سندھ میں قبائلی دہشت گردی، اغوا برائے تاوان اور غیر محفوظ عوام

سندھ میں اس وقت امن امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ خاص طور پر سکھر اور لاڑکانہ میں شامل 9 اضلاع میں قبائلی دہشت گردی، قتل و غارت، اغوا برائے تاوان سمیت ڈکیتی چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تحریر لکھتے وقت گھوٹکی اور شکارپور میں ایک ہی دن میں ڈاکوؤں نے مزید 7 افراد کو اغوا کر لیا ہے۔ سندھ جس کی پہچان سچل، بھٹائی، لال شہباز قلندر کے نام سے امن محبت پیار کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ اس وقت ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں شدید بدامنی لاقانونیت کی لپیٹ میں ہے، سندھ کے علاقے کندھ کوٹ میں تین روز قبل ایک دردناک واقعہ پیش آیا، قبائلی دہشت گردی میں ایک ہی قبیلے برادری کے 10 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔

10 افراد کے ایک ہی وقت جنازے اٹھانا کسی قیامت صغری سے کم نہیں تھا۔ یہ دہشت گردی کا واقعہ کچے کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب چاچڑ برادری کے جانور چوری ہو گئے۔ وہ ڈھونڈنے نکلے ہی تھے کہ جاگیرانی اور سبزوئی مسلح افراد پہلے ہی مورچوں میں بیٹھے ہوئے تھے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ 10 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس قسم کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ایک ماہ پیچھے چلے جائیں تو شکارپور کے علاقے رستم میں سیاہ کاری کے الزام میں جتوئی برادری کے دو گروپوں میں فائرنگ کی وجہ سے 7 افراد قتل ہوئے اور 11 افراد زخمی ہو گئے۔

ٹھیک دو دن بعد جیکب آباد کے علاقے میں جلبانی اور کٹوہر گروپوں میں تصادم سے ایک ہی خاندان کے 9 افراد سمیت 11 لوگ قتل کر دیے گئے۔ سندھ سمیت ملک بھر میں کہیں سے بھی نہ کوئی آواز اٹھی نہ کوئی احتجاج ہوا نہ پولیس نے ایکشن لیا نہ ہی ورثا نے انصاف اور تحفظ کے لئے دھرنے دیے اور روڈ بلاک کیے۔ 10 افراد کے قتل میں جہاں جاگیرانی اور سبزوئی قبائل ملوث ہیں، ان کے 35 افراد لے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ 10 افراد کے قتل میں ملوث حلقے کے منتخب ایم پی اے کا فرنٹ میں ملوث ہے۔

جیئند جاگیرانی کشمور کندھ کوٹ میں اغوا برائے تاوان میں براہ راست ملوث ہے۔ دیگر ڈاکوؤں کے ساتھ مل کر لوگوں کو اغوا کر کے تاوان کی رقم وصول کرتا ہے۔ سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے برادری دہشت گردی میں بھی سب سے آگے ہے۔ منتخب ایم پی اے اور پولیس کی سپورٹ کی وجہ سے بے خوف ہو کر ہر قسم کا جرم کرتا ہے اور دیگر جرائم کی سرپرستی خود کرتا ہے۔ ایس ایس پی امجد شیخ کا کہنا ہے کہ جلد کچے کے علاقے میں آپریشن شروع کیا جائے گا۔

سندھ میں سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے علاقے دریائے سندھ کے دونوں اطراف میں شامل ہوتے ہیں۔ جسے کچا بھی لگتا ہے۔ پنجاب کے علاقے راجن پور کے بعد کشمور ضلع شروع ہوتا ہے جس کی سرحدیں پنجاب اور بلوچستان سے لگتی ہیں، کندھ کوٹ، جیکب آباد، قمبر شھداد کوٹ، تک یہ بیلٹ بلوچستان سے جا ملتا ہے، اور دوسری طرف دریائے سندھ کا کچا لگتا ہے جس کی وجہ سے یہ علاقے ڈاکوؤں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے لئے یہ جگہیں محفوظ پناہ گاہیں ہیں جن کو پولیس با اثر شخصیات، سیاستدانوں سرداروں وڈیروں کی نہ صرف پشت پناہی حاصل ہوتی ہے بلکہ ان ڈاکوؤں کو وہ اپنے لیے استعمال بھی کرتے ہیں۔

سندھ میں موجود کچے کے ڈاکوؤں اور جھگڑے والے قبائل کے ہاں جدید اسلحہ موجود ہے جو شاید پولیس کے ہاں بھی نہی ہے۔ راکٹ لانچر سمیت اینٹی ائر کرافٹ گن، جی تھری سمیت دیگر اسلحہ موجود ہے جن کی وہ خود ویڈیو بنا کر نمائش بھی کرتے ہیں۔ سندھ میں سابق آئی جی سندھ ای ڈی خواجہ کے بعد امن امان کی صورتحال خراب ہونا شروع ہوئی اور اس وقت سنگین صورتحال اختیار ہو گئی جب سندھ حکومت کے فرمائشی موجودہ آئی جی سندھ مشتاق مہر کو مقرر کیا گیا اور آئی جی سندھ سید کلیم امام کو ہٹایا گیا۔

سندھ پولیس آرڈیننس 2019 ع کے بعد سندھ پولیس بے بس نظر آتی ہے۔ حکومتی جماعت کی جانب سے اپنے اپنے علاقوں میں من پسند ایس ایس پیز کو مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ ڈی آئی جی رینک کے افسران اور ایڈیشنل آئی جی سکھر حیدرآباد ریجن بھی صرف فارملٹی کے طور پر مقرر ہوئے ہیں۔ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں پولیس صرف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے اور سارا توجہ کرپشن اور غیر قانونی مال اسمگلنگ کرنے میں ہوتا ہے۔ شکارپور، سکھر، جیکب آباد، کشمور کندھ کوٹ، قمبر شہداد کوٹ میں پولیس کو صرف ماہانہ منتھلی 3 سے پانچ کروڑ روپے تک ملتی ہے۔

موجودہ آئی جی سندھ مشتاق مہر کا تعلق شکارپور ضلع سے ہے۔ صاحب خود فرما چکے ہیں کہ انہیں اپنے ضلع میں امن امان کی صورتحال بہتر نہ کی وجہ سے گھر آتے ہوئے شرم آتی ہے۔ اگر شکارپور کا جائزہ لیا جائے تو شکارپور ضلع میں 6 ماہ کے دوران مختلف واقعات، قبائلی دہشت گردی، ڈکیتی، چوری کے واردات میں 80 افراد سے زائد افراد قتل ہوئے ہیں، اور 200 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ 50 کے قریب لوگوں کو ڈاکوؤں نے اغوا برائے تاوان کے لئے اغوا کیا، اور مغویوں کے ورثا نے تاوان کی رقم ادا کر کے انہیں بازیاب کرایا۔

جبکہ 11 سے زائد مغوی اس وقت بھی شکارپور کے کچے میں ڈاکوؤں کے قید میں ہیں۔ شکارپور میں مہر۔ جتوئی تکرار تصادم میں 450 افراد قتل ہوئے تھے جو 20 سال تک تکرار جاری رہا تھا۔ لیکن اس وقت دونوں فریقین میں صلح ہو چکی ہے۔ جبکہ دوسری طرف کشمور کندھ کوٹ ضلع میں اوگاہی اور تیغانی تصادم میں 114 افراد قتل ہو چکے ہیں۔ کندہ کوٹ کے علاقے اوگاہی۔ تیغانی تصادم، جکھرانی۔ بھیا، ساوند۔ سبزی تکرار، سھریانی۔ محمدانی تصادم میں سینکڑوں افراد قتل ہوئے ہیں۔

جیکب آباد کے علاقے میں شہلیانی اور بلیدی تصادم میں 10 سے زائد افراد قتل ہوئے ہیں۔ کچے کے علاقے میں قمبرانی۔ معرفانی تصادم میں 700 سے زائد افراد موت کے گئے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق ایس ایس پی کشمور نے 8 ماہ کے دوران 12 بدنام ڈاکوؤں کو مقابلوں میں مارا ہے، 30 سے زائد مغویوں کو بازیاب کرایا ہے۔ اب بھی سینکڑوں مغوی ڈاکوؤں کے قید میں ہیں۔ کاوش اخبار کے مطابق سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں تین ماہ ماہ کے دوران 200 دو سؤ سے افراد قبائلی دہشت گردی، اور دیگر واقعات میں قتل ہوئے ہیں۔

3000 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ 70 سے زائد افراد اغوا ہوئے ہیں، اور مغویوں کے ورثا نے تاوان کی رقم ادا کر کے انہیں بازیاب کرایا ہے۔ جبکہ اس وقت بھی ایک درجن سے زائد افراد کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے پاس قید ہیں۔ 400 سے زائد ڈکیتی، چوری، اور دیگر بدامنی کے واقعات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ رکارڈ کے مطابق سکھر ضلع میں تین ماہ کے دوران 10 افراد قتل، 30 زخمی، 10 اغوا ہوئے ہیں۔ 8 مغوی بازیاب کرائے گئے اور دو ابھی ڈاکوؤں کے قید میں ہیں۔

خیرپور ضلع میں تین ماہ کے دوران 30 سے زائد افراد قتل ہوئے ہیں۔ 10 افراد اغوا ہوئے تھے جن کو ورثا نے بازیاب کرایا گیا ہے۔ لاڑکانہ میں بھی اسی طرح 15 افراد قتل ہوئے ہیں۔ گھوٹکی ضلع میں 15 افراد قتل ہوئے ہیں۔ 5 افراد اغوا ہوئے ہیں اور تاوان دے کر بازیاب کرایا گیا ہے۔ قمبر شھداد کوٹ میں بھی 5 افراد قتل ہوئے ہیں اور تین افراد اغوا ہوئے ہیں جنہیں بازیاب کرایا گیا ہے۔ جیکب ضلع میں 20 افراد قتل ہوئے ہیں 5 افراد کو اغوا کیا گیا تھا۔

کندھ کوٹ کشمور ضلع میں قبائلی دہشت گردی میں 40 افراد قتل ہوئے ہیں۔ اور دیگر علاقے شامل ہیں جن میں قتل و غارت ل، اغوا برائے تاوان کے واقعات رکارڈ ہوئے ہیں۔ ساوند سبزوئی تکرار میں ایک 100 سو سے زائد افراد قتل ہوئے ہیں۔ سندھ میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم سندھ سھائی ستھ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 6 ماہ کے دوران سندھ میں 98 مرد اور خواتین کو سیاہ کاری کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔

61 خواتین اور 37 مرد شامل ہیں۔ اکثریت سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کی ہے، جیکب آباد میں 18 افراد قتل ہوئے، شکارپور میں 17 افراد ماردیے گئے۔ گھوٹکی میں بھی 17 افراد کو قتل کیا گیا ہے۔ کشمور کندھ کوٹ ضلع میں 14 افراد کو قتل کیا گیا ہے جبکہ سکھر میں 5 خواتین اور حیدرآباد میں 3 افراد دیگر علاقوں میں 24 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ اگر آپ کا تعلق پنجاب، کے پی یا بلوچستان سے ہے اور آپ سندھ آنا چا رہے ہیں، بائے روڈ آپ کا سفر خطرے سے خالی نہیں ہے۔

اگر آپ ملتان سکھر موٹروے پر سفر کر رہے ہیں تو آپ بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھیں۔ جہاز اور ٹرین کے ذریعے آگر آپ سندھ سے بلوچستان، پنجاب یا کے پی سفر کر رہے ہیں تو آپ اغوا سے بچ سکتے ہیں۔ کیونکہ سندھ میں اس وقت امن امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ موٹروے ہو یا قومی شاہراہ آپ ڈاکوؤں دھاڑیلوں کی مہمان نوازی سے مستفید ہو سکتے ہیں اور بھاری تاوان کی رقم ادا کرنے کے بعد واپسی ممکن ہے۔ جی ہاں بات ہو رہی ہے سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں ڈاکو راج اور برادریوں میں تصادم جھگڑوں کی وجہ سے کوئی بھی انسان محفوظ نہی ہے نہ ہی وہ محفوظ سمجھ رہے ہیں۔

ایک خوف والی کیفیت ہے۔ سندھ میں بدامنی قتل و غارت اغوا برائے تاوان کی وارداتوں پر سندھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ رینجرز اور فوج کا مشترکہ آپریشن کیا جائے، جبکہ جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے مقتولین کے ورثا سے تعزیت کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ حلقے کے منتخب نمائندوں پر ایف آئی آر درج کرنے کے ساتھ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں امن امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے پولیس کے ساتھ رینجرز اور فوج کا مشترکہ آپریشن کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

جبکہ حکومتی وزرا اسمبلی اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ یہ سب سندھ حکومت کے خلاف سازش کی ایک کڑی ہے۔ مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بدامنی کا نوٹس لے لیا ہے۔ اس کا حل نکالا جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر سندھ حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے تو وہ کون کر رہا ہے۔ سندھ میں حکومت آپ کی ہے۔ پولیس آپ کے ماتحت ہے۔ قتل، اغوا حکومتی مخالفین ہو رہے ہیں۔ جبکہ کچے اور دیگر علاقوں میں حکومتی جماعت کے لوگ آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں انہی تو کوئی ہاتھ نہیں لگا رہا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ الیکشن سے قبل اس طرح کا ماحول بنایا جا رہا ہو۔

عوام کو الجھا کر الیکشن قریب آتے ہی امن امان قائم کر کے ان کو خوف زدہ کر کے ہاتھ پھیرا جائے اور اس کے بدلے ووٹ لیے جائیں۔ بر حال پولیس کی طرح سندھ رینجرز کی تنخواہیں اخراجات بھی سندھ حکومت اپنے بجٹ سے ادا کر رہی ہے۔ کراچی کی سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں امن امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے پولیس کے ساتھ رینجرز اور پاک فوج کا مشترکہ آپریشن کیا جائے۔ اور دونوں ڈویژن کو جرائم پیشہ افراد اور اسلحہ سے پاک کیا جائے تاکہ عوام سکون کی سانس لے سکے۔ دعا ہے کہ لطیف، سچل، لال قلندر کی دھرتی میں ایک بار پھر امن پیار محبت کی فضہ قائم ہو آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words