے تباہ و برباد ہو گیا ہے۔

ان مسائل کے علاوہ میں ٹھیک ہوں۔ مجھے نیند اچھی آتی ہے۔ میرا ذہن اتنا ہی فعال ہے جتنا دس سال پہلے ہوتا تھا۔

مشیل : ایک لکھاری ہونے کے ناتے نہ لکھ سکنا بہت آپ کے لیے مشکل ہوگا

سارتر: ایک لحاظ سے میری زندگی کا مقصد ختم ہو گیا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بات سے مجھے جتنا دکھی ہونا چاہیے اتنا دکھی یا اداس نہیں ہوں۔

مشیل : کیا آپ کے دل میں بغاوت کے جذبات نہیں ابھرتے؟

سارتر: دو سال پیشتر میں زیادہ پریشان تھا لیکن اب میں نے حالات سے سمجھوتہ کرنا سیکھ لیا ہے۔

مشیل : کیا اب آپ کھوئے کھوئے سے رہتے ہیں؟

سارتر: ایسا ہی ہے۔ میں تھوڑی سی سیر کر لیتا ہوں۔ کوئی مجھے اخبار پڑھ کر سنا دیتا ہے۔ میں اب بھی سوچتا ہوں لیکن چونکہ لکھ نہیں سکتا اس لیے میرے سوچنے کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔

اب کچھ لکھنا چاہتا ہوں تو اس کو لکھ کر بدل نہیں سکتا بار بار پڑھ کر درست نہیں کر سکتا۔ اس طرح میرا جو مخصوص انداز تحریر تھا وہ کھو گیا ہے۔ نوجوان لکھاری نہیں جانتے کہ ایک اچھا لکھاری اپنے انداز اور اپنے اسٹائل سے پہچانا جاتا ہے۔ ایک اچھا ادیب صاحب طرز ادیب ہوتا ہے۔

مشیل : کیا آپ ٹیپ ریکارڈر استعمال نہیں کر سکتے؟

سارتر: کر تو سکتا ہوں لیکن اپنے کہے کو بدل نہیں سکتا۔ لکھاری ایک تحریر لکھتا ہے پھر اسے دوبارہ لکھتا ہے۔ میں نے کئی تحریریں چار پانچ دفعہ لکھی ہیں تا کہ مناسب الفاظ کا چناؤ ہو اور جملہ ایسا لکھا جائے کہ اس کے ظاہری معنی بھی ہوں اور مخفی معنی بھی۔ ایک اچھا لکھاری الفاظ کو ایک سے زیادہ معنی دیتا ہے۔ ایک اچھا لکھاری زبان کا تخلیقی استعمال کرتا ہے۔ سائنسی زبان کا ایک پرت ہوتا ہے ادب کی زبان کے کئی پرت ہوتے ہیں۔ ادب میں ابہام تخلیق کا حسن بڑھاتا ہے۔

مشیل: آپ کے فلسفیانہ مضامین اور آپ کے افسانوں اور ڈراموں کی زبان میں بہت فرق ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

سارتر: فلسفے میں ایک جملے کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے لیکن ادب میں ایک جملے کے کئی معانی ہوتے ہیں۔ ادب کے ایک جملے میں کئی جملے ہوتے ہیں۔

مشیل : لیکن آپ کی فلسفیانہ کتاب BEING AND NOTHINGNESS میں کئی ادبی جملے ہیں۔

سارتر: وہ مجھ سے غلطی ہوئی اور کئی اور فلسفیوں نے بھی یہ غلطی ہے کہ فلسفے کے مقالے کو افسانوی زبان میں لکھا۔ فلسفے اور افسانے کی زبان میں بہت فرق ہے۔

مشیل: آپ کے لیے نہ پڑھ سکنا کتنا تکلیف دہ ہے؟

سارتر: میں نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا ہے کہ سیمون مجھے پڑھ کر سناتی ہیں۔ کئی کتابیں تو انہوں نے شروع سے آخر تک پڑھ کر سنائیں۔ فرق یہ ہے کہ مجھے اکیلے میں لکھنے اور پڑھنے کی عادت تھی جو اب ختم ہو گئی ہے۔

مشیل : آپ نے مجھ سے 1971 میں کہا تھا کہ میں پورا سچ لکھنے کے لیے تیار ہوں لیکن صرف فکشن میں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

سارتر: اس وقت میں اپنے دور کی سیاسی سچائیوں کے بارے میں فکشن لکھنا چاہتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اپنے بارے میں بھی پورا سچ نہیں جانتے۔ ایک ادیب کا سچ یہ ہونا چاہیے کہ وہ قلم اٹھائے اور بغیر سنسر شپ کے اپنا پورا سچ لکھ دے۔

مشیل: کیا کوئی لکھاری اپنی ذات کو بالائے طاق رکھ کر پورا سچ نہیں لکھ سکتا؟

سارتر: لکھ تو سکتا ہے لیکن ایسا سچ معروضی سچ ہوتا ہے جو زیادہ دلچسپ نہیں ہوتا۔ جو لکھاری اپنی ذات کا سچ لکھ سکتا ہے وہ زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔

مشیل: کیا اب آپ اپنے ذاتی سچ کے زیادہ قریب آ گئے ہیں؟

سارتر: میں نے THE WORDSمیں خود سوانحی سچ لکھا ہے۔ وہ ایک طرح کا سچ ہے اور جو میں نے ناولNAUSEAلکھا تھا وہ دوسری طرح کا سچ تھا وہ ادبی و تخلیقی سچ تھا۔

مشیل : جب آپ نے کہا کہ اب میں سچ لکھنے کے لیے تیار ہوں تو اس جملے سے یوں لگتا ہے جیسے اس سے پہلے آپ جھوٹ لکھتے آئے ہیں

سارتر: جھوٹ نہیں لکھا۔ آدھا سچ لکھا تھا۔ چوتھائی سچ لکھا تھا۔ اس کی ایک مثال میری جنسی زندگی ہے۔ میں نے اس کے بارے میں نہیں لکھا کیونکہ ہمارا معاشرہ ابھی اس سچ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

مشیل : آپ نے اپنے ناولوں میں جنس کے حوالے سے لکھا ہے؟

سارتر: میں نے زندگی کے صرف ایک دور کے بارے میں لکھا ہے۔ لکھاری کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں لکھتے ہوئے پوری دنیا کے بارے میں لکھے۔ اس کی کہانی میں سب کی کہانی شامل ہو۔ ہم سب سچ کی تلاش میں ہیں سچ جو بیکراں ہے سچ جو چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔

مشیل : آپ کی نگاہ میں آپ کی بہترین تخلیق کیا ہے؟

سارتر: میری نگاہ میں میرا ناول NAUSEAمیری بہترین تخلیق ہے۔

مشیل : آپ نے زندگی بھر بڑی مستعدی سے لکھا ہے؟

سارتر: ایک لکھاری کو بڑا کام کرنے کے لیے ڈسپلن کی بہت ضرورت ہے۔

مشیل : اب جو آپ موت کے قریب آ گئے ہیں کیا آپ کا ادبی کام مکمل ہو گیا ہے۔ کیا آپ جو لکھنا چاہتے تھے وہ لکھ لیا ہے؟

سارتر: ہر وہ ادیب جو ادب اور فلسفے کا کام شروع کرتا ہے اس کا کام مرتے وقت بھی نامکمل رہتا ہے۔

اپنی بینائی کھونے سے میرے کام میں کمی آ گئی ہے۔ اب جبکہ میری زندگی کی شام آ گئی ہے میں کوئی بڑا ادبی پروجیکٹ نہیں کر سکتا۔

مشیل: آپ کی کوئی اور ادبی خواہش؟

سارتر: میں نے سیمون سے بات کی ہے کہ کسی ٹیلی ویژن چینل سے انٹرویو کا اہتمام کرے کیونکہ میں لکھ تو نہیں سکتا لیکن گفتگو تو کر سکتا ہوں۔ وہ میری گفتگو ریکارڈ کر سکتے ہیں۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 433 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *