شیر شاہ سوری: وہ افغان سردار جس نے مغلوں اور افغانوں کی کمزوریاں جان کر ہندوستان پر راج کیا

مغل فوج میں ملازمت
کہتے ہیں کہ شاہوں کے مزاج بدخواہوں کی زبانوں پر بدلتے رہتے ہیں۔
چنانچہ بہار خان کی بادشاہت کے اعلان کے بعد بابر نے مشرق میں سرکوبی کے لیے روانگی کا ارادہ کیا تو ہمایوں نے اس مہم کے لیے اپنا نام پیش کیا اور بابر نے ہمایوں کو اجازت دی اور ہمایوں نے باغی پٹھانوں کی سرکوبی کی لیکن اس دوران شیر خان نے اپنا اعتماد کھو دیا اور اپنی جاگیر اپنے سوتیلے بھائیوں کے حوالے کر کے مغلوں کی حکومت کے گورنر جنید برلاس کو امان کی یقین دہانی کے بعد ان کے پاس جونپور پہنچے۔
16 مارچ سنہ 1527 میں کھانوا (کنوا) کی جنگ کے بعد جنید برلاس کے ساتھ شیر خان بھی بابر کے دربار میں پہنچے جہاں انھوں نے تقریباً سوا سال تک مغل فوج میں خدمات انجام دیں۔ اسی دوران جنید اور وزیر اعظم کے کہنے پر بابر بادشاہ نے شیرخان کو سہسرام میں ان کی جاگیر عطا کی۔
لیکن بابر کے دسترخوان پر شیر خان کی اُس حرکت نے بابر کے دل میں تشویش پیدا کر دی۔ لیکن یہاں ماہیچہ کھانے کی وضاحت ضروری ہے جس سے کوئی بھی پریشان ہو سکتا ہے تو پھر بادشاہ بابر جیسا شخص کیوں نہ تشویش کا شکار ہوتا۔
لکھنؤ کی خواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی میں پروفیسر ثوبان سعید نے فارسی لغات کے حوالے سے بتایا کہ ماہیچہ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک جگہ اسے سویوں اور دودھ سے بنائی جانے والی فیرنی جیسی چیز کہا گیا ہے جبکہ ایک جگہ اسے آٹے کے اندر گوشت یا مچھلی ڈال کر بنائے جانے والی ڈش کہا گیا ہے۔ ان دونوں کو چمچے سے کھایا جاتا ہے نہ کہ کٹار یا خنجر سے کاٹ کر۔
انھوں نے بتایا کہ خان صاحب کے غصے کا ذکر کئی جگہ آیا ہے کہیں مذاقاً تو کہیں واقعتاً۔ انھیں بہت جلد بازی تھی اور وہ بہت تپاکی بھی تھے لیکن بعض مؤرخین انھیں معاملہ فہم اور سلجھا ہوا کہتے ہیں۔

شیخی باز یا مغلوں کی کمزوری کا نباض؟
بادشاہ اکبر کے دربار میں افغانوں کی تاریخ رقم کرنے پر مقرر کیے جانے والے درباری عباس خان سروانی کی شیر شاہ سے رشتہ داری تھی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ وہ شروع سے حوصلہ مند تھے اور مغلوں سے حکومت حاصل کرنے کا خیال رکھتے تھے جبکہ دوسرے افغان انھیں سرپھرا اور شيخی باز سمجھتے تھے۔
وہ شیر شاہ کو سکندر ثانی کہتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ‘چندیری کی مہم میں سکندر ثانی (شیر شاہ) ظل سبحانی بابر بادشاہ کے لشکر کے ساتھ تھا۔ شیخ ابراہیم سروانی نے مجھ سے آ کر کہا آؤ شیر خان سور کے پاس چلیں اور باتیں وہ اپنے مرتبے سے ایسی زیادہ کرتا ہے کہ لوگ ہنستے ہیں۔
’ہم سوار ہو کر اس کے ڈیرے گئے۔ باتوں باتوں میں شیخ ابراہیم نے کہا مشکل ہے کہ ملک ہندوستان پھر پٹھانوں کے ہاتھ آئے اور مغل ہندوستان سے خارج ہوں۔ شیر خان نے شیخ محمد کو کہا تو گواہ رہیو کہ میرے اور شیخ ابراہیم کے درمیان جو بات ہوتی ہے۔ اگر میرے طالع نے یاوری کی تو تھوڑے دنوں میں مغلوں کو ہند سے نکال دوں گا۔‘

‘اس لیے کہ مغل تلوار کی لڑائی میں پٹھان سے زیادہ نہیں ہیں۔ آپس کی مخالفت کے سبب پٹھانوں نے ہند کا ملک اپنے ہاتھ سے دیا۔ جب سے میں مغلوں میں آیا اور ان کی لڑائی کا معلوم کیا تو پایا کہ ان کے پاؤں لڑائی میں نہیں ٹھہرتے اور بادشاہ ان کا اعلیٰ نسبی اور بلند مرتبے کے باعث اپنی ذات سے تدبیر ملک میں متوجہ نہیں ہوتا اور امور مملکت کی مہمات کو اپنے امرا اور ارکان دولت کو سونپ دیتا ہے۔
’اور ان کے قول و فعل پر اعتماد کرتا ہے اور دے رعیت اور سپاہی اور زمیندار جو حرام خور ہیں ان کے برآمد کار کے لیے دام رشوت میں گرفتار ہیں۔ بھلا برا سب پیسے کے زور سے اپنے کام نکالتا ہے۔۔۔ زر کی طمع کے سبب سے دوست و دشمن میں آپ فرق نہیں کرتے۔ اگر اقبال نے یاوری کی تو شیخ جی دیکھو گے یا سنو گے کہ پٹھانوں کو اس طرح قابو میں کروں کہ متفرق نہ ہونے دوں۔‘
اور شیر خان کی بات حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ اس سے قبل جب پہلی بار اسے اپنے پرگنے کا انتظام سونپا گیا تھا تو اس نے دوٹوک ریا کی خاطر زمین دار اور پٹواریوں پر لگام ڈالی تھی۔
ادھر بادشاہ بابر کے انتقال کے بعد شیر خان پٹھانوں کو یکجا کرنے میں اور اپنی طاقت کو بڑھانے لگ گیا۔ اس کی پہلی اہم جنگ بنگال کے سلطان کے خلاف کہی جاتی ہے اور اس میں شیر شاہ نے منفرد جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ بنگال پر شیر شاہ کے قبضے نے ہمایوں کو خواب غفلت سے جگایا جو کہ بابر کی جگہ ہندوستان کا بادشاہ تھا۔

چنار کی فتح اور یکے بعد دیگرے شادیاں
شیر خان کی دوسری اہم فتح چنار کا قلعہ تھا جسے بابر نے پہلے فتح کیا تھا لیکن وہ اس پر تسلط قائم نہ کر سکے اور تاج خان نے بابر کی اطاعت قبول کر کے اس قلعے پر اپنا اقتدار قائم رکھا۔
تاج خان نے ایک پری جمال لاڈ ملکہ کو دل دے دیا اور ان سے شادی کر لی لیکن ان سے کوئی بچہ نہ ہوا جبکہ ملکہ کے پہلے سے تین بیٹے تھے جو اپنے والد کے ساتھ لاڈ ملکہ سے بھی بدظن تھے کہ انھوں نے ان کے باپ کو کٹھ پتلی بنا رکھا تھا۔
چنانچہ لاڈ ملکہ سے چھٹکارہ پانے کے لیے ایک بیٹے نے حملہ کر دیا جب تاج خان کو علم ہوا تو وہ تلوار لے کر نکل آئے۔ عباس خان سروانی کے مطابق اس نے کہا ’تو نے لاڈ پر حملہ کیا ہے اب تو میری تلوار کا مزہ چکھ۔ بیٹے نے یہ سمجھا کہ اب اس کی جان جانے والی ہے تو وہ باپ کو تلوار کا زخم دے کا بھاگ نکلا لیکن تاج خان جانبر نہ ہو سکے۔‘
اس کے بعد چنار کے قلعے میں انتشار پھیل گیا۔ شیر خان کی نظر اس قلعے پر تھی کیونکہ یہ اس وقت ملک کے گنے چنے قلعوں میں سے ایک تھا اور مشرق کی فتوحات اسی کے راستے تھی۔

اب لاڈ ملکہ قلعے کی مختار کل تھی اور تین سرداروں نے مرتے دم تک ان کی اطاعت کا دم بھرا تھا لیکن شیر خان نے انھیں یہ باور کرایا کہ جب تاج خان کی موت کی خبر بادشاہ کو پہنچے گی تو وہ لاڈ ملکہ کو برطرف کر دے گا اور ان کی جان بھی سلامت نہ رہے گی۔
ودیا بھاسکر لکھتے ہیں کہ ’شیر خان کی باتیں ان سرداروں کی سمجھ میں آ گئیں اور انھوں نے شیر خان سے معاہدہ کر لیا اورلاڈ ملکہ سے کہا کہ بادشاہ سے بچنے کا واحد راستہ ہے کہ قلعہ شیر خان کے حوالے کر دیا جائے بلکہ اس سے نکاح کا بھی مشورہ دے ڈالا۔ وہ اس پر رضا مند ہو گئی اور شیر شاہ کے سامنے یہ شرط رکھی کہ جس لڑکے نے اس کے خاوند کو ہلاک کیا اس کے ناک کان کاٹ دیے جائیں۔
اس سے قبل کہ تینوں بیٹوں کو ان معاہدوں کی خبر ملتی شیر خان بارات لے کر چنار پہنچ گئے۔
تاریخ شیر شاہی کے مصنف عباس سروانی کے مطابق ’دلہن کی جانب سے شیر شاہ کو ڈیڑھ سو نایاب ہیرے، سات من موتی، ڈیڑھ سو من سونا اور طرح طرح کے قیمتی زر و جواہرات ملے۔ تھوڑے عرصے بعد شیر خان نے قرب و جوار کے پرگنوں کو اپنے قبضے میں لے لیا اور ناصر خان کی بیوہ گوہر حسین سے بھی شادی کر لی جہاں سے اسے آٹھ من سونا حاصل ہوا۔
شیر خان نے سارے مال و دولت کو فوج کو منظم کرنے پر لگایا۔ جب ہمایوں کو شیر خان کی فتوحات کا علم ہوا تو اس نے فوراً آگرہ سے فوج لے کر لکھنؤ کی طرف کوچ کیا جہاں شیر شاہ نے ہمایوں کو ہندو بیگ کے ہاتھ خفیہ پیغام بھیجا کہ سلطان محمود نے اسے زبردستی اپنی جانب ملا لیا ہے جب جنگ اپنے عروج پر ہو گی تو وہ میدان سے نکل جائے گا اور اس نے ایسا ہی کیا۔ سلطان محمود کو شکست ہوئی اور جونپور اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔

شیر خان کے پاس جاسوسوں کا جال
شیر خان کو مطالعے کا بہت شوق تھا اور ان کی طبیعت میں لوگوں سے ملنا اور دیس دنیا کی خبر رکھنا سرایت کر چکا تھا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب دوسرے سرداران عیش و عشرت میں مصروف رہتے تھے شیر خان مختلف درباروں سے حالات کے بارے میں آگاہ رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔
چنانچہ جب افغان سرداروں نے شیر شاہ کو قتل کرانے کا منصوبہ بنایا تو انھوں نے اس کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا کہ جونپور کے دربار میں ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ چونکہ صوبہ دار بھی اس میں شریک تھا لہذا وہ خفت محسوس کرتا رہا۔ اسی طرح جب ہمایوں نے چنار کا محاصرہ کر رکھا تو شیر شاہ نے پتا لگایا کہ دوسری جگہ کیا احوال ہیں اور اسے اندازہ ہو گیا کہ ہمایوں وہاں زیادہ دن نہیں ٹھہرے گا۔ چنانچہ ویسا ہی ہوا۔
کس جگہ کتنا مال و دولت ہے اس کا بھی اسے علم رہتا تھا چنانچہ اس نے کئی پرگنوں کو اپنی نگرانی میں صرف اس لیے لیا کہ اس کی دولت پر اس کا تصرف ہو سکے۔
جب شیر شاہ بابر کے ہاں تھا تو وہ فرائض کے انجام دینے کے علاوہ لوگوں سے ملنے ان سے قربت پیدا کرنے میں وقت صرف کرتا تھا۔ بہر حال اس نے اپنی جان پہچان اور دوستی سے افغانوں میں اتحاد پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی اور 26 جون سنہ 1539 کو چوسا کی جنگ میں جب اس نے ہمایوں کو شکست دی تو اس نے فریدالدین شیر شاہ کا لقب اختیار کیا اور اس نے اپنے نام پر سکے ڈھلوائے۔
اس کے اگلے سال یعنی سنہ 1540 میں قنوج کی جنگ میں ہمایوں کو ایسی شکست فاش دی کہ ہمایوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

تاریخ دان معین احمد نظامی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 40-1539 کے درمیان شیر خان نے ہمایوں کو پے در پے شکستوں سے دو چار کیا۔ وہ اپنے عمل میں اس قدر موقع شناس تھا کہ جب تک ہمایوں کو ہوش آتا بہت دیر ہو چکی تھی۔
اس سے قبل سنہ 1537 میں ہمایوں اس کی قابلیت کا اندازہ لگائے بغیر آگرے سے نکل پڑا۔ اس نے پہلی عسکری غلطی یہ کی کہ شیرخان کو بنگال میں کچلنے کے بجائے وہ بنارس کے پاس چنار کے محاصرے کے لیے رک گیا اور بنگال کو پوری طرح قبضہ کرنے کے بجائے اس کی سرحد پر وقت ضائع کرتا رہا۔’
اس بات کا ذکر دوسرے تاریخ دانوں نے بھی کیا ہے۔ شیر شاہ کے پہلے تذکرہ نویس عباس خان سروانی نے لکھا ہے کہ شیر خان نے اپنے بیٹے کو احکامات دے کر قلعے میں چھوڑ دیا اور خود پاس کی ایک پہاڑی پر خمیہ زن ہو گیا جہاں سے اس نے ہمایوں کے سارے ذرائع کاٹ دیے اور اس کی فوج کو تقریباً مفلوج کر دیا۔
معین احمد کا کہنا ہے کہ شیر خان کے مقابلے میں ہمایوں سست جنگجو تھا اور وہ شیر شاہ کی جانب سے لاحق خطرات کا اندازہ لگانے سے قاصر رہا یہاں تک کہ شیر شاہ نے ہمایوں کی نہ صرف رسد بلکہ خط و کتابت کا راستہ بھی منقطع کر دیا۔
معین احمد کا کہنا ہے کہ ’ہمایوں کی شکست کا سبب اس کی نااہلی یا فوج کی پست ہمتی نہیں تھی جیسا کہ تاریخ داں مرزا حیدر نے کہا بلکہ یہ شیر شاہ کی لچکیلی جنگی حکمت عملی کی مغلوں کی سخت جنگی حکمت عملی پر فتح تھی۔‘
ہمایوں کو شکست دینے کے بعد شیر شاہ نے اس وقت تک اپنی فوج کے ساتھ ہمایوں کا پیچھا کیا جب تک کہ اس نے ہندوستان نہ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد شیر شاہ نے کسی دوسرے بادشاہ کی طرح اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور راجپوتوں کے خلاف محاذ آرائی کی یہاں تک کہ پورے شمالی ہندوستان کا بادشاہ قرار پایا۔
اگلا صفحہ پڑھنے کے لیے اس بٹن پر کلک کریں


