ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب: Creative Minority
کتاب کا نام اس کے مواد و مقاصد کی جھلک دیتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کتاب میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل لوگوں، ان کی نفسیاتی و سماجی زندگی اور ان کے زندگی کو دیکھنے اور گزارنے کے غیر معمولی ڈھنگ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اپنے اس review میں میں کتاب کے خلاصے کے ساتھ ساتھ اس کو اپنے نظریے سے بیان کرنے کی کوشش کروں گی کہ اس کتاب کو پڑھنے کے دوران اور پڑھنے کے بعد مجھے کن نقاط میں دلچسپی معلوم ہوئی اور کیا کچھ میرے لیے بالکل نیا تھا۔
چلیے! آگے بڑھتے ہیں۔ کتاب کے ابتدائی صفحات پر یہ سطریں درج ہیں جو کتاب کے مواد و مقاصد کی طرف خوبصورتی سے اشارہ کرتی ہیں۔
I am afraid
The noise of the outside world
Will drown one day
The music inside
یہ سطریں ڈاکٹر خالد سہیل ہی کی ہیں جو ایک تخلیقی صلاحیتوں کے حامل فرد کے نظریے سے لکھی گئی ہیں کہ ایک تخلیقی شخص اپنے اندر کی رنگینیوں کو باہر یعنی کہ ہمارے سماج کے سخت قوانین کے باعث کھو دینے کی فکر میں مبتلا ہے۔ درحقیقت کتاب بھی ایسے تخلیقی لوگوں کی زندگی کے سماجی اور نفسیاتی پہلؤوں کو نمایاں کرتی ہے کہ کس طرح ان کی نفسیات اور ان کی زندگیاں اپنے روایتی گردونواح کی بدولت متاثر ہوتی ہیں۔ ایسے تخلیقی لوگ تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں۔
یہ اپنے انوکھے انداز لیے قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہوتے ہیں۔ انسانی ترقی اور علم کی راہ پر مسافت انھی تخلیقی لوگوں کی بدولت ممکن رہی ہے اس وجہ سے ایسے لوگ انتہائی اہم ہیں۔ کتاب میں جہاں ان تخلیقی لوگوں کی اہمیت اور ان کی صلاحیتوں کو سراہا گیا ہے وہیں ان صلاحیتوں کا تاریک رخ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح یہ غیر معمولی صلاحیتیں اپنے ساتھ بہت سا درد سمیٹ کر ان تخلیقی لوگوں کے پاس آتی ہیں۔ اس درد میں نفسیاتی درد اور سماجی درد دونوں شامل ہیں۔
نفسیاتی درد اس طرح سے کہ تخلیقی لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں وہ ہر چیز کو ایک عام شخص سے کہیں زیادہ محسوس کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی بات کی سطح تک رہنے کی بجائے اس کی گہرائی میں جاتے ہیں اور باتوں اور نظریات کو جوڑ کر اپنے ماسٹر پیس بناتے ہیں وہیں یہی حساس طبیعت انھیں معمولی باتوں پر بھی بے چین کر دیتی ہے اور وہ نفسیاتی اذیتوں میں بھی مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک سماجی درد بھی ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں والے لوگ سماج کے قواعد و ضوابط کی خاص پرواہ نہیں کرتے وہ زندگی کو اپنے فلسفے سے جیتے ہیں یوں ایسے لوگوں مختلف سماجی اداروں میں روایتی کردار ادا نہ کر سکنے کی بناء پر سوشل بائیکاٹ کے شکار ہو جاتے ہیں اور یوں وہ احساس تنہائی میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔
کتاب میں تخلیقی صلاحیتوں والے لوگوں اور سماجی اداروں جیسا کہ خاندان، مذہب، سکول وغیرہ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح یہ لوگ اپنے غیر معمولی طرز زندگی اور تخلیقی سوچ کی بدولت ان اداروں میں فٹ نہیں آتے اور نالائق تصور کر لیے جاتے ہیں حالانکہ وہ نالائق نہیں بلکہ عام لوگوں سے زیادہ گہرے اور تخلیقی ہوتے ہیں۔ کتاب میں تخلیقی لوگوں کی زندگیوں کے پہلوؤں کو مختلف تخلیقی لوگوں کی زندگیوں کے واقعات اور انٹرویوز کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔
ان تخلیقی شخصیات میں کارل مارکس، ڈارون، ورجینیا وولف، آئن سٹائن اور ندا فضلی جیسے سائنسدان، شاعر، لکھاری اور مفکر وغیرہ شامل ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی ایک سمت نہیں۔ کوئی شخص کسی بھی میدان میں تخلیقی صلاحیتوں کا حامل ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کتاب میں تخلیقی لوگوں کی کچھ نمایاں خصوصیات درج ہیں جن میں حساس ہونا، abstract میں دلچسپی ہونا، اپنی تنہائی سے محبت ہونا، ڈسپلن میں خاص دلچسپی نہ ہونا، سماجی رسم و رواج سے بغاوت کے جذبات رکھنا، کوئی خاص شوق اور جذبہ رکھنا، منفرد اور پیچیدہ نفسیاتی مسائل کے شکار رہنا وغیرہ شامل ہیں۔
ان کے علاوہ تخلیقی لوگوں کے ساتھ روایتی لوگوں کا رہنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ تخلیقی لوگ وقت، معاشی معاملات اور ڈسپلن کا خاص خیال نہیں رکھتے۔ کتاب میں میں کارل مارکس اور ان کی بیوی جینی کی ازدواجی زندگی کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح سے کارل مارکس کے غیر روایتی طرز زندگی کی وجہ سے ان کی بیوی کی زندگی متاثر ہوتی رہی اور وہ اس سب کو اپنے اس تعلق کے دوران کسی اذیت کی طرح جھیلتی رہیں۔
تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد میں ایک پاگل پن دیکھا جا سکتا ہے جو کہ شاید اس وجہ سے پاگل پن کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ وہ عام لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے۔
کتاب کے آخری حصے میں نفسیاتی مسائل کے شکار تخلیقی لوگوں کی تھراپی کے لئے کچھ ٹپس دیے گئے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی تھراپی روایتی انداز میں کی جاتی ہے جس کے ان لوگوں کی تخلیقی صلاحیت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ کتاب کے آخری حصے کا فوکس اس بات پر ہے کہ غیر معمولی لوگوں کی تھراپی بھی غیر معمولی ہونی چاہیے تاکہ وہ بہتر طور پر اس سے مستفید ہو سکیں اور ان کی صلاحیتیں بھی۔
جب میں اس کتاب کو پڑھتے پڑھتے ان سطروں پر پہنچی جہاں پر یہ درج تھا کہ تخلیقی صلاحیتوں والے لوگ جب کوئی ماسٹر پیس بناتے ہیں تو اس ماسٹر پیس کی پیدائش ان کے ہاں بالکل ایک بچے کی سی ہوتی ہے کہ یہ نظریات ان میں عرصے تک پلتے ہیں پھر اپنے تجربات کے درد کے ساتھ وہ ان خیالات کو ماسٹر پیس کی صورت میں جنم دیتے ہیں تو میں کچھ دیر کہ لیے ٹھہر گئی۔ مجھے یہ سطریں بہت پسند آئیں۔ مجھے اپنے حال ہی میں لکھے گئے دو مختلف اشعار یاد آئے۔
پہلا شعر:
درد کی شدت سے
بلبل تڑپتی رہ گئی
تم نے اس کی آہوں کو
کیسے گیت بنا دیا؟
دوسرا شعر:
کسی صحرا میں
کہیں گرم ریت پر
کوئی ٹوٹا ہوا ساز
لو لگتی تو گنگنا جاتا
ڈاکٹر صاحب کی یہ سطریں میرے اشعار کے معانی کو واضح کر گئیں۔ اس کے علاوہ کتاب کے ایک باب میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کے حوالے سے Invisible labor کی ٹرم استعمال کی گئی ہے۔ مجھے یہ ٹرم بھی بہت گہری لگی۔ پس منظر کچھ ہوں ہے کہ روایتی لوگ تخلیقی لوگوں کو نالائقی کا ٹائٹل دے دیتے ہیں کیونکہ وہ تخلیقی لوگوں کی ذہنی مشقت سے غافل ہوتے ہیں کہ کس طرح ایک شخص اپنے ماسٹر پیس کو تیار کرنے میں اپنی اتنی جان لگاتا ہے چونکہ یہ تمام قوت ذہن کو کام میں لانے میں لگتی ہے سو روایتی لوگ جو کہ صرف جسمانی مشقت کو ہی شمار کرتے ہیں وہ اس invisible labor کے کون سی پٹ سے غافل رہتے ہیں۔
میرے نزدیک یہ کتاب تخلیقی اقلیت کی حوصلہ افزائی اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے حوالے سے ایک بہترین کتاب ہے۔ میں ڈاکٹر خالد سہیل کی کاوش کو سراہتی ہوں کہ انھوں نے ایک اہم اور منفرد موضوع پر اتنی تفصیل سے رہنمائی فرمائی ہے اور اس کے ساتھ ہی میں ان کی شکر گزار بھی ہوں کہ انھوں نے یہ خوبصورت کتاب مجھے تحفے میں دی۔
بہت شکریہ سر!


