وبا کے سال اور دیسی دانشور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سانس کا دھاگا ایسا کچا کبھی نا تھا جیسا وبا کے پچھلے دو سالوں میں ہو گیا۔ اپنے بچھڑتے پہلے بھی تھے، بیماریاں حملہ آور ہوتی ہی تھیں، مگر علاج چلتے رہتے۔ صحت یابی بہت سوں کا مقدر ٹھہرتی اور کچھ ہار جاتے۔ مگر زندگی کی ایسی ارزانی کبھی دیکھی نا تھی جیسی اس کرونا کے دنوں میں ہوئی۔ کسے معلوم تھا کہ علم اور سائنس کی معراج پر پہنچنے کے بعد ایک ننھا سا وائرس خوف کی ایک عالمگیر کیفیت پیدا کر سکتا ہے۔ چاند اور مریخ تک پہنچ جانے والی انسانیت ایسے گھٹنے ٹیک دے گی کہ اپنے گھروں سے باہر نا نکل پائے گی۔ ترقی پذیر ممالک سے سے ترقی یافتہ اقوام تک سبھی ایک دہائی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ سنہ 2020 سے اب تک دنیا بھر میں سولہ کروڑ افراد اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے تینتیس لاکھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔

مشرق سے مغرب تک سب ہی اس نظر نا آنے والی عفریت کے خلاف ایک اعصاب شکن جنگ میں مصروف ہیں۔ ذرا بیماری پر قابو پا کر انسان باہر کا رخ کرتا ہے تو وائرس پھر بے قابو ہو جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں تیسرا لاک ڈاؤن ہو چکا اور کینیڈا سمیت دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں کی بڑی تعداد اس عید پر بھی گھروں میں ہی محصور رہی ہے۔

اس مرض نے صرف سانس پر ہی وار نہیں کیا بلکہ ہمارے اعصاب کو بھی شل کر دیا ہے۔ ایسی بے بسی کا عالم ہوا کہ جو بیمار پڑا اس کی عیادت ممکن نا رہی، والدین بچوں کی راہ تکتے اور اولاد ماں باپ کی شفقت کی تمنا لیے ہی بیماری سے لڑے یا جان سے ہارے۔ کسی کی تعزیت کے لیے پہنچنا تو کیا ممکن ہوتا اپنے ہی اپنوں کا جنازہ نا اٹھا سکے۔ ہم سب اور ہمارے عزیز و اقارب میں سے شاید کوئی بھی ایسا نہیں بچا جس نے بذات خود یا اپنے عزیزوں کو اس بیماری کے ہاتھوں مجروح ہوتے نا دیکھا ہو۔

دوستوں سے ہوتے میرے قریبی عزیز مظفر بھی اپنے دو دوستوں سمیت کرونا کی لپیٹ میں آئے۔ جن میں سے دو تو بے پناہ تکلیف سے گزرنے کے بعد صحت یاب ہوئے مگر ایک جواں سال دوست باسط کے انتقال کا دکھ اٹھانا پڑا۔ مظفر سے ہی پتہ لگا کہ باسط بھی کرونا کے وجود کا انکاری تھا اور غالباً اسے ہنود یہود کی کوئی چال مانتا تھا۔ اور آخر کوئی بیس دن ہسپتال اور بیس ہی لاکھ روپے خرچ کرنے کے بعد ہسپتال والوں نے بقیہ رقم کی پوری وصولی کے بعد روح سے عاری جسم گھر والوں کے حوالے کیا۔

ایک باسط ہی کیا وطن عزیز میں ایسے کتنے ہی باسط تھے جو کرونا کو بل گیٹس کی چپ مہم، مسلمان کو مسجد سے دور کرنے کی سازش، رمضان خراب کرنے کی واردات ہمارے دماغوں کو اپنے بس میں کرنے کی سازش قرار دیتے۔ اور ان کا امام خود ساختہ دانشوروں کا وہ طبقہ جو اپنے

سٹیٹس کا پیٹ بھرنے اور لائیکس کی بھوک مٹانے کے لیے ابتدا میں کرونا پر پھبتیاں کستے، پھر طنزاً پوچھتے کے آپ کے کسی جاننے والے کو کرونا ہوا؟ کوئی انہیں بتائے کہ جی ہاں میرے اور آپ کے کتنے ہی اپنے لپیٹ میں آ چکے، وہ لاک ڈاؤن کی مخالفت میں دلائل لاتے اور کرونا کو بیماری کی بجائے مائیکرو چپ لگانے کی سازش قرار دیتے۔ امریکہ کے چند جہلا کے ہجوم کو بل گیٹس کے خلاف ملک گیر مظاہرہ قرار دیتے یا اس پر سندھ پنجاب جیسی گھٹیا سیاست کرتے۔ کبھی سوال لاتے کہ گھر میں سے کسی ایک کو کرونا ہوا تو دوسرا کیوں محفوظ رہا؟

حالانکہ ہر سردی گرمی میں زکام سے آدھی دنیا متاثر ہوتی باقی نہیں۔ جراثیم تو اس کے بھی ہر جگہ ہوتے۔ ان میں سے کوئی تبلیغی جماعت کے اجتماع اور کوئی محرم کے جلوسوں کی حمایت کرتا اور کوئی مسجدوں اور سکولوں کی بندش پر لیکچر دیتا۔ کرونا کو ڈاکٹروں اور حکومت کے لیے پیسے اکٹھے کرنے کا ڈرامہ قرار دینے والے اب ڈاکٹروں نرسوں سمیت دسیوں لاکھوں کی اموات کو کس کا ڈرامہ قرار دیتے ہیں؟ اس سب سے ان سب کا مقصد صرف اپنے سوشل میڈیا سٹیٹس کا پیٹ بھرنا تھا۔ تا کہ فراغت کے لمحات میں دو چار سو لائیک اور کمنٹس مل سکیں۔

پھر دنیا بھر سمیت اپنے ملک میں کرونا نے زور پکڑا تو دھیرے دھیرے سٹیٹس بدلنے لگے۔ ذرا محتاط کا نعرہ مکمل احتیاط میں بدلا۔ اور اب جب بیماری کا انکار ممکن نہیں رہا تو سب ہی کرونا کے ماہر بنے مشورے دیتے نظر آتے ہیں۔ یعنی آپ کے کرونا پر یقین کے لیے کروڑوں افراد کا کرونا زدہ ہونا لازم ٹھہرا۔ یہ منافق لوگ خود کو قدم بقدم بدل کر سمجھ رہے ہیں کہ لوگ ہمارا پچھلا کہا بھول جائیں گے۔ بجائے اس کے کہ آپ اپنی طاقت جو لوگوں کی بہتری کے لئے استعمال کرتے آپ نے آپ نے لوگوں کو لاپرواہی کا سبق دیا۔ اب آپ تو مکر گئے مگر اس سب کے دوران جو گند آپ نے پھیلایا ہے اس کا کیا؟

خیر واپس آتے ہیں اپنے حالیہ مسکن کینیڈا کی جانب، ٹورنٹو میں آمد ہوئی تو بھر کی ثقافتوں کو اپنے دامن میں سمیٹے اور رنگ و نسل کے تعصب سے بالا اس شہر کی رونق نے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ مگر چند ماہ کی اس گہما گہمی اور ہنگامہ خیز زندگی کے بعد اسی شہر کو ایک سنسان منظر میں بدلتے دیکھا۔ جہاں بسوں اور ٹرینوں میں بیٹھنے کو جگہ نا ملتی وہاں ایک آدھ سواری کے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔ جہاں پیدل چلنا مشکل ہوتا وہاں گاڑی دوڑاتے پھریے، جو پارک اور ساحل ہر روز سیاحوں سے لدے رہتے اب وہاں پھول پودے انسانوں کی راہ تکتے اور پانی ڈبکیاں لگاتے بڑوں بچوں کا منتظر ہے۔

کبھی وبا سے پہلے کے ماہ و سال کا سوچتا ہوں تو لگتا زمانے گزر گئے کہ بے فکری سے جب جہاں جی کیا نکل پڑے۔ کسی دوست کے گھر ڈیرے ڈالے یا عزیز رشتے دار کو اپنے ہاں مدعو کیا۔ درمیان میں جب موقع ملا، ملنے جلنے کی پابندی میں ہر نرمی کا فائدہ بھی اٹھاتے رہے مگر وہ سب بھی صحرا میں بارش کے چند چھینٹے ہی ٹھہرے۔ نقل مکانی اور ایک نئے ملک میں آباد ہونے کے بعد پہلی جستجو ڈالر کی بجائے دوست کمانے کی کی اور کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکے تھے۔ محفلیں آباد ہونا شروع ہوئیں تھیں اور چھوٹے چھوٹے لشکر بنا کر پکنک منانے کا سلسلہ بھی جاری کیا مگر پھر اس آفت نے ایسا لپیٹ میں لیا کہ اب خالی چھت کو گھورتے یا فون کی اس ننھی سکرین پر نظریں جمائے دن تمام کرنے پڑتے۔

دفتر خالی ہو چکے ہیں اور ورک فرام ہوم فی الحال تو ایک متبادل تصور کے طور مقبول ہو رہا ہے، مگر سارا دن گھر پڑے رہنا انسانی نفسیات کو کس طرح متاثر کر رہا ہے اور آنے والے وقتوں میں ہماری طبیعت پر کیا اثر کرے گا وہ وقت کے ساتھ ہی علم ہوگا۔ ابھی تو حالات یہ ہیں کہ ہم جن کا بچپن گئے زمانوں اور گلیوں بازاروں میں آوارگی میں بیتا تھا وہ تو ایک طرف مگر ہمارے بچے جو ٹیکنالوجی کے دور کی پیداوار ہیں اور جن کی کھیل کود کمپیوٹر اور ٹیبلیٹس سے جڑی ہوئی وہ بھی اس نظر بندی سے گھبرا چکے ہیں۔ وہی بچے جو سکول بند ہونے اور گھر سے کلاسیں لینے پر خوشیاں مناتے تھے، اب ہر روز لاک ڈاؤن ختم ہونے کا پوچھتے کہ کب واپس سکول جا پائیں گے۔ وبا کے اس دور نے باہر ہی نہیں ہمارے اندر کی فضا کو بھی ویران کر رکھا ہے۔

کوئی دو روز پہلے ہم اہل خانہ بھی ویکسینیشن سے فیض یاب ہوئے تو پھر ایک امید جاگی، کہ اب جس طرح دنیا بھر میں ویکسینیشن کے عمل نے زور پکڑا ہے تو جلد ہی روٹھی رونقیں دوبارہ بحال ہوں گی۔ اگلے چند ہفتوں میں دنیا بھر سے لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں تو کئی سوئے خواب پھر سے جاگ رہے۔ اپنے اپنوں سے ملنے کو بے قرار ہیں۔ سونی محفلیں آباد ہونے کو تیار ہیں۔ دعا ہے کہ اب کی بار اس بے قرار وائرس کو بھی قرار آ جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *