ٹیگور کی محبت میں سپردگی کے پہلو


محبت ایک سماجی حقیقت ہے جس کا ظہور مختلف لوگوں میں مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ ہم روزمرہ کی زندگی میں بہت سے احساسات و جذبات کے چھوٹے موٹے ٹکڑوں کو ایک لفظ میں ضم کر کے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ محبت جیسی سماجی حقیقت پر سب سے زیادہ اوراق ادب میں سیاہ ہوئے ہیں۔ آج میں جس شخص کے ”عاشقی ماشقی“ کے قصہ سنانے جا رہی ہوں اس کو ادب کا نوبل انعام یافتہ ادیب سمجھا جاتا ہے۔ دل موہ لینے والے ان ادیبوں میں یہ سرفہرست ہیں جنہوں نے محبت کی کہانیوں سے اپنے قلم کو بہلائے رکھا۔

رابندر ناتھ ٹیگور اس قسم کی محبت سے اجنبی نہیں تھے۔ روشنی اور سایہ، محبت اور پچھتاوے، خوشی اور درد کی نظمیں اور کہانیاں، مختلف سطحوں پر اس کے تجربات کا یہ سب نتیجہ ہیں۔ محبت کے ایسے سلسلوں نے اس کی طویل زندگی کے مختلف حصوں کو مسلسل متاثر کیے رکھا۔ ٹیگور کی سب سے مشہور محبت اور شاید سب سے زیادہ ترجیحی محبت ان کی بھابھی کدامبری دیوی تھیں۔ کدامبری کی شادی دس سال کی عمر میں ٹیگور خاندان میں ہوئی وہ اپنے شریک حیات سے نمایاں طور پر چھوٹی تھیں، جبکہ رابندر ناتھ سے صرف دو سال بڑی تھیں۔

1875 میں اماں کی وفات کے بعد وہ اپنے بھائی جیوتیریندرناتھ اور بھابھی کدامبری کے ساتھ کچھ عرصہ رہے اور اسی عرصے میں ٹیگور کی دوستی کدامبری سے ہوئی۔ جب ٹیگور انگلینڈ سے واپس آیا تو 1881 میں ان کی پہلی کتاب ( جب کہ اس سے پہلے ان کی شاعری پر مبنی ایک کتاب قلمی نام بھانو سنگھا سے 1878 میں شائع ہو چکی تھی) ’بھاگنا ہریڈے‘ شایع ہوئی۔ یہ کتاب جس کے نام کی گئی تھی اس کا بنگالی سے ترجمہ شدہ مطلب ’For Lady Hé‘ بنتا ہے۔ بعد کی زندگی میں رابندر ناتھ نے ایک گفتگو میں اعتراف کیا کہ ’Hé‘ دراصل ہیکٹیٹ سے لیا گیا ہے اور اسی نام سے وہ کدامبری کو پکارتے تھے۔

1878 میں ٹیگور کو بمبئی میں خاندان کے ایک دوست کے ہاں اس لیے بھیجا گیا تاکہ وہ لندن جانے سے پہلے مغربی تہذیب کے بارے میں کچھ سیکھ سکیں۔ اس دوست کا نام اتمارام ترکھود تھا جو بمبئی میں سوشل ریفارمر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا اور اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رہتا تھا، جس میں سے ایک بیٹی کا نام عینا تھا۔ نوجوان ٹیگور کی بہت جلد عینا سے دوستی ہو گئی۔ یہ 1879 کے موسم سرما کی بات ہے جب ٹیگور لندن میں تھے، بمبئی کے اتمارام ترکھود اپنی دونوں بیٹیوں کو لے کر کلکتہ پہنچے۔

einstein & tagore

یقینی طور پر وہ جورسانکو رابندر ناتھ کے والد دبیندرناتھ سے ملنے آئے تھے۔ جو کچھ ان کے مابین گزرا اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے لیکن ٹیگور اور عینا کے درمیان شادی کی بات اتما رام نے شروع کی اور دبیندرناتھ نے اسے مسترد کر دیا۔ عینا کے احساسات کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی شادی کے بعد بھی وہ نیلنینی کا استعمال کرتی رہی جو رابندر ناتھ نے اسے ادبی نام کے طور پر دیا تھا اور یہ کہ ان کے ایک بھتیجے کا نام بھی رابندر ناتھ ٹھہرا۔ عینا کی نوجوانی میں ہی موت ہو گئی۔

اس بات کا کوئی سرا نہیں ملتا کہ ٹیگور کی شادی کے لیے لڑکی ڈھونڈنے کی شروعات کہاں سے ہوئی، لیکن جون 1883 میں پورا گھر اسی کھوج میں تھا کہ اس دوران ٹیگور اپنے بھائی جیوتیریندرناتھ اور بھابھی کدامبری کے ساتھ رہ رہے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیوتیریندرناتھ اور کدامبری کو بطور خاص ٹیگور کے لیے لڑکی ڈھونڈنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، لیکن لڑکی ڈھونڈنے میں وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ کچھ عرصے بعد ستمبر میں ابا کا خط موصول ہوا جس میں ٹیگور کو ملنے کا کہا گیا تھا۔

تین ہفتے بعد جب ٹیگور کلکتہ واپس پہنچا تو شادی کا لڈو ان کے ہاتھ پہ رکھ دیا گیا۔ یہ دس سال کی چھوٹی سی بچی ( بھابتیرنی) تھی جو ٹیگورز اسٹیٹ کے ملزم کی بیٹی تھی اور رابندر ناتھ کے دوسرے بھائی کی بیویوں کی طرح پیر علی برہمن تھی۔ دسمبر 1883 کو جورسانکو میں رابندر ناتھ اور بھابتیرنی (جس کا نام بعد میں بدل کر مرینالینی رکھا گیا) کی شادی خانہ آبادی ایک چھوٹی سی تقریب میں انجام پائی۔

شادی کے دو ماہ کے بعد 1884 کدامبری (بھائی کی بیوی) کے نام ٹیگور کی کچھ شاعری شائع ہوئی۔ شاعری کے شائع ہونے کے دو ماہ بعد کدامبری نے زہر کھا کر خودکشی کر لی اور پچیس برس کی عمر میں وہ گزر گئی۔ ٹیگور نے تین سے چار کتابیں کدامبری کی حیات میں اس کے نام کیں اور دو اس کے مرنے کے بعد کیں۔ کدامبری کی خودکشی کے سارے شواہد ٹیگور کے والد نے اس خوف سے مٹا دیے کہ کہیں بدنامی نہ ہو جائے۔

1901 میں رابندر ناتھ نے کدامبری کو اپنے ایک ناولٹ نستھنیرح (انگریزی ترجمہ broken nest) میں ظاہری طور پر چارو کے کردار میں پیش کیا۔ یہ کہانی بعد میں ستیجیت رے کی فلم کی زینت بنی، فلم کا نام چارولاتا ہے۔

رابندر ناتھ ٹیگور کے مطابق محبت دینے کی چیز ہے، اور دینا بھی ایسا کہ جو پھر کبھی واپس نہ لینے کے لیے ہو۔ ٹیگور کہتا ہے جیسے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ یہ مانتے ہیں کہ محبت لین دین کا نام ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے، محبت میں تو دین ہوتا ہے لین ثانوی سی بات ہے۔ وہ تو طاقت ہوتی ہے جو دنیا سے کہتی ہے کہ ’تم ساری کی ساری میری ہو‘ ۔ محبت تو وہ ہوتی ہے جو دنیا کو کہہ سکے کہ ’میں سارے کا سارا تمہارا ہوں‘ ۔

Facebook Comments HS