لڑائی میں شدت، 134 فلسطینی اور آٹھ اسرائیلی ہلاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غزہ میں اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام غزہ کی پٹی کی سرحد پر زمینی فوج تعینات کر دی ہے جس کے باعث خدشات لاحق ہو گئے ہیں کہ پانچ دن سے جاری کشیدگی مکمل جنگ میں بدل سکتی ہے۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں پانچویں دن بھی جاری رہیں اور اسرائیلی فورسز نے ہفتے کو غزہ پر فضائی حملے کیے جب کہ فلسطینی تنظیم ‘حماس’ کی طرف سے اسرائیل پر راکٹس داغے گئے۔

فلسطین کے وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق ہفتے کی صبح غزہ پر کیے جانے والے دو فضائی حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل رواں ہفتے جمعے کو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان لڑائی جاری رہی اور مظاہروں کے دوران مغربی کنارے میں سیکڑوں فلسطینیوں نے اسرائیلی پولیس پر پتھراؤ کیا اور ٹائر جلائے۔

اسرائیل اور فلسطینیوں میں گزشتہ پانچ دن سے پر تشدد جھڑپیں جاری ہیں۔

غزہ میں اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام غزہ کی پٹی کی سرحد پر زمینی فوج تعینات کر دی ہے جس کے باعث خدشات لاحق ہو گئے ہیں کہ پانچ دن سے جاری کشیدگی مکمل جنگ میں بدل سکتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ غزہ پر کیے جانے والے حملوں کا مقصد حماس کے گزشتہ کئی برس کے دوران بنائے گئے سرنگوں کے نظام کو تباہ کرنا ہے۔

اسرائیل کا مزید کہنا ہے کہ وہ ممکنہ زمینی حملے سے پہلے ان سرنگوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مزید نو ہزار فوجی اہلکاروں کو سرحد پر تعینات فوج میں شامل ہونے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔

مسجد اقصی میں جمعے کی نماز پڑھانے والے شیخ اکرما صابری نے برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ رمضان کے دوران مسجد کے تقدس کو کئی بار پامال کیا گیا اور ان کی طرف سے ان خلاف ورزیوں کو 1967 کے بعد بے مثال قرار دیا گیا جس سال عرب اسرائیل چھ روزہ جنگ ہوئی تھی۔

اس جنگ کے دوران اسرائیل نے یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا جہاں مسجدِ اقصیٰ کے علاوہ متعدد دیگر مذہبی مقامات واقع ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق شمالی غزہ میں جمعے کو عید کے روز 13 افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک خاتون اور اس کے تین بچے بھی شامل ہیں۔

حالیہ لڑائی میں ہونے والی ہلاکتیں

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق پانچ روز پہلے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک کم از کم 134 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں 32 بچے اور 11 خواتین شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اس لڑائی میں اب تک 900 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری طرف اب تک آٹھ اسرائیلی غزہ سے ہونے والے راکٹ حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ جن میں ایک چھ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

اسرائیلی حملوں کے دوران فلسطینی خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر غزہ شہر سے متصل علاقوں میں منتقل ہو گئے۔

حملوں کے بعد غزہ اور اسرائیلی علاقوں میں تباہی
Photo Gallery:

حملوں کے بعد غزہ اور اسرائیلی علاقوں میں تباہی

ان خاندانوں میں سے چند خاندان اقوامِ متحدہ کے زیر نگرانی چلنے والے اسکولوں میں ٹرانسپورٹ کے ذریعے جب کہ کچھ پیدل چل کر اور کچھ گدھوں پر سوار ہو کر پہنچے۔ جن کے پاس بنیادی ضرورت کی چند اشیا جیسے کمبل اور کھانے کی اشیا موجود تھیں۔

شام سے اسرائیل پر راکٹ حملے

علاوہ ازیں اسرائیلی فوج کا جمعے کو کہنا تھا کہ شام سے اسرائیلی علاقوں پر تین راکٹ حملے کیے گئے جب کہ ان حملوں کے نتیجے میں کوئی نقصان ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور دمشق کی طرف سے بھی کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان موجودہ صورتِ حال پر اتوار سے اجلاس شروع کرے گی۔ جو کہ امریکہ کی طرف سے خدشات سامنے آنے کے پیش نظر ملتوی کر دیا گیا تھا۔

امریکہ کی اقوامِ متحدہ میں تعینات سفیر لنڈا تھامس کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ امریکہ فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر کوششیں کرے گا۔

جنگ بندی کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے فریقین سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جب کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ فلسطینی اتھارٹی، اسرائیلی حکام اور خطے کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر پائیدار امن کی کوشش جاری رکھے گی۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جمعے کو بھی غزہ میں حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے جب کہ غزہ پر اسرائیلی توپوں سے گولہ باری اور فضائی کارروائیاں جاری رہیں۔

کشیدگی کا آغاز کب ہوا؟

یروشلم کے علاقے ‘شیخ جراح’ سے فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی کے خلاف فلسطینی گزشتہ کئی روز سے احتجاج کر رہے تھے۔

آٹھ فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کر کے یہودی آبادکاروں کو یہاں لانے پر ہونے والے احتجاج کے باعث اس علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ غزہ پر کیے جانے والے حملوں کا مقصد حماس کے پچھلے کئی سالوں کے دوران بنائے گئے سرنگوں کے نظام کو تباہ کرنا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ غزہ پر کیے جانے والے حملوں کا مقصد حماس کے پچھلے کئی سالوں کے دوران بنائے گئے سرنگوں کے نظام کو تباہ کرنا ہے۔

اس کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب گزشتہ اختتام ہفتہ یروشلم میں موجود الاقصیٰ مسجد کے صحن میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں۔

اس موقع پر اسرائیل کی فوج نے مسجد کے صحن میں جمع ہونے والے فلسطینیوں پر آنسو گیس، اسٹن گرنیڈ اور ربڑ کی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہوئے۔

حماس نے اسرائیل کو مسجد اقصیٰ سے سیکیورٹی فورسز کو پیچھے نہ ہٹانے کی صورت میں راکٹ حملوں کی دھمکی دی جس پر پیر کی شب باقاعدہ طور پر عمل درآمد بھی کیا گیا۔

حماس کے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ میں فضائی کارروائی کی اور دوطرفہ جھڑپوں کا سلسلہ تین روز سے جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2194 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *