پاکستان کی تہذیب
اس سے پہلے کہ ہم پاکستان کی تہذیب پر بات کریں، ایک نظر دیکھ لیں کہ تہذیب ہے کیا؟ کسی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔
انگریزی زبان میں تہذیب کے لیے کلچر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ کلچر لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کاشت کرنا، پرورش یا افزائش کرنا، جسمانی یا ذہنی اصلاح کرنا یا کھیتی باڑی کرنا۔ اردو فارسی اور عربی زبانوں میں کلچر کے لیے تہذیب کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کی لغوی معنی ہیں کسی پودے کو کاٹنا، چھانٹنا یا تراشنا تاکہ اس سے نئی شاخیں اور کونپلیں پھوٹ سکیں۔ اردو میں تہذیب کا مفہوم عام طور پہ شائستگی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ سرسید نے اپنے رسالے ”تہذیب الاخلاق“ میں تہذیب کے بارے میں لکھا ہے کہ،
”اس سے مراد ہے کہ انسان کے تمام افعال ارادی، اخلاق، معاملات، معاشرت، تمدن، طریقہ تمدن، صرف اوقات، علوم اور فنون و ہنر کو اعلی درجے کی عمدگی تک پہنچانا اور خوش اسلوبی سے برتنا“ ۔
اس کے بعد اگر ہم بات کریں پاکستان کی تہذیب کی تو یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس خطہ ارض میں پاکستان واقع ہے جو وادی سندھ کہلاتا ہے، یہاں کا انسان پتھر کی تہذیب، کانسی کی تہذیب اور لوہے کی تہذیب کے دور سے گزرا ہے۔ اس طویل مدت میں دراوڑ، آریہ، ایرانی، یونانی، عرب، ترک، افغان اور مغل قوموں کے لوگ نہ صرف یہاں حملہ آور ہوتے رہے بلکہ یہاں آباد بھی ہوتے رہے۔ امری، موہنجوداڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا، پشاور، ملتان، اوچ اور لاہور وغیرہ میں ان کے تہذیبی آثار آج بھی موجود ہیں۔ اس لیے پاکستان کا تہذیبی شعور ان تمام تہذیبوں کو جذب کر کے بنا ہے۔
پاکستان کی تہذیب کے بارے عموماً دو نظریے پیش کیے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ پاکستانی تہذیب کی بنیاد کو خالصتاً اسلام کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ ان کے نزدیک پاکستان کی تہذیب اس دن وجود میں آئی تھی جس دن محمد بن قاسم نے سندھ کو فتح کیا تھا اس سے پہلے کی تہذیب کفر کی تہذیب تھی جس کی پاکستان کی تہذیب میں نہ گنجائش ہے اور نہ ہی ضرورت۔ ان کے نزدیک محمد بن قاسم کی تہذیب کو ان کے بعد آنے والے مسلم فاتحین نے فروغ دیا۔
اس نظریے کا پرچار کرنے والے لوگ مسلم فاتحین کے بعد حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ جیسے بزرگوں کو اس تہذیب کا وارث گردانتے ہیں جن کی کاوشوں سے یہ تہذیب کفار کے ناپاک عزائم سے محفوظ رہی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی نظریہ علامہ اقبال کے خواب اور قائداعظم کی کوششوں سے پاکستان کی صورت پایہ تکمیل تک پہنچا۔
دوسرا نظریہ ان لوگوں کا ہے جو پاکستان کو ایک تہذیبی اکائی نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے پاکستان کی تہذیب کوئی شے نہیں ہے بلکہ پاکستان میں کئی علاقائی تہذیبیں موجود ہیں جو باہم ملتی ہیں تو پاکستان کی تہذیب وجود میں آتی ہے۔ ان ساری تہذیبوں کی زبان، ادب، ناچ گانے، رسم و رواج اور سماجی رویے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ علاقائی تہذیبیں پاکستان کے وجود سے ہزاروں سال پہلے سے رائج ہیں اور مسلسل ارتقاء کے عمل سے موجودہ شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ یہ گروہ اپنی تہذیبی شناخت کی تلاش میں اپنے آپ کو اسلامی دور تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اس سے بہت پیچھے تک چلا جاتا ہے۔
ان دونوں گروہوں کی بحث قیام پاکستان سے ہی جاری ہے، ایک گروہ جو پاکستانی تہذیب کا صرف اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ کے حوالے سے پرچار کرتا ہے اس کے پاس سرکاری وسائل ہیں جبکہ دوسرے گروہ کے پاس وسائل کی کمی ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں میں اپنی علاقائی اور مادری تہذیب کی محبت کے جذبے میں اضافہ ہوا ہے۔ صوبائی خودمختاری کا مطالبہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
دونوں نقطہ نظر کو سامنے رکھ کے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی تہذیب کی تشکیل میں مذہب کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ مثال کے طور پر گندھارا کی تہذیب پر بدھ مت کی تعلیمات کا رنگ واضح جھلکتا ہے۔ مغربی تہذیب پر حضرت عیسی کی تعلیمات کی گہری چھاپ موجود ہے۔ اسی طرح ہم اپنی تہذیب سے بھی اسلام کو نہیں نکال سکتے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنی تہذیب کے تاریخی حوالے بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہاں کی زبانیں، خوراک، لباس، موسیقی، شاعری، رہن سہن اور رسم و رواج اسلامی نہیں ہیں۔
لہذا اپنی تہذیب کو اسلامی تہذیب بنانے کی لگن میں ہم اس کو عرب تہذیب کی صورت میں نہیں ڈھال سکتے۔ یہاں کے طبعی حالات اور رہن سہن عرب سے بہت مختلف ہیں۔ اگر آپ پاکستان کی تہذیب کو صرف اسلامی کہہ کر باقی سارے حوالے غیر اسلامی قرار دے کر نکال دیں گے تو یاد رکھیں تاریخ کا پہیہ الٹا نہیں گھمایا جا سکتا۔
ہم سے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا جاتا۔
دشت وحشت میں بھی آداب لیے پھرتے ہیں


