لیاقت خٹک کی بغاوت اور عمران خان کے ہاتھ سے نکلتا پختونخوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پچھلے دنوں نوشہرہ میں ضمنی انتخابات سے قبل پرویز خٹک اور ان کے برادر خورد کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے متعلق ایک کالم میں دونوں بھائیوں کی سیاست کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں بھائیوں کا سیاسی مزاج ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیاقت خٹک کی سیاست میں موجودگی ان کے بڑے بھائی پرویز خٹک کی مرہون منت ہے۔ لیاقت خٹک کی انتخابات میں ابتدائی کامیابی بھی پرویز خٹک کے باعث ممکن ہوئی۔ تاہم لیاقت خٹک نے اپنی طبیعت کی عاجزی اور ہمہ وقت اپنے کارکنوں کے کام آنے کی سعی کے باعث اپنا ذاتی ووٹ بینک اور سیاسی مقام بنا لیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ لیاقت خٹک روایتی سیاستدان نہیں ہے لیکن انہوں نے خود کو کبھی اپنے بڑے بھائی کے لئے بوجھ نہیں بننے دیا بلکہ پرویز خٹک کی طبیعت کی رعونت، انانیت اور تکبر کو اپنی عاجزی اور لوگوں کو ہمہ وقت میسر ہونے کی خاصیت کے باعث بڑی حد تک قابو کیا اور پرویز خٹک کو نقصان نہیں پہنچنے دیا۔

پرویز خٹک نے پچھلے دنوں نوشہرہ کے ضمنی انتخابات سے قبل اپنے مخصوص تکبر آمیز لہجے میں کہا تھا کہ وہ جس کے سر پر ہاتھ رکھ لے وہ بادشاہ بن جاتا ہے اور جب وہ سر سے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو پھر اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ میڈیا میں پرویز خٹک کے اس بیان کی بڑی دھوم مچی اور یہ تاثر پھیلا کہ جیسے ان کا اشارہ عمران خان کی جانب ہے لیکن درحقیقت وہ اپنے چھوٹے بھائی کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔ نوشہرہ کی سیاست پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ دونوں بھائیوں کے مابین سنگین اختلافات کا باعث دونوں کے فرزندان ہیں۔

پرویز خٹک کے بیٹے اسحق خٹک اور لیاقت خٹک کے بیٹے احد خٹک نوشہرہ کی سیاست میں پچھلے کئی برسوں سے سرگرم ہیں۔ پرویز خٹک کے ایک بیٹے ابراہیم خٹک بھی جنرل انتخابات کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ پرویز خٹک کے داماد عمران خٹک دوسری مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ لیاقت خٹک بھی ضمنی انتخابات میں پرویز خٹک کی خالی کردہ نشست پر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ پرویز خٹک صاحب کی بیوی کی بہن اور ان کی بھتیجی بھی خواتین کے لئے مختص نشستوں پر قومی اسمبلی کی ممبرز بنی ہیں۔

حالیہ اختلافات بھی خاندان کے اندر دونوں بھائیوں کی اولاد کے سیاسی مستقبل کے باعث ہوئے ہیں۔ پرویز خٹک پی ٹی آئی کے میاں جمشید کی وفات کے بعد خالی ہونے والی نشست پر اپنے بیٹے اسحق خٹک کو لڑوانے کی خواہش رکھتے تھے جبکہ لیاقت خٹک کے فرزند احد خٹک بھی یہی تمنا رکھتے تھے۔ پی ٹی آئی بالخصوص مرحوم میاں جمشید کے گاؤں زیارت کاکا صاحب کے لوگوں نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور اس نشست پر مرحوم کے بیٹے کا حق جتلایا۔

اس دباؤ کے باعث پرویز خٹک اپنے بیٹے کو تو ٹکٹ نہیں دلوا سکے لیکن خاندان کے اندر پہلے سے موجود اختلاف گہرا ہو گیا۔ لیاقت خٹک صاحب نے اپنے بیٹے احد خٹک کے لئے بلدیاتی انتخابات میں مناسب جگہ کا تعین کرنا چاہا تو پرویز خٹک نے صاف انکار کر دیا اور ان کے اپنے محکمے میں مداخلت شروع کر دی۔ اپنے بھائی کے لئے زندگی بھر پر خلوص خدمات سر انجام دینے والے لیاقت خٹک اپنے بیٹے احد خٹک کی محبت کے آگے مجبور ہو گئے اور اپنے بھائی سے الگ سیاسی سٹینڈ لیا۔

احد خٹک نوشہرہ کی سیاست کے نہایت دلچسپ کردار ہیں۔ احد خٹک نے نہایت کم عمر میں اپنے تایا اور والد کی سیاست میں کردار ادا کرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے نوشہرہ کی سیاست میں اپنی الگ پہچان بنا لی۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں احد خٹک نے اپنے تایا کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے والد کی حمایت حاصل کرنے کے بعد اپنے حامیوں سے رابطے شروع کیے۔ نوشہرہ میں ایک کامیاب جلسہ کر کے مخالف لائن لی اور اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔ مسلم لیگ نون کے امیدوار اختیار ولی سے ملاقات کر کے اپنا سیاسی وزن ان کے پلڑے میں ڈال دیا، اپنے حامیوں کو متحرک کر کے اختیار ولی کے لئے راستہ ہموار کیا جس کا نتیجہ پی ٹی آئی کی غیر متوقع شکست کی صورت نکلا اور پرویز خٹک کی سیاسی حیثیت کے متعلق سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔

مسلم لیگ نون کی حمایت کی پاداش میں پی ٹی آئی نے عجلت میں لیاقت خٹک کو ان کی وزارت سے فارغ کر دیا اور یہی سے عمران خان کی مشکلات شروع ہوئیں۔

لیاقت خٹک کو نگلنا آسان کام نہیں نکلا۔ لیاقت خٹک کے ساتھ اس وقت بیس سے زائد ایم پی ایز رابطے میں ہیں جو مشترکہ سیاسی حکمت عملی اپنانے میں لیاقت خٹک کے ساتھ لائحۂ عمل تشکیل دے چکے ہیں۔ مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور اے این پی سر توڑ کوشش میں لگے ہیں کہ کسی طرح لیاقت خٹک کو اپنے ساتھ شمولیت پر آمادہ کریں۔ شاہد خاقان عباسی اور احد خٹک کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی اور شنید ہے کہ مسلم لیگ نون کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں لیکن لیاقت خٹک صاحب عجلت میں کوئی قدم اٹھانے کے حق میں نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کو جب ان تمام معاملات کا پتہ چلا تو انہیں شدید دھچکا لگا۔ پختون خوا کے متعلق وزیراعظم صاحب حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہیں۔ نوشہرہ کی شکست تو جیسے تیسے برداشت کر لی لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ لیاقت خٹک کے پیچھے نوشہرہ سے باہر بھی ممبران اسمبلی بغاوت پر آمادہ ہیں تو انہیں معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔ وزیراعظم صاحب نے فوراً وزیراعلی محمود خان کو ہدایت کی کہ لیاقت خٹک سے بات کر کے انہیں روکیں۔

وزیراعلی محمود خان نے لیاقت خٹک صاحب سے ملاقات کی اور انہیں پارٹی سے بغاوت نہ کرنے کی درخواست کی۔ لیاقت خٹک صاحب وزارت میں مداخلت اور بعد میں ڈی نوٹیفیکیشن پر گلہ مند نظر آئے اور عمران خان سے ملاقات کی شرط عائد کر دی۔ اگلی ملاقات میں وزیراعلی کے ساتھ گورنر صاحب بھی شامل ہوئے۔ لیاقت خٹک صاحب نے پھر عمران خان سے ملاقات کی شرط کا اعادہ کیا۔ بالآخر وزیراعظم صاحب کو فون پر لے کر لیاقت خٹک سے بات کرائی گئی۔ لیاقت خٹک کی شکایت پر وزیراعظم صاحب نے انہیں یقین دلایا کہ ان کی وزارت سے ڈی نوٹیفیکیشن واپس لے لی جائے گی، ان کی وزارت میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی اور وزیراعلی کو تاکید کی کہ لیاقت خٹک کے کام ترجیحی بنیادوں پر کریں۔

دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ پرویز خٹک نے اپنے برادر خورد کے ساتھ مکمل طور قطع تعلق کیا ہے۔ نہ صرف اپنے بیٹے کی شادی میں انہیں مدعو نہیں کیا بلکہ لیاقت خٹک کے بیٹے احد خٹک کی ساس فوت ہوئی تو پرویز خٹک نے خود بھی تعزیت نہیں کی اور اپنے بیٹوں کو بھی سختی سے منع کیا۔

پرویز خٹک صاحب کو جب وزیراعظم عمران خان کے ارادوں کا پتہ چلا تو انہوں نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے وزیراعظم صاحب کو صاف صاف بتا دیا کہ ایسے کسی بھی اقدام کی صورت میں وہ پارٹی کو خیرآباد کہنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کریں گے۔ پشتو کا محاورہ ہے کہ ایک طرف ڈانگ ہے تو دوسری طرف پڑانگ۔ وزیراعظم صاحب دونوں بھائیوں کے اختلافات کے درمیان پھنس چکے ہیں۔ ایک کی خوشی دوسرے کی ناراضی۔ لیاقت خٹک صاحب کی وزارت کی بحالی کا نوٹیفیکشن تاحال جاری نہیں ہو سکا۔ لگتا یہی ہے کہ دونوں بھائیوں میں سے ایک اپنے ساتھیوں سمیت مستقبل قریب میں تحریک انصاف چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گا۔

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا تو رشتہ و پیوند کیا معنی رکھتے ہیں؟ یک جان دو قالب جیسے بھائی ایک دوسرے کی مخالفت میں کمر کس چکے ہیں۔ پختون تاریخ سے شغف رکھنے والے جانتے ہیں کہ خوشحال خان خٹک کی زندگی میں ان کے بیٹوں کے درمیان سرداری کے لئے شروع ہوئی خونریز جنگ ان کی موت کے بعد اتنی شدید ہوئی کہ عظیم خوشحال خان خٹک کے نواسے، افضل خان خٹک (اشرف خان ہجری کے فرزند) نے اپنی سرداری پکی کرنے کے لئے اپنے دس چچاؤں کو تہہ تیغ کیا جن میں ساٹھ کے قریب کتابوں کے خالق جلیل القدر عبدالقادر خان خٹک بھی تھے۔

یہ خونی واردات ایک گھنٹے میں مکمل ہوئی تھی۔ زمانہ بدل گیا، تخت و تاج اور سرداری کی قدیم شکل بھی نئے زائچوں میں ڈھل چکی ہے، خوشحال خان خٹک کی جنم بھومی میں اب کہ اقتدار اور اختیار کے لئے قتل و غارتگری کا کوئی امکان نہیں لیکن اقتدار اور اختیار کی رسہ کشی بہرحال جاری ہے اور لگتا یہی ہے کہ بھتیجا تایا کو بھاری پڑنے والا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *